مجھے اعتراف ہے۔ میں یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ دن بہ دن، لمحہ بہ لمحہ، خدا سے مرے تعلق نے مجھے بہت غوروفکرکرنے والا بنادیا ہے۔ کیوں؟ کیا یہ محض گمان ہے کہ خدا سے میرا ہرساعت رابطہ ہے؟ کیا مجھے واقعی اس کا شعور ہے؟ یا محض خوش گمانی ہے؟ اوریہ بات اس طرح لوگوں کے بیچ بیان کرنا مناسب ہے؟ ان ہی شبہات کے درپردہ یہ سوال موجود رہا ہے کہ آیا مجھے خدا سے اپنے تعلق کی کچھ سمجھ بھی ہے؟ احساس میں اسرار زیادہ ہے، مگریہ میرے شعور اورفکرپرروشن ہے۔
اس بارے میں ہم ایک دوسرے سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جب ایک بارنیشنل براڈکاسٹنگ کمپنی کے لیے میں نے ڈائسز سوزوکی (جاپانی فلسفی) سے پوچھا، کہ اُن میں مذہب کا احساس کب پیدا ہوا؟
’’یہ پیدا نہیں ہوا، بیدار ہوا ہے‘‘، جواب آیا۔ اورمیں یہی جاننا چاہتا تھا۔ ’’میں واقعی نہیں جانتا یہ کیسے ہوا۔ مگرشاید اس کا آغاز اُس وقت ہوا جب میں سولہ سترہ سال کا تھا۔ میں مذہبی احساسات کی کچھ تشفی چاہتا تھا۔‘‘ اگر یہ سوال مجھ سے کیا جاتا ہوتا، میں نے بھی کچھ ایسا ہی جواب دیا ہوتا: یہ جاننے کی شدید جستجو، جس کا مجھے بھرپور شعور تھا، کہ میں ہمیشہ سے مذہبی تھا۔ میرا خیال ہے کہ مذہبی تحرک آدمی کی سرشت میں شامل ہے؛ آفاق میں گُم ہونا، کائنات کے سربستہ رازوں کا کھوج لگانا، عالم وجود پرغوروفکر، یہ سب فطری ہے۔ میرے معاملہ میں، ابتدا ہی سے حالات کی سازگاری بہت معاون رہی۔ خدا سے میرا تعلق نوجوانی ہی سے پروٹیسٹنٹ سانچے میں تشکیل پا رہا تھا، نیک اطوارزندگی جس میں خدا براہ راست موجود رہا، یہ یسوع مسیح (علیہ السلام) سے محبت اوراطاعت کا رشتہ تھا۔ میرا یہ طرز زندگی جاری رہا، مذہب اور خدا کے لیے عقیدت مستحکم ہوئی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یوگا کا یہ ہندو فلسفہ کہ لوگوں کی روحانی جہتیں مختلف ہوتی ہیں، اور وہ خدا تک مختلف ذرائع سے پہنچتے ہیں: گیانی علم کے ذریعے، بھگتی محبت کے رستے، کرمی اطاعت کرکے، اور رشی مراقبہ کے رستے معرفت پاتے ہیں۔ اس فلسفہ نے مجھے یہ دکھایا کہ دیگر رستے بھی ہیں جن سے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے۔ میرا یسوع مسیح سے ذاتی رشتہ، جو حقیقی ہے، بہت گہرا نہیں، جب کہ خدا کے بارے میں خیالات رات بھر مبہوت و مسحور کرسکتے ہیں۔ ایسا علم اگر کسی ایسے فرد کی سمجھ نہ آئے کہ جسے اس کا تجربہ نہ ہوا ہو، توسمجھ میں آتا ہے۔ اس کا کچھ تعلق معلومات کی مقدار یا منطق کی درستی سے نہیں ہے۔ بلکہ تفکرات ہیں، جو کسی دانا کو تین جہتوں میں رہنما ہوتے ہیں، یہ دیگر لوگوں کے لیے نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، افلاطون کا یہ خیال کہ ’خیر‘، ’سچ‘، اور’جمال‘ دانا شخص کے لیے ہیں۔ یہ عام لوگوں کے لیے محض خیالی باتیں ہیں۔ جب کہ یہ صریح طور پر حقیقی ہیں۔ یہ حقیقت تحریک پیدا کرتی ہے؛ رقصاں رہتی ہے، نغمہ سرائی کرتی ہے۔ یہ ایسا کلیہ ہے جو دیگر کلیات سے خود کو ممیز کرتا ہے، کہ جو خاص سائنسی طریق پر کام کرتی ہیں۔ یونانی اصطلاح heoria تھیٹر سے ماخوذ ہے، جو علم کو فکر کی نسبت تصور VISION سے قریب تر کرسکے، جیسا کہ ہم عمومی طور پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔
دراصل، دیکھنا یہی ہے کہ روح دیکھ سکے۔ تصور کشش پیدا کرتا ہے۔ ارسطو نے خیر، حق، اور جمال کا مرکب ’محیط محرک‘ (Unmoved Mover) کی صورت میں پیش کیا ہے، جو کائنات کا خالق مطلق ہے، اور اسے قوت کشش کے اصول پر گردش دیتا ہے۔ مگر میرا نکتہ یہ ہے کہ داناؤں کے لیے تفکرات قانون کشش کا کام دیتے ہیں۔ وہ انہیں اپنی جانب کھینچتے ہیں، اور چونکہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ سقراط کہتا ہے ’خیر‘ جاننا دراصل اُسے کر گزرنا ہے۔ سینٹ پال اتفاق نہیں کرتا، مگر وہ ایک مختلف مزاج کا حامل فرد ہے۔ ظاہر ہے ’جاننا‘ دو افراد کے لیے ایک جیسا تجربہ نہیں ہوتا۔ یہ سب خدا سے جُڑا ہے، گو کہ میں نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا ہے، مگر میں بات اُسی ذات کی کرتا رہا ہوں۔ خدا مجسم خیر ہے، حق ہے، جمال ہے، مقتدر ہے، باطن ہے، وہی ان سب صفات کا واحد حامل ہے۔ اپنے بہترین لمحوں میں، میں خدا کی جانب یوں لپکتا ہوں جیسے پروانہ شمع کی جانب لپکتا ہے، اور ان لمحوں میں مجھے نہیں معلوم کہ زمین پر یہ ’’راحت‘‘ کوئی نایاب چیز ہوتی ہے یا پھرعام سی بات۔۔۔ کہ جب ہرشے میں اس راحت کی جھلک نظر آئے۔ مگر میں یہاں پر بس نہیں کرسکتا۔ جب یہ راحت جاں لمحے آتے ہیں، یہ اجنبی محسوس نہیں ہوتے بلکہ خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ ’جنت عدن‘ کا یہ سنہرا احساس میرا کس طرح ہوسکتا ہے! ایسے اسرار آشکار کرنا آسان ہے۔ صحراؤں کی وسعتیں روح پرور ہیں۔ یہ ویسی ہی اہم ہیں کہ کہ جیسے پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کا تجربہ۔ ہمیں ماہرین الٰہیات یہی یقین دلاتے ہیں کہ روحیں خدا کی موجودگی کے احساس کے بغیر بھی خدا سے تعلق مضبوط بنا سکتی ہیں۔ مقصد تک رسائی کے طریقہ معرفت پر اختلاف سے کوئی حرف نہیں آتا۔ ایلڈس ہکسلے کا یہ مشاہدہ ہے، کہ زندگی کا مقصد آدمی کا ’’انانیت‘‘ پر قابو پانا ہے، کہ اس جانب اُٹھنے والا ہر قدم خدا کی جانب لے جاتا ہے۔ اس طرح خدا سے سامنا ہوتا ہے۔
This essay by Huston Smith, based on a conversation with Dr. Benjamin Shield, was published under the title “Encountering God” and excerpted from the book For the Love of God, edited by Richard Carlson and Dr. Benjamin Shield.
