تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالم

نئے پاکستان کا حصول: سامراجیت اور مغرب آلود اشرافیہ سے آزادی —- پروفیسر سلمان سید

by دانش ڈیسک 10/08/2022
written by دانش ڈیسک 10/08/2022
608

مصنف سلمان سید، معروف برطانوی یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر اور سوشیالوجی و سوشل پالیسی کے سربراہ ہیں۔
Prof. Salman Sayyid — Professor of Rhetoric and Decolonial Thought at the University of Leeds, UK, Head of the School of Sociology and Social Policy


پاکستان میں جاری بحران ملک کے عوام کے لیے بامعنی تبدیلی لانے اور کئی دہائیوں پر محیط غلط طرزِ حکمرانی کے خاتمے کا ایک تاریخی موقع پیش کرتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کی برطرفی کے خلاف ملک بھر میں بے مثال عوامی تحریکوں نے نئے سیاسی مواقع پیدا کئے ہیں، جن سے اگر صحیح طور فائدہ اٹھایا گیا تو وہ پاکستان حاصل کیاجا سکتا ہے کہ جس کی امید ۱۹۴۷ ءمیں کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے خلاف صف آراء ہونے والی قوتوں میں نہ صرف وہ تمام بڑی جماعتیں شامل ہیں جو اب بے نقاب ہو چکی ہیں کہ جمہوری طرزِ حکمرانی سے کسی وابستگی کے بغیر وہ خاندانی مفادات کیلئے کام کرہی ہیں۔ اور اس صف آرائی میں مقتدرہ بھی شامل ہے جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پاکستان اپنے بنیادی اصولوں پر کاربند رہ کر ایک خودمختار ملک نہیں بن سکتا۔ سول سوسائٹی کے مغرب زدہ طبقے بھی اس میں شامل ہیں، جو خود کو لبرل اور ترقی پسند تو کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے اسلامو فوبیا کو یہ مجاز حاصل بھی رہے گا جو بامعنی اصلاحات سے باز رکھ سکے۔

اب جو صورتحال ابھر کر سامنے آئی ہے اس میں بدعنوان نظام (ریاستی آلہ ہائے کار اور سول سوسائٹی کے حصوں میں موجود چور وں اور ان کے معاونین) اور پاکستان کے اُس عوام کے درمیان ایک واضح خطِ تقسیم ہے جویہ یقین رکھتےہیں کہ ہم لاچار بھکاری نہیں۔

عموماً ایسا نہیں ہوتا ہے کہ کسی کو اپنی تاریخ دوبارہ لکھنے کا موقع ملے۔ لیکن یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستانی عوام اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل لکھ سکتے ہیں

پاکستان کا المیہ

اگر مغرب زدہ، خود ساختہ لبرلز اور ریاستی ٹیکنو کریٹس کے انتہائی مؤثر طبقے کا اسلامو فوبیا بدستوررہتا ہے تو مسلم ممالک میں مقبول اور جوابدہ حکمرانی کا ہوناناممکن امرہے۔یہ دھڑے اپنی استعماری ذہنیت کو بچانے کے لیے مسلمانیت کی کسی بھی قسم کو راستہ دینے کی مخالفت کریں گے۔

مغرب زدہ لبرلز، جن میں سے بہت سے بائیں بازو پر ہیں__ ہمیشہ آمریت، فوجی حکمرانی، اور آمریت کی دیگر اشکال کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی مقبول حکمرانی کو مسلم ازم اور اسلام پسندی کے راستے سے گزرنا ہوگا۔

جن لوگوں نے مصر کے جنرل السیسی کو جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف خوش آمدید کہا، وہ مغربیت سے آلودہ تھے۔ ان کا اسلامو فوبیا ایسے مستقبل پر غور نہیں کر سکتاجس میں مسلمتوا /مسلمانیت/ مسلم ازم کا اظہار سنجیدہ عوامی گفتگو کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہو۔ جمہوریت سے ان کی محبت مغربی لبرل ازم اور تصور اتی مغربی طرز ِزندگی کے ساتھ اس کی وابستگی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔

پاکستان کی تاریخ کے بیشتر حصے میں جو لوگ اس (پاکستان) پر یقین رکھتے ہیں وہ اس پر حکمرانی نہیں کر سکے، اور جنہوں نے اس پر حکومت کی، انہوں نے کبھی اِس پر یقین نہیں کیا۔ مطلب اِس کا یہ ہوا کہ زیادہ تر پاکستانیوں کو اُن خاندانی گروہوں نے مؤثر طریقے سے حق ِرائے دہی سے محروم کر دیا جنھوں نے اپنے آپ کو بطور سیاسی جماعت ظاہر کیا۔ اور اس میں اُن ٹیکنوکریٹس نے بھی حصہ ڈالا جو استعماری عدسے سے آگے دیکھنے سے قاصر ہیں اور ان کا ساتھ پاکستان کے تصور سے نفرت کرنے والے مغرب زدہ طبقے نے بھی دیا۔

پاکستان اور مغرب آلود اشرافیہ کا مسئلہ

ان مجموعی حالات میں پاکستان کا مغرب سے متاثرہ طبقہ مغربی رائے سازوں کو اپنے بیانیے کے لیے متحرک کرنے کی صلاحیتوں سے مایوس ہے۔

 پاکستان کے مغرب زدہ افراد کے پاس پاکستان اور اس کی سیاست کی نمائندگی کرنے کی اجارہ داری نہیں ہے – ان کے معاملات کو دنیا بھر میں پھیلے پاکستانیوں کی جانب سے اکثر چیلنج کردیا جاتا ہے۔

تارکینِ وطن کا یہ طاقتور طبقہ، جو عمران خان کا بہت زیادہ حامی ہے، اسلامو فوبیا کے مغرب آلودہ منظم حمایتیوں کے نہ صرف آڑے آتا ہے بلکہ اس طبقہ کے باعث اِن حامیوں کو امپورٹڈ حکومت کیلئے بین الاقوامی سول سوسائٹی کی حمایت حاصل کرنا دُشوار ہوجاتا ہے۔

 سول ملٹری تعلقات: تجدیدِ فہم کی ضرورت 

ہمیں اس عدسے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے دیکھتے ہوئے ہم پاکستان کے سول ملٹری تعلقات کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس سے ہم چیزوں کو کچھ بہتر کر سکیں گے۔ پاکستان کے سول ملٹری تعلقات کے بارے بات چیت میں یورپی برتری سے مرعوب سوچ غالب ہے۔

مثال کے طور پر، جب ایسے ناقدین پاکستانی مسلح افواج کو ایک عسکری کمپنی کے طور پر مسترد کرتے ہیں، تو وہ صنعتکاروں اور عسکری شعبے کے گٹھ جوڑ کا امریکن معیشت میں کلیدی کردار نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسی گفتگو پاکستان میں فوج کے کردار کو سمجھنے میں مدد نہیں دیتی اور نہ ہی اس کے مستقبل کے لیے مضبوط اور منصفانہ پالیسیوں میں مدد دے گی۔

ہمیں اس بارے میں نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی فوج کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟ ہم اسے یورپ سے مرعوب مغربی تاریخ کےمطالعاتی سانچے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔

فوج کے بارے میں سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ پاکستان میں واقعتاً صرف قومی سیاسی پارٹی تھی۔ اگر آپ اس کا موازنہ اُن خاندانی جماعتوں سے کریں جو پاکستان کے زیادہ تر سیاسی منظر نامے پر آباد ہیں، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کی بیشتر جماعتوں کے مقابلے میں میرٹ کی زیادہ پاسدار، زیادہ شفاف، زیادہ جوابدہ، اور اقدار کی حامل تنظیم ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوج میں مسائل نہیں ہیں یا وہ ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج تک کوئی بھی چیف آف آرمی سٹاف اپنے خاندان کے افراد کو اقتدار سونپنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور یہ حقیقت پاکستان کی زیادہ تر سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی عصبیت سے بالکل برعکس ہے۔

یہ ضروری ہے کہ فوج کی ادارہ جاتی سالمیت پر بدعنوانی اور عالمانہ مغربیت کے ذریعے سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے لیے خطرہ وہ اشرافیہ ہے جن پر ان اسلامو فوبک قوتوں کا قبضہ ہے جو پاکستان کے منصوبے کے ہی خلاف ہیں۔

فوج کے لئے پیشہ ورانہ مہارتوں کا حصول، پاکستان کے لیے ان کی جانب سے کئے عہد کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ نظریہ یا اقدار کے بغیر فوج لین دین کی منطقوں کا شکار ہو جائے گی اور یورپ سے مرعوب حقیقی سیاست کے سامنے جھک جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو فوج خودمختاری اور آزادی کے محافظوں کی بجائے اپنے لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر اس جیل کے محافظ بن جاتی ہے۔‘‘

کمزور پاکستان اسلام فوبیا کو تقویت دیتا ہے

پاکستان کی کمزوری نے کشمیر اور بھارت میں اسلامو فوبیا کو تقویت دی ہے۔ اس سے دریائے سندھ اور کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھارت کے مزید جارح ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اقدار قومی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ ایک ایسا ملک جو کسی مقصد کے لیے کھڑا ہو، جس کا اپنا ایک وژن ہو اور وہ اپنی اقدار کی پاسداری بھی کرتا ہو، تو ایسا ملک آنے والے اور درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگا۔

روہنگیا یا ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پاکستانیوں کی جانب سے کسی آواز کا نہ اٹھنا نہ صرف کشمیر کے حوالے سے ملک کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے بلکہ اس کی طویل مدتی آزادی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ اس امر کی تشہیر ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے کوئی اصول نہیں ہیں، اور اس کی اشرافیہ کو بغیر کسی مشکل کے خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔ فلسطینیوں کو ترک کرنے کی حالیہ کوششوں کو اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ پاکستان کو تنہا کرنے اور اسے دشمنی کے دباؤ میں مزید کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ تبدیلی کی تحریک ہے

پی ڈی ایم کی درآمد شدہ اور مسلط کردہ حکومت کے خلاف عوامی تحریکیں پی ٹی آئی کو ایک ملک گیر سیاسی قوت میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان متحرکات نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (نواز) کو محض مقامی طور پر چھوٹے چھوٹے لین دین والے دھڑوں تک محدود کر دیا ہےاور یہ باعزت طریق پر حکمرانی سے قاصر ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں ملک گیر رسائی کے ساتھ دو قوتیں رہی ہیں: قائداعظم اور فوج۔ اب ایک تیسری ملک گیر قوت کا امکان ہے جو تمام پاکستانیوں کی نمائندگی کر سکے، وہ ہے _پی ٹی آئی

یہاں پر ایک ملک گیر سیاسی قوت کی ضرورت موجود ہے، جو کہ اپنی اقدار پر بنیاد رکھتی ہو نہ کہ عصبیت پر۔ جو صرف عہدہ حاصل کرنے کے بجائے ملک کی اصلاح کے لیےبھی پُرعزم ہو۔

پاکستان کی ناکامیوں کی وجہ اس کے عوام یا خود تصورِ پاکستان نہیں، بلکہ یہ اس کی سیاسی اشرافیہ کی ناکامی ہے۔ پاکستان ایسے ملک کیلئے جو اندرونِ ملک، جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ممالک کے اندر مسلمانیت /مسلم ازم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی مضبوط ہے، ملکی ادارے بنانے میں اس اشرافیہ کی عدم دلچسپی یانااہلی ہی اسکی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔‘‘

جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ ”بھکاری(بھیک) چُن نہیں سکتے“ تو سوال کیا جانا چاہئے کہ 22 کروڑ افراد کے اس ملک کو کس نے بھکاریوں کی قوم بنا دیا؟ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کس نے لوٹے؟ یہ کس نے کیا ہے؟

اب وہی لوگ جواب دیں کہ جنہوں نے مشرقی پاکستان کو پسماندہ ہونے کا طعنہ دیا تھا، انہیں بتانا چاہیے کہ اب بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی پاکستان سے زیادہ کیونکر ہے؟ ۱۹۵۰ء میں جنوبی کوریا کی فی کس جی ڈی پی پاکستان کے برابرتھی۔

عمران خان اور ریاستِ مدینہ

ریاست مدینہ کا تصور ایک فلاحی ریاست کے بارے میں ہے جس میں عام لوگوں کی قدر کی جاتی ہے، انھیں ہر تحفظ حاصل ہوتا ہے اور انھیں بااختیار بنایا جاتا ہے۔ تاہم، آپ ترقی پسند اور ٹیکس اصلاحات کے بغیر اسلامی فلاحی ریاست کا حصول ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر شمالی یورپ کی فلاحی ریاستیں اپنے جی ڈی پی کا نصف ٹیکس آمدن میں وصول کرتی ہیں۔

پاکستان کے وفاق کو دستیاب وسائل میں اضافہ کئے بغیر موجودہ دور میں ریاستِ مدینہ کا نفاذ ممکن نہیں ہوگا۔

اب جبکہ ۷۵ سال کے قریب ہونے کو ہیں پاکستان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک نیا سماجی معاہدہ ہے۔

پاکستان کو استعماریت سے نکالنا

جب تک پاکستان کو استعمار سے پاک نہیں کیا جائے گا، یہ خودمختار نہیں ہو سکتا۔ جب تک یہ خودمختار نہیں تب تک اپنے لوگوں کو جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہے تو اسے ہمیشہ ایسے چوروں کے ہاتھوں میں رہنے کا خطرہ رہے گا جو ملکی مفادات سے زیادہ یہ سوچتے ہیں کہ واشنگٹن یا ریاض کیا چاہتے ہیں۔

استعماری ذہنیت اور اداروں کا تسلسل پاکستان کی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے نظامِ قانون پر اب بھی برطانوی راج سے وراثت میں ملنے والی ۱۹۳۰ء کی قانون سازی کا غلبہ ہے۔ فوج میں اب بھی وہ رجمنٹس غالب ہیں جن کی تواریخ مغربی استعمار کے جنگی کارناموں سے مزین ہیں۔ پاکستان کا انتخابی نظام بھی ایک برطانوی ورثہ ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ غیر نمائندہ قومی مقننہ بنانے کے لئے معروف ہے۔

پالیسیوں کیلئے اصول اور اقدار رہنمائی ضروری ہے تاکہ آپ لوٹ مار اور استحصال کا شکار ہونے سے بچتے ہوئے ریاستِ مدینہ کا مقصد حاصل کر لیں۔

پاکستان کا حصول ایک سنجیدہ کام ہے اور اس کے لیے دل مع دماغ، نظریہ سے جڑا عمل، ہمت اور تخیل کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اس وقت عوام کی مرضی کو بروئے کار لانے کا ایک بہت بڑا موقع ہے جس کا اظہار اُس وقت ہوا جب عوام نے چوروں کی حکمرانی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔‘‘

https://www.straturka.com/decolonize-pakistan-to-attain-riyasat-e-medina-salman-sayyid/

 

Facebook Comments Box
featuredImran KhanIslamophobiaWestoxicated elite of pakistanاستعماراسلاموفوبیاپاکستانی فوجرجیم چینجریاست مدینہ اور عمرانسامراجعمران خانمغرب زدہ اشرافیہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
University_ Ranking 2022 _and _Lessons _for _Pakistan. Ahmed _Raza
next post
سامراجی مداخلت کی تاریخ — ترجمہ و تحقیق: محمد عثمان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.