تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

ہر فرعونے را موسی: سرمد صہبائی کا "مرگ نامہ” — محمد شہزاد

by دانش ڈیسک 10/11/2023
written by دانش ڈیسک 10/11/2023
392

ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ جیتے جی پوچھتے نہیں۔ مرنے کے بعد توصیفی مرگ نامے لکھنے پر جت جاتے ہیں۔ اگر مرگ نامے مرنے والوں کے جیتے جی شائع کر دیے جائیں تو معاشرے میں بہت سدھار آ سکتا ہے۔ ایک دنیا کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔ الفریڈ نوبل دھماکہ خیز مواد کا موجد تھا۔ سن 1888 میں اسکا بھائی مر گیا۔ اخبارات سمجھے وہ مر گیا ہے۔ انہوں نے مرگ نامے چھاپنا شروع کر دیے۔ ایک نے لکھا: ‘موت کے سوداگر کی آج خود موت ہو گئی۔ ڈاکٹر الفریڈ جنہوں نے لوگوں کو وقت سے پہلے مار کر بہت پیسہ بنایا کل خود مر گئے۔’ حالانکہ یہ ڈائنامائٹ سول مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا مثلاً کسی پرانی عمارت کو ڈھانے کے لیے۔ اسے بہت دکھ ہوا۔ اس نے نوبل انعام شروع کیا۔ اور اپنی دولت سائنس، امن اور ادب کی ترویج کے نیک کام میں لگا دی۔

یہ سوچ کر اب میں دوستوں کے مرگ نامے انکی زندگی میں لکھ رہا ہوں تا کہ ان بیچاروں کو پتہ تو چلے انکے جانے کے بعد ہم انہیں کیسے یاد رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ مرگ نامے انہیں اتنے پسند آئیں کہ وہ پڑھتے ہی مرنے یا ہمیشہ جینے کی خواہش کریں۔

آج ذکر کرتے ہیں اپنے اکتیسں برس پرانے دوست سرمد صہبائی کا۔ یہ مرگ نامہ پڑھتے ہی اسے آگ لگے گی۔ مجھے جی بھر کر ماں بہن کی گالیاں نکالے گا۔ میں آگے سے ہنستا رہونگا۔ پھر اس کا دھیان ادھر ادھر کرنے کے لیے پوچھونگا، اوئے سرمد تیرا نوا ناول کدوں چھپ ریا اے! پھر یہ تفصیل سے مجھے بتائے گا کہ اب پائپ لائن کے کس کونے میں پھنسا ہوا ہے۔

پھر یہ کہے گا کہ میں لوگوں کو مرعوب کرتا ہوں یہ بتا کر کہ میں سرمد کا بہت پرانا دوست ہوں۔ اب میں اسے کیسے سمجھاوں کہ لوگ تب مرعوب ہوتے ہیں جب میں انہیں یہ بتاؤ کہ میرے پاس حریم شاہ کی ننگی وڈیو موجود ہے (جو وائرل ہو چکی ہے مگر ان ٹھرکیوں کے پاس ابھی تک نہیں پہنچی!) ہمارے پرائم منسٹر صاحب تو ہر مشہور ہستی کے ساتھ جنہیں وہ ایک دن سے بھی نہیں جانتے تصویریں کھنچواتے ہیں، شئیر کرتے ہیں اور خوشی سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔ (یار سرمد اے تینوں نظر نہیں آوندا؟) ہمارا ہردلعزیز دوست رضا رومی تو راہ چلتے نابینا کو دیکھ کر گاڑی سائیڈ پر لگاتا ہے۔ پہلے اس کے ساتھ سیلفی بناتا ہے۔ پھر وہیں کھڑے کھڑے فیس بک پر چڑھاتا ہے۔ پھر سڑک پار کراتا ہے۔ بہت اچھا بچہ ہے رومی۔ جیتا رہے!

تو یار سرمد تو ہی مجھے کہتا ہے لوگوں کی سوچ نہیں بدلی جا سکتی۔ اب اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں۔ ہم تو فخر سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہینگے کہ تو ہمارا یار ہے۔ یا تو خود ہمیں جھوٹا کہہ۔ عاق نامہ چھپوا کہ ایک فراڈیا شخص محمد شہزاد مجھے بدنام کر رہا ہے یہ دعوی کر کے کہ یہ میرا اکتیس برس پرانا دوست ہے اور اس آڑ میں لوگوں کو جعلی کاغذات پر زمین بیچ رہا ہے۔

سرمد اپنی بیگم کلیر کے ساتھ۔ یہ تصویر میں نے اسلام آباد ائرپورٹ پر سن 2008 میں کھینچی

سرمد سے میری پہلی ملاقات رستم فتح علی خان کے کلاسیکل گانے کی محفل میں ہوئی تھی اسلام آباد ہوٹل، میلوڈی میں۔ رستم گا رہا تھا میں بڑھ چڑھ کر داد دے رہا تھا۔ سرمد ہر داد پر میرا چیزہ لے رہا تھا یہ کہہ کر کہ آپ کو تو مہاراجہ پٹیالہ ہونا چاہیے تھا۔ بس وہیں سے دوستی ہو گئی۔ اسکے بعد نجانے کتنے پروگرام ہم نے اٹینڈ کیے۔ سرمد گویے کا بھی اسی وقت چیزہ لے لیا کرتا تھا اور بہت ہی خوبصورت انداز میں اس کا پانی بھی اتار دیا کرتا تھا۔ رستم کا ایک اور پروگرام تھا، لوک ورثہ میں۔ اب رستم کچھ مغرور سا ہو گیا تھا۔ چلا چلا کر سرگم کرنے لگ گیا تو سرمد سے برداشت نہ ہوا۔ بیٹھے بیٹھے بولا یار رستم ہمیں گانا سنا پہاڑے نہیں۔ اسکے بعد رستم تیر کی طرح سیدھا ہو گیا۔ اور اس کنسرٹ کے بعد (یہ بھی حقیقت ہے) رستم کا گانا بھی تباہ ہو گیا۔ وجہ ریاض چھوڑ دیا۔ بہت امیر گھرانے کا گھر داماد بن چکا تھا۔ سسر صاحب نے کہا چھوڑو گانا۔ کاروبار پر توجہ دو۔ اب پٹیالہ والوں کے پاس صرف گھرانہ ہے۔ گانا اتائیوں کے پاس چلا گیا۔ مگر سرمد خود اتائی ہونے کے باوجود اتائیوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ مراثیوں کو گود میں بٹھاتا ہے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ یہ قوم کسی کو نہیں سکھاتی۔ اس کا ماننا یہ ہے کہ مراثی درست کرتا ہے اگر کسی کو نہیں سکھاتا۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اتائی اگر سیکھ جائے تو مراثی اس کے آگے کچھ نہیں۔ بہترین مثال استاد اللہ رکھہ کی ہے۔ ذاکر حسین کے والد۔ ان کے خاندان میں کسی نے طبلہ یا گانا بجانا نہ کیا۔ اب طبلہ اللہ رکھہ اور ذاکر کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ دوسری مثال اسد قزلباش کی ہے۔ اسد نے استاد امجد علی خان کی آڈیو کیسٹس سن سن کر 80کی دہائی میں خود ہی سرود بجانا سیکھ لیا۔ 2007 میں استاد شاہد پرویز جب اسلام آباد آئے تو میں نے اسد کی آڈیو ریکارڈنگ لگائی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پہچانا ناممکن ہے کہ امجد علی بجا رہے ہیں یا اسد۔ تیسری مثال بدھے دتے مکر جی کی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر۔ ولایت خان کی طرح کا ستار بجاتے ہیں۔ ایک اور مثال سنہیتا نندی اور رونیتا ڈے کی ہے۔ سو فیصد اتائی اور گانے میں باکمال۔ سنہیتا کرانہ گھرانہ کا انگ گاتی ہیں اور رونیتا قصور کا۔ ایک اور نام انوپریا ڈیوٹول کا ہے۔ بہت خوبصورت وائلن بجاتی ہیں۔ بارہ برس وائلن بس میں رکھ کر امجد علی خان کے گھر (دہلی میں) سیکھنے جاتی رہیں۔ خان صاحب نے گھریلو کاموں پر لگ دیا۔ بارہ سال بعد یہ مایوس ہو گئی۔ خود ہی گر پڑ کر سیکھ لیا۔

یہاں بتاتا چلوں کہ بدھے دتے کو ولایت خان نے نہیں سکھایا۔ انہوں نے تو اپنے بھتیجے شاہد پرویز تک کو نہ سکھایا۔ رونیتا کو رضا علی خان نے ہر گز نہیں سکھایا۔ ویسے رضا کے پاس رگی گانے کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ رضا کو تو شاہد پرویز نے اس جگلبندی میں ادھیڑ کر رکھ دیا۔ رضا سے بڑھت ہی نہیں ہو رہی اور شاہد بھائی تان پر تان لگائے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے رضا نے محض ووکل لہرا رکھا ہوا ہے!

سنہیتا کو مشکور علی خان نے کچھ نہ سکھایا۔ اس کے باوجود یہ لوگ مراثیوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ اب مراثیوں کی اولادیں ان سے سیکھتی ہیں۔

سرمد بہت اچھا گاتا ہے۔ بھاری آواز ہے۔ سن 99 میں اسکے گھر اس سے راگیشری کی ایک نایاب بندش سنی تھی۔۔داسی تہاری میں تو داسی۔ بہت عمدہ گائی۔ سرمد کو گانا گانا چاہیے تھا!

میں اس مضمون میں وہ باتیں نہیں لکھونگا جنہیں سرمد نے لکھنا ہے۔ بہت ساری ہیں۔ میں صرف وہ بیان کر رہا ہوں جو ہمارے بیچ ہوا۔

2018 کی یادیں۔ سرمد میرے گھر آیا۔ ساتھ میں کلیر بھی تھیں۔ بہت اچھا گایا سرمد!

میں اسوقت 54 برس کا ہوں اور سرمد 78 برس کا۔ عمر میں وہ میرے والد سے چند ہی برس چھوٹا ہے۔ لیکن جب وہ میری گالیوں سے خاطر تواضع کرتا ہے میں میں بھی اسی طرح عزت افزائی کر دیتا ہوں۔ اس پر وہ آجتک ناراض نہیں ہوا۔ ایک دن میں اپنی بیگم کے ساتھ سرمد کے بارہ کہو والے گھر ملنے چلا گیا۔ جو گفتگو ہوئی۔۔میری بیگم کے لیے ناقابل یقین تھی۔ البتہ کچھ ہی دیر بعد وہ اس رنگین گفتگو سے لطف اندوز ہونے لگیں اور حصہ بقدر جثہ بھی ڈالا۔ اس دن مجھے پتہ چلا کہ ہماری بیگم بھی جگت مار لیتی ہیں۔

سرمد کی سب سے عظیم خوبی یہ ہے کہ کسی کے کام پر تنقید نہیں کرتا۔ کسی کی تعریف بھی نہیں کرتا اور اپنے علاوہ کسی کو نہیں مانتا۔ البتہ دوستوں کی محفل میں ہر ایک کی ماں بہن انتہائی مدلل انداز میں ضرور کرتا ہے۔ بہت سوں کی انکے سامنے بھی کر دیتا ہے مگر سب کے سامنے نہیں۔ اس معاملے میں وہ طافو سے کہیں بہتر ہے۔ طافو سب پر تنقید کرتا ہے اور صرف اپنے آپ کو ہی مانتا ہے۔ کوئی طافو پر تنقید کر دے تو طافو بدتمیزی پر اتر آتا ہے۔ سرمد پر تنقید کرتے رہو، اسے کچھ نہیں ہوتا۔

سرمد کی کئی خوبیاں ہیں۔ سب بتانا (اس مضمون میں) ممکن نہیں۔ اسے پرائیڈ آف پرفارمنس بہت ہی تاخیر سے ملا۔ اس کے جوتے سیدھے کرنے والوں کو دہائیوں قبل مل چکا تھا۔ جو دس لاکھ اس ایوارڈ کے ساتھ اسے ملے وہ اس نے مراثیوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کر دیے۔ کسی مراثی کے پاس رہنے کو جگہ نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ سرمد کا گھر ہے نا!

سرمد لفظوں سے کھیلنے کا فن جانتا ہے۔ اس کی ایک اصطلاح مجھے بے حد پسند ہے۔۔معصوم چوتیے! کل پرسوں اس کی ایک پوسٹ نظر سے گذری۔ کچھ یوں تھی۔ مستنصر حسین تارڑ سرمد سے کہنے لگا یار سرمد شاعری تو تیری ایویں ہی ہے۔ پر نثر کمال کی۔ سرمد نے مستنصر کو یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ یار میری نثر بھی ایویں ہی ہے پر تو اس کا موازنہ اپنی نثر سے کرتا ہے تو تجھے اچھی لگتی ہے!

تین زبانوں میں یہ انسان شاعری کرتا ہے اور کمال کی۔ انگریزی، پنجابی اور اردو۔ اب جو میں لکھنے جا رہا ہوں اس پر قریب ہر ایک کو بہت ہی مرچیں لگیں گی حالانکہ میری اپنی رائے ہے اور اس سے متفق ہونا ہر گز ضروری نہیں۔ وہ یہ کہ جب میں سرمد کی انگریزی پڑھتا ہوں تو مجھے شیکسپیر نظر آتا ہے۔ اردو شاعری پڑھتا ہوں تو غالب دکھائی دیتا ہے۔ یہ جینئس آدمی ہے۔ اسی لیے ہم نے وہ قدر نہیں کی جو کرنا چاہیے تھی۔ نہ جانے کیوں مجھے غالب اور اقبال کے بعد آنے والے شاعر کچھ خاص نہ لگے۔ لگتا ہے وہ شاعری نہیں صحافت کرتے ہیں یا نرسری رائمز لکھتے ہیں۔ ایک سرمد ہی ہے جو غالب کی طرح سمجھ نہیں آتا اس لئے بے انتہا لطف دیتا ہے (بقول یوسفی! آب گم)۔

سرمد انتہائی وسیع المطالعہ انسان ہے۔ اور یہ اسکے کام میں دکھائی دیتا ہے۔ میر، غالب اور منٹو کا عاشق ہے۔ نیا قانون، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ہتک کو ڈرامے کی شکل میں پیش کر چکا ہے۔ کمال کا سکرپٹ اور ڈائریکشن۔ شاہکار ڈرامے ‘فنکار گلی’ اور ‘جل پری’ سرمد کی ہی تخلیق ہیں۔ یہ ہی کام کے دو ڈرامے ہیں ہمارے پاس آوٹ سائیڈ پی ٹی وی! سرمد کی فلم ‘ماہ میر’ تو مجھے بالکل پسند نہ آئی۔ وجہ سکرپٹ نہیں، فنکاروں کی انتہائی کمزور اداکاری۔ میر کی زبان کی چاشنی ہیرو کے پاس ہے ہی نہیں۔ لیکن اس میں سرمد کا کیا دوش؟ وہ تو لکھاری ہے ڈائریکٹر یا پروڈیوسر نہیں۔ ویسے بھی ہمارے پاس اب کوئی اداکار یہ اداکارہ (کام کا) ہے ہی کہاں۔ سب کا لیول اور وجہ شہرت بس اتنا ہی ہے کہ وہ خراٹے نہیں لیتے، لہذا انکے ساتھ آرام سے سویا جا سکتا ہے۔

سرمد کو منٹو کا ‘موذیل’ بہت پسند ہے۔ میں پوچھتا ہوں کیا خاص بات ہے۔ اتنا طویل افسانہ۔ کوئی نو ہزار لفظوں کا۔ کیا منٹو نے نو ہزار ورڈز کے بعد یہ ہی بتانا تھا کہ موذیل اینڈ میں ننگی کھڑی ہو گئی۔ آج تک مجھے سمجھا نہ سکا سرمد کہ موذیل میں کیا خاص بات تھی۔ مگر اتنا مانتا ہے کہ منٹو کے بس چند ہی افسانے باکمال تھے۔ باقی تو وہ ٹھرے کے لیے دس بیس روپے کے لیے لکھا کرتا تھا۔ میں سرمد سے پوچھتا کہ بہت سارے افسانے منٹو کے 90 فیصد باکمال ہیں مثلا بابو گوپی ناتھ، نطفہ۔ مگر آخری دس فیصد میں منٹو سے اینڈ ہینڈل نہ ہو سکا۔ اس پر سرمد کہتا کہ اینڈ کے وقت شام ہو جایا کرتی تھی۔ اسے ٹھرے کی شدید طلب ہوتی۔ وہ افسانے کا الٹا سیدھا اینڈ کرتا۔ پیسہ لیتا۔ شراب خریدتا اور ٹُن ہو جاتا۔

سرمد کو ایک دن فون کیا۔ باتوں باتوں میں اس نے ‘نقش فریادی’ کی تشریح کی۔ ایسی تشریح جو کم از کم میں نے تو کہیں نہیں پڑھی۔ کہ جب ہر شے فانی ہے تو کیوں وہ وہی چیزیں بار بار بنائے جا رہا ہے؟ کوئی تو وجہ ہو گی مگر دھریوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکتی۔ ان کے لیے ڈارون کافی ہے۔ غالب پڑھنے کے ضرورت نہیں!


نوٹ: یہ تحریر www.urdu.theplaintalk.com کے شکریہ کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔ دانش کے قارئین کے لئے اردو پلین ٹاک کی منتخب تحاریر آیندہ بھی پیش کی جاتی رہیں گی۔ اس سلسلہ میں ایک باہمی معاہدہ کے تحت دونوں ادارے اپنے اپنے قارئین کے لئے یہ عمل جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امام حسین اور سیکولرازم ———- فیضان جعفری الخوارزمی

Facebook Comments Box
Sarmad Sehbaiسرمد صہبائی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عشق میں مست فقیر: پاکستانی بارڈ – ایاز امیر —- محمد شہزاد
next post
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —- سہیل بلخی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.