مصنف سلمان سید، معروف برطانوی یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر اور سوشیالوجی و سوشل پالیسی کے سربراہ ہیں۔
Prof. Salman Sayyid — Professor of Rhetoric and Decolonial Thought at the University of Leeds, UK, Head of the School of Sociology and Social Policy
پاکستان میں جاری بحران ملک کے عوام کے لیے بامعنی تبدیلی لانے اور کئی دہائیوں پر محیط غلط طرزِ حکمرانی کے خاتمے کا ایک تاریخی موقع پیش کرتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کی برطرفی کے خلاف ملک بھر میں بے مثال عوامی تحریکوں نے نئے سیاسی مواقع پیدا کئے ہیں، جن سے اگر صحیح طور فائدہ اٹھایا گیا تو وہ پاکستان حاصل کیاجا سکتا ہے کہ جس کی امید ۱۹۴۷ ءمیں کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے خلاف صف آراء ہونے والی قوتوں میں نہ صرف وہ تمام بڑی جماعتیں شامل ہیں جو اب بے نقاب ہو چکی ہیں کہ جمہوری طرزِ حکمرانی سے کسی وابستگی کے بغیر وہ خاندانی مفادات کیلئے کام کرہی ہیں۔ اور اس صف آرائی میں مقتدرہ بھی شامل ہے جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پاکستان اپنے بنیادی اصولوں پر کاربند رہ کر ایک خودمختار ملک نہیں بن سکتا۔ سول سوسائٹی کے مغرب زدہ طبقے بھی اس میں شامل ہیں، جو خود کو لبرل اور ترقی پسند تو کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے اسلامو فوبیا کو یہ مجاز حاصل بھی رہے گا جو بامعنی اصلاحات سے باز رکھ سکے۔
اب جو صورتحال ابھر کر سامنے آئی ہے اس میں بدعنوان نظام (ریاستی آلہ ہائے کار اور سول سوسائٹی کے حصوں میں موجود چور وں اور ان کے معاونین) اور پاکستان کے اُس عوام کے درمیان ایک واضح خطِ تقسیم ہے جویہ یقین رکھتےہیں کہ ہم لاچار بھکاری نہیں۔
عموماً ایسا نہیں ہوتا ہے کہ کسی کو اپنی تاریخ دوبارہ لکھنے کا موقع ملے۔ لیکن یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستانی عوام اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل لکھ سکتے ہیں
پاکستان کا المیہ
اگر مغرب زدہ، خود ساختہ لبرلز اور ریاستی ٹیکنو کریٹس کے انتہائی مؤثر طبقے کا اسلامو فوبیا بدستوررہتا ہے تو مسلم ممالک میں مقبول اور جوابدہ حکمرانی کا ہوناناممکن امرہے۔یہ دھڑے اپنی استعماری ذہنیت کو بچانے کے لیے مسلمانیت کی کسی بھی قسم کو راستہ دینے کی مخالفت کریں گے۔
مغرب زدہ لبرلز، جن میں سے بہت سے بائیں بازو پر ہیں__ ہمیشہ آمریت، فوجی حکمرانی، اور آمریت کی دیگر اشکال کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی مقبول حکمرانی کو مسلم ازم اور اسلام پسندی کے راستے سے گزرنا ہوگا۔
جن لوگوں نے مصر کے جنرل السیسی کو جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف خوش آمدید کہا، وہ مغربیت سے آلودہ تھے۔ ان کا اسلامو فوبیا ایسے مستقبل پر غور نہیں کر سکتاجس میں مسلمتوا /مسلمانیت/ مسلم ازم کا اظہار سنجیدہ عوامی گفتگو کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہو۔ جمہوریت سے ان کی محبت مغربی لبرل ازم اور تصور اتی مغربی طرز ِزندگی کے ساتھ اس کی وابستگی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
پاکستان کی تاریخ کے بیشتر حصے میں جو لوگ اس (پاکستان) پر یقین رکھتے ہیں وہ اس پر حکمرانی نہیں کر سکے، اور جنہوں نے اس پر حکومت کی، انہوں نے کبھی اِس پر یقین نہیں کیا۔ مطلب اِس کا یہ ہوا کہ زیادہ تر پاکستانیوں کو اُن خاندانی گروہوں نے مؤثر طریقے سے حق ِرائے دہی سے محروم کر دیا جنھوں نے اپنے آپ کو بطور سیاسی جماعت ظاہر کیا۔ اور اس میں اُن ٹیکنوکریٹس نے بھی حصہ ڈالا جو استعماری عدسے سے آگے دیکھنے سے قاصر ہیں اور ان کا ساتھ پاکستان کے تصور سے نفرت کرنے والے مغرب زدہ طبقے نے بھی دیا۔
پاکستان اور مغرب آلود اشرافیہ کا مسئلہ
ان مجموعی حالات میں پاکستان کا مغرب سے متاثرہ طبقہ مغربی رائے سازوں کو اپنے بیانیے کے لیے متحرک کرنے کی صلاحیتوں سے مایوس ہے۔
پاکستان کے مغرب زدہ افراد کے پاس پاکستان اور اس کی سیاست کی نمائندگی کرنے کی اجارہ داری نہیں ہے – ان کے معاملات کو دنیا بھر میں پھیلے پاکستانیوں کی جانب سے اکثر چیلنج کردیا جاتا ہے۔
تارکینِ وطن کا یہ طاقتور طبقہ، جو عمران خان کا بہت زیادہ حامی ہے، اسلامو فوبیا کے مغرب آلودہ منظم حمایتیوں کے نہ صرف آڑے آتا ہے بلکہ اس طبقہ کے باعث اِن حامیوں کو امپورٹڈ حکومت کیلئے بین الاقوامی سول سوسائٹی کی حمایت حاصل کرنا دُشوار ہوجاتا ہے۔
سول ملٹری تعلقات: تجدیدِ فہم کی ضرورت
ہمیں اس عدسے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے دیکھتے ہوئے ہم پاکستان کے سول ملٹری تعلقات کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس سے ہم چیزوں کو کچھ بہتر کر سکیں گے۔ پاکستان کے سول ملٹری تعلقات کے بارے بات چیت میں یورپی برتری سے مرعوب سوچ غالب ہے۔
مثال کے طور پر، جب ایسے ناقدین پاکستانی مسلح افواج کو ایک عسکری کمپنی کے طور پر مسترد کرتے ہیں، تو وہ صنعتکاروں اور عسکری شعبے کے گٹھ جوڑ کا امریکن معیشت میں کلیدی کردار نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسی گفتگو پاکستان میں فوج کے کردار کو سمجھنے میں مدد نہیں دیتی اور نہ ہی اس کے مستقبل کے لیے مضبوط اور منصفانہ پالیسیوں میں مدد دے گی۔
ہمیں اس بارے میں نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی فوج کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟ ہم اسے یورپ سے مرعوب مغربی تاریخ کےمطالعاتی سانچے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔
فوج کے بارے میں سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ پاکستان میں واقعتاً صرف قومی سیاسی پارٹی تھی۔ اگر آپ اس کا موازنہ اُن خاندانی جماعتوں سے کریں جو پاکستان کے زیادہ تر سیاسی منظر نامے پر آباد ہیں، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کی بیشتر جماعتوں کے مقابلے میں میرٹ کی زیادہ پاسدار، زیادہ شفاف، زیادہ جوابدہ، اور اقدار کی حامل تنظیم ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوج میں مسائل نہیں ہیں یا وہ ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج تک کوئی بھی چیف آف آرمی سٹاف اپنے خاندان کے افراد کو اقتدار سونپنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور یہ حقیقت پاکستان کی زیادہ تر سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی عصبیت سے بالکل برعکس ہے۔
یہ ضروری ہے کہ فوج کی ادارہ جاتی سالمیت پر بدعنوانی اور عالمانہ مغربیت کے ذریعے سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے لیے خطرہ وہ اشرافیہ ہے جن پر ان اسلامو فوبک قوتوں کا قبضہ ہے جو پاکستان کے منصوبے کے ہی خلاف ہیں۔
فوج کے لئے پیشہ ورانہ مہارتوں کا حصول، پاکستان کے لیے ان کی جانب سے کئے عہد کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ نظریہ یا اقدار کے بغیر فوج لین دین کی منطقوں کا شکار ہو جائے گی اور یورپ سے مرعوب حقیقی سیاست کے سامنے جھک جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو فوج خودمختاری اور آزادی کے محافظوں کی بجائے اپنے لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر اس جیل کے محافظ بن جاتی ہے۔‘‘
کمزور پاکستان اسلام فوبیا کو تقویت دیتا ہے
پاکستان کی کمزوری نے کشمیر اور بھارت میں اسلامو فوبیا کو تقویت دی ہے۔ اس سے دریائے سندھ اور کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھارت کے مزید جارح ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اقدار قومی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ ایک ایسا ملک جو کسی مقصد کے لیے کھڑا ہو، جس کا اپنا ایک وژن ہو اور وہ اپنی اقدار کی پاسداری بھی کرتا ہو، تو ایسا ملک آنے والے اور درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگا۔
روہنگیا یا ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پاکستانیوں کی جانب سے کسی آواز کا نہ اٹھنا نہ صرف کشمیر کے حوالے سے ملک کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے بلکہ اس کی طویل مدتی آزادی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ اس امر کی تشہیر ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے کوئی اصول نہیں ہیں، اور اس کی اشرافیہ کو بغیر کسی مشکل کے خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔ فلسطینیوں کو ترک کرنے کی حالیہ کوششوں کو اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ پاکستان کو تنہا کرنے اور اسے دشمنی کے دباؤ میں مزید کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ تبدیلی کی تحریک ہے
پی ڈی ایم کی درآمد شدہ اور مسلط کردہ حکومت کے خلاف عوامی تحریکیں پی ٹی آئی کو ایک ملک گیر سیاسی قوت میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان متحرکات نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (نواز) کو محض مقامی طور پر چھوٹے چھوٹے لین دین والے دھڑوں تک محدود کر دیا ہےاور یہ باعزت طریق پر حکمرانی سے قاصر ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ملک گیر رسائی کے ساتھ دو قوتیں رہی ہیں: قائداعظم اور فوج۔ اب ایک تیسری ملک گیر قوت کا امکان ہے جو تمام پاکستانیوں کی نمائندگی کر سکے، وہ ہے _پی ٹی آئی
یہاں پر ایک ملک گیر سیاسی قوت کی ضرورت موجود ہے، جو کہ اپنی اقدار پر بنیاد رکھتی ہو نہ کہ عصبیت پر۔ جو صرف عہدہ حاصل کرنے کے بجائے ملک کی اصلاح کے لیےبھی پُرعزم ہو۔
پاکستان کی ناکامیوں کی وجہ اس کے عوام یا خود تصورِ پاکستان نہیں، بلکہ یہ اس کی سیاسی اشرافیہ کی ناکامی ہے۔ پاکستان ایسے ملک کیلئے جو اندرونِ ملک، جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ممالک کے اندر مسلمانیت /مسلم ازم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی مضبوط ہے، ملکی ادارے بنانے میں اس اشرافیہ کی عدم دلچسپی یانااہلی ہی اسکی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔‘‘
جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ ”بھکاری(بھیک) چُن نہیں سکتے“ تو سوال کیا جانا چاہئے کہ 22 کروڑ افراد کے اس ملک کو کس نے بھکاریوں کی قوم بنا دیا؟ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کس نے لوٹے؟ یہ کس نے کیا ہے؟
اب وہی لوگ جواب دیں کہ جنہوں نے مشرقی پاکستان کو پسماندہ ہونے کا طعنہ دیا تھا، انہیں بتانا چاہیے کہ اب بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی پاکستان سے زیادہ کیونکر ہے؟ ۱۹۵۰ء میں جنوبی کوریا کی فی کس جی ڈی پی پاکستان کے برابرتھی۔
عمران خان اور ریاستِ مدینہ
ریاست مدینہ کا تصور ایک فلاحی ریاست کے بارے میں ہے جس میں عام لوگوں کی قدر کی جاتی ہے، انھیں ہر تحفظ حاصل ہوتا ہے اور انھیں بااختیار بنایا جاتا ہے۔ تاہم، آپ ترقی پسند اور ٹیکس اصلاحات کے بغیر اسلامی فلاحی ریاست کا حصول ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر شمالی یورپ کی فلاحی ریاستیں اپنے جی ڈی پی کا نصف ٹیکس آمدن میں وصول کرتی ہیں۔
پاکستان کے وفاق کو دستیاب وسائل میں اضافہ کئے بغیر موجودہ دور میں ریاستِ مدینہ کا نفاذ ممکن نہیں ہوگا۔
اب جبکہ ۷۵ سال کے قریب ہونے کو ہیں پاکستان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک نیا سماجی معاہدہ ہے۔
پاکستان کو استعماریت سے نکالنا
جب تک پاکستان کو استعمار سے پاک نہیں کیا جائے گا، یہ خودمختار نہیں ہو سکتا۔ جب تک یہ خودمختار نہیں تب تک اپنے لوگوں کو جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہے تو اسے ہمیشہ ایسے چوروں کے ہاتھوں میں رہنے کا خطرہ رہے گا جو ملکی مفادات سے زیادہ یہ سوچتے ہیں کہ واشنگٹن یا ریاض کیا چاہتے ہیں۔
استعماری ذہنیت اور اداروں کا تسلسل پاکستان کی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے نظامِ قانون پر اب بھی برطانوی راج سے وراثت میں ملنے والی ۱۹۳۰ء کی قانون سازی کا غلبہ ہے۔ فوج میں اب بھی وہ رجمنٹس غالب ہیں جن کی تواریخ مغربی استعمار کے جنگی کارناموں سے مزین ہیں۔ پاکستان کا انتخابی نظام بھی ایک برطانوی ورثہ ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ غیر نمائندہ قومی مقننہ بنانے کے لئے معروف ہے۔
پالیسیوں کیلئے اصول اور اقدار رہنمائی ضروری ہے تاکہ آپ لوٹ مار اور استحصال کا شکار ہونے سے بچتے ہوئے ریاستِ مدینہ کا مقصد حاصل کر لیں۔
پاکستان کا حصول ایک سنجیدہ کام ہے اور اس کے لیے دل مع دماغ، نظریہ سے جڑا عمل، ہمت اور تخیل کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں اس وقت عوام کی مرضی کو بروئے کار لانے کا ایک بہت بڑا موقع ہے جس کا اظہار اُس وقت ہوا جب عوام نے چوروں کی حکمرانی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔‘‘
https://www.straturka.com/decolonize-pakistan-to-attain-riyasat-e-medina-salman-sayyid/
