تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
English

شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ — شہزاد حنیف سجاول

by دانش ڈیسک 16/07/2026
written by دانش ڈیسک 16/07/2026
125

گزشتہ کالم میں، میں نے "شعور کی انارکی” کی اصطلاح تجویز کی تھی۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں افراد کے شعور بیدار تو ہوتے ہیں لیکن ان کے درمیان کوئی ایسا ربط باقی نہیں رہتا جو انفرادی ادراک کو اجتماعی فکر میں تبدیل کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم یہاں تک پہنچے کیسے؟

ہر تہذیبی بحران کی طرح اس بحران کی بھی کوئی ایک وجہ نہیں۔ تاریخ میں بڑے تغیرات ہمیشہ کئی عوامل کے باہمی تعامل سے جنم لیتے ہیں۔ تاہم اگر اس پورے منظرنامے کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید کہا جا سکتا ہے کہ جدید انسان نے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن اس آزادی کو معنی عطا کرنے والے مراکز کھو دیے۔

ایک زمانہ تھا جب فرد کی شناخت مختلف دائروں سے تشکیل پاتی تھی۔ خاندان اسے ابتدائی اقدار دیتا تھا۔ مذہب اسے کائنات کی تعبیر فراہم کرتا تھا۔ تعلیم اسے علم کی روایت سے جوڑتی تھی۔ معاشرہ اسے ایک اجتماعی مقصد عطا کرتا تھا۔ ان تمام دائروں سے اختلاف ممکن تھا، لیکن ان کی موجودگی ایک فکری مرکزیت پیدا کرتی تھی۔

پھر جدیدیت آئی۔

جدیدیت نے انسان کو بہت کچھ دیا۔ سائنسی شعور دیا، شخصی آزادی دی، تنقیدی فکر دی، جبر کے خلاف آواز دی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور عمل بھی شروع ہوا۔ انسان آہستہ آہستہ ان تمام روایتی حوالوں سے آزاد ہونے لگا جن سے اس کی شناخت تشکیل پاتی تھی۔

ابتدا میں یہ عمل مثبت دکھائی دیا۔ فرد کو سوچنے کا حق ملا۔ سوال اٹھانے کا حق ملا۔ روایت کو چیلنج کرنے کا حق ملا۔ لیکن وقت کے ساتھ ایک عجیب صورت حال پیدا ہوئی۔ انسان نے پرانے مراکز کو تو توڑ دیا، مگر ان کی جگہ نئے مراکز قائم نہ کر سکا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی تو بڑھتی گئی مگر مرکزیت کم ہوتی گئی۔

یہی وہ مرحلہ تھا جسے بعض مغربی مفکرین نے مختلف ناموں سے بیان کیا۔ کسی نے اسے جدیدیت کا بحران کہا، کسی نے معنی کے زوال کا نام دیا اور کسی نے سیال معاشرہ قرار دیا۔ لیکن عملی سطح پر اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے پاس انتخاب تو بڑھ گئے، مگر سمت کم ہوتی گئی۔

اس کے بعد ڈیجیٹل انقلاب آیا اور اس عمل کو کئی گنا تیز کر دیا۔

سوشل میڈیا نے پہلی بار انسانی تاریخ میں ہر فرد کو ذرائع ابلاغ کی طاقت عطا کر دی۔ پہلے رائے کو معاشرے تک پہنچنے کے لیے کئی دروازوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ مدیر موجود تھا، استاد موجود تھا، ادارہ موجود تھا، علمی روایت موجود تھی۔ اب ان میں سے بیشتر دروازے ختم ہو چکے ہیں۔

یہ تبدیلی بظاہر جمہوری تھی، لیکن اس کے غیر متوقع نتائج بھی سامنے آئے۔

اب ہر شخص صرف اپنی رائے کا حامل نہیں بلکہ اپنی دنیا کا معمار بھی ہے۔ وہ اپنی پسند کی خبریں دیکھتا ہے، اپنی پسند کے تجزیے سنتا ہے، اپنی پسند کے لوگوں کو فالو کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے گرد ایک ایسی فکری فضا قائم ہو جاتی ہے جس میں اس کی ہر رائے کی تصدیق ہوتی رہتی ہے۔

یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔

انسان پہلے سے زیادہ جڑا ہوا نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں پہلے سے زیادہ تنہا ہو جاتا ہے۔

اس کے ہزاروں رابطے ہوتے ہیں لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس کی فکری دنیا کو چیلنج کریں۔ وہ مسلسل گفتگو کرتا ہے مگر کم کم مکالمہ کرتا ہے۔ اسے ہر روز نئی معلومات ملتی ہیں مگر ان معلومات کو پرکھنے کے لیے درکار سکون، مطالعہ اور تامل میسر نہیں آتا۔

یہی وجہ ہے کہ آج علم اور رائے کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

ماضی میں کسی موضوع پر اظہارِ رائے سے پہلے ایک طویل علمی سفر درکار ہوتا تھا۔ آج ایک سرخی، ایک مختصر ویڈیو یا ایک وائرل پوسٹ بھی یقین پیدا کر دیتی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ وہ جان گیا ہے، حالانکہ اکثر وہ صرف واقف ہوا ہوتا ہے۔

یہ فرق معمولی نہیں۔

واقفیت علم نہیں ہوتی اور علم حکمت نہیں ہوتا۔

ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں واقفیت کو علم اور علم کو حکمت سمجھ لیا گیا ہے۔ یہی وہ غلط فہمی ہے جو شعور کی انارکی کو جنم دیتی ہے۔

اس ساری بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ماضی مثالی تھا یا جدیدیت سراسر نقصان دہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان آزاد کیوں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری، تنقید کے ساتھ حکمت اور معلومات کے ساتھ بصیرت کیوں پیدا نہ ہو سکی۔

شاید اصل سوال یہی ہے۔

ہم نے انسان کو بولنا تو سکھا دیا، لیکن کیا ہم نے اسے سننا بھی سکھایا؟

ہم نے اسے معلومات تک رسائی تو دے دی، لیکن کیا ہم نے اسے معنی تک رسائی بھی دی؟

اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم نے اسے یہ سکھایا کہ انفرادی شعور اور اجتماعی فکر کے درمیان پل کیسے تعمیر کیا جاتا ہے؟

اگر ان سوالات کے جواب ہمارے پاس نہیں ہیں تو پھر شعور کی انارکی کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے عہد کا فطری نتیجہ ہے۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اگلی بحث شروع ہوتی ہے: جب اجتماعی شعور بکھر جاتا ہے تو قوموں، تہذیبوں اور ریاستوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

Facebook Comments Box
شعور کی انارکی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —– ارشد محمود
next post
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس احمد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...

15/09/2026

30/03/2025

“Just You and Me” – Digital Intimacy ——- Dr....

08/12/2024

The Silent Struggle — Bubbly Shaikh

19/06/2024

28/01/2024

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.