تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبفکشن

پہاڑن —– شہزاد حنیف سجاول 

by دانش ڈیسک 25/07/2023
written by دانش ڈیسک 25/07/2023
318

میں اگرچہ سطح مرتفع پوٹھوہار کا باسی ہوں او ر ہمارے خطے میں بھی پہاڑ پائے جاتے ہیں لیکن میری جائے پیدائش کچھ میدانی سی ہے اور کچھ کٹاو زدہ زمین ہے۔ لیکن پہاڑ کچھ ایسی دوری پر بھی واقع نہیں ہیں۔ ہماری چھت سے شمال کے سارے سلسلہ ہائے کوہ نظر آتے ہیں۔۔ مجھے بچپن سے پہاڑوں کے ساتھ عشق ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی وجہ مجھے خود نہیں معلوم لیکن مجھے پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور اسی لیے مستنصر حسین تارڑ سے شیفتگی ہے کہ وہ پہاڑوں کی زبان جانتے ہیں اور پہاڑوں کی باتیں ان کی زبان میں لکھتے ہیں۔

خوبی قسمت دیکھیے کہ مجھے پہاڑی علاقے میں ہی ملازمت بھی مل گئی سو پہاڑ دیکھنا، ان سے ملنا، ان سے باتیں کرنا اب چنداں دشوار نہیں ہے۔ ہماری مادری زبان کو اہل زبان پہاڑی کہتے ہیں۔ تو مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ چلیں اس بہانے پہاڑوں سے کوئی نسبت تو ٹھہری۔ پہاڑوں کی ایک نفسیات ہوتی ہے کہ وہ بہت مشکل پسند ہوتے ہیں او ر ساتھ ساتھ کم آمیز بھی۔ وہ جلدی کسی کو اپنا ہمراز نہیں بنا لیتے ہیں اس کام کے لیے عشاق کو واقعی بہت مشقت کرنا پڑتی ہے اور بہت رنج اٹھانا پڑتے ہیں۔ بہت کلفت سہنی پڑتی ہے۔ تب جا کے پہاڑ کے ہردے میں آپ کے لیے نرمی پیدا ہوتی ہے۔ پھر پہاڑ آپ کو اپنے دامن میں راستے دیتے ہیں۔ اپنا ہم راز بناتے ہیں۔ پہاڑ کے سینے پر اگے پیڑ پودے، جڑی بوٹیاں بھی آ پ کو اپنا رفیق مان کر آپ سے مانوس ہو جاتی ہیں۔ اور یوں پہاڑ آپ کو صبح وشام کے پھیلاو میں سے ایسے ایسے مناظر تراش کر دکھاتے ہیں۔ کہ آپ کی روح تک سرشار ہوجاتی ہے۔ سورج اگنے سے لیکر مغرب کے نارنجی غلاف میں لپٹنے تک کتنے ہی مناظر ہیں ابھرتے ہیں دل و نظر میں پیوست ہوتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ قتیل عشوہ ٓ آفتاب ہر رو ز ایک نئی امنگ لیکر اسی نظارے کی کھوج میں نکلتے ہیں اور ایک نیا زخم لے کے لوٹ آتے ہیں۔

اس کی فطرت بھی پہاڑوں جیسی ہی تھی پہاڑن جو تھی۔ اگرچہ تمام عمر گھر سے دور شہر میں گزاری تھی لیکن اس کے اندر کا پہاڑ کی فطرت ویسے کی ویسی تھی۔ اکھڑ، کم آمیز، قریب لیکن پہاڑوں کی طرح دسترس سے باہر، آپ پہاڑ کی چوٹی سر کر بھی لیں تو وہ آپ پر غالب ہی رہتا ہے۔ میری اس کی شناسائی فیس بک کی بدولت ہوئی تھی۔ وہ اپنے گاوں کی تصویریں اپنی دیوار (wall)حسن آرا ءپر آراستہ کرتی اور میں کشتہ جبال ان فسوں ساز نظاروں میں کھو رہتا۔ یوں ہی سراہنا، ستائش، تحسین، اور ہر پہاڑ سے تعارف بدولت ہمارا تعارف ہو گیا۔ اسے یہ بات حیرت زدہ کیے دیتی تھی کہ جس پہاڑ کی تصویر وہ پوسٹ کرتی ہے میں اسے کیسے جانتا ہوں۔ یوں ہی تصویروں تصویروں باتوں میں ہمارے درمیاں مسابقت کا آغاز ہو گیا وہ اس بات پر شاکی کہ میں ہر منظر اور ہر پہاڑ سے کیسے شناساہوں۔ اور مجھے یہ زعم کہ اس کے گاوں کی ہر پگڈنڈی پہ میرے نقش ہائے قدم ثبت ہیں۔ اب کے بار بحر استعجاب میں غوطہ زنی کی باری اسکی تھی۔ میں نے جب اس کے گاوں کی تصویریں اپنی دیوار پر چسپاں کیں تو اسے مانتے ہی بنی کہ میں نے مقام ہائے شوق کی مناز ل زیادہ طے کر رکھی ہیں۔اور یہ ایک بے نام سے تعلق کی ابتدا ٹھہری۔

ایک شام میں نے اس کے گھر کے پاس واقع ایک قدرتی جھیل کی تصویریں پوسٹ کیں تو اس نے پیغام بھیجا کہ بس دو گام ہی تو مقتل تھا کیا تھا بہانے سے آئے تھے سو اک تیر پر افشاں سینہ بیمار میں لیے جاتے۔ میں نے بھی لکھ بھیجا کہ قربت میں تھا ضرور مگر بے خبر بھی تھا کہ جلوہ رخ یار قریب بھی ہے اور میسر بھی۔ مژدہ جان فزا سنایا کہ شہر سے گاوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ سو اب اگر آو تو جرات شوق کو آزما لینا۔ اور سچ مچ اگلی بار میں رانجھا بن کے ان کے دروازے پر پہنچ گیا اور نمک مانگ لیا۔ اسے حیرت ہوئی کہ کون ایسا سوالی ہے جو ان پانی کی بجائے نمک مانگتا ہے۔ سو خود در دولت پہ جلوہ افگن ہوگئی۔ مجھ پر پڑی نگاہ تو دریچے سے ہٹ کر کہا جا بنجارے ہم سوالی کے کشکول میں نمک نہیں زخم ڈالتے ہیں۔ یکبارگی ایک نقرئی قہقہے نے سارے کو اپنے حصار میں لے لیا اور ہر سمت اس کے قہقہے کی گونج سنائی دینے لگی۔ بیٹھک کا دروازہ کھولا۔ بٹھایا،چائے سے تواضع کی اور اس پیمان کے ساتھ رخصت کیا کہ پھر ضرور آنا۔ میں لوٹ تو آیا لیکن راہ بھر اپنی جرات اور اس کے بے تکلفی کو کوئی نام نہ دے پایا۔ رات کو اس سے پوچھا کہ گھر والوں نے پوچھا نہیں کہ کون ہے جسے بیٹھک میں بٹھاتی ہو چائے پلاتی ہو۔ تو کہا کہ صرف بھابھی اور وہ گھر پہ تھی سو انھیں بتایا کہ کوئی کسی ان دیکھی منزل کی تلاش میں ہے۔ مسافر ہے اور ہماری روایات میں مسافروں کو ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔

اب ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ میں جہاں ملازمت کرتا تھا وہ اس علاقے کا واحد شہر تھا۔ ارد گرد کے تمام گاوں کے باسی تمام تر سامان ہائے زیست وہی سے خریدتے تھے۔ ہر فرد کی ہر ضرورت اسی شہر سے پوری ہوتی تھی۔ اس نے بھی وہاں ایک سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ یوں ہمارے مل بیٹھنے کا انتظام ہوگیا۔ ہفتے دو ہفتے مین ہماری ایک آدھ ملاقات ہو جاتی تھی۔ یوں ہی باتوں ملاقاتوں میں معلوم ہوا کہ اس نے اردو ادب میں ایم فل کی ڈگری لے رکھی ہے۔ غالب خستہ سے والہانہ لگاو ہے۔ اور اس کا کلام گویا ازبر ہے۔ میری افسانہ گوئی کو بنظر استحسان دیکھا لیکن مجال داد و تحسین کا ایک بھی لفظ کہا ہو۔ وہ نہائیت شوخ و شنگ تھی۔ ہمیشہ چہکتی رہتی تھی۔ اسے دو شوق تھے کھانے کا اور باتیں کرنےکا وہ باتیں کیے بنا رہ سکتی تھی نہ کچھ کھائے پیے بنا۔ اس بات پر وہ ہمشہ اس بات پر شاکی رہتی تھی کہ سکول میں کمرہ جماعت میں نہ تو وہ کچھ کھا سکتی تھی اور نہ زیادہ بول سکتی تھی۔ لہذا سکول سے فراغت کے بعد جب بھی ہماری ملاقات ہوتی تو گفتگو میں اس کا پلڑہ ہمیشہ بھاری رہتا اور میں بس اسے سنا کرتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی ایک آدھ جملہ ادا کرنے کا موقع مجھے بھی میسر آ ہی جاتا تھا۔ وہ دنیا کے ہر موضوع پربات کرتی تھی لیکن اپنی ذات کے بارے میں کچھ نہ بتاتی تھی اور میرے ہر ایسے سوال کے جواب میں یہی کہتی دامن امید سے وابستہ رہو۔ پہاڑ بڑے ستم ظریف ہوتے ہیں۔

a girl stood in the blossoming sunset valley, pondering the mountains in the  distance. peaceful pastel palette, matte painting." : r/bigsleepشب وروز کی گنتی مجھے بھول گئی تھی میں کہ ایک عالم سرشاری میں تھا ان دنوں۔ ہر دو ملاقاتوں کے درمیانی وقفے میں میں کوئی سوالنامہ تیار کرتا لیکن کبھی کوئی سوال پوچھنے کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔ اس کی باتیں ایسی دلپذیر تھیں کہ بس چپکا بیٹھا سنا کرتا تھا۔ ایک روز وہ گپ چپ سی تھی میں نے پوچھا تو کہنے لگی امی کی طبیعیت خراب ہے۔ رات بھر جاگتے رہنے کے باعث بدن نڈھال اور دل اداس ہے۔ لیکن اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ رات بھر جاگتی بھی رہی ہے اور روتی بھی رہی ہے۔ بھائی ملک سے باہر ملازمت کرتا ہے۔ لہذا گھر کے تمام معاملات کی دیکھ بھال امی نے اپنے سر لے رکھی ہے۔ والد کا انتقال تب ہو گیا تھا جب وہ میٹرک میں تھی۔ گھر میں کسی مرد کی عدم موجودگی ان کے لیے مشکل کا باعث تھی کیونکہ رات گئے اگر امی کی طبیعیت خراب ہو جاتی ہے تو پہلے کسی عزیز کے گھر سے کسی مرد کو بلانا پڑتا ہے پھر امی کی دیکھ بھال کا کوئی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ میں تمام تر ہمدردی کے باوجود کچھ بھی کر سکنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ امی کی صحت یابی پر وہ شاداں تھی۔ اور پھر سے اپنے اصل روپ میں آچکی تھی۔ ہماری اب تک کی ہوئی ہر ملاقات میں اس کی طرف اہتمام ہوتا تھا کہ جلوہ محبوبی پردے کے پیچھے رہے۔ گویا لن ترانی کے حکم سے کشتہ عشق کو باندھ کے رکھا تھا۔ اسکی خواہش تھی کہ رخ تاباں سے حجاب ہٹائے جانے کی درخواست میری جانب سے ہو اور ادھر یہ غرور مانع تھا کہ خود کو بے نقاب کرو اپنی چاہ سے! میں اس کی آواز سن کر دست تخیل سے اس کے لب و عارض کے سو سو زاویے تراشتا مٹاتا تھا۔ کبھی وارث شاہ کی ہیر کا نقشہ ابھرتا کبھی احمد فراز کی چشم تخیل سے دشت امکاں میں کئی صورتیں بنتی بگڑتی تھیں۔

اس حسن بے پر واہ کو میری جرات کے نجانے کتنے امتحان مقصود تھے۔ ہم بھی بندگی میں وہ آزادہ و خودبیں تھے کہ در کعبہ پہ بھی دستک نہیں دی۔ ایک دن میں نے اپنا مدعا بہ الفاظ فیض پیش کر دیا پہلے تو ایک نظر غلط انداز سے دیکھا پھر کچھ کہے سنے بغیر چلی گئی۔ میں پشیمانی اور خجالت کی صلیب پر ٹنگ گیا۔ کئی بار فون کرنے کی ہمت کی لیکن پھر حوصلہ ہار جاتا تھا۔ مجھ میں جرات فریاد نہ تھی اور سانس لینا دوبھر ہوا جارہا تھا۔ پھر ایک روز وہ آگئی۔ ویسے ہی ہنستی مسکراتی۔ رنگ اڑاتی۔ اسے دیکھ کر میری سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ ہم آفس سے نکلے اور ریستوران کے کنج عافیت میں آ بیٹھے۔ اس نے نگاہ بھر کے میرے طرف دیکھا اور کہنے لگی۔

مجھے اپنے بارے میں تمہارے جذبات کا اندازہ ہوگیا تھا لیکن میں منتظر تھی کہ تمھاری طرف سے ابتدا ہو تو میں اپنا حال تم سے بیان کرسکوں۔

اس دن اس کی گفتگو کا انداز کچھ اورتھا وہ ٹھہر ٹھہر کے بول رہی تھی۔ سنبھل سنبھل کر رک کر لفظ اس کی زبان سے نکل رہے تھے۔ لگتا تھا وہ خیال کو لفظوں میں باندھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس نے اپنی کلائی سے چوڑی اتار لی اور میز پر رکھ کرانگلی سے گھمانے لگی۔ اس کی نظریں چوڑی پر مرکوز تھیں اور وہ بات کر رہی تھی گویا وہ قصدا مجھ سے نظریں نہیں ملارہی تھی۔

میں شادی شدہ ہوں۔ اس نے آہستگی سے کہا۔ چوڑی کے گھومنے کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ اب وہ نظر نہں آرہی تھی۔

میں بھی شاید اس چوڑی کے ساتھ ہی گھوم رہا تھا۔ میں نے بھی نظریں چوڑی کے طواف پر مرکوز کر رکھی تھی۔ کیا ہے کہ اگر وہ میری طرف دیکھ نہیں رہی تو کم از کم ہمارا مرکز نگاہ تو ایک ہے۔

میرے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔ اس کے آگے اس نے کچھ کہا تھا لیکن میں سن نہیں پایا تھا۔ اور جب میں دوبارہ کچھ سننے کے قابل ہوا تو وہ ویٹر سے کچھ لانے کا کہہ رہی تھی۔

تم نے شائد میری بات غور سے سنی نہیں۔ اس نے پہلی بار میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تھا۔ اس کی ہتھیلیوں کی حدت میرے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو سنبھال رہی تھی اور ان میں بھری حیرت کی برودت کو پگھلار ہی تھی۔ میں اس کی جانب دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اس کا نقاب گیلا ہو چکا تھا۔ لمبی پلکیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں پھیلی لالی نے میرا کلیجہ جکڑ لیاتھا۔ میں ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے تو وہ مسکرانے لگی۔ پھر ذوق تجلی نے انگڑائی لےکر چہرہ انور سے یک لخت نقاب الٹ دیا۔میں موسی ٰ تو نہیں تھا کہ تاب تجلی نہ لا سکتا میری نگاہ شوق اس امتحاں سے دور تھی۔

ابو کا جب انتقال ہو ا تو میں میٹرک میں تھی۔ نتیجہ نکلا میں پاس ہو گئی میری خواہش آگے تعلیم حاصل کرنے کی تھی لیکن گھر والوں کی طرف سے اجازت نہیں تھی۔ بالآخر اس شرط پر اجازت ملی میں چچا کے بیٹے سے نکاح کرلوں۔ میں نے ہاں کردی۔ داخلے سے قبل ہمارا نکاح ہوگیا۔ بی اے کرنے کے بعد چچا کی طرف سے رخصتی کا اصرار ہونےلگا۔ لیکن میں نے کسی نہ کسی طرح گوہر کو اس بات پر رضامند کر لیا کہ ہم ایم کے بعد رخصتی کریں گے۔ وہ میری بات ٹالنا چاہتا تھا نہ گھر والوں کو انکار کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ ملازمت کے بہانے دبئی روانہ ہو گیا۔ میں نے ایم اے میں داخلہ لے لیا اگرچہ میرے چچا کو اس پر شدید اعتراض تھا۔ نہ معلوم کس نے ان کے کان میں کیا بات ڈال دی انہوں نے گوہر سے کہہ دیا کہ وہ مجھے طلاق دے دے۔ لیکن وہ اس بات پر رضا مند نہ ہوا۔ ہمارے درمیان ناراضگی ہوگئی۔ چچا میرا رشتہ کرنا نہیں چاہتے اور گوہر مجھے طلاق نہیں دے رہا۔اور میں ان دونوں کی انا کے بیچ ڈول رہی ہوں۔ اس نے ہونٹ ملا کر مسکرانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکی۔ آنسو ٹپ ٹپ میز پر گرنے لگے۔ خاموش اور شکستہ۔ اس نے اپنی ہتھیلی سے میز کی پشت پر گرے آنسووں کو پونچھ دیا۔ ہتھیلیوں سے خوب دبا کر اپنی آنکھیں صاف کیں۔ اور میرے ہاتھ پکڑ کہنے لگی۔

بابو جی!۔ میں عشق کی وہ شاہ گوری ہوں جسے کوئی محمد علی سد پارہ سر نہیں کرسکتا۔ جو سر پھرا کوشش کر تا ہے وہ “صد پارہ” ہو جاتا ہے۔ اس کے چہرے کی رنگت ایسے تھی جیسے کسی پہاڑ کے پیچھے سورج غروب ہو رہا ہو۔

 پھر ملیں گے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور چلی گی۔
اور میں وہیں بیٹھا خود کو پارہ پارہ جوڑتا رہا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سماج میں خیال کی آزادی اور نئی استعماریت —– قاسم یعقوب
next post
درسگاہیں یا مصر کا بازار —–فارینہ الماس

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.