Connect with us

تازہ ترین

ؑعامر لیاقت اور سماجی میڈیا کی ’اخلاقی‘ سنگ باری

Published

on

اِس سماج میں ایک خاص نوع کی غیر متوازن سوچ ہمیشہ سے رہی ہے۔ جب یہ سماج کسی کو ہیرو بنانے پر اترتا ہے تواُس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا اور جب کسی کو ولن سمجھ لیا جاتا ہے تو اُس میں کوئی خوبی دکھائی نہیں دیتی۔ اِس سماج کیلئے یا تو کوئی شیطان ہے یا پھر فرشتہ۔ اِس کیفیت کو علم نفسیات کی اصطلاح میں ’بلیک اینڈ وائیٹ تھنکنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اِس سوچ کے نتیجے میں یا تو کسی انسان کو بہت اچھا سمجھا جاتا ہے یا بہت برُا۔ اچھے میں برُائی یا برُے میں اچھائی کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ انتہا پسند سوچ اگر کسی فرد میں زیادہ ہو تو وہ شخص ایک شخصیت کے مرض کا شکار ہوجاتا ہے جسے ’بارڈر لائن پرسونلیٹی ڈس آرڈر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بات کافی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ پاکستانی سماج عمومی طور پر’بارڈر لائن پرسونیلیٹی ڈس آرڈر‘ کی کافی خصوصیات اپنے اندر رکھتا ہے۔ اِس سماج ایک اور خصوصیت یہاں پھیلی رومانویت پسندی بھی ہے۔ اخترؔ شیرانی کی شاعری والی غیر حقیقی، غیر فطری اور ٹکروں میں بٹی فکر، جو کہ ایک جانب عشق سے جنس کو نکالتی ہے تو دوسری جانب جنسی عمل سے عشق کو نکال دیتی ہے۔ یہ’میڈونا۔ ۔ ہور‘ سینڈروم والی رومانویت ہے۔ یہ حقیقت کی جگہ ’ڈیلوژن‘ کی دُھند میں ڈوبی رومانویت ہے۔

پھر ہمارے سماج کا ایک مسئلہ جذباتیت بھی ہے۔ لوگوں کی عقل پر انکے جذبات غالب ہیں۔ مگر اِن جذبات کی تہذیب بھی نہیں ہوسکتی۔ جذبات بھی خام ہی ہیں۔ بس اُبل رہے ہیں۔ نہ گولی سے گالی بن رہے ہیں نہ ہی خام گالی سے ہجو۔ یہ جذبات بالا خانوں تک بھی نہیں جاپارہے، یہ محبوب کی چھت اور کھڑکی تک بھی نہیں جا پارہے۔ محبوب اب ’ویڈیو چیٹ‘ کرتا ہے۔ محبت ’فوڈ پانڈا‘ پر ڈسکاونٹ میں ملتی ہے۔ تجسس ختم کرنے والا زنگ اب خام محبت پر لگ چکا۔ یہ محبت اب میر ؔکی غزل نہیں بن سکتی، آتشؔ کی شاعری میں نہیں ڈھل سکتی۔ یہ محبت تو چیرکین ؔ بھی نہیں۔ اِس’محبت‘کے نام سے ہونے والی محبت کی تضحیک سے بس یا تو ولیمے کے پھیکے کھانے یا ٹوٹی ہوئی توقعات جنم لے سکتی ہیں یا ناکام محبت کا جھوٹا تمغہ جسے بیوی کے میکے جانے کے بعد ماضی کے البم سے نکال کر دیکھا جاتا ہے اور پھر گرد جھاڑ کر واپس جھپادیا جاتا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ جذبات کی تربیت نہیں ہوئی، شعور رومانی ہے اور اسکی آنکھوں پر’بلیک اینڈ وائیٹ‘ چشمہ لگا ہے۔ یہ سب بھی کیا کم تھا کہ ہمارے ملک میں نفسیاتی طور پرمڈل کلاس بھی اتنی بڑھ گئی؟ مڈل کلاس کی جھوٹی اخلاقیات اور بیکار ترجیہات نے سماج کو کینسر کی طرح کھالیا۔ یہ نوکری پیشہ بزدل، اپنی ڈگری کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی گردانتے ہیں۔ ڈگری اور ایک مناسب نوکری کے بعد جو میکانی زندگی اور شام ۷ بجے کے بعد ایک خاص قسم کی خشک فراغت ملتی ہے تو اصلاح معاشرہ کا جنون اندر سے کاٹنے لگتا ہے۔ اب جب دوسروں کو نصیحت کی جائے گی تو خود بھی نصیحت سہنی پڑے گی ہی۔ لوگ ایک دوسرے کو ہر روز اصلاحی اور اخلاقی اچھی اچھی باتیں سماجی میڈیا کی رکابی میں رکھ رکھ کر پیش کی جاتی ہیں۔ اِس معاشرے کا مڈل کلاسیا سماج کو خوش کرنے کیلئے اپنے ہر عمل کی تاویلات سڑک چلتوں کو دینے کی فکر میں ہے۔ افسوس یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں فحش فلمیں چھپ کر دیکھنے کے علاوہ کوئی گناہ بھی نہیں کیا انکو یہ لگتا ہے کہ ان سے بڑا گناہگار کوئی نہیں۔ بغیر کوئی گناہ کیے ہی ہرمڈل کلاسیا دوسرے کو نجانے کون سے گناہوں کی رب سے معافی مانگنے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔ تم میں گناہ کی اہلیت بھی ہے؟ بندوق میں گولیاں بھر کر دشمن کے سینے میں ڈال سکتے ہو؟ سڑک کے کنارے کھڑی کال گرل کا ہاتھ پکڑ کر لیجاسکتے ہو؟ بینک لوٹ سکتے ہو؟ تم میں اہلیت بھی ہے جو خود کو گناہگار گردانتے ہو؟

تمہید کچھ لمبی ہوگئی اور کچھ گنجلک بھی۔ عامر لیاقت حسین اوپر مذکور تمام خواص کے خود بھی مالک تھے اور انہی کا شکار بھی ہوگئے۔ عامر لیاقت حسین کی زندگی بہت سیمابی تھی۔ وہ ایک جگہ ٹھہر نہیں پاتے تھے۔ انہیں ایک خیال اپنی جانب لبہاتا پھر اس میں کوئی بات انہیں برُی لگتی اور وہ کسی اور ہی خیال کی طرف چل پڑتے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی انہیں کوئی یا تو بہت اچھا لگتا تھا یا بہت برُا۔ انکے پاس درمیانی سوچ نہیں تھی۔ نتیجتاً انکی خانگی زندگی بھی تباہ ہوئی اور انکی سیاسی زندگی بھی۔ عامر لیاقت کو آسمان کی بلندیوں پر بھی شہری مڈل کلاس نے ہی پہنچایا تھا اور وہاں سے نیچے بھی انہی لوگوں نے گرایا۔ جب سماج نے اپنے مخصوص انداز میں سماجی میڈیا سے عامر پرسنگباری شروع کی تو انہوں نے اِس کو مکھیوں کی بھنبھناہٹ سمجھنے کے بجائے جواب دینے کی کوشش کی اور خود کو ہر معاملے میں صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ یہیں سے عامر لیاقت حسین کا آخری سفر شروع ہوا۔

عامر نے خود کو خود ہی کٹہرے میں کھڑا کرلیا۔ خود سے اخلاقی سوالات شروع کردیے۔ خود کو نجانے کس کس بات کیلئے مورد الزام ٹھہرانے لگے۔ وہ نہیں سمجھے کہ سماجی میڈیا پر انکی کسی تصویر کے نیچے رائے لکھنے والی ’مِس فلاں‘ کی زندگی میں واحد تفریح اسکا موبائل فون ہے۔ یہیں وہ عامر لیاقت کو گالی بکتی ہے اور اسکے چند گھنٹو ں بعد وہ اسی موبائل فون پر ’وی پی این‘ لگا کر ’لاس ویگاس‘ میں بننے والی مٹھائیوں کے نمونے ملاحظہ کرتی ہے۔ یہی اسکی نیکی اور گناہ کی ’رینج‘ ہے۔ عامر نہیں سمجھ سکے کہ انکو اِن باتوں کو نہیں سننا، اِن لوگوں کی طرف نہیں دیکھنا، اِن لوگوں سے کوئی سبق نہیں لینا، کوئی اچھائی نہیں سیکھنی، کسی عمل کی تاویل نہیں دینی۔ ان سے محبت نہیں مانگنی، ان سے ہمدردی کی توقع نہیں کرنی، ان سے نفرت بھی نہیں کرنی بس ان سے لاتعلق ہونا ہے۔ مگر عامر نے رُک کر اِن لوگوں سے بات کرلی اور اسی بات نے عامر کی جان لے لی۔

یہ بات چیت، یہ اپنے ہر عمل کو اخلاقی فٹے سے ناپ ناپ کر دنیا کو سمجھانا کہ ’میں ٹھیک ہوں‘، ’میں اچھا ہوں‘، ’میری نیت اچھی تھی‘، ’میں شیطان نہیں ہوں‘۔ ۔ یہ سب جملے عامر لیات حسین کو لے ڈوبے۔ یہ اخلاقی کٹہرا اتنی خوفناک چیز ہے کہ انسان اس میں سے کبھی باعزت بری نہیں ہوسکتا۔ دنیا سے اثر لینا، دنیا کی سننا، انفالیت کی بہت خوفناک صورت کو جنم دیتا ہے۔ غالب ؔنے کہا تھا،

ہنگامہئ زبونی ہمت ہے انفعال
حاصل نہ کیجئے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو

تحریر: فرحان کامرانی

Trending