تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Englishبلاگزتازہ ترین

قابو کر لیجئے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ منزہ فرید

by دانش ڈیسک 20/05/2022
written by دانش ڈیسک 20/05/2022
229

زندگی کے سفر میں چلتے پھرتے اگر زبان پر قابو نہ رہے تو خیر ہے۔۔۔ اور اگر کبھی ہاتھوں یا لاتوں پر بھی قابو نہ رہے تو بھی خیر ہے۔۔۔ سچ مانیں تو گاڑی کا اسٹئیرنگ یا گھوڑے کی لگام بے قابو ہو جائے تو۔۔۔تو بھی خیر ہے۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہمارا دماغ بے قابو ہوجائے تو۔۔۔ تو وہ آناًفاناً ہماری پوری باڈی کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر ہم سے وہ وہ کام کرواتا ہے کہ پہلے ہم حیران۔۔۔پھر پریشان اور سب سے آخر میں پشیمان ہو کر رہ جاتے ہیں یقین نہ آئے تو آئیے میرے ساتھ مل کر سترہ سیکنڈ۔۔۔۔۔ جی ہاں سترہ گھنٹے یا سترہ منٹ کا نہیں بلکہ صرف اور صرف سترہ سیکنڈ کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔۔۔

تو چلئیے شروع کرتے ہیں آپ نے کرنا کچھ بھی نہیں بس اپنے دماغ میں چلنے والی سوچ کو سترہ سیکنڈ تک روکنا ہے۔۔۔نہیں روک پائے نا۔۔۔لیکن۔۔۔اگر آپ کو دعویٰ ہے کہ آپ کی سوچ آپ کے قابو میں ہے تو پھر آپ اربوں کھربوں کی آبادی میں ان گنے چنے چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جو دماغ کے قابو میں نہیں بلکہ دماغ ان کے قابو میں ہے۔۔۔عین ممکن ہے کہ۔۔۔آپ سب یہ بھی سوچ رہے ہوں کہ دماغ کا تو کام ہی سوچنا ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ ہمارے قابو نہ بھی رہے۔۔۔۔ ہم اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور دماغ اپنا کام کرتا رہتا ہے۔۔۔ بھئی تھوڑا نہیں بلکہ بہت زیادہ فرق پڑتا ہے۔۔۔ ذرا یاد کیجئے جب آخری مرتبہ آپ کو غصہ آیا تھا تو سب سے پہلے آپ کے ہاں کہاں آیا تھا۔۔۔۔ کیا براہ راست زبان پہ آیا تھا یا ڈائریکٹ آنکھوں میں اتر آیا تھا جی ہاں یاد آ گیا نا۔۔۔۔کہ سب سے پہلے غصے نے دماغ میں اک سوچ بن کر اپنا سر ابھارا تھا اور جوں جوں آپ نے اپنے دماغ میں بندر کی طرح اچھلتی کودتی سوچوں کو اہمیت دی توں توں وہی سوچیں غصہ بن کر آپ کے پورے جسم میں پھیل گئی تھیں پہلے پہل تو ماتھے کی تیوریاں ہی چڑھیں تھیں پھر پورے جسم کو تاؤ آ گیا،دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہو گئی اور پھر۔۔۔۔۔ جی تھوڑی ہی دیر میں سب کچھ دماغ کے کنٹرول میں تھا۔۔۔ وہ جو جو کہتا گیا ہم کہتے گئے اور جو جو وہ کرنے کو کہتا گیا ہم کرتے گئے اور جب ہوش آیا تو۔۔۔۔۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔مانا کہ ہمارا دماغ اتنا پاور فل ہے کہ ایک آقا کی طرح ہم سے اپنی مرضی کا ہر کام کروا سکتا ہے کیونکہ کہ اکثر ہم اسی کے کہنے پہ خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔۔۔ دنیا ایک دم ہی زمینی جنت لگنے لگتی ہے اور زندگی بہت آسان اور حسین لگنے لگتی ہے اور اسی خوشی میں ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی ہر خوشی ہمارے قدموں تلے ہے۔۔۔ پھر کسی دن یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم بیٹھے بیٹھے اپنے ارد گرد دنیا کی ہر نعمت ہوتے ہوئے بھی یکایک اداس ہو جاتے ہیں دماغ ماضی کے پچھتاؤں اور مستقبل کے خوف کی سوچوں میں جکڑ کر ہم سے ہمارا لمحہء موجود چھین لیتا ہے۔اور ہم جو بظاہر ہر کام اک نارمل انسان کی طرح کرتے نظر آتے ہیں مگر دماغ کے اندر بندر کی طرح اچھل کود مچاتی بے ہنگم سوچوں کے ہاتھوں اندر ہی اندر بے بس ہو جاتے ہیں۔۔۔یقین نہ آئے تو میر ے کہنے پر اک بار پھر ایک اور تجربہ کر لیں۔۔۔۔کا غذ قلم پکڑیں اور ایک دو منٹ پہلے اپنے دماغ میں چلنے والی سوچوں کو ایک کاغذپر نوٹ کر کے غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ ایک منٹ میں کتنی سوچیں بھاگتی دوڑتی رہیں اور کس قدر بے ترتیب اور بے ہنگم تھیں جن کا ہمارے حال سے یعنی کہ موجو دہ لمحے سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔۔ اور اگر یہی سوچیں آواز بن کر ہماری زبان سے ادا ہو جاتیں تو لوگ ہمیں پاگل پاگل کہہ کر ہم پر ترس کھانے لگتے۔۔۔۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں نا کہ پاگل وہی کہلاتا ہے جو منہ ہی منہ میں کچھ نہ کچھ بولتا رہتا ہے اور ہم بھی وہ ہیں جوہر وقت اندر ہی اندر بڑبڑاتے رہتے ہیں۔۔

چلیں آئیے ہم مل کر اسی وقت غور کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ ہمارے دماغ کی سوچیں کس طرح ہم پر قابو پا لیتی ہیں جب چاہیں ہمیں ہنسا سکتی ہیں جب چاہیں رلا سکتی ہیں۔۔۔ جب چاہیں نفرتوں کے پتھر برسا سکتی ہیں اور جب چاہیں ہم سے محبتوں کے پھول نچھاور کروا سکتی ہیں ایک تصدیق شدہ سائنسی ریسرچ کے مطابق ہمیں دن بھر میں پچاس سے ساٹھ ہزار سوچیں آتی ہیں۔۔۔۔توبہ توبہ اتنی زیادہ۔۔۔۔۔۔ لیکن یہی سچ ہے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ انسان ہونے کے ناطے یعنی کہ اشرف آلمخلوقات ہو نے کے ناطے ہم بھی اتنے پاور فل ہیں کے دماغ کو اپنے قابو میں کر کے اس کو اپنا غلام بنا سکتے ہیں اور جو چاہیں اس سے اپنے لئے کروا سکتے ہیں کیونکہ در حقیقت قدرت نے دماغ جیسا ٹول ہمیں دے کر ہی تمام مخلوقات سے ہمیں اشرف بنا دیا ہے لیکن جو لوگ اس ٹول کو با ہوش و حواس استعمال کر تے ہیں وہی دنیا میں کمال کر تے ہیں اور جو لوگ اس ٹول سے بے خبر رہتے ہیں وہ اسی کے ہاتھوں حال میں ہوتے ہوئے بھی کبھی ماضی میں گم ہو جاتے ہیں تو کبھی مستقبل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور زیادہ تر بے حال رہتے ہیں۔۔۔۔۔ جو لوگ دماغ میں چلنے والی سوچوں کو اپنے محسوسات کے ذریعے پہچان کر مثبت رخ پر موڑ دیتے ہیں وہی زندگی میں ہر پل کامیابی پا سکتے ہیں اور ہر پل خوش اور پر سکوں رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ آج ہم جس مقام پر بھی ہیں یا جن حالات میں بھی ہیں وہ سب کا سب ہماری سوچوں کا پھل ہے کیونکہ خود قدرت کہتی ہے کہ تم جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے۔۔۔ آزما کر دیکھ لیجئے جب ہم اپنے دماغ کو مثبت رخ پر چلنے کا کاشن دیتے ہیں تو رحمٰن سے جڑ جاتے ہیں اور جب اس کی جھوٹی انا میں پھنس کر منفی رویوں کو اپنا لیتے ہیں تو شیطان سے جڑ جاتے ہیں

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔۔۔
"ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی عمل کرتے ہیں
ہم جیسا عمل کرتے ہیں ویسا ہی کردار پاتے ہیں
ہم جیسا کردار پاتے ہیں ویسی ہی قسمت بنا لیتے ہیں“

ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے ہم چاہیں تو آج ابھی اسی وقت اپنے انائی دماغ کے چنگل سے آزاد ہو کر خود اس کو اپنے قابو میں کر سکتے ہیں کیونکہ بقول ایکہارٹ ٹولے
دماغ ہمارا بدترین آقا بھی بن سکتا ہے اور یہی دماغ ہمارا بہترین غلام بھی بن سکتا ہے بس چوائس ہماری ہے۔۔۔۔

بہتر ہے کہ ماضی اور مستقبل کی سوچوں سے پیچھا چھڑا کر اور بس حاضر باش رہ کر اپنے مو نکی مائینڈ (Monkey mind) اور اس میں اچھلتی کودتی سوچوں کو قابو میں کیجئے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ یہ ہمیں قابو کر لیں گی۔

Facebook Comments Box
انشائیہمنزہ فرید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جنت کی ایک شام : ذوالکفل بخاری* کے ساتھ —- وحیدالرحمٰن خان
next post
Imranophobes _and _their _Chomsky _Abuse. Arsalan _Ahmad

Related Posts

دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...

15/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.