تاریخ انسانی پر نظر دوڑائیں تو ایسے انگنت نام ہیں جیسے رومی، رازی، غزالی، سقراط جو معلم ہونے کی بنا پر آج تک احترام وستائش کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ سقراط، بقراط یا سکندراعظم جیسے شاگرد بھی جن کی شاگردی اپنے اوصاف و خصائص میں کوئی ثانی نہیں رکھتی۔ اسی طرح درسگاہ صفہ اوربیت الحکمۃ جیسے ادارے بھی ماضی میں قابل ستائش رہے جہاں معلم اور ادارے نے مل کر انسانی شعور کی ترقی میں الہامی کردار ادا کیا۔ علم طب، ریاضی، جغرافیہ، علم نجوم و علم فلسفہ کو ترقی میں ان کی معراج تک پہنچایا۔ کامل علم اور درسگاہیں ہی ملک و قوم کی اعلی شناخت اور تمدنی و فکری شعور کے عروج کا باعث ہوا کرتی ہیں۔ تاریخ میں ہم نے کئی قوموں کو بے علمی و بے شعوری کے باعث زوال کے پاتال میں ڈوبتا بھی دیکھا ہے اور علم و آگہی کی روشنی کے ساتھ فلک تک ابھرتے بھی دیکھا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کی درسگاہوں میں جہاں علم و فضل کی ترسیل ندارد اور فکری پراگندگی ناگزیر دکھائی پڑتی ہے۔ درسگاہوں کے معیار کی زبوں حالی جو آج ہے کچھ دہائیوں پہلے ایسی صورتحال نہ تھی۔ ہمارے ادارے گو کہ تحقیق و ایجاد کے معیار کو چھو تو نہیں پائے تھے لیکن پھر بھی ایک صاف شفاف سسٹم کے تحت کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے سیاسی وعسکری اثرو رسوخ کے تحت ہونے والی تقرریوں نے جہاں سسٹم کو کرپشن زدہ کردیا ہے وہیں ساتذہ اور طلبہ کا باہمی تعلق بھی تقدس اور تعظیم سے عاری ہونے لگا ہے۔ یہ غالبا1996 کا واقعہ ہے جب گورنمنٹ کالج لاہور کے کچھ شعبہ جات کے 4 پروفیسرز نے ایک طالبہ کو موسم گرما کی چھٹیوں میں نوٹس کے بہانے ڈپارٹمنٹ میں بلا کر جنسی درندگی کا نشانہ بنا دیا۔ لڑکی کوانتہائی غیر حالت میں، کالج کے ایک مالی نے ہسپتال پہنچایا۔ ان دنوں یہ سکینڈل اخبارات کے پہلے صفحے پر شائع بھی ہوا لیکن کالج کی انتظامیہ نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے دبا دیا یہاں تک کہ لڑکی کے والدین نے بھی ایسے کسی واقعے کی تصدیق سے انکار کردیا۔
گزشتہ برسوں ایک واقعہ جا معہ کراچی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ نادیہ اشرف کے ساتھ بھی پیش آیا، کہ اس نے اپنے ہی سپروائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ اس کیس میں بھی جامعہ اپنے پروفیسر کو بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی و صفائی سے بچا گئی۔ 2014 میں اسلام آباد کی یونیورسٹی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز نے اپنے ایک پروفیسر کے متعلق، طالبات سے جنسی ہراسانی کی شکایت موصول ہونے پر، موصوف پروفیسر کو محض ایک شعبہ کی سربراہی سے روک کر کسی دوسرے شعبے کی سربراہی پر مقرر کردیا۔ قائداعظم یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد شعبہ حیاتیاتی سائنس کے ایک استاد کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جو کہ بعد ازاں اس وقت کے صدر آصف زرداری کی سفارش پر بحال کر دیا گیا۔ اسی طرح بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی طالبہ میرجان کو پروفیسر اجمل مہار نے اچھے نمبروں کا لالچ دے ورغلایا اور نا صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اپنے دوستوں کو بھی اس درندگی میں شامل کیا۔ لاہور کے مشہور ادارے” لاہور گرامر سکول” میں بھی ایسا جنسی سکینڈل ماضی میں منظر عام پر آچکا ہے
2021 ء میں سکھر یونیورسٹی کی طالبات نے اپنا ایک ویڈیو پیغام شناخت ظاہر کئے بغیر جاری کیا جس میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے۔ ان میں وی سی سمیت کچھ پروفیسروں اور انتظامی اراکین پر طالبات پر جنسی ہراسانی کرنے کا انکشاف کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات کو میرٹ پر لانے یا امتحانات میں نمایاں کامیابی دلوانے کے عوض جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان طالبات نے بتایا کہ گرلز ہاسٹل کی وارڈن، پروفیسرز، HODs سمیت سکیورٹی گارڈز اور ٹرانسپورٹ کے کچھ لوگ اس کام میں ملوث و معاون ہیں۔
ایسے واقعات دو اقسام کے ہیں۔ اول وہ جن میں طالبات کو ان کی رضامندی کے بغیر ہراساں کیا جاتا ہے جن کے نتائج یہ ہیں کہ طالبات تعلیم کا سلسلہ معطل کر دیتی ہیں، یا اپنی جان کا خود اپنے ہاتھوں خاتمہ کر لیتی ہیں۔ کیونکہ مذکورہ پروفیسروں یا منتظمین کی خواہشات پوری کرنے سے انکار کے سبب ان کے مستقبل سے کھیلا جاتا ہے۔ انہیں امتحانات میں فیل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے یا پھر ان کے تھیسز کو جان بوجھ کر التوا کا شکار بنایا جاتا ہے۔ کچھ دوسرے واقعات ایسے بھی ہیں جن میں ملوث افراد تو مکروہ فعل انجام دیتے ہی ہیں، لیکن طالبات بھی ان واقعات میں خود اپنی خواہش و رضا سے ملوث پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے کسی استاد، چئیرمین یا منتظم سے جسمانی تعلق بنا کر اپنے مفادات کا حصول ممکن بناتی ہیں۔ کامیابی کے حصول کا یہ وہ شارٹ کٹ ہے جو پروفیسروں، چئیرمین، وی سی یا کسی دوسرے منتظم کے ذاتی دفتر نما کمرے سے شروع ہوتا اور ہوٹلوں کے کمروں تک پہنچ کر مکمل ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے درجے تک پہنچ جانے والی لڑکیاں باشعور اور با اختیار ہوتی ہیں۔ انہیں بے وقوف بنا کر اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہونا آسان نہیں ہوتا۔ عموما کام سے کام رکھنے والی کرخت و سخت لڑکیوں کو ایسے حضرات ٹارگٹ کرنے کی جرات کرتے بھی نہیں۔ یا ان کے ارادوں کی بھنک پڑتے ہی شریف النفس لڑکیاں ان سے قدرے فاصلہ بنائے رکھتی ہیں۔ وہ ایسے حضرات کے انتقامی نتائج کی قیمت پر اپنی عزت کو دائو پر لگانے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ یہ انہی لڑکیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں جو خود ان کے ہاتھوں کا کھلونا بننے پر آمادہ ہوتی ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے حالیہ واقعہ میں بھی سکیورٹی آفیسر سمیت دیگر مجرمان کے ہاتھوں شکار بننے والی طالبات کے بارے بھی اب تک ایسی ہی رپورٹ آرہی ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے اپنا جنسی استحصال کروارہی تھیں۔ انہیں منشیات کا عادی بنا کر شکار کیا گیا یا کہ جامعہ میں ان کا تعلیمی ریکارڈ بہتر بنانے کا لالچ دے کر، دونوں ہی صورتوں میں مجرم وہ خود بھی ثابت ہوتی ہیں۔
زندگی میں کامیابی کی سیڑھی کے طور پر مرد کو آزمانے والی خواتین صرف ان درسگاہوں یا جامعات میں ہی نہیں پائی جاتیں۔ ایسی کچھ خواتین آپ کو ہسپتالوں کی لیڈی ڈاکٹر وں یا نرسوں، فضائی میزبانی کرتی یا پولیس کے محکمے کی خواتین میں بھی دکھائی دیں گی جو مرد ڈاکٹروں، جہاز کے کپتانوں یا پولیس افسران کے علاوہ ججوں، سیاستدانوں اور دیگر افسروں کو خوش کرتیں اور محکمے میں ترقی پاتی ہیں۔ یہاں تک کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کچھ لڑکیاں اپنے سمسٹر کی فیس بھرنے کے لئے یا اپنی مادی ضروریات کو بآسانی پورا کرنے کے لئے بھی اپنا جسم بیچ رہی ہیں۔ شہر کے گیسٹ ہائوسوں، ہوسٹلوں اور ہوٹلوں میں وہاں کی انتظامیہ سے چند سکوں کے عوض وہاں چلنے والے اس دھندے کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ان ہوٹلوں، ہاسٹلوں اور گیسٹ ہائوسوں کو پولیس افسران،بیوروکریٹ یا پھر سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہاں سے وہ ہر ہفتے یا مہینے کی بنیاد پر بھتے وصول کرتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کے رات گئے چلنے والے میوزک کنسرٹس میں کیا ہوتا ہے؟ منشیات کس کی اجازت سے کہاں اور کیسے فروخت ہو رہی ہے یہ اب ڈھکی چھپی باتیں نہیں ہیں۔ تو بات صرف اسلامیہ یونیورسٹی ہی کی نہ کی جائے بلکہ ہر اس تعلیمی ادارے کی بات کریں جہاں یہ سب چل رہا ہے۔ کیسے کیسے اساتذہ اپنے مقدس پیشے کو ہوس کے پلڑے میں بے وزن کر رہے ہیں۔ کیسے ان علمی درسگاہوں کو بازار میں بدلا جا رہا ہے۔ طالبات خصوصا ہاسٹلوں میں ٹھہری ہوئی وہ لڑکیاں جن کے والدین اپنی نسل بدلنے کے زعم میں ان پر اعتبار کر کے انہیں دور دراز علاقوں میں پڑھنے بھیجتے ہیں اور وہ کس کس طرح ان کے ارمانوں کا گلہ گھونٹتی ہیں، ان کی عزت پامال کرتی ہیں اپنی چند خواہشات کے عوض، جب کہ کہا جاتا ہے کہ علم تو آگہی ہے۔ آگہی انسان کو بے خواہش ہونے کی کیفیت عطا کرتی ہے۔ وہ خواہشات جو انسان کو محض ذلیل اور رسوا کیا کرتی ہیں۔ ایسی خواہشات کو پالنے کی بجائے اس کی فطرت کو سمجھیں، اس کی فطرت کی گہرائی میں سوائے تاریکی کے کچھ نہیں ملے گا۔
طالبات کو کسی بھی مجبوری میں اپنی عزت اور عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ کامیابی و کامرانی عزت سے حاصل کی جائے تو عمر بھر کا فخر بن جاتی ہے، ذلت خرید کر کمائی گئی کامیابی، روح،جسم اور فکر تینوں ہی کے لئے مصیبت اور تباہی کا باعث ہوتی ہے۔
آج بھی اگر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے سکینڈل پر خاموشی اختیار کرلی گئی یا کسی بڑے کی سفارش پر معاملے کو دبا دیا گیا تو ہمارے اداروں میں ایسے واقعات یونہی جاری و ساری رہیں گے۔ ڈرگ سپلائرز بھی پورے اعتماد سے اپنا کاروبار ان تعلیمی اداروں میں جاری رکھیں گے۔ ہمارے ادارے کسبی خانہ بن کر رہ جائیں گے۔ نا صرف اعلی تعلیم کی شرح اور بھی گر جائے گی بلکہ ہماری نئی نسل نشے کی لت سے تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔ والدین جو اپنی بچیوں پر اور ان اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اعلی تعلیم کا حق دینے لگے ہیں وہ پھر سے بیٹیوں کے قدم آگے بڑھنے سے روک دیں گے۔ اور اس ملک کی ترقی کا خواب،خواب ہی رہ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامیہ یونیورسٹی اور کالے کرتوت
جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار
