آپ سے میری پہلی ملاقات کا سبب محمد عمر میمن تھے۔ مجھے یاد ہے میں اپنے والد کے گھر گئی تھی اور حسب معمول للچائی نظروں سے ان کی نئی خریدی ہوئی کتابوں کو دیکھ رہی تھی کہ میرے مطلب کی کوئی کتاب نظر آئے تو میں چپکے سے وہ کتاب نکال کر لے جاؤں۔ بچپن سے آج تک میرے اور والد صاحب کے درمیان ایک خاموش معاہدہ چلا رہا ہے، میں ان کی کتابوں میں اپنے مطلب کی کتاب تلاش کرتی رہتی ہوں اور مل جانے پر چپکے سے نکال لاتی ہوں۔ دراصل مجھے یہ خوف رہتا ہے کہ اگر میں یہ کتاب ان سے مانگوں گی تو وہ منع کر دیں گے کیوں کہ وہ کسی کو نئی کتاب لا دیں گے مگر اپنی کتاب نہیں دیں گے، پھر میں ہر مرتبہ یہ بھی سوچتی ہوں کہ کتابوں کے اس ڈھیر سے ایک دو کتابیں نکلنے کا علم والد صاحب کو بھلا کہاں اور کیسے ہوگا۔ مگر کچھ دن بعد جب والد صاحب نہایت اطمینان سے کہتے ہیں کہ "ہاں بھئی فلاں کتاب پڑھ لی ہے تو واپس کر دو۔” تو میں حیران پریشان شرافت سے وہ کتاب واپس کر دیتی ہوں۔ اس وقت بھی سیاہ رنگ کی جلد کی ایک کتاب پر میری نظر پڑی جس میں سفید رنگ سے لکھے نام نے میری ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی، یہ نام تھا "محمد عمر میمن"۔ معذرت آپ کا نام تو ہم نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ مجھے جو مترجم بے انتہا پسند ہیں ان میں محمد عمر میمن سر فہرست رہے ہیں۔ لہٰذا میں نے جلدی سے یہ کتاب نکالی اور خاموشی سے گھر لے آئی۔ گھر آ کر رات کو اطمینان سے کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ گئی۔ یہ کتاب "ناول کا فن” تھی۔ اس کتاب کے نام سے اوپر میلان کنڈیرا اور نام کے نیچے بریکٹ میں مکالمے اور دیگر نگارشات لکھا تھا۔ اس کے نیچے انگریزی سے ترجمہ لکھا ہوا تھا۔ شہرزاد سے مطبوعہ اس کتاب کا سرورق پرکشش تھا مگر "انگریزی سے ترجمہ” پڑھ کر مجھے کچھ مایوسی ہوئی، اوہو! ترجمے کا ترجمہ___ خیر محمد عمر میمن کا ترجمہ ہے تو گوارا کیا جا سکتا ہے۔ میرے لیے آپ کا نام نامانوس نہیں تھا مگر بہت واقفیت بھی نہیں تھی۔
مجھے یاد آیا کہ جب 2012ء میں والد صاحب اوپن ہارٹ سرجری کے بعد ہاسپٹل میں تھے تو آصف فرخی صاحب تقریباً روز ان سے ملنے آتے تھے اور ایک دن وہ دونوں کافی دیر آپ کے حوالے سے فکشن پر بات کرتے رہے تھے۔ مگر اب جب میں یہ کتاب پڑھنے لگی تو آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ اب ہم دونوں بات کر رہے ہیں۔ آپ کے خیالات اور محمد عمر میمن کا ترجمہ مل کر عجیب ہی فسوں طاری کر رہے تھے۔ میں آپ کے خیالات جان بھی رہی تھی اور جانچ بھی رہی تھی۔ مجھے اچھا لگا جب آپ اپنے زنانہ کرداروں کے دفاع میں کھڑے ہو گئے۔ آپ بضد تھے کہ آپ زنانہ کرداروں میں بھی دانش ور دیکھتے ہیں۔ ارے واہ! یہ تو کمال ہو گیا ورنہ ہم نے تو آج تک عموماً بڑے بڑے لکھنے والوں کا رویہ عورتوں کے لیے ایک جیسا دیکھا ہے کہ وہ انہیں تیسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں اور عموماً ان کی صلاحیتوں کے اعتراف سے کتراتے بلکہ گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ ایسے ہیں جو اپنی مخصوص خواتین کا مبالغہ آمیز اعتراف کرتے نظر آتے ہیں مگر اس کا سبب ان کا کوئی ذاتی مفاد کا ہوتا ہے۔ لہٰذا عورت کو دانش ور ماننا تو دور کی بات ذہین ماننے میں بھی انھیں تامل ہوتا ہے۔ مگر آپ اپنے کردار Sabina, Olga کے نام لے کر ڈٹ گئے۔ سبینا کے لیے تو آپ نے کہا کہ وہ ایک ایسی عورت ہے جسے قدرت نے بڑا زبردست ذہن عطا کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں آپ نے اپنے پورے ناول "وجود کی ناقابل برداشت لطافت” میں صرف اسی کی فکر کو مقابلتاً زیادہ شفاف اور واضح قرار دیا اور سب سے زیادہ بے حس اور سفاک بھی۔ آپ نے کہا دوسرے کردار اس وضاحت سے غور و فکر نہیں کرتے جس سے وہ کرتی ہے۔ میں سوچ میں پڑ گئی، غور و فکر کرنے والا سب سے زیادہ بے حس اور سفاک کیسے ہو سکتا ہے؟ غور و فکر تو انسان کو حساس اور نرم دل بناتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے؟
انھی سوالات میں الجھی اب میں آپ کے ناول پڑھنا چاہتی تھی، لہذا جب چار دن بعد والد صاحب کے مطالبے پر یہ کتاب انھیں واپس کی تو ان سے آپ کی بابت دریافت کیا۔ انہوں نے تفصیل سے آپ کے بارے میں بتایا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دو دن بعد کال کر کے مجھے اپنے گھر بلایا اور "آج” کا ایک کافی پرانا شمارہ اور "وجود کی ناقابل برداشت لطافت” مجھے دیتے ہوئے خوشخبری سنائی کہ یہ وہ بطور خاص میرے لیے تلاش کر کے لائے ہیں۔ یہ ناول مکتبہ دانیال سے شایع ہوا تھا محمد عمر میمن کا ہی ترجمہ شدہ تھا۔ یعنی میرا آپ سے فکری تعارف پہلے ہوا اور تخلیقی تعارف بعد میں۔ اب میں نے باقاعدہ آپ کو پڑھنا شروع کیا تو گویا ایک نئے تخیلاتی جہان کی سیر کا آغاز ہو گیا۔ یہ جہاں میرے لیے بڑا دل چسپ تھا لہٰذا اب جو، جہاں سے، جتنا انگریزی یا اردو میں مجھے ملتا میں فوراً پڑھنے کی کوشش کرتی۔ اب میں صرف سبینا ہی کو نہیں بلکہ ٹامس، فرانز، ٹریزا، Ludvik, جارومل، ایگنیس سب سے واقف ہو چکی تھی۔ میں جان چکی تھی کہ آپ کثیر جہتی شخصیات تخلیق کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں، جو عالمگیر انسانی مخمصوں اور امنگوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔ یہ ایسے فکر انگیز کردار بن جاتے ہیں جو قارئین پر دیر پا اثر چھوڑتے ہیں۔ آپ کے کردار پیچیدہ ہوتے ہیں۔ میں صرف آپ کے کرداروں کو ہی نہیں آپ کو بھی جان چکی تھی۔ آپ چیک نژاد مصنف اور ناول نگار تھے، جسے وطن بدر کر دیا گیا تھا۔ وطن بدر ہونا کتنا عجیب سا احساس ہے نا! واقعی جیسے کوئی ماں اسقاط حمل کرا لے۔ ایسے میں اپنا وجود ایک دم کتنا غیر ضروری، بے مصرف بلکہ گندا لگنے لگتا ہوگا۔ آپ نے شہریت ترک کر دی، فرانسیسی زبان میں لکھنے لگے۔ مجھے آپ کا یہ جواب پسند آیا، آپ نے اسے اپنی ماں ماننے سے انکار کر دیا۔ یعنی آپ میں جرات ہے، آپ بہادر ہیں۔ مجھے مرد کے ساتھ ہمیشہ یہ خصوصیات لازمی لگتی رہی ہیں، اس لیے مجھے آپ اچھے لگے۔ مجھے احساس ہوا کہ آپ ایک آزاد روح ہیں اور آزادی کی قیمت چکانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آپ اپنی تحریروں میں طاقت، نظریے اور شخصی آزادی کی نوعیت کے بابت اہم سوالات اٹھاتے ہیں، مطلق العنان حکومتوں پر شدید تنقید کرتے ہیں اور افراد پر سیاسی جبر کے اثرات کو عیاں کرتے ہیں۔ آپ جیسی آزاد روح اگر کہانی سنانے کا روایتی انداز اختیار کرتی تو مجھے سخت مایوسی ہوتی مگر آپ نے میری توقع کے عین مطابق جدید بیانیہ تکنیکوں سے اپنا ایک منفرد اسلوب پیدا کیا اور قطعی غیر روایتی، بے ترتیب اور غیر لکیری بیانیے کی ساخت کو استعمال کیا۔ گویا آپ ایک نئے فارم میں روایتی ادبی اصولوں کو چیلنج کرتے ہوئے پیچیدہ فلسفیانہ خیالات اور نفسیاتی بصیرت کی تلاش میں نکلتے اور اکثر کامیاب لوٹتے۔ آپ انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں اترنے میں دلچسپی رکھتے تھے تاکہ وجودی اور فلسفیانہ سوالات کے ذریعے وجود کی نوعیت، شناخت، انسانی رشتوں اور معنی کی تلاش کو ممکن بنا سکیں۔ انسانی رشتے آپ کے ہاں اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ ملتے ہیں۔ آپ کے کردار سفید یا سیاہ ہونے کے بجائے سرمئی ہوتے ہیں۔ آپ کے کرادر بھی اپنی شناخت کی پیچیدگیوں سے نمٹتے اور شخصی آزادی کی جد و جہد کرتے نظر آتے ہیں جیسے ٹریزا اور سبینا۔ یادداشت کی کھوج اور وقت کی روانی بھی آپ کا مسلسل موضوع ہے، جو میری بھی دلچسپی کا مرکز ہے۔ سچ پوچھیے تو آپ کو جاننے اور آپ کی تحریروں سے لطف اندوز ہونے میں محمد عمر میمن کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے۔ میں نے ان کے ترجمہ شدہ ناولوں کے علاوہ ان کی "فن فکشن نگاری” کی تینوں جلدوں میں بھی آپ کے انٹرویوز پڑھے اور آپ کے خیالات سے کئی سوالات کی کھوج کی. آپ اپنے خیالات، تکنیک، سوچ، تخیل اور کرداروں سب کے بارے میں بڑے واضح اور شفاف تھے۔ عمر میمن کے انتقال کی خبر سے ہونے والے شدید دکھ میں یہ دکھ بھی شامل تھا کہ اب میں عمر میمن کا کیا ہوا آپ کی تحریر کا کوئی نیا ترجمہ نہیں پڑھ سکوں گی۔
سچ پوچھیے تو آپ کی تحریریں یوں بھی میرے دل کو بہت بھاتی ہیں کہ وہ میرے اندر بہت سوالات اٹھاتی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے جب میں نے پڑھا کہ خاموشی محبت کی جان نکال دیتی ہے تو میں بہت دیر الجھتی رہی، دل نے فورا لبیک کہا مگر ذہن کہتا رہا کہ جس کی جان نکل سکتی ہو کیا اسے بچایا جا سکتا ہے؟ جس محبت کو مرنا ہو وہ تو ہر صورت مر کر رہتی ہے، کوئی حیلہ بہانہ، خاموشی گفتگو، خلوص وفا کچھ بھی تو اس میں جان نہیں ڈال سکتے۔ لیکن کیا محبت کی جان نکل سکتی ہے؟ میں اب اس سوال کی کھوج میں ہوں۔
94 سال کی عمر میں آپ کی آزاد روح بالآخر قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ میں فوراً آپ تک پہنچنا چاہتی تھی مگر آپ کے جانے پر ہر کوئی اداس ہے۔ اتنے سارے اور بڑے لوگ عقیدتوں کے پھول آپ پر نچھاور کر رہے تھے کہ میں کسی چھوٹے بچے کی طرح ان کے درمیان سے آنے کا راستہ تلاش کرتی رہی اور پھر تھک کر خاموشی سے بھیڑ چھٹنے کا انتظار کرنے لگی۔ آپ نے مجھے ناول سے بے حد قریب کیا، مجھے بہت سے سوالات کی تلاش پر گامزن کیا، میرے بہت سے سوالات کے جوابات کی کھوج میں آپ میرے ساتھ رہے، اے میرے پسندیدہ مصنف اور دانش ور! عقیدت کے چند پھول اور آنسو میری طرف سے بھی قبول کیجیے۔
یہ بھی پڑھیں: آخری ای میل ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف کے قلم سے عمر میمن مرحوم کا تذکرہ (۱)
