تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 6

by ویب ڈیسک 13/05/2017
written by ویب ڈیسک 13/05/2017
164

ہیرو چامکا:
وہ میرے سامنے بیٹھا تھا۔ سرائیکی سی ڈی فلموںکا پہلا ہیرو۔ آج بھی وہ وَسیب کا جانا پہچانا نام ہے اس لیے اس کی شناخت واضح نہ ہو اس لیے اس کا نام نہیں دے سکتا۔ وہ اپنی داستانِ حیات کے پچھلے ورق اُلٹ رہا تھا کہ پہلی سرائیکی فلم کا ہیرو آنے کے بعد اس کی مَت ماری گئی تھی کہ وہ خوبصورت نین نقش والی سویرا کا عاشق ہوگیا۔ وہ اسٹیج کی نئی نئی ڈانسر تھی ، پہلی نظر میں پسند آئی اور سوچا، کچھ بھی ہو اسے ہر جگہ کام دلانا ہے اور پھر میں اُس کا بے دام غلام ہوگیا۔ اُس کا پَرس پکڑ کر پیچھے پیچھے چلتا، بھاگ بھاگ کر خدمت کرتا، وہ شو کیلئے تیار ہوتی تو اپنے خرچے پر پِک اینڈ ڈراپ کی سہولت میسر کراتا، غرض قریبی حلقوں میں مشہور ہوگیا کہ میں سویرا کا پسندیدہ عاشق( چامکا) ہوں مگر میری حالت یہ تھی کہ سویرا مجھ سے شادی کیلئے تیار نہ تھی۔ وہ میرے سامنے دوسروں پر عنایت کرتی اور میں برداشت کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکتا تھا۔ اُس کیلئے دن رات ایک کردیا اور وہ مشہور ہوتی چلی گئی مگر میں گمنامی کی زندگی میں دھنستا چلا گیا، کل تک ہیرو تھا اور آج صرف سویرا کا چامکا ۔کوئی سویرا سے بدتمیزی کرتا تومیں اُس کیلئے جان لڑا دیتا۔ خوب لڑائیاں ہوئیں، بہت سے جھگڑے اپنے سر لیے، کئی دشمنیاں پالیں مگر سویرا میری بے لوث محبت کو ایک چامکے کی ٹھرک سمجھتی رہی۔آخر چند برسوں بعد مجھے ہوش آیا اور پھر میں نے سویرا سے ایک دم ہی قطع تعلق کرلیا کہ اب اپنے لیے محنت کروںگا، خود کو وقت دوں گا اور پھر میں نے ایسا ہی کیا۔ زندگی پھر سے خوبصورت لگنے لگی، سویرا کی بے وفائی کا غم میری مزید سی ڈی فلموں کی شہرت سے کم ہونے لگا اور پھر سے چامکا کے ٹائٹل سے ہیرو پر ہوگیا۔ سویرا نے میری شہرت دیکھ کر بہت ڈورے ڈالے مگر اب صرف میرے لیے وہ سامانِ عیش تھا اور میں نے اس کا فائدہ بھی اُٹھایا ۔
’’اب سویرا کس حال میں ہے؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا تو ہیرو نے جواب دیا:
’’عمر ڈھل گئی تو گھر کی ہوگئی۔کبھی کبھی کوئی شو مل جائے تو ڈانس کرلیتی ہے۔‘‘
’’دوسرے چامکوں کیلئے کوئی نصیحت؟‘‘ میں نے الوداعی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا تو ہیرو نے کہا:
’’دوسروںپر مرنے کی بجائے، اپنے لیے جی لیا جائے تو زندگی بن جاتی ہے۔‘‘
٭٭
چامکوں کی سیاست:
یہ سویرا کی بہن تھی سحر(نام تبدیل) اس کا چھوٹا سا بچہ اسے ایک پل چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ تین چار سال کا بچہ دورانِ ریکارڈنگ بہت تنگ کرتا۔ وہ شرمندہ سی ہوکر بولی’’لاڈلہ ہے ناں، اسی لیے بگڑ گیا ہے۔‘‘
شام میں اس لاڈلے کا باپ کار میں آیا۔ یہ میں نے اس لیے لکھا کہ سحر نے بتایا تھا، اس کا شوہر اس سے ملنے سیٹ پر آرہا ہے۔ وہ آیا، سب سے اچھے سے ملا۔ مگر میں نے ایک بات نوٹ کی، بچہ اس باپ کی طرف بالکل متوجہ نہ ہوا۔
فرصت کے لمحوں میں، میں نے سحر سے کہا’’مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ بچہ آنے والے اُس شخص کا نہیں جسے تم نے اپنا شوہر بتایا تھا۔‘‘
سحر نے دائیں بائیں دیکھ کر اقرار میں سر ہلایا اور بتایا کہ یہ اس کے پہلے شوہر سے ہے۔ اس سے زیادہ سحر نے کچھ بتانا مناسب نہ سمجھا مگر کچھ عرصے بعد تمام قصہ سامنے آگیا کہ سیٹ پر آنے والا شخص سحر کا شوہر نہیں، خاص چامکا تھا۔ چونکہ وہ سیاسی دنیا کا ایک بڑ ا نام تھا، زمین اور الگ گھر لے کر دینے کا وعدہ کیا تھا اس لیے سحر اس پر جان چھڑکنے لگی۔میں سوچ ہی رہا تھا جس کا حسن بے مثال ہو،جو ہر دوسرے گانے کی ماڈل ہو،جس کے سامنے ایک پورا جہان ہو وہ کیسے آسانی سے ایک چامکے کے جھانسے میں آگئی تو بتانے والے نے بتایا کہ اس میں لالچ سے زیادہ خوف شامل ہے ۔ کیونکہ اس چامکے نے بہت پیغام بھجوائے لیکن سحر کسی طرح اس کے قابو میں نہیں آرہی تھی۔ آخر رحیم یار خان کے تھیٹر پر سحر کا شو تھا۔ یہ چامکا وہاں جا پہنچا ۔ ابھی شو کا آغا ز ہی تھا کہ سحر نے ڈانس کے دوران اگلی نشست پر اپنے اس چامکے کو دیکھ لیا۔ چامکے نے گولی مارنے کا اِشارہ کیا مگر سحر نے بھی آگے سے کوئی بے ہودہ اشارہ کردیا اور اس کے بعد چامکے نے سیاسی پشت پناہی کے سبب ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ پبلک فرار ہوگئی، ڈرامہ رُک گیا ، سحر خوفزدہ ہوگئی۔ سحر تو جان کے خوف سے اس کی کار میں بیٹھ کر اس کے ساتھ ہولی مگر تھیٹر کئی ماہ تک بند رہا۔خوف ایک حد تک رہتا ہے پھر جسمانی تعلق کے بعد تو مرد کی عزت اور ذلت دونوں عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لیے چامکا صاحب نے اپنا مطلب نکالنے کے علاوہ کیے گئے دوسرے وعدے پورے نہ کیے تو سحر نے بھی پٹڑی بدل لی اور اسلام آباد کے کسی اور سیاسی گُرگے پر اپنا پیار نچھاور کرنے لگی۔جو رحیم یار خان کے اس سیاسی نمائندے سے زیادہ پاور فُل اور اپنے حلقہ احباب کا ڈان تھا۔ سنا ہے، پہلے والا سیاسی چامکا اس غم سے بہت پریشان ہے اور سحر کی ہر خواہش پوری کرنے پر تیار بھی ہے لیکن کاروباری دنیا میں سمجھدار تاجر ایک بار ہی دھوکہ کھاتے ہیں اور جن کے حسن کا سکہ چلتا ہو، وہ جان تو دے دیں گے، کسی کو دوسرا موقع نہیں دیں گے۔
٭٭

پانچویں قسط یہاں ملاحظہ کریں  

Facebook Comments Box
چامکا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کیا ہندوستان کی "بلقیس بانو” کو انصاف مل گیا؟ فارینہ الماس
next post
تیرا، میرا، اِنکا، اُنکا اور اصلی سچ: قصہ ہود بائی کی تقریر کا

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.