اسلام کی پہلی سلطنت مدینہ منورہ میں قائم ہوئی رسول کریم ﷺ نے اس کی بنیاد رکھی اور اس کے چار ستونوں نے اسے دوام بخشا ان چار ستونوں کو ابو بکر عمر عثمان اور علی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے- حضرت ابوبکر کا دورِخلافت دو سال پر محیط ہے ,حضرت عمر کا دس سال اور حضرت عثمان بارہ سال خلیفہ رہے- عشرہ مبشرہ میں شامل حیا ، سادَگی ، عاجزی، رحم دلی، ادب، سخاوت، خیر خواہی، دل جوئی، فکرِ آخرت، اِتِّباعِ سنّت اور خوفِ خدا کی مجسم صورت کا نام عثمان بن عفان ہے- حضرت عثمان ذوالنورین حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے پھوپھی زاد بہن اروٰی بنت کریز کے صاحب زادے اور مسلمانوں کے خلیفہ ثالث ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی حیات کے اہم گوشے, آپ کی دور اندیشی، معاملہ فہمی دور حاضر میں ابلاغ کی متقاضی ہے کہ کس دیانت داری اور بلند حوصلگی کے ساتھ آپ حق پر مردانہ وار ڈٹے رہے لیکن پائے استقلال میں جنبش نہ آنے دی- حق و صداقت کی زندہ مثال قائم کی۔ آپ کی حیات و شہادت حکمرانوں کے لیے ایسا سبق ہے جو انہیں حق پر چلنے اور ڈٹے رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ شر پسندوں اور مفسدوں کے آگے تن تنہا سینہ سپر ہونا عثمان بن عفان کو مومنین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے گا آج آپ کا یومِ شہادت ہے اسی مناسبت سے آپ کی حیات اور شہادت کا تذکرہ آپ کے محبین کی نذر ہے۔
حضرت عثمان واقعہ فیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ عالی نسب اور نجیب الطرفین تھے- آپ کو سرکار رسالت کے ساتھ ماں اور باپ دونوں طرف سے قرابت داری کا شرف حاصل ہے آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں نبی کریمﷺ سے ملتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، ابنائے زمانہ میں حسین و جمیل تھے۔ اقتدار اور دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے بھی آپ بے حد مشہور تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ جبریل امین علیہ السلام نے آقائے دو جہاںﷺ سے فرمایا کہ” اگر آپ چاہیں کہ آپ کی نظر کسی ایسے چہرے پر پڑے جو حسن و جمال میں یوسف علیہ السلام کے مشابہ ہو تو عثمان بن عفان رضی اللہ کو دیکھ لیں”۔
آپ عام روش کے بر خلاف کم عمری میں ہی اپنے آبائی پیشہ تجارت میں مشغول ہو گئے۔ امانت داری اور شرافت کی وجہ سے بہت جلد مالدار ہو گئے۔ اسلام سے قبل بھی حضرت ابو بکر سے تعلق تھا ، ان ہی کی دعوتِ اسلام پر لبیک کہا۔
حضرت عثمان کے مشرف با اسلام ہونے کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں درخشاں گوہر سے نوازتے ہوئے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کر دیا۔ سرور دو عالم صلى الله عليه وسلم کے غزوہ بدر میں شرکت کے موقع پر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا انتقال فرما گئیں بوقت رحلت سیدہ کی عمر ۲۰ برس تھی۔ حضرت عثمان سیدہ کے وصال کے بعد افسردہ اور کبیدہ خاطر رہتے تھے کہ ان کے وصال سے خاندانِ نبوی سے ان کا تعلق ٹوٹ گیا تھا۔ جس پر نبی مکرمﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کوان کے نکاح میں دے دیا جس سے ان کا تعلق از سرنو خاندان رسالت سے جڑ گیا۔ حضرت عثمان صلى الله عليه وسلم کے گھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دو صاحبزادیاں آئیں ، اس لئے اس دن سے حضرت عثمان ,ذوالنورین یعنی دو نور والے کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
حضور سید کونین صلى الله عليه وسلم کو حضرت عثمان صلى الله عليه وسلم کی ذات پر کامل وثوق تھا۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے” "جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں”۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلامی مفاد اور مسلمانوں کی نصرت کے لیے اپنے خزانے کی تجوریاں کھلی رکھا کرتے تھے۔ صلہ رحمی اور قبیلہ پروری حضرت عثمان کا خاص پیشہ تھا۔ آپﷺ ان کو بہت محبوب رکھتے تھے ان کے علم ،تقوٰی ، شرافت ، شرم وحیا اور محاسن اخلاق کی وجہ سے ان کا بڑا اکرام کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ” رسول اللہ صلى الله عليه وسلم گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپﷺ کی پنڈلی سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ اتنے میں سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نےاندر آنے کی اجازت طلب کی ، نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اجازت مرحمت فرمائی لیکن آپ صلى الله عليه وسلم اپنی اسی حالت پر لیٹے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ تشریف لائے ، اجازت طلب کی آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی لیکن اسی طرح لیٹے رہے اور باتیں کرتے رہے حضرت عثمان نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے، کپڑے درست کیے، پھر اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت عثمان تشریف لے گئے تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب حضرت ابوبکر تشریف لائے آپ اپنی جگہ پر رہے، حضرت عمر آئے پھر بھی آپ اپنی جگہ پر رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کیے، تو اس پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کیا میں ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں”۔ (مسلم شریف)
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، بعد نماز ظہر منبر پر چڑھے اور بہت دیر تک چپ چاپ کھڑے دعا کرتے رہے پھر ایک مختصر مگر نہایت پر اثر خطبہ دے کر فرمایا کہ بہت سے لوگوں سے مشورے کیے اور بہت کچھ غور کیا کہ ان دو (حضرت عثمان و حضرت علی) میں سے کسے خلیفہ ثالث بنایا جائے، پس میں دیکھتا ہوں کثرت رائے عثمان کے ساتھ ہے۔ پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے منبر پر بیٹھ گئے، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔
آپ کے دور میں باغیانہ اور مفسدانہ سوچنے والے مجتمع ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"شورش بہت زیادہ ہوگئی اور جو فتنہ امت کو پیش آنے والا ہے وہ تو خدا کی قسم ضرور کھلے گا اس کا دروازہ نرمی سے ہی بند کیا جاسکتا ہے۔ مگر میرے اوپر کوئی شخص الزام نہیں لگا سکتا۔ اللہ علیم وخبیر ہے کہ میں نے لوگوں کے ساتھ اور اپنے ساتھ بھلائی کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ فتنہ کی چکی تو گھومے گی مگر عثمان بڑا خوش نصیب ہوگا کہ اگر وہ اس چکی کو حرکت دیے بغیر مر جائے”۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جو امیر المومنین سے مشاورت کی غرض سے مدینہ منورہ آئے ہوئے تھے جب واپس جانے لگے تو حالات میں روز بروز باغیانہ تبدیلی بھانپتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض گزار ہوئے کہ آپ میرے ساتھ شام چلیے۔ وہاں حالات ٹھیک ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ” چاہے میری گردن اُڑا دی جائے میں رسول اللہ ﷺ کا شرف و قرب ہمسائیگی نہیں چھوڑ سکتا”۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ پھر آپ مجھے یہ اجازت عطا فرمائیں کہ میں شام سے ایک لشکر بھیجوں جو مدینہ منورہ کے عقب میں رہےتا کہ اگر کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ آپ کی اور اہل مدینہ کی مدد کر سکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ تجویز مسترد کی مجھ سے ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بولے ، تو پھر ( باغیوں کی طرف سے) آپ کے ساتھ غداری اور خیانت کا اندیشہ ہے۔ باغیوں نے امیر المومنین کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور خفیہ سازشوں کا جال کا میابی سے پھیلا لیا اب اگلا مرحلہ ان پر حملے اور خلافت چھیننے کا تھا۔
ان مفسدین کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے خلاف عوام میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک تقریر کے ذریعے انہیں مطمئن کیجیے چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اور حمدوثنا کے بعد ارشاد فرمایا:
"میرا دروازہ ہر وقت ہر شخص کے لئے کھلا ہے جس کسی کو کوئی شکایت ہو وہ بے تکلف میرےپاس آئے اور اپنی شکایت بیان کرے ، یہی نہیں بلکہ جب میں منبر سے اتروں تو آپ لوگوں میں سے بلند مرتب حضرات میرے پاس آئیں اور زیر بحث معاملات میں مجھے اپنے مشورہ اور رائے سے مطلع فرما ئیں "۔
اس خطبہ کی بلاغت اور سوز و گداز کی بنا پر اہل مدینہ کو اطمینان حاصل ہوا اور خوشی ہوئی کہ اب شورشیں کم
ہو جائیں گی لیکن باغی یہ طے کر چکے تھے کہ بہر حال اہل مدینہ کا چین وسکون غارت کرنا اور خلیفہ کوشہید کرنا ہے۔
چنانچہ چند دن ہی گزرے تھے کہ اچانک باغی مدینہ میں گھسے اور کاشانہ خلافت کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ شروع میں قدرے نرم تھا امیر المومنین مسجد میں آتے جاتے اور امامت کراتے تھے۔ پھر ایک دن اس گروہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور محمد بن مسلمہ سے درخواست کی کہ وہ ان کا موجودگی میں خلیفہ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ظہر کے بعد ان حضرات کی معیت میں یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے لیکن اس طرح سلام نہیں کیا جس طرح ایک خلیفہ کو کرنا چاہیے۔ گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے گورز عمر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور دیگر علاقوں کے گورنروں کی معزولی اور اپنے پسندیدہ آدمیوں کو گورنر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ فرما کر یہ مطالبہ مسترد کر دیا کہ "اگر میں تمہاری مرضی سے گورنر معزول اور مقرر کرنے لگوں تو پھر اقتدار تمہارے ہاتھوں میں ہو گا نہ کہ میرے ہاتھوں میں نہیں”۔ اس پر باغیوں نے کہا ، ہم پہلے بھی آئے تھے اب تو ہم استعفٰی لے کر ہی جائیں گے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا "میں وہ قمیصں ہر گز نہ اتاروں گا ، جو مجھے اللہ نے پہنائی ہے”۔
مصری وفد کہنے لگا کہ ہم اس وقت تک نہیں لوٹیں گے جب تک آپ کو خلافت سے برطرف نہ کردیں یا آپ کے ساتھیوں سے جنگ نہ کرلیں-آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا "میں خلافت سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ باقی تمہارا یہ کہنا کہ تم میرے ساتھیوں سے جنگ کرو گے تو میں کسی کو اپنی طرف سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا”۔
حضرت عثمان مسجد نبوی میں تشریف لے گئے حسب معمول جمعے کی نماز کی امامت کرائی جہاں مصری باغیوں کا وفد بھی موجود تھا۔ نماز کےبعد آپ منبر پر تشریف لے آئے اور مصری باغیوں کی طرف روئے سخن کر کے فرمایا:
"دشمنو خدا کے قہر و غضب سے ڈرو مدینہ والے خود جانتے ہیں کہ تم رسول اللہ علیہ وسلم کی زبان میں ملعون ہو ,تم لوگوں نے جوخطائیں کی ہیں کسی اچھے کام سے ان کی تلافی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ نیکیوں کے ذریعے گناہوں کوختم کرتا ہے”۔
مسجد کے ایک کونے سے محمد بن مسلمہ نے کہا ، میں اس کا گواہ ہوں۔ محمد بن مسلمہ کا یہ کہنا تھا کہ مصریوں نے پتھراؤ شروع کر دیا ، اس پتھراؤ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے ، اسی حالت میں آپ کو گھر پہنچایا گیا۔ حضرت عثمان نے تمام گورنروں کو صورتحال سے باخبر کرنے کے لیے پیغامات بھیجے۔
باغیوں نے حضرت عثمان کو گھر میں مقید کر دیا تو ایک دن اتمام حجت کے خیال سے آپ رضی اللہ عنہ نے بالائے بام سے مفسدوں باغیوں کو خطاب کیا اور فرمایا:
” میں تم لوگوں سے قسم دے کر پوچھتا ہوں ، سچ کہو کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد پر بئر رومہ خرید کر اس کا پانی تمام مسلمانوں کے لئے وقف نہیں کر دیا تھا؟ سب نے کہا ، ہاں! پھر فرمایا مسجد نبوی تنگ تھی ، اس میں سب نمازی نہیں سما سکتے تھے تو کیا میں نے اس کی ملحقہ زمین خرید کر اس کی توسیع نہیں کی؟ پھر فرمایا جب جیش عسرہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امداد کی اپیل کی تو کیا اس وقت میں نے جیش عسرہ کی مکمل تیاری کا بندوبست نہیں کیا تھا؟ اور کیا اس پر مسرت فرما کر حضور صلى الله عليه وسلم نے مجھ کو جنت کی بشارت نہیں دی تھی؟ سب ایک آواز ہو کر بولے ، ہاں! حضورﷺتین مرتبہ فرمایا تھا ، اے اللہ تو گواہ رہ!”
ایک روایت کے مطابق آپ نے یہ بھی فرمایا "کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ جب حرا پہاڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور میں ہم تینوں کھڑے تھے اور پہاڑ لرزنے لگا تھا تو رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، اے حرا ٹھہر ! اس وقت تیری پشت پر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور ایک شہید ہے۔ حضرت عثمان نے زور دے کر پوچھا ، لوگو بتاؤ کیا رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا؟ سب نے بیک آواز کہا ، ہاں بے شک۔
حضرت عثمان کا مقصد اس تقریر سے باغیوں کے ضمیر کو بیدار کر کے انہیں یہ سوچنے پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ کس کے ساتھ یہ معاملہ کر رہے ہیں لیکن ان کا ضمیر مردہ ہو چکا تھا۔ اس لیے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہر سوال کا جواب اثبات میں دینے کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے یعنی یہ کہ امیر المومنین خلافت سے دستبردار ہوں ورنہ قتل کر دیئے جائیں۔
مقابلہ کے لیے جانثاروں نے اجازت طلب کی لیکن آپ نے کسی کو اجازت نہ دی جس سےباغیوں کے حوصلے اور بلند ہوئے۔
امیر المومنین نے فرمایا: ابوہریرہ کیا تم اس کو پسند کرو گے کہ تم مجھے یا اور سب لوگوں کو تہ تیغ کر دو ، انہوں نے جواب دیا نہیں۔ آپ نے پھر فرمایا اگر تم نے ایک آدمی بھی قتل کیا تو گویا سب کوہی قتل کر دیا۔ اس سلسلہ میں عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ حاضر ہوئےاور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا:
"آپ باغیوں سے جنگ کیجیے۔ خدا کی قسم اللہ نے آپ کے لیے ان لوگوں سے جنگ کرنا حلال کر دیا ہے۔ لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی وہی جواب دیا اور جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ بھی آئے اور بولے، آپ امت کے امام اور خلیفہ برحق ہیں۔ جو صورت حال اس وقت در پیش ہے اس کے پیش نظر صرف تین صورتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اختیار فرمائیے ، ایک یہ کہ آپ کے پاس طاقت ہے اس سے دشمنوں کا مقابلہ کیجیے۔ آپ حق پر ہیں اور وہ باطل پر۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کاشانہ خلافت کے صدر دروازہ پر باغیوں کا ہجوم ہے اس کو چھوڑ کر ہم عقب میں ایک دروازہ بنائے دیتے ہیں آپ اس سے نکل کر سواری پر بیٹھ کر مکہ مکرمہ چلیے وہاں حرم میں لوگ جنگ نہ کریں گے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ عقب دروازہ سے نکل کر شام چلیے وہاں امیر معاویہ رضی اللہ موجود ہیں اور شام کے لوگ وفادار بھی ہیں۔ لیکن حضرت عثمان ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر راضی نہیں ہوئے اور فرمایا کہ "میں مقابلہ نہیں کروں گا کیونکہ میں رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم کا پہلا خلیفہ بننا گوارہ نہیں کر سکتا جس کے ہاتھوں امت میں خون ریزی کا آغاز ہوا ہو۔ میں مکہ بھی نہیں جاؤں گا کیونکہ یہ خود سر وہاں بھی خونریزی سے باز نہ آئیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے کہ قریش کا ایک شخص مکہ کی حرمت اٹھائے گا ، میں وہ شخص بننا برداشت نہیں کروں گا۔ رہا شام تو وہاں کے لوگ ضرور وفادار ہیں اور معاویہ رضی اللہ بھی وہاں ہیں لیکن جوار رسول ﷺ اور دارالہجرت سے جدائی اور دوری کس طرح منظور کر سکتا ہوں؟”
اب جتنا وقت گزرتا جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد پیشگوئیوں کے باعث حضرت عثمان رضی اللہ۔ کو اپنی شہادت کا یقین ہوتا جاتا تھا اور آپ نے اس کی تیاری شروع کر دی تھی۔ چنانچہ جمعہ کا دن آپ نے روزہ رکھا تھا جس سے غشی کی سی کیفیت ہو گئی اس سے افاقہ ہوا تو فرمایا کہ میں نے نیم خوابی کے عالم میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت ابو بکر وعمر کو دیکھا ہے ، فرماتے ہیں کہ عثمان! آج کا روزہ تم ہمارے ساتھ کرنا۔
حضرت عثمان نے اپنے جاں نثاروں کو ہتھیار اٹھانے سے منع کر ہی چکے تھے لیکن باغیوں نے کمک آنے کی خبر سنی تو غصہ سے بدحواس ہو گئے۔ کا شانہ خلافت کے دروازے کی طرف بڑھے اور آگ لگادی ، محمد بن ابی بکر اوراس کے چند ساتھی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر آپ کے گھر میں گھس آئے ، عصر کے بعد کا وقت تھا ، آپ کی زوجہ نائلہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے قرآن مجید کھلا ہوا تھا اور آپ اس کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس عالم میں محمد بن ابی بکر نے ہاتھ میں پڑا ہوا خنجر امیرالمومنین کی پیشانی میں پیوست کر دیا۔ پیشانی سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا ، آپ اس وقت سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے۔ پیشانی سے نکل کرخون داڑھی پر آیا قرآن مجید پر بھی بہنے لگا۔ یہاں تک کہ آیت "فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم”خون رک گیا اور قرآن بند ہو گیا۔
اسی اثناء میں کنانہ بن بشر بن عتاب نے لوہے کی ایک لاٹ اس زور سے ماری سودان بن حمران نے تلوار کا وار کیا اور عمرو بن الحمق سینے پر بیٹھ کرنیزے سے مسلسل کئی وار کیے جس سے علم و حیا ، صدق و صفا کے چمن میں خاک اڑنے لگی ، یعنی ثالث خلیفہ امیر المومنین عثمان ذوالنورین کی روح پر قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
شر پسندوں کے غل پر آپ رضی اللہ عنہ کو روضہ رسول اور جنت البقیع میں کبار صحابہ کے بجائے جنت البقیع کے آخری حصے میں دفن کیا گیا-اللہ کریم آپ رضی اللہ عنہ کے درجات بلند فرمائے۔
