"تانیثیت کے بنیادی مباحث”
تانیثیت کا لفظ سنتے ہیں ہیں ہمارے دماغ میں میں مختلف الفاظ آتے ہیں مثلاً عورت، خاتون، نسائیت، نسوانیت، حقوق نسواں، اور انگریزی کے الفاظ فیمنزم Feminism یا Feminist وغیرہ۔ دراصل تانیثیت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کو مختلف انداز میں لیا جاتا ہے عموماً عورتوں کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں پر یہ لفظ سننے میں آتا ہے۔ اس کے ذیل میں دیگر کئی اصطلاحات سما سکتی ہیں۔ دیوند راسر کے مطابق ” تانیثیت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کے مخصوص معنی متعین کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک غیر متعین کثیر المعنی تصور ہے جس میں مختلف نوع ایشوز اور رویے شامل ہیں”۔ (1)
تانیثیت (Feminism) کا آغاز و ارتقاء
تانیثیت کے آغاز و ارتقاء کے متعلق بات کی جائے تو اس کے ابتدائی نقوش مغرب میں اٹھارویں صدی کے آخر سے ملتے ہیں۔ مغرب کی مادی پرستی کے ماحول میں جب عورت محض ایک طوائف بن کر رہ گئی اور اسے بنیادی انسانی حقوق کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تو ایسے میں کچھ خواتین جو نسبتاً باشعور اور پڑھی لکھی تھیں، آگے آئیں اور عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہی خواتین میں ایک با اثر نام Mary Wallstone Craft کا ہے جس نے خواتین کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرنے کی پہلی کوشش کی۔ اس نے عورتوں کے حقوق اور مسائل پر مبنی ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام Vindication of the Rights of Women تھا اور یہ 1792 میں شائع ہوئی۔ وہاب اشرفی کے نزدیک ” یہ خاتون سیاست سے دلچسپی لینے والی تھی جس نے مغرب میں تانیثیت کی تحریک کو باضابطہ آگے بڑھانے کی نظریاتی کوشش کی۔ ” (2)
اس طرح عورت کے سماجی مسائل کا ادراک معاشرے میں نیا سوال تھا اور اس پر تانیثی رجحانات کا آغاز ہوا۔ اور ان عوامل پر غور وفکر کا آغاز بھی ہوا جن کی وجہ سے عورتوں کو مردوں کی نسبت کمزور اور کمتر سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر قاسم یعقوب کے بموجب
” عورت کو سمجھنے کی طرف پہلا بنیادی تھیسیس یورپ میں پیش ہوا مگر یہ تھیسیس عورت (Feminine) اور مرد (Masculinity) کے درمیان برابری کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔ اس میں کسی خطے کے کلچر یا سیاسی مسئلے کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔ عورت کیوں مرد سے حقیر تر ہے اور عورتوں کو وہی سماجی حقوق کیوں میسر نہیں جو صرف مرد ہونے کی وجہ سے مرد کو عطا کر دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا پہلا سوال تھا جو باقاعدہ تانیثی تحریک کے آغاز کا موجب بنا۔ ” (3)
” تانیثیت چند اہم سوالات”
اس کے بعد وقت اور حالات بدلتے گئے اور سوالات میں بھی جہاں تبدیلی واقع ہوتی گئی وہاں کچھ مزید سوالات کا بھی اضافہ ہوا جن کے آنے سے تانیثی رجحانات پر مبنی تھیوری کو تقویت ملی اور نئے نظریات سامنے آئے۔ انہی سوالات میں سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ تھا کہ عورت کا تذکرہ ہمیشہ حاشیے پر کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا وجوہات ہیں کہ اس کا ذکر معاشرے کے مرکزی دائرے میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح دوسرا سوال یہ زیر بحث رہتا ہے کہ عورت تاریخ سے غائب کیوں ہے؟ کیا اس نے تاریخ میں ایسا کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا کہ اسے سنہری الفاظ میں لکھا جاتا۔ کون سے ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے تاریخ اس معاملے میں خاموش ہے۔ تیسرا سوال عورت کو مرد کے تناظر میں دیکھنے سے متعلق ہے کہ آیا مرد کی نظر سے ہی عورت کو سمجھنا کافی ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ عورت کو بھی کبھی پوچھ لیا جائے کہ وہ کون ہے۔ چوتھا سوال عورت کے نفسیاتی اور حیاتیاتی وجود کے آزادانہ مطالعہ سے تعلق رکھتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو اس کے نفسیاتی مسائل اور جسمانی ساخت کے علاوہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پانچواں اور سب سے اہم سوال عورت کو عورت کے تناظر میں دیکھنے کا ہے۔ عورت خود کو کیا سمجھتی ہے اور اس کے مسائل اس کی نظر میں کیا ہیں ؟
تانیثیت کے ادوار
ایلین شیوالٹر ایک امریکی فیمینسٹ ہیں۔ آپ نے تانیثیت پر بہت کام کیا ہے۔ آپ نے تانیثیت کو تین اہم ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور 1840ء تا 1880ء کے چالیس سالوں پر مشتمل ہے۔ اس دور میں عورت کو معاشرے کی نظر سے دیکھا گیا ہے کہ ایک مغربی معاشرے میں عورت کا مقام ومرتبہ کیا تھا۔ شیوالٹر کے نزدیک دوسرا دور 1880ء تا 1920ء کے چالیس سالوں کو محیطِ ہے۔ اس دور میں عورت کو مرد کے تناظر میں دیکھنے اور اس کا مقام ومرتبے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ تیسرا اور سب سے اہم دور 1920ء کے بعد سے اب تک کے طویل عرصے پر مشتمل ہے۔ اس دور میں عورت کو عورت ہی کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیوالٹر کے نزدیک یہ دور سب سے اہم ہے کہ جس میں عورت نے اپنے حقوق حاصل کرنے اور مسائل کے حل کی طرف توجہ دی۔
تانیثی ادب
دنیا بھر میں لکھنے والوں کی یہ خوبی ہے کہ وہ ادب میں نچلے اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنا اپنا شعار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں ادب کا اہم کردار رہا ہے وہاں خواتین کے مسائل اور حقوق پر بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں میں چونکہ پڑھے لکھے اور باشعور افراد شامل ہوتے ہیں اسی لیے وہ جہاں مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں وہیں ان کے حل کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں تک مغربی ادب کی بات ہے وہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین قلم کاروں نے بھی اس میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر مغرب میں ورجینیا وولف کی کتاب ” A room of one’s own” اور سیمون دی بوائز کی کتاب” The Second Sex” بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
اردو ادب میں تانیثی رجحانات کا آغاز
ایک ادیب یا شاعر اپنے فن پارے کے لیے مواد معاشرے سے لیتا ہے۔ معاشرے میں موجود مسائل ان کے لیے خام مال ہوتا ہے اور انہی مسائل اور حالات پر وہ قلم اٹھاتے ہیں۔ اسی لیے وہ عورتوں کے مسائل سے بھی اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ یہ اور بات کہ مرد ادیبوں نے جس طرح عورتوں کے مسائل کو سمجھا اور محسوس کیا محسوس کیا وہ خواتین کے لیے کتنا اہم رہا ہے یا اس سے انصاف کیا ہے اس پر الگ سے بحث توجہ طلب ہے مگر لکھا ضرور ہے۔ لیکن عورت نے اپنے مسائل کو خود بیتی سمجھ کر بہتر انداز میں لکھا ہے۔ اور اسے اظہارِ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ نسرین انجم بھٹی کے بقول” مرد نے عورت کو ڈر کر لکھا ہے جبکہ عورت نے مرد کے بارے میں جب بھی لکھا اسے جھیل کر لکھا ہے۔ اسے محبت کر جنما اور اپنے پرت در پرت رشتوں کے لہو سے لکھا۔ ” (4)
مرد ادیبوں کی بات کی جائے تو ڈپٹی نذیر احمد، الطاف حسین حالی، سر سید احمد خان، عبدالحلیم شرر، رتن ناتھ سرشار وغیرہ نے پہلے پہل عورتوں کے مسائل اور حقوق پر لکھا۔ بعد میں مرزا ہادی سودا جیسے ناول نگار میدان آئے اور’ امراؤ جان ادا’ جیسے ناول تحریر کیے جس میں طوائف کی زندگی کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح سلسلہ چل نکلا اور آنے والے دور میں غلام عباس، پریم چند، کرشن چندر اور منٹو جیسے افسانہ نگاروں نے عورت کے سماجی اور معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح جب 1936ء میں ترقی پسند تحریک کا برصغیر میں آغاز ہوا تو جہاں دیگر پسماندہ طبقات کے مسائل کو لکھا گیا وہیں عورتوں کے مسائل بھی زیر بحث لائے جانے لگے۔ یہ ایک نقطئہ آغاز کہا جا سکتا ہے کہ جس کے بعد کھل کر ان مسائل پر بات کی جانے لگی جن پر لکھنا پہلے مشکل سمجھا جاتا تھا، صغریٰ مہدی اس کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔
” ترقی پسند شاعروں نے اپنی شاعری میں عورت کی مساوی حیثیت پر زور دیا، اس کو محبوبہ کے ساتھ ساتھ ساتھی، رفیق کہا، آنچل کو پرچم بنانے کی ترغیب دی۔ اس کے حسن کے نام سلام تو اب بھی لکھے جاتے، فطرت کے بہاریں نغمے سنائے جاتے، پیکر حیات کہا جاتا مگر ساتھ ساتھ اس کو بغاوت کا راگ بھی سنایا جانے لگا۔ ” (5)
خواتین ادیبوں میں تانیثی رجحانات
ترقی پسند تحریک نے جہاں مرد ادیبوں کو عورتوں کے مسائل تحریر کرنے کا راستہ دیا وہاں خواتین ادیبوں اور شاعرات میں بھی اپنے مسائل کو تحریر کرنے کا حوصلہ ملا۔ خواتین ادیبوں اور شاعرات کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی قلم کا سہارا لیا اور اپنے مسائل کو صفحات کی زینت بنا کر آواز بلند کی۔ انہوں نے سیاسی، سماجی اور تہذیبی س ثقافتی شعور کا ادراک رکھتے ہوئے اپنے جیسی خواتین کے حقوق کے لیے کوشش کی جن کو اظہار کا کوئی طریقہ کار میسر نہیں تھا۔ دراصل انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ہونے والی پہلی جنگ عظیم، تیسری دہائی میں شروع ہونے والی ترقی پسند تحریک، 1939 میں شروع ہونے والی دوسری جنگ عظیم اور پھر 1947ء میں برصغیر کی تقسیم جیسے حالات ایک ترتیب سے رونما ہوئے تو ان واقعات میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی بربریت کا نشانہ بنیں۔ ایسے صدمات پر کیسے ممکن تھا کہ وہ چپ رہتیں اس لیے انہوں نے اظہار کرنا شروع کیا اور اس میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خواتین ادیبوں نے ان تمام مسائل کا رفتہ رفتہ احاطہ کرنا شروع کیا جو اس سے پہلے بیان نہیں کیے جاتے تھے۔ علی احمد فاطمی اس سماجی تبدیلی کی عکاسی یوں کرتے ہیں۔
” ہندوستانی عوام نئے خیالات کے ساتھ نئی بنیادوں پر جدید ہندوستانی قومی تحریک تعمیر کرنے کے قابل ہو گئے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی اور تبدیلی کے بادل منڈلانے لگے۔ ایسی صورت میں ممکن ہی نہ تھا کہ عورتوں کی دنیا میں تبدیلی نہ آئے۔ تبدیلیاں آئیں اور خوب آئیں اور اس حد تک کہ رفتہ رفتہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئیں۔ ” (6)
ابتدائی دور کی خواتین ناول نگاروں میں رشیدہ النساء کا ناول ‘ اصطلاح النساء 1881ء، اکبری بیگم ‘ ناول گنڈی کا لال 1907، محمدی بیگم کا ناول’ صفیہ بیگم 1913ء، صغریٰ ہمایوں مرزا کا ناول’ سرگزشت حاجرہ 1926 وغیرہ شامل ہیں۔ بعد میں نذر سجاد حیدر، رشید جہاں، عصمت چغتائی اور قرات العین حیدر نے اس میں شاندار اضافے کیے۔
جدید اردو نظم میں تانیثی رجحانات
ناول اور افسانے کے علاوہ غزل اور نظم میں بھی خواتین نے کھل کر مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے احتجاج کی فضا ہموار کی۔ نظم کے میدان میں کشور ناہید، ادا جعفری، شائستہ حبیب، شائستہ یوسف، شہناز نبی، فہمیدہ ریاض، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، پروین شاکر، زہرہ نگاہ اور بلقیس ظفیر الحسن جیسی خواتین نے اسلوب، فکر اور ہیئت میں بے پناہ نئے نظریات اور خیالات کے تجربات کیے۔ ان خواتین نے دیگر سماجی اور معاشرتی مسائل کے ساتھ تانیثی رجحانات سے بھرپور نظمیں لکھیں۔ چند اہم مثالوں میں کشور ناہید کی نظم ‘ جاروب کش، پروین فنا سید کی نظم ‘ آتش سوزاں، فہمیدہ ریاض کی نظم مقابلہ حسن، عذرا عباس کی نظم’ زنجیر کھول دی جائے’ پروین شاکر کی نظم’ ایک معقول نکاح’ ڈاکٹر شہناز نبی کی نظم’ فوٹو سنتھیسز’ اور بلقیس ظفیر الحسن کی نظم’ وہیل چیئر پہ بیٹھی زندگی’ شامل ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح کے احتجاج اور بغاوت کا رنگ ان شاعرات کی نظموں میں شامل ہے ایسا اس سے پہلے اردو نظم کی تاریخ میں نہیں ملا۔ ڈاکٹر قاسم یعقوب کے مطابق
” اردو نظم میں عورت کے عورت پن کی شناخت کا رجحان بیسویں صدی کے نصف آخر میں واضح طور پر نظر آنا شروع ہوا۔ اس سے پہلے اردو شاعری میں عورت کا سماجی، تہذیبی اور نفسیاتی کردار مرد کے ساتھ بطور امدادی (supportive) کے موجود تھا۔ ” (7)
صفیہ حیات کے شعری مجموعے” ہوا سے مکالمہ” میں تانیثی رجحانات کی عکاسی”
جدید نظم میں تانیثی رجحانات کی رفتار بالخصوص خواتین کی جانب سے تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ انہی خواتین میں ایک توانا اور باشعور آواز صفیہ حیات کی ہے۔
صفیہ حیات کا مختصر تعارف !
صفیہ حیات 25 دسمبر 1969ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں۔ آپ نے ایم اے اردو اور فارسی کی ڈگریاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کیں۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے فارسی میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ آپ تانیثی افکار و نظریات سے بھرپور نظمیں لکھنے کی وجہ سے اپنا مقام ومرتبہ اردو ادب میں بنا چکی ہیں۔ آپ نے افسانے بھی تحریر کیے اور پہلا افسانوی مجموعہ’ مٹی کے دکھ ‘ کے نام سے شائع ہو کر داد تحسین پا چکا ہے۔ جبکہ پہلا شعری مجموعہ ‘ ہوا سے مکالمہ’ 2019ء میں شائع ہو چکا ہے۔ آپ بطور لیکچرار اردو درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ایف ایم 94 سے بھی منسلک ہیں۔
” ہوا سے مکالمہ "
صفیہ حیات کی نثری نظموں کا مجموعہ’ ہوا سے مکالمہ’ سانجھ پبلیکیشنز سے 2019ء میں چھپ کر شائع ہوا۔ کتاب میں کل سڑسٹھ نظمیں شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر عورتوں کے مسائل حقوق نسواں اور احتجاج کی فضا میں گندھی ہوئی ہیں۔ ذیل میں ان کی منتخب نظموں کا فکری مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔
” ضرورتوں کی پھٹی جیبیں "
اس نظم میں مرد ذات کو اس کی مکارانہ مردانگی پر آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ صفیہ کے نزدیک ایک مرد کبھی بھی عورت کی ضروریات کو ٹھیک طرح نہیں سمجھ سکتا اور اگر سمجھ بھی جائے تو مردانگی کے رعب و دبدبے سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ مونچھوں کو تاؤ دینے اور مردانگی جاگ اٹھنے کا تلازمہ انتہائی مہارت سے برت کر طنزیہ انداز میں یہ باور کرایا ہے کہ عورت کب تک اپنی ضروریات زندگی کے لیے مرد کی محتاج رہے گی۔ اسے کبھی تو نا انصافی پر آواز بلند کرنی ہی پڑے گی۔ اور اس کی ابتدا اب ہو چکی ہے کہ وہ مردانہ بے رخی اور بے اعتنائی کا مقابلہ کرنے کو تیار ہو گئ ہے۔
"گلاس میں پڑی پیاس کا گھونٹ”
اس نظم میں صفیہ نے عورت کے ازدواجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اپنے مجازی خدا کے ہر حکم پر موسم کی سختیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا تن من قربان کرنا پڑتا ہے۔ اور کس طرح مجازی خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خود کو مشکل میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اور یہ ایسے مسائل ہیں جن سے کسی طور چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ان ازدواجی الجھنوں سے نکلنے کی کوشش بھی کی جائے تو سماجی اور معاشرتی رکاوٹیں طوفان کی طرح راستہ روک لیتی ہیں۔ ایک شاعرہ جو شعور رکھتی ہے وہ تو ان مسائل کو اجاگر کرنے کی ہمت رکھتی ہے مگر ایک عام عورت اس شعوری سطح پر نہیں ہوتی کہ ان پابندیوں پر احتجاج کر سکے اور اسے انہی روایات کے ساتھ عمر گزارنی پڑتی ہے۔
” ماں ولد والدہ”
بغاوت پر مبنی نظم میں ان ورکنگ وومن کی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے جو باشعور ہیں اور خود فیصلہ کر سکتی ہیں۔ یہ نظم انہی خواتین کی ترجمانی کرتی ہے جو بچوں کو جنم دینے، ان کی پرورش کرنے، ان کی خوراک، تعلیم وترتیب کی ذمّہ داریاں نبھاتی ہیں مگر ان کے مجازی خدا ان کی پرواہ تک نہیں کرتے بلکہ وہ فراغت کے بہانے تلاش کر کے نکل جاتا ہے اور اپنی زمہ داریوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں عورت اپنی بے بسی کا شکوہ کر بھی لے تو اسے فرشتوں کی لعن طعن کا درس دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک دن تنگ آ کر یہ عورت فیصلہ کرتی ہے کہ اپنے بچوں کے ولدیت کے خانے میں باپ کے بجائے اپنا ہی نام لکھوا لے کیونکہ پیدائش سے لے کر جوان کرنے تک ساری زمہ داری اکیلی عورت اٹھا سکتی ہے تو ولدیت کے خانے میں باپ کے نام کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس نظم میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی باشعور خواتین کی ترجمانی ہے۔ فہمیدہ ریاض نے ایسی خواتین کے لیے ہی کہا تھا
” مبارک ہے وہ دن اور وہ ساعت جب صدیوں سے اعانت کا شکار یہ مخلوق لب کشائی کر رہی ہے۔ آج دانشور عورت خوفزدہ نہیں ہے، وہ پر اعتماد ہے اور چند نہایت نامور ادیبوں کی تحریروں کو خود اپنے ہاتھ میں آئینہ کی طرح اٹھا کر دنیا کو دکھا رہی ہے اور ان تمام مقامات پر سرخ نشانات خود اپنے ہاتھ سے لگا رہی ہے جہاں مرد ادیب اپنی انسانی اقدار کا مضحکہ اڑائے نظر آسکتے ہیں۔ ” (8)
” نسوانی چیخ "
ایک ایسی عورت کی مکمل بے بسی کی تصویر ہے جو گھر کا خرچہ پورا کرنے کے لیے اور اپنے خاوند کی غربت میں اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے امیروں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور وہاں اسے بھیڑیا نما مردوں کی ہوس اور بربریت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ مجبوراً وہ چیخ کر اور بھاگ کر جان بچانا چاہتی ہے مگر اس کوشش میں بھی اسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ بے چاری جب ہوس کا نشانہ بن کر گھر پہنچتی ہے تو اپنے ہی مرد کی آنکھوں سے نہیں بچ سکتی اور وہ اسے دوبارہ کوٹھی پر کام کرنے جانے سے روک دیتا ہے۔ ایسی تمام خواتین جو بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے مختلف گھروں میں کام کرنے جاتی ہیں اور پھر وہاں ان پر ہونے والی بربریت کا نوحہ اس نظم میں شامل ہے۔ یہ دراصل کسی ایک عورت کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہر اس مظلوم عورت کا المیہ ہے جو اس کرب کا سامنا کر چکی ہے۔ مجبور اور غریب عورت اتنی بے بس ہوتی ہے کہ وہ کسی کو بھی بتا نہیں سکتی کہ کس طرح ظلم کا سامنا کر رہی ہے۔
” عورت تاریخ کیوں نہیں لکھتی”
تانیثیت کو سمجھنے کے لیے جو چند سوالات اخذ کیے گئے ہیں ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ عورت تاریخ سے غائب کیوں ہے۔ اس سوال کی تشریح وتوضیح اس نظم میں پیش کی گئی ہے۔ صفیہ کے نزدیک جب عورت نے اپنے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کی تو ایسے میں پہلے ہی دن مردوں کی طرف سے لعن طعن شروع ہو گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت نے بدحواسی کے عالم میں آواز بلند کرنا چھوڑ دی۔ اور وہ خواتین جو کچھ لکھ پڑھ سکتی تھیں نے بھی ان نفرت اور تحقیر آمیز رویوں کو تحریر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عورت تاریخ سے غائب نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس وہ رومانوی کتب تصنیف کرنے میں لگی ہوتی ہے۔ اور کھانے پکانے میں مصروف ہے۔ اس نظم میں عورت کو بھی اس گمنامی کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے جو خود پیچھے رہی ہے اور اب تقاضا کرتی ہے کہ برابری کے حقوق کیوں نہیں مل رہے۔
اس موضوع یہ بھی پڑھیں: پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن
” نظم کا ابارشن”
یہ نظم ایسی عورت کا المیہ ہے جو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس کے خواب ہیں جو انہیں پورا کرنا چاہتی ہے مگر معاشرے میں ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو ایسی عورت کو آگے بڑھنے سے روکتے رہتے ہیں اور کبھی بھی اس کے خواب مکمل نہیں ہونے دیتے۔ اس طرح اندر ہی اندر کرب کی زہر ناکی جمع ہوتی رہتی ہے اور ایک لاوے کی شکل میں اکٹھی ہوتی رہتی ہے مگر باہر نہیں نکال سکتی۔ جب یہ عورت اپنی نا مکمل یا ادھوری خواہشات کو لیے گھر سے باہر اشیاء خوردونوش یا دیگر ضروریات کے لیے نکلتی ہے تو وہاں اسے اپنے جیسی بے شمار عورتیں نظر آتی ہیں بظاہر زندہ ہیں مگر زندہ لاشوں کی طرح بے خواب زندگی لیے بازار میں گھومتی رہتی ہیں۔ صفیہ حیات کی اس نظم میں لڑکیوں کا تذکرہ ہے جو بڑے خواب دیکھنے کے بعد معاشرتی رکاوٹوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔
” دروازہ پیٹتے بھسم ہوتے لوگ "
یہ نظم ان عورتوں کا المیہ ہے جو ذات، خاندان اور نام نہاد اقدار و رسومات کے بندھن میں اس قدر الجھی ہوئی ہیں کہ خود کسی بھی طرح انتہائی قدم اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتی ہیں۔ ان کو شروع ہی سے ان پابندیوں بارے بتا دیا جاتا ہے کہ آپ نے اس ماحول میں کیسے رہنا ہے اور مرتے دم تک انہی رسومات کی پیروی کرنی ہے۔ لیکن ان عورتوں کے مرد صرف مسجد، مندر تک جاتے ہیں، وہاں وعظ و نصیحت سن کر یوں ہی واپس آ جاتے ہیں مگر خواتین کے حقوق بارے کچھ بھی سیکھنا یا عمل کرنا انہیں نہیں آتا۔ اس طرح عورت ایک رسومات بھرے معاشرے میں قید ہو کر رہ جاتی ہے۔ ناصر عباس نیر عورت کی آزادی اور اس کے مساوی حقوق بارے ایک مضمون میں کہتے ہیں
” جدید اردو نظم میں عورت کے روایتی امیج کے پہلو بہ پہلو جدید امیج بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جدید نظم کی شعریات میں فرد کی فنی آزادی اور تجربے کی آزادی بہ طور اصول شامل ہیں۔ غالباً اسی اصول کے تحت جدید نظم میں تمثال کی نمود ممکن ہوتی ہے۔ ” (9)
اسی لیے صفیہ کے ہاں بھی نت نئے استعارے اور نت نئی علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ خواتین کے اجتماعی مسائل کا نوحہ پیش کرتی نظر آتی ہیں۔
” میں اس دور کا شکستہ استعارہ ہوں "
یہ نظم ورکنگ وومن کے اجتماعی کرب کا اظہار ہے جو گھر سے کام کے لیے دفتر جاتی ہے اور وہاں انہیں طرح طرح کے مسائل اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پر ہر وقت عجیب وغریب نظروں کا بوجھ ہوتا ہے جسے چار و ناچار برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دفتری مصروفیات کے بعد جب واپس آتی ہیں تو وہاں بھی سکون میسر نہیں ہوتا اور دفتر کے بقیہ کام یاد آ جاتے ہیں اور گھریلو ذمے داریوں کا الگ سے بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں عورت کی سماجی زندگی مسائل سے بھرپور ہوتی جاتی ہے اور پھر شوہر کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔
” موت کے گھونٹ پیتی لڑکی "
ایک ایسی خاتون کا قضیہ ہے جو گھریلو تشدد اور روزمرہ کے طعنوں سے تنگ آکر گھر سے بھاگ جاتی ہے اور راستے میں لوگ اسے دیکھ کے ہنستے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ کوئی بھی اس کے درد کو نہیں جانتا۔ وہ ننگے پاؤں دوڑتی ہے، لیکن کوئی اس کی داد رسی نہیں کرتا بلکہ الزامات اور بہتان تراشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح وہ مشکلات کو بھانپ کر بچوں کے لیے واپس آ جاتی ہے اور ساری عمر اسی بھاگ جانے کے طعنے سن کر گزار دیتی ہے۔ یہ ایک معاشرتی حالات سے سمجھوتا کرنے والی عورت کا المیہ ہے جو چاہ کر بھی مشکلات سے نکل نہیں سکتی۔
” درباروں میں پڑی حمل زدہ چادریں "
ان خواتین کا اجتماعی المیہ ہے جو درباری کلچر کی بھینٹ چڑھ کر عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ درباروں سے منسلک مجاور خواتین کا نوحہ ہے جو اپنے مسائل کے حل کے لیے وہاں جاتی ہیں اور پھر آبرو ریزی کا شکار ہو کر واپس آتی ہیں۔ یہ نظم منفرد اسلوب میں لپٹی ہے اور اس میں ان عناصر پر بھی گہرا طنز شامل ہے جو بظاہر تو عوام کی فلاح وبہبود کے مشہور ہوتے ہیں مگر درحقیقت عوام کا استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب یہی عوام یا بالخصوص عورتیں احتجاج کرتی ہیں تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر آواز دبا دی جاتی ہے۔ کشور ناہید کے بموجب ” خاموش رہنا، ظلم سہنا، صبر کرنا مشرقیت ہے۔ احتجاج کرنا، بغاوت کرنا، اعتراض کرنا، انکار کرنا مغربیت ہے۔ ” (10)
” عزت کے نام پر ابارشن”
ان خواتین کے مسائل پر لکھی گئی نظم ہے جو نام نہاد دارالامان میں جان بچانے اور عزت سے رہنے جاتی ہیں۔ مگر وہاں بھی انہیں جنسی درندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اس گھٹن زدہ ماحول سے چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی۔ وہ ہر آنے والے درندے سے یہی توقع رکھتی ہے کہ اب یہ میری مدد کرے گا اور مجھے یہاں سے باہر نکالے گا مگر یہ امید دم توڑ جاتی ہے اور وہ مخصوص ایام سے فارغ ہوتے ہی پھر سے جنسی مظالم کا شکار ہوجاتی ہے جہاں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ تاہم اس کے پاس لفظوں کا سہارا ہے تو اس نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ خود پر بیتے مظالم کو نظم کی شکل میں لکھ لیتی ہے اور اب یہ نظمیں کسی مشہور رسالے کو اشاعت کے لیے بھیجنے کو بھی اسے دارالامان کے کسی ملازم کو دو بوسوں کی رشوت دینی پڑتی ہے اور اس طرح نظم کی اشاعت میں کامیاب ٹھہرتی ہے۔ اور اب بے نام شاعرہ کی نظموں کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی ہے جو اس رسالے میں شائع ہو چکی ہیں ہ مگر پھر بھی اپنی رہائش یعنی دارالامان کا پتہ لکھنے سے ڈرتی ہے۔ ایک مکمل بے بسی کا اظہار اس نظم میں موجود ہے جو اس قدر مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے کہ نکلنا بہت مشکل نظر آتا ہے
جیلر، لڑکی اور نظم
ایسی لڑکی کا قصہ ہے جو نظم لکھنا جانتی ہے ہے اور ایسے کٹر قسم کے مرد سے شادی ہوتی ہے ہے جو کڑی پابندیاں اس لڑکی پر لگا دیتا ہے۔ اس طرح اس نئی نویلی دلہن پر پہلے ہی دن پابندی لگا دیتا ہے اس طرح وہ لڑکی جو اچھے مستقبل کے خواب لیے اپنے گھر سے نکلی تھی اس کو پہلے دن سے ہی پابندیوں کی قید میں جانا پڑتا ہے۔ اور نام نہاد مردانہ رعب و دبدبے کا سب سے پہلے دن ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نظم میں جیلر کا استعارہ ذرا سخت قسم کے روایتی خاوند کے لیے استعمال ہوا ہے اور قیدی لڑکی کا استعارہ بھی ابھی ایک شادی شدہ لڑکی کے متعلق ہے۔ جس کو شادی کے بعد ایک قیدی کی طرح پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ مجموعی طور پر ان تمام خواتین کا المیہ ہے جو چاروناچار اس قید میں زندگی گزار رہی ہیں
حسرت میں میں ملفوف ایام
اس نظم میں عورت کی ضروریات زندگی اور ورکنگ وومن کو درپیش مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے جو بچوں کے فی ووچر اور سردیوں کے یونیفارم کے لیے پریشان ہے۔ اس کے علاوہ مہینے میں تنخواہ دار عورت کے پیسوں کی تقسیم اور ماہوار بجٹ کے مسائل کا مکمل المیہ ہے۔ ایک ورکنگ وومن کو ان تمام مسائل سے گزرنا پڑتا ہے اور کم تنخواہ پر کس طرح گزارا کرنا پڑتا ہے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ان کو دفاتر میں میں استحصال کا شکار کیا جاتا ہے کبھی لون کی پرکشش سہولت کے پیچھے اور کبھی افسران بالا کو خوش رکھنے کے بہانے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
” ہوس اور بھوک "
ایک ایسی عورت کا کرب اس نظم میں شامل ہے جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھیڑیا نما انسانوں کا شکار رہتی ہے اور اپنی اس عزت کی نیلامی کے بدلے چند نوٹوں کے عوض راضی ہو جاتی ہے تاکہ بچوں کا دانہ پانی پورا کیا جائے۔ نظم کو الفاظ و تراکیب سے منفرد طنز کی شکل میں میں ڈالا گیا ہے کہ ہوس اور بھوک میں چند لمحوں کی رفاقت کا اظہار اس دردناک طریقے سے کیا گیا ہے کہ اس میں تمام کرب ناکی وضح ہو جاتی ہے۔
"کیل کی نوک پہ رقص”
ایک ایسی عورت کی کتھا ہے ہے جو مجبوریوں کی بھینٹ چڑھ کر رقص کرتی ہے۔ اور رقص سے محظوظ ہونے کیا سمجھیں کہ وہ تو کیل کی نوک پر رقص کر رہی ہے۔ اسے رقص کے دوران زبردستی ہنسنا پڑتا ہے اور یہ ہنسنا اس کے پاؤں کے زخم کو مزید گہرا کر دیتا ہے اور وہ اس مشکل سے چھٹکارا پانے میں ناکام رہتی ہے۔
” محبت سے خالی لباس”
ان لڑکیوں کا اجتماعی نوحہ ہے جنہیں سچی محبت اور عشق کے راگ سنا کر عزت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور انہیں ورغلا کر پہلے اپنی محبت کے دام میں پھنسا دیا جاتا ہے مگر جب اس کی عزت تار تار کردی جاتی ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ کر رابطے ختم کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمیشہ کے لیے مشکلات کا شکار رہتی ہے۔
” پان کی پیک پہ بیٹھی آوارگی”
ایک شاعرہ کی المناک زندگی کا قضیہ ہے کہ کس طرح وہ لوگ بھی اسے طعنے دیتے ہیں جو خود تنکا توڑنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ ایسی عورت پر آوازے کسیں گے جو اظہار کرنا جانتی ہے۔ اسے آوارہ کہیں گے، بدمزاج کہیں گے مگر خود کوئی کام نہیں کریں گے۔ اور آخر میں ایسی عورت کو قتل کرنے کی نوبت تک آ جاتی ہے۔ مردانہ نظام میں ایسی عورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فہمیدہ ریاض کے مطابق:
” اردو کا شاعر اور ادیب آنکھ ملا کر بات کرنے والی باشعور اور بااعتماد عورت سے ڈرتا ہے اور اسے طوائف کہتا ہے۔ ” (11)
یہاں مرد ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ عام لوگ بھی عورت کو اسی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں جو اپنے مسائل پر صدائے احتجاج بلند کرتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ کیسے ان کی منظور نظر ہو سکتی ہے۔
” جب فاحشہ کا لفظ ایجاد ہوا "
آسان الفاظ میں تحریر کی گئی نظم میں اس لفظ کے اندر چھپے درد کی نوعیت اور کیفیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ صفیہ یہ سمجھتی ہیں کہ جب کسی بھی گھریلو عورت کے لیے یہ لفظ پہلی بار استعمال ہوا ہوگا تو یقیناً اس نے دل ہی دل میں بددعا دی ہوگی۔ اور صفیہ اس معاشرے کے زوال کا سبب تلاش کرتی ہیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ یہی الفاظ جب عورت کے لیے کہے گئے ہیں تو اس نے بد دعا دی تھی تبھی اس معاشرے کا حال یہ ہوا ہے۔
” عورت کی تلاشی لینے والو”
صفیہ حیات نے اس نظم میں معاشرے کے اس دوغلے رویے کو طنز کا نشانہ بنایا ہے جو پڑھی لکھی اور باشعور عورت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور سمجھتا ہے کہ لازمی اس میں فحاشی اور بے حیائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اور مرد جو بظاہر عبادات کا چورن بیچتے نظر آتے ہیں حقیقت میں وہ خود اپنی فاحشہ عورتوں کے پاؤں چھونے کو بھی سعادت مندی سمجھتے ہیں۔
” حرف سے خالی خواب "
ان خواتین کے روز مرہ مسائل کا نوحہ ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے گھر سے نکلتی ہیں اور راستے میں طرح طرح کی بھیڑیا نما مردان کو لباس اور چال ڈھال سے فاحشہ سمجھ کر پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے عالم میں وہ لڑکی چیخ کر پتھر اٹھا کر مارنے سے بھی کتراتی ہے کہ یہی مرد انہیں فاحشہ قرار دیں گے اور اس کے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہ ہوگا۔
” اذن مانگتی عورت "
بغاوت پر مبنی نظم ہے کہ جب ایک مرد کو چار بار نکاح کی اجازت ہے تو عورت کیوں اس حق سے محروم کر دی گئی ہے اگر وہ ایسا مطالبہ کرتی بھی ہے تو ایسے میں طنز اورلعن طعن کیا جاتا ہے۔
” خالی بٹوا "
سماجی اور طبقاتی تقسیم کے المیے سے بھرپور نظم میں ان عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے جو غریبوں اور نچلے طبقے کا استحصال کرتے کرتے اپنا معیار زندگی بلند کرتے جاتے ہیں مگر ایک غریب گھر کی حالت کبھی نہیں بدلتی۔ ایسے میں ایک غریب گھر کی لڑکی جو ان جو نام نہاد گدی نشینوں اور پیروں کے زیر عتاب رہتی ہے اس کا حال کبھی نہیں بدل سکتا وہ اس طرح غربت کی چکی میں پستی رہتی ہے۔
” کائی میں لپٹی بیوہ "
ایسی عورت کا تجزیہ ہے جو غربت سے دوچار ہونے کے بعد گھر سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہے۔ اگر وہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو اسے طرح طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نت نئے الزامات اس کے کانوں سے ٹکراتے ہیں مگر وہ مجبور و بےکس کسی کا جواب نہیں دے سکتی۔
” نیم پلیٹ سے نام کھرچتی لڑکی "
ایسی عورت کی کہانی ہے جو شوہر کے تشدد اور ذہنی دباؤ سے تنگ آکر آخری فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ وہ اب اس سے جان چھڑانے کے جواز تلاش کر چکی ہے اور ایسے میں اپنے نام کے ساتھ منسلک اس کا نام ختم کرکے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
” گونگے بہرے دیوتا "
ایک عورت ہی اس کرب ناکی کا اظہار کر سکتی ہے۔ یہ ان خواتین کا قضیہ ہے جنہیں اجتماعی عصمت دری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے میں ان کی پکار پر دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ بھی ان کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ درندوں کو ہی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ برمی خواتین کی آبرو ریزی اور ان پر ہونے والے جسمانی تشدد کا ارتکاب کیا گیا ہے ان خواتین کے مسائل پر کوئی قانون، کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آتا مگر ایسے لگتا ہے جیسے سارے اندھے، بہرے ہو چکے ہوں اور انہیں کچھ دکھائی نہ دیتا ہو، کچھ سنائی نہ دیتا ہو۔ اس نظم میں ان خواتین کا درد بھی شامل ہے جو تقسیم کے وقت اجتماعی آبروریزی کا شکار ہوئیں اور کچھ تو موت کی وادی میں پہنچ گئیں۔ سعدیہ خلیل کے نزدیک :
” تقسیم ایک ایسا عمرانی حادثہ تھا جس کی وجہ سے اردو ادب کئی سالوں تک متاثر رہا، شعراء اور ادباء برس ہا برس کی تقسیم کے دلدوز حالات واقعات کی تصویر کشی کرتے رہے۔ اس حادثے میں سب سے زیادہ تذلیل کا نشانہ عورت کو بنایا گیا۔ ” (12)
” ہوا سے مکالمہ”
تانیثی رجحانات اور بغاوت پر مبنی افکار کی بھرپور ترجمانی کرتی اس نظم میں ایک عورت گھر سے بھاگنے اور اپنی پسند کے مرد سے شادی کرنے کو اپنا نصب العین شمار کرتی ہے اور فطرت سے بغاوت چاہتی ہے۔ یہ نظم اسلامی تہذیب و فکر سے مکمل کنارہ کشی کا اظہار ہے جو اسلامی معاشرے کا خاصا رہا ہے کہ عورت گھر میں رہے گی، بچے جنے گی، شوہر کی فرمانبرداری کرے گی اور اس طرح زندگی گزار دے گی مگر یہاں اس کی ترجمانی نہیں کی گئی بلکہ ان روایات سے بغاوت کی بو آتی ہے ہے۔
” الزاموں کی پوٹلی سے دوہری ہوتی ہوئی کمر”
ایسی نظم ہے جس میں مجازی خدا کی جانب سے بیوی پر لگنے والے پے در پے الزامات کی عکاسی ہے۔ اسے کوئی بھی کام کرنا ہو نت نیا الزام لگایا جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ آج تک میں نے کوئی سالن بھی بغیر الزام کے نہیں بنایا اور پھر بغیر الزام کے نیا جوڑا تک نہیں پہنا، یہاں تک کہ الزامات لگانے والے کی کمر دوہری ہو گئ ہے اور جس پر الزامات لگائے جارہے ہیں اس کے جسم کا کوئی حصہ اس سے خالی نہیں ہے کہ میں قبر میں بھی اگر جاؤں تو سیدھی طرح لیٹ بھی سکوں گی یا نہیں کیونکہ جسم میں جگہ جگہ الزامات کی کیلیں ٹھونک دی گئی ہیں۔
” عزت کس کنبے کی ماں ہے "
یہ نظم ان سماجی اور معاشرتی رسم و رواج سے بغاوت پر مبنی ہے جو کسی لڑکی کو جوان ہوتے ہی مختلف قسم کی پابندیوں میں جکڑ کر گھرداری کا درس دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے خواب پورے کر سکے۔ اسے تعلیم کے میدان میں جانے سے روکا جاتا ہے اس کی عزت اور بےعزتی کا معیار سیٹ کیا جاتا ہے مگر ایک پڑھی لکھی عورت ان سماجی اقدار کی پاسداری نہیں کرتی بلکہ ان سے بغاوت کرتی نظر آتی ہے۔ عورتوں کے استحصال پر مبنی نظم میں ان عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے جو عورت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔
” چڑیا کا پہلا خواب "
ایسی لڑکی کی روداد ہے جو اپنے پہلے خواب کی تکمیل میں گھر سے نکلتی ہے اور طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے راستے میں کہیں بھی پناہ نہیں ملتی وہ دور کسی ایسی جگہ پر پہنچ جاتی ہے جہاں اس کے خاندان، برادری والا کوئی آدمی نہیں ہوتا۔ اور جہاں وہ پناہ حاصل کرنے کے لیے رکتی ہے وہاں اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح جب وہ وہاں نکل کر واپس گھر پہنچتی ہے تو اسے مکمل پابندیوں کی زد میں ساری عمر گزارنی پڑتی ہے۔
” پیٹ کی لیپ ٹاپ ناچتی عورت "
اس عورت کی کیفیت کا اظہار ہے ہے جو اپنے اور بچوں کے پیٹ کی خاطر جسم فروشی جیسے دھندے میں ملوث ہو جاتی ہے اور پھر یہ سلسلہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس دوران اس کے جسم کا ایک ایک حصہ وحشی مرد نوچ کھاتے ہیں۔ لیکن صرف وہ جگہ بچتی ہے جہاں سے اس کے نومولود بچے نے دودھ پینا ہوتا ہے۔
” ماحصل "
صفیہ حیات نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہاں عورت کو جائیداد میں حصہ ملنا خاصا دشوار کام تھا تھا وہاں گھر سے باہر نکلتی کسی بھی عمر کی عورت کو ہر وقت ان گنت ہوس بھری آنکھوں کے بوجھ کا سامنا رہتا ہے وہاں تین سال کی بچی سے لے کر ساٹھ برس کی ضعیف العمر خاتون کو درندگی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وہاں کم سن لڑکیوں کی شادیاں اپنے سے تین گنا عمر میں بڑے شخص سے محض اس لیے کروا دی جاتی ہے کہ اس کا خاندان، نام، نسب اور دولت و جائیداد زیادہ ہے ہے۔ وہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین ان کہی داستانوں میں زندہ ہیں۔ وہاں لڑکی کی شادی قرآن پاک سے کر دینا بھی اسلام ہے وہاں جرگہ میں کاروکاری اور بےگناہی کے ثبوت مہیا کرنا انتہائی کٹھن کام ہے۔ وہاں گھریلو تشدد اور نان نفقہ کی کمی اور پابندی تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے جس نے اظہار کرنے یا احتجاج کرنے پر بھی کڑی سے کڑی سزا دی جاتی ہے۔ وہاں ورکنگ وومن اور طالبات کو جس طرح ہراساں کیا جاتا ہے وہ ایک مکمل باب ہے۔ ایسے میں ایک پڑھی لکھی اور باشعور عورت کس طرح چپ رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صفیہ حیات میں ان تمام معاشرتی رسوم و رواج کو زبان دی اور نثری نظموں کے پیرائے میں ان کا اظہار کیا ہے۔ آپ کے ہاں ان تمام مسائل کا مکمل ادراک اور اظہار موجود ہے جو پاکستانی معاشرے میں نچلے طبقے کی عورت کو روزمرہ بنیادوں پر سامنا کرنا پڑتے ہیں۔ ایسی عورت کو ان جرائم کی سمجھ بوجھ زیادہ ہوتی ہے جو خواتین سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں ان کا اظہار استعاروں، علامتوں کے ذریعے سامنے آیا ہے اور ایک شاندار اسلوب میں رچے بسے الفاظ کا مجموعہ ہے۔ عورتوں کے گھریلو مسائل ہوں یا دفتر میں کام کرتی کسی خاتون کے، صفیہ نے انہیں زبان دے کر دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل
حوالہ جات
1۔ دیوند راسر، تانیثیت چند پہلو، مشمولہ تانیثیت اور ادب، مرتبہ انور پاشا، عرشیہ پبلیکیشنر، دہلی، 1990ء، ص۔ 70
2۔ وہاب اشرفی، پروفیسر، مابعد جدیدیت اور تانیثیت، ایضاً، ص۔ 33
3۔ قاسم یعقوب، ڈاکٹر، تانیثیت اور تانیثی تھیوری، ، مشمولہ لفظ اور تنقید معنی، پورب اکادمی، اسلام آباد، 2017ء، ص۔ 24
4۔ نسرین انجم بھٹی، چند سوال، مشمولہ ادب کی نسائی رد تشکیل، مرتبہ فہمیدہ ریاض، وعدہ کتاب گھر، کراچی، 2006 ء، ص۔ 103
5۔ صغریٰ مہدی، اردو ادب میں خواتین کے مسائل، مشمولہ اردو ادب کو خواتین کی دین، اردو اکادمی، دہلی، 1994ء، ص۔ 193
6۔ علی احمد فاطمی، تحریک نسواں اور اردو ادب، مشمولہ ایضاً، ص۔ 148
7۔ قاسم یعقوب، شاعرات کی اردو نظموں میں تانیثی رجحانات، مشمولہ لفظ اور تنقید معنی، پورب اکادمی، اسلام آباد، 2017ء، ص۔ 32
8۔ فہمیدہ ریاض، رد تشکیل آخر کیوں؟، مشمولہ ادب کی نسائی رد تشکیل، مرتبہ فہمیدہ ریاض، وعدہ کتاب گھر، 2006ء، ص۔ 12 تا 13
9۔ ناصر عباس نیر، تانیثیت اور جدید اردو نظم، مشمولہ تانیثیت اور اردو ادب، مرتبہ انور پاشا، عرشیہ پبلیکیشنر، دہلی، 1995ء، ص۔ 136. sandra bullock nude
10۔ کشور ناہید، ادب اور نسائیت، مشمولہ خاموشی کی آواز، مرتبہ فاطمہ حسن/آصف فرخی، طبع دوم، انجمن ترقی اردو، کراچی، جون 2018ء، ص۔ 25
11۔ نسرین انجم بھٹی، چند سوال، مشمولہ ادب کی نسائی رد تشکیل، مرتبہ فہمیدہ ریاض، وعدہ کتاب گھر، کراچی، 2006ء، ص۔ 106
12۔ سعدیہ خلیل، عورت مرد ناول نگار کی نظر میں، ایضاً، ص۔ 154
کتابیات :
صفیہ حیات، ہوا سے مکالمہ، سانجھ پبلیکیشنز، لاہور، 2019ء
انور پاشا (مرتب)، تانیثیت اور اردو ادب، عرشیہ پبلیکیشنر، دہلی، 1995ء
فہمیدہ ریاض (مرتب)، ادب کی نسائی رد تشکیل، وعدہ کتاب گھر، کراچی، 2006ء
آصف فرخی/فاطمہ حسن (مراتب)، خاموشی کی آواز، طبع دوم، انجمن ترقی پسند اردو، کراچی، 2018ء
اردو ادب کو خواتین کی دین، ناشر : اردو اکادمی، دہلی، 1994ء،
قاسم یعقوب، لفظ اور تنقید معنی، پورب اکادمی، اسلام آباد، 2017ء
