برازیلی مصنف اتامار ویرا جونیئر کا ناول کروکڈ پلو جس کا اردو ترجمہ جوئے خوں کے نام سے کیا گیا ہے سماجی حقیقت پسندی اور جادوئی حقیقت پسندی کا ایک شاہکار امتزاج ہے۔ یہ ناول برازیل کے پسماندہ علاقے باہیا میں غلامی کے خاتمے کے بعد بھی ظلم و استحصال کا شکار افریقہ-برازیلی کسان برادری کی زندگی، بقا اور جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کتاب دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور اسے انٹرنیشنل بُوکر پرائز کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
ناول کی کہانی کا آغاز ایک دردناک اور سنسنی خیز واقعے سے ہوتا ہے۔ دو چھوٹی بہنیں، بیبیانا اور بیلونیسیا، اپنی دادی کے بستر کے نیچے چھپایا ہوا ایک پرانا خنجر ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ تجسس کے مارے وہ اس خنجر کی دھار کو چکھنے کی کوشش کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک بہن کی زبان کٹ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے گونگی ہو جاتی ہے۔ اس حادثے کے بعد دونوں بہنوں کی زندگیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں؛ ایک بہن دوسری کی آواز بنتی ہے اور ان کا رشتہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
کہانی تین حصوں میں منقسم ہے، جہاں ہر حصہ ایک الگ راوی کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔ پہلے دو حصے دونوں بہنوں کے نقطہ نظر سے ہیں، جبکہ تیسرا حصہ ایک غیبی روح کی زبانی ہے، جو کہانی میں جادوئی حقیقت پسندی کا رنگ بھرتی ہے۔
اس ناول کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں:
جدید غلامی اور استحصال: برازیل میں غلامی قانونی طور پر ختم تو ہو چکی تھی، لیکن زمینداروں کا کسانوں پر ظلم برقرار رہا۔ کسانوں کو مٹی کے کچے گھروں میں رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور ان کی محنت کا بڑا حصہ زمیندار چھین لیتے تھے۔
زمین اور شناخت کی جنگ: ناول میں زمین صرف روزی روٹی کا ذریعہ نہیں، بلکہ کسانوں کی شناخت اور آباء و اجداد کی وراثت کی علامت ہے۔
خواتین کی طاقت اور ہمت: کہانی بنیادی طور پر برادری کی عورتوں کے گرد گھومتی ہے جو نامساعد حالات، گھریلو تشدد اور سماجی ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔
روحانیت اور لوک روایات: افریقی-برازیلی عقائد جادوئی علاج اور مقامی تہذیب کی رسومات ناول کے ماحول کو سحر انگیز بناتی ہیں۔
ناول کی خوبیوں میں کہانی کا سادہ و خوبصورت اسلوب، جاندار کردار اور تاریخ کے ایک تاریک گوشے پر روشنی ڈالنا شامل ہے۔ دوسری طرف اس کی خامیوں میں کہانی کی کہیں کہیں مدہم رفتار اور آخری حصے کا روایتی محسوس ہونا ہے۔
آخر میں، کروکڈ پلو صرف دو بہنوں کی کہانی نہیں بلکہ جبر کے خلاف انسانی عزم اور بقا کی ایک لافانی داستان ہے۔ اگر آپ لاطینی امریکہ کا ادب، جادوئی حقیقت پسندی اور گہرے سماجی موضوعات پر مبنی ناول پڑھنے کے شوقین ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے
اس ناول کا اردو میں ترجمہ ہما انور صاحبہ نے کیا ہے جو پہلے بھی عالمی ادب کے کئی شاہکار اردو کے قالب میں ڈھال چکی ہیں۔ جس روانی اورسلیس زبان میں انہوں نے اسے اردو میں ڈھالا ہے قاری اسکی داد دیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ اگرمترجم اپنے ہنر میں کامل ہو تو کسی بھی زبان کی تحریر کو مقامی زبان میں اسطرح سے بدل لیتا ہے کہ قاری کو مطالعہ کے دوران کسی اجنبیت کا احساس نہیں ہو پاتا۔ ہما انور بھی اس خداد صلاحیت کی مالک ہیں جو انکے پڑھنے والوں کو انکی تحاریر کے مطالعے کے دوران اپنی توجہ بھٹکنے نہیں دیتی۔
