تعلیم اور صحت دو شعبے ایسے ہیں جنھیں ریاست اور افراد کے مابین فلاحی تعلق کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ اعلی تعلیم ہی وہ شعبہ ہے جو کسی قوم کی مستقبل کی سمت طے کرتا ہے کیونکہ با صلاحیت افرادی قوت کی اساس اعلی تعلیمی درسگاہیں ہی ہیں۔ یورپ کی موجودہ ترقی کے سفر کی تاریخ میں اہم ترین واقعہ پرنٹنگ پریس کی جوہن گٹن برگ کے ہاتھوں 1468ء میں ہونے والی ایجاد ہے۔ اس واقعے کے اثرات کو موجودہ آئی ٹی کے انقلاب سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ کتاب نے علم کی فراہمی کو مہمیز دی تو صنعتی انقلاب نے ہنر مند افراد کی ضرورت پیدا کی۔ نتیجتا مغرب کی درسگاہوں نے خود کو تحقیق اور عقلی علوم کی ترویج سے مرصع کر لیا۔ اس علمی ترقی نے سلطنتوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو عظیم طاقت کا رتبہ دلوایا۔
برصغیر میں انگریز کی آمد نے نظام کی ہئیت بدل دی۔ مغربی نظام تعلیم رائج ہوا مگر یہ نو آبادیاتی مقاصد کے زیر اثر تھا۔ 1858ء کے قریب ایسٹ انڈیا کمپنی کے خاتمے کے بعد تاج برطانیہ نے عنان اقتدار براہ راست اپنے ہاتھوں میں لی تو مغربی نظام کی طرز تعلیم کیلئے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہندو طبقے میں راج رام موہن رائے نے ایک مصلح کے طور پر ہندو معاشرے کو جدید تعلیم کی جانب مائل کیا۔ بعد ازاں سر سید احمد خان نے جدید تعلیم کو مسلم معاشرے میں پروان چڑھانے کی سعی کی۔ مگر ایک اہم بات جو ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انگریز دور حکومت میں کافی تعلیم ادارے بنے مگر یہاں تحقیق کی روایت کو فروغ نہیں دیا گیا بلکہ ملازمت کے مواقع حاصل کرنا اس نظام کا مقصد اولین رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس دوران تحقیق کی روایت ادب، تاریخ اور مذہب میں کسی حد تک ملتی ہے مگر عقلی و سائنسی علوم میں یہ خال خال ہی نظر آتی ہے۔ 1920ء کے بعد امریکہ میں تیسرے صنعتی انقلاب کے بعد اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کا فروغ شروع ہوگیا اور انجینیرنگ یونیورسٹیز کا چلن عام ہونے لگا۔ ایم آئی ٹی، ہاورڈ اور سٹینفورڈ جیسی امریکی یونیورسٹیز بطور ماڈل ابھری جنہوں نے ناصرف با صلاحیت گریجویٹس پیدا کیے بلکہ انڈسٹری کو نئے تصورات بھی دئیے۔
آزادی کے بعد بہت کم اعلی درسگاہیں پاکستان کے حصے میں آئیں۔ بد قسمتی سے ہم اعلی تعلیمی درسگاہوں کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے میں کبھی کامیاب ناں ہو سکے۔ نوآبادیاتی جمود نظام تعلیم پر طاری نظر آتا ہے۔ متجسس اذہان تحقیق یعنی ریسرچ کے متلاشی ہوتے ہیں اور یونیورسٹیز اس کلچر کا گڑھ ہوتی ہیں۔ آج حالت اس قدر نازک ہے کہ اعلی تعلیم کی ڈگریاں اپنی قابلیت کی صلاحیت کے اعتبار سے پاکستان میں غیر معیاری تصور ہوتی ہیں۔ ایک تو ہم نے نظام تعلیم کو یونیورسٹیز سے باہر کی دنیا سے لا تعلق رکھا اور دوسری جانب نصاب جمود کا شکار ہے۔ مزید نقصان طبقاتی نظام تعلیم نے کیا اور نجی شعبے نے متمول طبقے کے بچوں کو پیشہ ورانہ اعلی تعلیم فراہم کر کے اعلی ملازمتوں کے در آن پر وا کر رکھے ہیں۔ متوسط اور غریب طبقے کیلئے پبلک یعنی سرکاری یونیورسٹیزہی آخری راستہ ہیں۔ ان یونیورسٹیز میں انقلابی تبدیلی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد نظر آتی ہے۔ مگر تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ویزن رکھنے والے منتظمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پی ایچ ڈی سکالرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا مگر ہماری معیشیت اور ریسرچ کے میدان میں اسکے اثرات نظر نہیں آتے۔
اس تمہید کا مطلب محض موجودہ حالات کی نزاکت کا احاطہ کرنا تھا۔ گزشتہ برس جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی درسگاہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایک من گھڑت سکینڈل کی زد میں رہی جس نے ایک مرتبہ تو پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اعلی عدالتی تحقیقات کی روشنی میں یہ حقائق سامنے آئےکہ یہ محض پراپیگنڈہ تھا۔ قطع نظر اس کے کہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے تھی یا سیاست کا کیا عمل دخل تھا، کبھی اس واقعے کے اثرات کا جائزہ کسی نے نہیں لیا۔ میرا تعلق اس علاقے اور یونیورسٹی سے بطور سٹوڈنٹ بھی رہا ہے تو میں اس واقعے سے قبل اور بعد کے حالات کا جائزہ لوں تو ایک بے حسی کی کیفیت نظر آتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور 1975ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے سنہری دور سے گزر رہی تھی۔ ان متحرک تبدیلیوں کے پس پردہ یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی شخصیت تھی۔ یونیورسٹی کے بہاولپور شہر میں تین کیمپس ہیں، مگر ضلع رحیم یار خان اور بہاولنگر کے دور دراز کیمپس کو بھی اس دور میں بھرپور وسعت ملی۔ طلباء کی تعداد چار برس میں چودہ ہزار سے بڑھ کر تقریبا چونسٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی۔ بطور خاص بہاولنگر اور رحیم یارخان کیمپس کے ارد گرد پچاس کلومیٹر سے زائد فاصلے تک یونیورسٹی نے بس سروس فراہم کی جس سے خواتین طلباء کی تعداد میں حوصلہ افزاء اضافہ ہوا۔ نئے ڈیپارٹمنٹس کا اضافہ ہو رہا تھا۔ کالج آف نرسنگ جیسے پیشہ ورانہ اداروں کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ یونیورسٹی کے ماحول نے شہر پر مثبت طریقے سے اثرانداز ہونا شروع کردیا تھا۔ یونیورسٹی کے بہاولپور کلچرل فیسٹیول نے پورے ملک سے دانشوروں کو اکٹھا کر کے مقامی دانشوروں، طلباء اور عوام سے انکا رابطہ قائم کیا۔ گرین انرجی کے حوالے سے پراجیکٹ بھی مکمل کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اپنے مقالے کیلئے مجھے انکا انٹرویو کرنے کا موقعہ ملا۔ آدھ گھنٹے وقت طے ہوا تھا مگر نہوں نے شفقت سے ڈیڑھ گھنٹا وقت دیا۔ موضوع تھا "بہاولپور میں یونیورسٹی اور صنعت کے مابین باہمی فروغ” اور اس سلسلے میں مجھے یونیورسٹی کے پروفیسرز اور بہاولپور کے صنعتکار و کاروباری شخصیات کے انٹرویوز کرنے تھے۔ موضوع کے اعتبار سے مجھے ان کے ویژن اور شخصیت کے بارے میں جاننے کا خاصہ موقع ملا۔ انہوں نے انجنئرنگ میں بی۔ایس اور ایم۔ایس کی تعلیم فلوریڈا سے مکمل کی۔ بعد ازاں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز سے وابستہ رہے لیکن ایک بات میرے لیے حیرت انگیز تھی کہ وہ عملا ایک پروفیشنل آئی ٹی کنسلٹنٹ رہنے کے علاوہ آئی ٹی کمپنی بھی قائم کر چکے ہیں جو متعدد سرکاری و نجی شعبے کو سوفٹ ویر پروگرامز فراہم کر چکی ہے۔ مغربی دنیا میں پروفیسرز کا جدید کاروباری ادارے قائم کرنا یا انھیں کنسلٹنسی فراہم کرنا عمومی سی بات ہے کیونکہ مغربی یونیورسٹیز کو مارکیٹ اور صنعت سے اپنے آپ کو جوڑے دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن ہمارے ہاں تو یہ ربط ہی قائم نہیں ہو سکا۔ مختصرا انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں پروفیشنل تعلیم اور ریسرچ کے فروغ کیلئے اپنے اقدامات کا تذکرہ کیا۔ روانی اور سلاست کے ساتھ انہوں نے تعلیمی نظام کی خامیوں کا تکنیکی تجزیہ کیا جو خاصہ منطقی تھا۔ جنوبی پنجاب جیسے خطے کیلئے انکا ویژن خاصا پرجوش تھا۔ اسلامیہ یونیورسٹی کی باگ ڈور سنبھالنے سے قبل وہ بہاولپور ڈویزن کے ضلع رحیم یارخان میں قائم ہونے والی خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کے پہلے وی سی مقرر ہوئے۔ یوں ایک ڈویژن میں ہی وہ دو یونیورسٹیز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
آج کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو اسلامیہ یونیورسٹی نامساعد حالات کا شکار ہے۔ طلباء کے داخلوں میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے تو دوسری جانب جنوبی پنجاب کی یہ سب سے بڑی درسگاہ معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کے چند ناقدین سے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے جتنے طلباء کو داخلے دئیے گئے اور یونیورسٹی نے داخلوں کی تعداد بڑھانے کیلئے میرٹ میں کمی کردی تھی۔ مجھے اس تنقید میں بھی تعریف کا پہلو نظر آتا ہے۔ انکے چار سالہ دور میں طلباء کی تعداد میں چار گنا سے زائد اضافہ ہوا تو تعداد بڑھانے کی کوئی گیدڑ سنگھی تو ان کے پاس تھی جو ان کے پیشرو نہیں رکھتے تھے۔ البتہ اس پالیسی کاایک نتیجہ پرائیویٹ کالجز کے داخلوں میں کمی کی صورت میں ضرور نکلا ہوگا۔ پھر تعداد کے ساتھ استعداد بڑھانا وہ بھی حکومت کی اضافی فنڈنگ کے بغیر کوئی تجربہ کار منتظم ہی کر سکتا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سکینڈل کا ڈرامہ اس وقت پیش آیاجب ڈاکٹر اطہر محبوب اپنا دورانیہ مکمل کر رہے تھے۔ خامیاں ہر شخص میں ہوتی ہیں لیکن ایک منتظم کو کارکردگی کی کسوٹی پر ہی پرکھا جاسکتا ہے۔
اعلی تعلیمی درسگاہیں آزادانہ ماحول کی متقاضی ہیں۔ ہمارے نظام نے یہاں بھی سیاسی و انتظامی قدغنوں کی بیڑیاں ڈال رکھی ہیں۔ سرکاری یونیورسٹییزمڈل کلاس طبقے کے بچوں کیلئے پر امید مستقبل کی راہ ہیں۔ انکے معیار کو محدود وسائل کے ساتھ بہتر بنانا بہت مشکل عمل ہے۔ اگر اس حوالے سے با صلاحیت لوگ موجود ہوں تو انھیں حالات کی ستم ظریفی کی نظر کرنے کے بجائے انکی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ہی معاشرے کی بھلائی ہے۔ حکمرانوں سے درخواست ہے کہ تعلیمی شعبے پر اپنی سیاست کا بار گراں ڈالنے سے گریز کریں اور اعلی تعلیمی اداروں کیلئے باصلاحیت و پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کا نتخاب کریں اور انھیں آزادنہ کام کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ بصورت دیگر خدانخواستہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے المیے سے پھر کسی درسگاہ کو دوچار نا ہونا پڑے۔
