شہر کے گنجان آباد علاقے پکی ٹھٹھی کی ولایت سٹریٹ دائیں جانب مڑتے ہی گم ہو گئی۔ گم شدہ پتلی سی گلی کے اختتام پر عون منزل نے ان کے قدم روک لیے۔ منصور نے اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے چابی نکالی اور لوہے کا دروازہ کھول کر بائیں جانب سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اس کے قدموں کے ساتھ قدم ملاتی مناسب جسم کی لڑکی سایے کی طرح دھپ دھپ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اس نے دوسری منزل پر پہنچ کر چابی گھمائی اور دروازہ کھول کر لڑکی کو اپنی جانب کھینچا۔ چھوٹے سے برآمدے میں پیلے بلب کی روشنی اس کی آنکھوں میں چبھنے لگی۔ لڑکی نے اپنے اردگرد سامان ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
’’ اندر اس کمرے میں آ جاؤ۔‘‘ اس نے بغلی دروازہ کھول کر اسے راستہ سجھایا۔ وہ اپنی سینڈلز اتار کر خاکی رنگ کے ملگجے سے قالین پر بیٹھ گئی۔ منصور نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا ۔ لڑکی بے زاری سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے جماہیاں لینے لگی۔ ’’ تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘
’’ حسنہ ۔ ‘‘
’’ آہاں ۔۔۔ حسنہ ۔ اچھا نام ہے۔ ‘‘
’’ پھر کیا ارادہ ہے تمہارا؟ ‘‘
’’ کچھ بھی نہیں حسنہ۔ بس ذرا گپ شپ کریں گے اور کیا ۔ ‘‘
’’ نہیں ۔ میرا مطلب تھا کہ تمہارے پاس بس ایک گھنٹہ ہے۔ ‘‘
’’ اوہو! پھر وہی بات ۔ بڑی پین چودی ہو تم ۔ ‘‘
’’ دیکھو یہ گالی اور مار پیٹ نہیں ہو گی۔۔۔ مزید کچھ سروس چاہیے تو اس کے الگ سے پیسے لوں گی۔ ‘‘
’’ اچھا بابا ! لے لینا پیسے ۔ مجھے پتہ ہے کہ تمہیں پیسہ چاہیے بس پیسہ۔ ‘‘
’’ ھم م م م ۔۔۔ واش روم کدھر ہے ۔‘‘ لڑکی اس کی انگلی کے اشارے کی سیدھ میں باہر نکل گئی۔ دونوں کو کمرے میں آئے ہوئے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ منصور نے اپنی ہتھیلی پر تھوڑی سی چرس رکھی ۔ اس کے لمبے لمبے ہاتھ ہاون دستہ بن چکے تھے۔ وہ بڑے انہماک سے سگریٹ بنانے میں مگن تھا۔ اس کی انگلیاں چرس کو گول مول کر کے اس کی موٹی سی گولی بنانے لگیں۔ حسنہ مزید سرک کر پاس آ گئی۔ اس نے ڈبیا میں سے دو سگریٹ نکال کر انھیں تمباکو سے خالی کر کے اس کی ہتھیلی کو چھوا۔ منصور کو اس کا ساتھ دینا بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ اس نے ماچس کی تیلی میں تھوڑی سی چرس پھنسا کر اسے جلایا۔ حسنہ نے خود کو اس کی انگلیوں میں کھیلتے ہوئے دیکھ کر آنکھیں موند لیں۔ چرس کی گولی پگھل کر تمباکو کے ساتھ ملیامیٹ ہو چکی تھی۔ منصور کی چوڑی ہتھیلی اس کے انگوٹھے کے بوجھ تلے دبی چلی جا رہی تھی۔ گولی معجون کی طرح لچکتی ہوئی اس کی ہتھیلی پر چوٹیں برداشت کر نے لگی۔ منصور کے اعصاب اس مشقت سے شل ہونے لگے تھے۔ حسنہ اس کے کندھے سے لگی کولہو کا بیل بنی ہل رہی تھی۔ منصور نے دوبارہ سگریٹ بھر کر اوپر سے گھما کے اسے لاک لگایا۔ وہ شاید اسی انتظار میں تھی۔ ’’ ایک سگریٹ میرا بھی پلیز۔ ‘‘
’’ آئی نو میڈم۔ اٹس مائی پلئیر۔ ‘‘ حسنہ کی بے زاری کو نیا موضوع مل گیا تھا۔ ’’ کیا تم ہمیشہ ہی ایسا کرتے ہو۔ ‘‘
’’ ہاں ! میں ایک ہی بار میں خود کو فٹ محسوس نہیں کرتا ۔ اس سگریٹ کا ایک کش مجھے بہت ایکٹو کرتا ہے ۔ ‘‘
’’ میں نے تم جیسا دیوانہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ جو میرے پاس ہو اور اسے ایکٹو ہونے کے لیے چرس کے سگریٹ کی ضرورت پڑے۔ ‘‘
’’ ہاہاہا۔۔۔ یعنی تم خود کو واقعی حسنہ سمجھ بیٹھی ہو۔ ‘‘
’’ہاں تو اتنے پیسوں میں پھر ایسی ہی حسنہ ملے گی نا۔‘‘ اس نے بڑا سا تھوک حلق میں انڈیلتے ہوئے اپنی توہین کا بدلہ لیا۔ وہ خواہ مخواہ ہی اپنے بالوں کو سیدھا کرنے لگی۔ منصور نے سگریٹ سلگا لیے تھے۔ حسنہ نے اپنی قمیض کا گول گلا مزید گھسیٹ کر نیچے کیا ۔ اس کی بغلیں پسینے سے شرابور ہو کر دو گول دائرے بنا چکی تھیں۔ اس نے منصور کی انگلیوں سے سگریٹ لے کر اپنے کانپتے ہونٹوں پر رکھا۔ دونوں نے بڑا سا کش کھینچ کر دھواں باہر نکالتے ہوئے خود کو چمنی میں سلگتی آگ سمجھ لیا تھا۔ سفیدے کے پتوں کے جلنے کی بو دھواں بن کر کمرے میں رقصاں تھی۔ تیز چبھن نے نتھنوں کے رستے حلق کو چیرنے کی کوشش شروع کر دی۔
’’ وہ جب میرے ساتھ ہوتی تھی نا ، تو یہ دھواں اس کے چہرے سے آر پار ہو جاتا تھا۔ اس کے سفید رنگ کے آگے یہ دھواں کالا تھا۔‘‘ منصور نے خاموشی میں خندق کھودی۔
’’ تو اب بھی اسے ہی لے آتے۔ ‘‘ حسنہ نے دوسرا کش لیتے ہوئے بے زاری سے جواب دیا۔
’’ کیسے لے آتا اسے۔ اب وہ مسز عدنان ہے۔ اپنے گھرمیں خوش ہے اور بس۔‘‘
’’ پتہ نہیں تم لوگ ایک عورت کی بے وفائی پہ دوسری عورت کو کیوں فوقیت دیتے ہو۔‘‘
’’ واہ ! کیا بات ہے ۔ تم تو فلاسفر بھی ہو۔ ‘‘
’’دیکھو ، بیس منٹ رہ گئے ہیں۔ میں سات بجے چلی جاؤں گی ۔ ‘‘
’’ وہ بھی مجھ سے اکتا کر یہی کہتی تھی کہ سات بجنے والے ہیں۔‘‘ منصور سگریٹ کی راکھ انگلی سے گراتے ہوئے دیوار پر نظریں جما چکا تھا ۔ جہاں اسے مہرالنساء کا چہرہ بنتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ وہ آفس کی سیڑھیاں اترتے ہی بس سٹاپ پر جا کر کھڑی ہو جاتی۔ نیو خان کی بس نمبر تین اسے اگلے سٹاپ پہ اتارتی۔ جہاں منصور اپنی سفید رنگ کی کورے کی ہیڈلائٹس آن کر کے اسے سگنل دیتا۔ ہر ہفتے کی شام دونوں ایسے ہی شہر کی شہراہوں پر نکل کھڑے ہوتے۔ جب مارکونی نے فون ایجاد کیا تھا تو شاید اسی طرح دونوں طرف تاروں کے درمیان رابطے کو برقی رو سے گزارا ہو گا۔ منصور اپنے تعلق کی وضاحت سوچتے ہوئے ہنس پڑتا۔ پھر دونوں تار کے دائیں اور بائیں جانب کان لگائے ایک دوسرے کو سننے کے لیے چپ رہتے تھے۔ اچانک منصور کے فون پر کال آتی اور وہ ہیلو کہتے ہی کسی اور دنیا میں گم ہو جاتا۔ گاڑی کے پہیے چرمراتے اور وہ گاڑی کی بریک دبا کر اس سے اترنے کی التجا کرنے لگتا۔ ’’سوری بے بی۔ میرے بڑے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ میری بیوی بہت پریشان ہے۔ کل آفس سے واپسی پر تمہیں لینے آؤں گا۔‘‘ مہرالنساء اپنے ٹوٹے دل کے بجائے تباہ شدہ جسم کا ملبہ اٹھا کر گاڑی کا دروازہ کھولتی۔ کئی کلومیٹر پیدل چلتے چلتے آخری بس سٹاپ آ جاتا۔ مہرالنساء کڑاہی میں پڑے کھولتے تیل کی طرح سیاہ پڑنے لگی تھی۔ اس کا جی چاہتا کہ اسی تیل میں منصور کا منہ تل دے جس سے وہ اسے ’’سوری بے بی‘‘ کہہ کر گیا تھا۔ اگلے دن منصور کی کال نہ آنے پر وہ کڑاہی میں پڑے ٹھنڈے تیل کی طرح ہو جاتی۔ اس کا جی چاہتا کہ انگیٹھی سلگا کر کڑاہی دوبارہ گرم کی جائے۔ یوں غصے کی آگ اپنا اثر کھو دیتی اوراگلا ہفتہ آ جاتا۔ دونوں اسی طرح ایک رائیڈ لینے کے بعد شہر کے گنجان آباد علاقے کی عون منزل کے باہر کھڑے ہوتے۔ مہرالنساء اس بے نام اور گنجلک تعلق سے تنگ آچکی تھی۔ اسے منصور کی گاڑی میں بیٹھنے سے زیادہ اس میں سے اچانک اترنے کا خوف تنگ کرنے لگا۔
’’ یہ راستہ کہیں جا کر ختم نہیں ہونے والا۔‘‘ منصور گاڑی کو چوتھے گئیر میں ڈالتے ہوئے اسے فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا۔
’’تو کیا مجھے چلتی گاڑی سے کود جانا چاہیے؟‘‘ مہرالنساء دل میں دبی بات کو سرگوشی بناتے ہوئے اس کی جانب منہ کر لیتی۔ منصور اس کے ممکنہ جواب کو سمجھتے ہوئے بڑے بڑے ڈکار لیتا اور اس کے ہونٹ ایک عدد سگریٹ کی خواہش کر بیٹھتے۔ کڑاہی میں پڑا تیل دوبارہ کھولنے لگتا اور انگیٹھی میں سلگتی آگ بھانبھڑ مچاتے ہوئے باہر کو لپکتی۔ سخت جاڑے کی شام اس نے فون پر بتایا کہ اب عون منزل اس کے راستے میں نہیں آئے گی۔
’’بڑی کوئی پین چودی ہو تم۔‘‘ چھت پر کھڑے منصور کو نیلا آسمان بلیک ہول محسوس ہوا۔ اس نے لمبے لمبے سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔جب اس سے کچھ نہ بن پڑا تو دوسری منزل سے نیچے تھوک دیا۔ پھر وہ فوراً گرل سے نیچے منہ کر کے دیکھنے لگا۔ جیسے مہرالنساء تھوک بن کر گری ہو۔ اس نے اس تازہ غم میں سفید کورے کو اپنا ہم دم و ہم راز بنا لیا تھا۔ دونوں ہفتے کی شام شہر کا طواف کرنے نکلتے۔ سفید کورے اپنا دروازہ کھول کر کسی نہ کسی مہرالنساء کو بٹھا لیتی۔ پھرشہر کے گنجان آباد علاقے کی عون منزل ان کے استقبال کے لیے تیار ملتی تھی۔ وہ ہر نئی عورت کو مہرالنساء کی بے وفائی کا قصہ سنا کر پہلے ایک سگریٹ پیتا اور پھر دوسرا سگریٹ سلگا کر انصاف طلب نظروں سے دیکھنے لگتا۔ اکثر عورتیں بے زار کن لہجے میں بس ہوں، ہاں کہہ کر مقدمہ خارج کر دیتیں۔ وہ خالی کلیجے سگریٹ پھونکتا رہتا۔ پھر اسے بڑے بڑے ڈکار لیتے ہوئے سکون ملنے لگتا تھا۔ اس شام بھی وہ حسنہ کو انصاف طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے گول گلے کو پیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے کمر سے زپ بند کرنے لگی۔ منصور نے اسے آخری بوسہ دیتے ہوئے اس کے سانولے ہاتھ تھام لیے۔ وہ اس کی ہتھیلیوں کو مسلتے ہوئے گنگنانے لگا۔
’’ نشہ یہ پیار کا نشہ ہے۔ یہ میری بات یارو مانو۔ نشے میں یار ڈوب جاؤ۔ نہ ہوش میں رہو دیوانو۔‘‘
’’میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیے۔ آٹھ بج چکے ہیں۔‘‘ حسنہ نے دکان کا شٹر گراتے ہوئے گاہک کے ہاتھ سے دو نیلے نوٹ پکڑے۔
’’ کیا ہم دوبارہ کبھی مل سکتے ہیں؟‘‘
’’ میرا نہیں خیال کہ ہمیں دوبارہ بھی ملنا چاہیے۔ ‘‘
’’ کیوں ۔ کیا تم بھی مہرالنساء ہو؟ ‘‘
حسنہ نے سینڈل پہنتے ہوئے اس کی بات کو ان سنی کر دیا ۔ ’’ تمہیں معلوم ہے کہ اس نے تمہیں کیوں چھوڑا؟ ‘‘ حسنہ نے سیڑھیاں اترتے ہوئے گردن پیچھے موڑ کر اسے مخاطب کیا۔ ’’نہیں۔۔۔ تم ہی بتاؤ ۔ اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟‘‘
حسنہ نے اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈوروں کو دیکھتے ہوئے ڈوبنے کی کوشش کی۔ وہ بے پتوار کشتی میں سوار ہونے سے ڈر گئی تھی۔ پھر اس نے گردن موڑ کر گہرا سانس لیا۔ ’’رہنے دو، تم نہیں سمجھو گے۔‘‘ منصور نے ہونٹ چباتے ہوئے انگلی میں پکڑا سگریٹ اس کے الجھے ہوئے بالوں سے مس کیا۔ ایک ہلکی سی چنگاری اڑی اور بالوں کے چند تار، ترمرا کر اڑ گئے۔ منصور نے عقب سے اس کی گردن کو دھیرے سے موڑ کر اس کے لبوں کو چھوا۔ بے پتوار کشتی لہروں کی زد میں آنے سے بچ گئی تھی۔ لہریں اس سے دور ہوتی چلی گئیں۔ اس نے سگریٹ کو پاؤں سے مسلا اور فلک شگاف قہقہے کے ہونٹ وا ہوئے۔
’’ اٹس اوکے ، یو فکنگ بچ۔‘‘
