تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر بی بی امینہ

by دانش ڈیسک 03/07/2026
written by دانش ڈیسک 03/07/2026
155

سب سے پہلے میں محمد حفیظ خان صاحب کو ان کے ناول "ہر ایک جنم کی جانما” پر سعادت حسن منٹو ایوارڈ برائے تخلیقی نثر (اردو) حاصل کرنے پر دلی مبارک باد پیش کرنا چاہوں گی۔ اس ایوارڈ کے حوالے سے دو باتیں بالخصوص قابلِ ذکر ہیں پہلی یہ کہ غالباً یہ محمد حفیظ خان صاحب کو ان کی اردو تخلیق پر ملنے والا پہلا قومی ایوارڈ ہے، یوں یہ ان کے اردو تخلیق کار ہونے کے باقاعدہ اعتراف اور سند کی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ اس سے قبل وہ سرائیکی ادب میں پانچ ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جہاں تک میرے علم میں ہے، اس ایوارڈ کا نام بھی خود محمد حفیظ خان صاحب ہی نے تجویز کیا تھا۔ اس کی تصدیق یا تردید تو وہی کر سکتے ہیں، مگر یہ ایک خوش گوار اتفاق ضرور ہے کہ جس ایوارڈ کا نام انھوں نے رکھا، آج وہی ایوارڈ ان کے نام ہوا ہے۔

محمد حفیظ خان کی علمی و ادبی شخصیت کو کم از کم آٹھ جہات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وہ آٹھ ناولوں اور تین افسانوی مجموعوں کے خالق ہیں، دو ڈرامے لکھ چکے ہیں، تحقیق و تنقید پر ان کی چار کتب اور ایک کالموں کا مجموعہ منظرِ عام پر آچکا ہے، تاریخ پر بھی ان کا کام موجود ہے، جب کہ پٹھانے خان کی سرگزشت اور خرم بہاول پوری کی شخصیت و فن پر بھی انھوں نے قابلِ قدر کام کیا ہے۔ میں اس مضمون کو ان کے فکشن تک محدود رکھتے ہوئے اسی حوالے سے چند نکات پیش کرنا چاہوں گی۔

مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ حفیظ خان کے فکشن کی بنیاد تین بڑے ستونوں پر ہے: عورت، تاریخ اور زبان۔ یہ تینوں عناصر ان کی تخلیقی کائنات کو نہ صرف مربوط کرتے ہیں بلکہ اسے فکری گہرائی بھی عطا کرتے ہیں۔ حفیظ خان کے موضوعات کا دائرہ وسیع ہے، لیکن وہ انھیں ہمیشہ انسانی شعور، سماجی حقیقت اور تاریخی پس منظر کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ انسان کی شناخت ہو یا تاریخی جبر، سماجی زوال ہو یا طاقت اور استحصال کے نظام، یا پھر فرد کی نفسیاتی پیچیدگیاں؛ وہ ان سب کو کہانی کا حصہ بناتے ہیں اور ایک مکالمہ تخلیق کرتے ہیں۔ یہی ان کے فن کا خاصہ ہے۔ مگر ان سب میں بھی سب سے پہلے ہمیں مزاحمت کی آواز سنائی دیتی ہے، جو شور یا ہنگامے کی صورت میں نہیں آتی بلکہ سرگوشی کی مانند ابھرتی ہے۔ یہ سرگوشی بظاہر خاموش ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی بازگشت ایسی بن جاتی ہے جو چیخ سے بھی زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ یہی ان کا تخلیقی کمال ہے اور یہی ان کا تخلیقی اسلوب ہے کہ وہ احتجاج کو جمالیاتی بنا دیتے ہیں اور مزاحمت کو ادبی۔

 اب آتے ہیں تینوں ستونوں کی طرف۔

پہلا ستون:

ان میں سب سے پہلے عورت کو دیکھیں تو ان کے ہاں عورت کوئی جامد پیکر نہیں۔ وہ نہ مظلومیت کا روایتی استعارہ ہے، نہ محبوب کا یک رخا تصور اور نہ ہی ایک علامتی شبیہ۔ بلکہ وہ ایک زندہ، متحرک اور باشعور وجود ہے۔ ایسا وجود جو اپنی خاموشی میں بھی احتجاج رکھتا ہے، اپنی شکستگی میں بھی طاقت اور اپنی بغاوت میں بھی تہذیبی شائستگی۔

حفیظ خان کی عورت ہمارے معاشرے کے دیے گئے روایتی فریم ورک سے باہر نکل کر خود سے مکالمہ کرتی ہے، پھر سماج سے سوال کرتی ہے اور وقت سے ٹکراتی ہے۔ وہ عورت جو اپنی ہستی کی تلاش میں نکلتی ہے، جو محض کردار نہیں بلکہ ایک نظریہ بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کے فکشن میں عورت نہ صرف اپنی ذات کے جبر سے لڑتی ہے بلکہ اسے ثقافت، مذہب، طبقے اور سیاست کے بندھن بھی کھولنے پڑتے ہیں۔ یہی کشمکش اس کے کردار کو کثیرالجہت اور حقیقی بنا دیتی ہے۔

دوسرا ستون:

تاریخ ہے۔ حفیظ خان کی تاریخ نگاری نہ تو محض واقعات کی فہرست ہے اور نہ روایتی ماضی پرستی، بلکہ وہ تاریخ کو ایک جیتا جاگتا، متحرک اور تاثراتی تجربہ سمجھتے ہیں۔ان کے ناول ہمیں بتاتے ہیں کہ تاریخ ان کے فکشن کا وہ دھارا ہے جو خاموشی سے دوسرا ستون کرداروں کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ وہ تاریخ کو ایک تہذیبی لاشعور کے طور پر برتتے ہیں اور اسے موجودہ زمانے کی روشنی میں دیکھتے ہیں اور اس سے نئے معنی اخذ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی ناول تاریخ کے دو یا تین واقعات سے اخذ کیے گئے ہیں، جن کے گرد انھوں نے اپنی چشمِ تخیل سے دیگر واقعات کا تانا بانا بنا ہے اور پھر اپنے فکشن کا جامہ پہنا کر ان میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی سعی کی ہے۔

 بالفاظِ دیگر حفیظ خان نے اپنے فکشن میں تاریخ کو محض ایک مؤرخ کی زبان سے نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کے حساس وجدان کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ وہ ان سوالات کو چھیڑتے ہیں کہ تاریخ نے کیسے مخصوص طبقوں، قوموں اور افراد کی شناخت کو مسخ کیا، یا انھیں مکمل طور پر مٹا دیا۔ زہادہ اہم بات یہ ہے کہ اس ضمن میں وہ نوآبادیاتی ورثے اور ریاستی ڈھانچے پر بھی تنقید کرتے ہیں۔

یہاں تاریخ کے ساتھ تہذیبی شناخت کا تذکرہ نہ کیا جائے تو ادھورا ہوگا۔ یہ محمد حفیظ خان کے فکشن کی نمایاں خصوصیت اور ان کی اپنی مٹی اور ثقافت سے ایسی محبت ہے جو صرف موضوعات تک محدود نہیں رہتی بلکہ زبان، اسلوب اور کردار نگاری میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کی تحریروں میں وسیب کی مقامی غذاؤں، سبزیوں اور رہن سہن کی جھلک اس خطے کی ثقافتی زندگی کو زندہ کر دیتی ہے، جب کہ کرداروں کے نام اور ان کے لباس مقامی روایت اور سماجی ساخت کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔

تیسرا ستون:

اپنی فکشن نگاری کے تیسرے ستون یعنی زبان کے اعتبار سے بھی محمد حفیظ خان اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ جملے نہیں لکھتے، فضا تخلیق کرتے ہیں؛ ایسی فضا جو قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ وہ زبان کو ایک فکری و ثقافتی آلہ سمجھتے ہیں۔ یہ بھی ان کی مزاحمت کا ایک انداز ہےکہ وہ اردو اور انگریزی پر کامل دسترس ہونے کے باوجود جا بجا اپنی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ یوں ان کی زبان بھی اسی تہذیبی شعور کی آئینہ دار بن جاتی ہے، جس میں مقامی الفاظ، محاورے اور لب و لہجہ فطری انداز سے شامل ہو کر ان کے فکشن کو ایک منفرد ثقافتی شناخت عطا کرتے ہیں۔ وہ روایتی محاوروں، عوامی بولیوں، اور تہذیبی حوالوں سب کو بے دریغ اور تخلیقی طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن ایسے کہ ان کے معنی دیکھنے کے لیے شاذ و نادر ہی لغت سے استفادہ کرنا پڑے۔

ناول "وبھاج”

آخر میں میں ان کے تازہ ناول "وبھاج” کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گی کہ وہ حفیظ خان کے دیگر ناولوں سے قدرے مختلف ہے۔ اس ناول کے بارے میں کئی لوگوں نے کہا کہ انھوں نے اسے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔ مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیوں کہ یہ نہ تو کسی امتحانی نصاب کا حصہ تھا جس کا امتحان دینا مقصود ہو اور نہ اس کا موضوع ایسا تھا جسے عام طور پر ہلکے پھلکے انداز میں پڑھ لیا جائے۔ اس کا بنیادی موضوع صنفی شناخت اور تیسری صنف کے کرب و مسائل ہیں، جو ہمارے معاشرے میں آج بھی حساس اورممنوعہ موضوعات میں شمار ہوتے ہیں اور جنھیں پڑھنے اور ہضم کرنے کے لیے ٹھہراؤ کی ضرورت ہے۔

اس ناول پر ایک طرف محمد سلیم الرحمٰن صاحب جیسے جید نقاد نے کھلے دل سے داد دی، تو دوسری طرف مستنصر حسین تارڑ نے اسے سراہتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ خود اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے۔ یہ اعتراف دراصل اس موضوع کی انفرادیت، نزاکت اور حساسیت کا بھی اظہار ہے۔

تیسری بات یہ کہ محمد حفیظ خان کو عموماً عورت کی نفسیات کا غیر معمولی نباض قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان کے ناول "حیدر گوٹھ کا بخشن” میں مرد کے حقوق اور نفسیاتی مسائل کو جس جرأت اور ہمدردی سے پیش کیا گیا، وہ ان کے فکری تنوع کا ثبوت ہے۔ "وبھاج” میں وہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ایک اور صنف کے حقوق، ان کے وجودی کرب، سماجی محرومیوں اور انسانی شناخت کی جدوجہد کو اپنی تخلیق کا موضوع بناتے ہیں۔ یقیناً اس فکر کو معاشرے میں مکمل طور پر قبول کیے جانے میں ابھی وقت لگے گا، مگر ان لوگوں کی خاموش تکالیف کو آواز دینے اور ان کا بوجھ اپنے قلم پر اٹھانے کا جو حوصلہ سب سے پہلے محمد حفیظ خان نے دکھایا ہے، وہ داد کا مستحق ہے۔

غرض محمد حفیظ خان کی ناول نگاری محض تخلیقی مشق نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے۔ ان کا فن بتاتا ہے کہ ادب محض تفریح یا جمالی اظہار کا ذریعہ نہیں۔ اس میں نہ صرف فکری مکالمے، شناخت کی بازیافت، اپنی تہذیبی شناخت کا بھرپور اظہار کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ سماجی مزاحمت کا مؤثر ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ محمد حفیظ خان کی یہ مزاحمت کیسی اور کس کے خلاف ہے اس کے جواب میں محض ایک جملہ لکھ کر ان کی فکشن نگاری کے دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہیں تو وہ یقیناً یہی جملہ ہو سکتا ہے، جو ان کی تمام تحریروں کا حاوی محرک ہے اور جو تازہ ترین ناول "وبھاج” کی آخری سطر بھی ہے، جس میں لکھتے ہیں:

"یہ تمدن اپنے افراد کو اُسی کھانچے میں دیکھنا چاہتا ہے جو اُس نے جوڑ رکھا ہے، جو اِس سے باہر نکل کر من مرضی کرنا چاہتے ہیں، یہ انھیں نگل لیتا ہے۔”

Facebook Comments Box
Bibi AminaUrdu fictionبی بی امینہمحمد حفیظ خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فکنگ بِچ —– افسانہ
next post
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی امینہ

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.