تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

خود کش حملے: ایک مغربی ریسرچ

by ویب ڈیسک 13/04/2017
written by ویب ڈیسک 13/04/2017
108

ہمارے ملک میں اس وقت روایتی بیانیہ اور متبادل بیانیہ کے نام پر سرد جنگ جاری ہے۔ اہل علم دو طبقات میں منقسم ہیں۔ متبادل بیانیہ کی حمایت والوں کا موقف ہے کہ روایتی بیانیہ دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کی اصل جڑ ہے اور اس کو بدلے بنا مسلم معاشروں سے شدت پسند نظریات کا خاتمہ ممکن نہیں۔
روایتی بیانیہ کی حمایت والوں کا یہ ماننا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کا روایتی بیانیہ سے منسلک ہونے کے باوجود اِن میں شدت پسند عناصر کی موجودگی پانچ فیصد کے قریب بھی نہیں اور اِن شدت پسند عناصر کے رویہ کی اصل وجہ معروضی حالات ہیں نہ کہ روایتی بیانیہ۔ شدت پسندوں کی یہ اقلیت اپنے مقاصد کے حصول لیے مذہب کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں بلکل اسی طرح جیسے لبرل امریکہ عالمی امن کے نام پر اپنے استعماری مقاصد کو حاصل کر رہا ہے۔
بدقسمتی سے مسلم معاشروں میں شدت پسندی اور معروضی حالات کے درمیان تعلق پر کوئی جامع تحقیق سامنے نہ آ سکی۔
اس اہم نقطہ پر سب سے پہلے کام کا آغاز Robert Pepe نے کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر Robert Pape شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں اور عالمی حفاظتی امور کے ماہر ہونے کے ساتھ Chicago project on security and terrorism کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔
آپ چار کتابوں کے مصنف ہیں اور عالمی حفاظتی امور پر آپ کے مضامین نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، سی این این، فاکس نیوز اور دیگر اہم بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔
دو ہزار پانچ میں اپنی کتاب Dying to win میں خودکش حملہ آوروں کی نفسیات کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’بسا اوقات یہ لوگ(خودکش حملہ آور) کسی سماج پر فوجی قبضہ کے جواب میں ایسا کر رہے ہوتے ہیں جس سے ان کی گہری( جذباتی) وابستگی ہوتی ہے۔
میں نے 9/11 کے بعد خودکش حملوں پر پہلا جامع جدول تربیت دیا۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے لوگوں کی طرح جنھیں خودکش دھماکوں سے پالا پڑا تھا، میں نے سوچا کہ میں اس حقیقت سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاؤں گا کہ کیسے ایک بنیاد پرست مسلمان خودکشی کی حد تک شدت پسند ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے متعلق کوئی مواد میسر نہ تھا اس لیے میں نے 1980 سے لے کر 2003 تک دنیا بھر میں ہونے والے خودکش حملوں کے واقعات کی معلومات کو یکجا کیا۔ میں یہ جان کر بہت حیران ہوا خودکش حملہ آوروں کی نصف تعداد سیکولر تھی۔ میں نے واقعات ( خودکش دھماکوں)، ان کے وقت اور علاقوں کے درمیان ربط تلاش کرنا شروع کیا تو ان سب کو ایک دوسرے سے جڑا پایا اور پچانوے فیصد خودکش دھماکے فوجی قبضوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔
اور فوجی مقبوضات بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ زمین پر غیر ملکی افواج کی تعداد کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ یہ وہاں کی مقامی حکومتوں، ان کے معاشی اور سماجی نظام کو کنڑول کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ امریکہ اور نیٹو کا فوجی قبضہ ہی ہے جس نے ہمیں افغانستان میں خواتین کے حقوق کو متعارف کروانے اور انھیں نافذ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا کرنا درست نہیں بلکہ میرا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جب ہم بندوق کی نوک پر خواتین کے حقوق نافذ کروائیں گے تو یہ عمل مقامی سماج میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ انھوں نے اپنا حق خود ارادیت کھو دیا ہے۔ جو آپ دیکھ رہے ہیں ( شدت پسندی و دہشتگردی) اس میں سے سب نہیں لیکن اکثریت خودکش حملہ مقامی سماج کے حق خودارادیت سلب کر لینے کے ردعمل میں ہو رہے ہیں "


میں نے 1980 سے لے کر 2003 تک دنیا بھر میں ہونے والے خودکش حملوں کے واقعات کی معلومات کو یکجا کیا۔ میں یہ جان کر بہت حیران ہوا خودکش حملہ آوروں کی نصف تعداد سیکولر تھی۔


دنیا میں اس وقت تک کوئی نظریہ ایسا نہیں جس کا غلط استعمال نہ کیا گیا ہو۔ انسان جب خود غرض ہو جاتا ہے تو اپنی اولاد تک کو دنیاوی اور ذاتی فائدہ کے لیے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ لیکن چند افراد کا کسی نظریہ کو غلط استعمال کرنا اس نظریہ یا موقف کے باطل ہونے کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتا ۔ مسلمانوں کی اکثریت اسلام کو ضابطہ حیات سمجھتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کا ذریعہ مانتی رہی ہے اور مانتی رہے گی۔ ایسے میں کچھ مسلمان اگر معروضی حالات سے تنگ آ کر اسلام کی من مانی تشریح کرتے ہوئے اِس کا غلط استعمال کرتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بنیادی محرک کو ختم کرنے کی کوشش کریں جو ایسے افراد کو دین کی غلط تشریح کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت پر ریاستی جبر کے تحت متبادل بیانیہ نافذ کرنے کی کوشش شدت پسند عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ شدت پسند اور اسلام مخالف لوگ بظاہر اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اسلام شدت پسندی کا دین ہے اور یہ بے گناہ انسانوں کے قتل عام کو جائز سمجھتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت عملی و نظریاتی طور پر اس موقف کی تردید کرتی ہے اور پر امن طریقے سے اسلام کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
مسلمانوں کی پر امن اکثریت روایتی بیانیہ کی نمائندہ ہے نہ کہ چند شدت پسند تنظیمیں جن کا وجود غیر ملکی افواج کے مقبوضات کا مرہونِ منت ہے۔. imdb IKTE

Facebook Comments Box
خود کشخود کش حملہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
پہچان: خدا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ محمود فیاض
next post
پانامہ کیس اور عمران خان و جماعت اسلامی کی سیاست

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.