تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

 جدید تنقید میں ابو الکلام قاسمی کی انفرادیت —— معراج رعنا

by دانش ڈیسک 02/02/2022
written by دانش ڈیسک 02/02/2022
200

آج سے تقریبا ستر برس قبل ایذرا پاونڈ نے اپنے ایک اہم مضمون میں ایک خراب نقاد کی نشان دہی کی تھی۔ اس کے الفاظ ہیں:

You can spot the bad critic who, he starts discussing the poet and not the poem

پونڈ کی اس بات کا اطلاق بظاہر شاعری کے نقاد پر ہوتا ہے، اور فکشن یا غیر فکشن کے ناقدین اس دائرہ کار سے باہر نظر آتے ہیں۔ فکشن یا غیر فکشن کے ناقدین اس دائرہ کار سے سے باہر نظر آتے ہیں۔فکیشن یا غیر فکشن کے نقادوں کے متعلق پونڈ کے خیالات کیا رہے ہیں؟ اس کی وضاحت کیے بغیر یہاں کہنا صرف یہ ہے کہ اس کے مذکورہ جملے میں شاعر کی جگہ مصنف اور نظم کی جگہ تحریر کے الفاظ رکھ دیے جائیں تو شاعری اور فکشن کے کے نقادوں کے بیچ کی تخصیص معدوم ہو جاتی ہے اور اس کا یہ وسیع جملہ مزید وسیع ترین ہوجاتا ہے۔ پونڈ کے اس جملے سے براہِ راست اچھے کی کوئی تعریف متعین نہیں ہوتی البتہ نقاد کی تعریف متعین کرنے والے اشاروں کی نشان دہی ضرور ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ اس کے نزدیک ہر وہ نقاد قابلِ احترام ہے جو کسی شاعر یا ادیب کی شخصیت سے قطع نظر اس کے کلام یا فن پارے کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے اور اس کے ھسن و قبح کو نمایاں کرے۔ وہ نقاد سے یہ توقع بھی کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کے اقداری فیصلےصادر کرنے پر بھی قادر ہو۔ دیکھا جائے تو پونڈ کے اس نقالاب آفریں تصور کا سلسلہ کچھ حد تک روسی ہیئت پسندی اور بڑی حد تک امریکی نئی تنقید کے تنقیدی افکار سے ملتا ہے۔ نئی تنقید سے قبل مغرب کے ادبی منظر نامے پر رومانی تصور ت و اعتقادات کا غلبہ نظر آتا ہے۔ رومانی تصورِ نقد میں فن پارے سے زیادہ فنکار کو اہمیت حاصل تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نئی تنقید کے اصل جدِ امجد آئی۔ اے۔ ریچرڈز نے اپنی کتاب عملی تنقید میں شاعروں کے نام مخفی رکھ کر ان کی نظموں کے تجزیے کی بنیاد رکھی تاکہ شخصی حوالوں کو منہا کر کے کسی بہتر نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ دیکھا جائے تو شکلووسکی سے لےکر الیٹ تک ناقدین کی ایک زنجیر نظر آتی ہے جن کے تنقیدی نظریات سے اتفاق بھی کیا جاسکتا ہے اور اختلاف بھی۔ لیکن متن کو متن کے حوالے سے جانچنے، پرکھنے اور تعین قدر کے نظریے سے اختلاف کی گنجائش ممکن نہیں۔ خیال رہے کہ متن کو متن کے حوالے سے جانچنے کا نظریہ ان تمام ناقدین کے یہاں مشترکہ طور پر پایا جاتا ہے۔ لہذا نئی تنقید کو متنی تنقید کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ بیسویں صدی کے ادبی تناظر میں نئی تنقید کے کارہائے نمایاں کو اس اعتبار سے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے اثرات نہ صرف یہ کہ مغربی شعر و ادب پر مرتب ہوئے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کے ادب بھی اس کے حلقئہ اثر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ہماری تنقید بھی اس سے مستثنٰی نہیں رہی۔ اردو تنقید کی تاریخ میں نئی تنقید کی روایت گو مختصر ہونے کے باوجود بھی اپنی پائداری اور استھکام کی ثال آپ ہے۔ اردو کی نئی تنقید نے بھی کم و بیش اسی نقطئہ نظر کو پیش کیا جو مغرب میں رائج تھے۔ یعنی یہ کہ ادب کو رومانی رویوں کی بے اعتدالیوں اور مارکسی نظریوں کی کی جکڑ بندیوں سے آزاد کرانا اس کا نصب العین ٹھہرا۔ ہر قسم کے نظریوں کی تردید کی گئی۔ متن کی مرکزیت قائم ہوئی۔ اظہار و بیان کے لسانی پیرایوں پر زور دیا گیا۔ بین العلومی طریقِ کار اپنائے گئے۔ تجزیات و تشریحات کے ضمن میں قرات اور لہجے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی۔ اردو کی نئی تنقید کو فروغ دینے والوں محمد حسن عسکری، کلیم الدین احمد، آلِ احمد سرور، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارگ، شمیم حنفی کے بعد جن ذہین ناقدین کا ذکر آتا ہے ان میں ایک معتبر نام ابوالکلام قاسمی کا ہے۔

ابوالکلام قاسمی کا ادبی کارنامہ گزشتہ تیس برسوں کے طول و عرض پر محیط ہے۔ ‘تخلیقی تجربی’ ‘مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت’ اور ‘شاعری کی تنقید’ ان کی تحریروں کے وہ مقبول مجموعے ہیں جن کے مطالعے سے نہ صرف یہ کہ ان کی بھرپور ناقدانہ بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کے اعلی ادبی و شعری ذوق اور جمالیاتی قدروں کے شعور کا بھی پتہ چلتا ہے۔ان کے ذہنی افق میں جو رفعت و وسعت پائی جاتی ہے وہ مغرب و مشرق کے قدیم و جدید ادب، اس کے تخلیقی رجحانات و میلانات سے ان کی گہری وابستگی کا نتیجہ ہے۔ ان کے تنقیدی دائرہ کار ادب کی کسی خاص صنف تک محدود نہیں۔ شاعری ہو یا فکشن، تنقید ہو یا تحقیق، ان کی تنقیدات کے مواد و موضوع رہے ہیں، اور ان تمام موضوعات سے متعلق متون کو بنیاد بنا کر انھوں نے عملی تنقید کی قابلِ رشک مثالیں پیش کی ہیں۔ جس سے ان کے تنقیدی شعور میں پائے جانے والے تنوعات اور ہمہ گیریت کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہ بات طے ہو جانے کے بعد کہ ابو الکلام قاسمی کے تنقیدی شعور کا براہِ راست تعلق اردو کی نئی تنقید اور اس کے سرچشمئہ فکر سے ہے، ضروری ہے کہ ان کے تنقیدی امتیازات کی وضاحت کی جائے۔کسی نقاد کے امتیازات کی بہت ساری بنیادیں ہو سکتی ہیں لیکن ان میں سب سے مضبوط بنیاد طریقِ کار کی ہوتی ہے۔جب طریقِ کار کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد صرف متن کا مطالعہ اور اس کی تشریحات نہیں بلکہ پوشیدہ کیفیتوں کے انکشاف اور معنی نما کی دریافت سے ہے۔ نقاد کے تاریخی و مذہبی شعور بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ یہی وہ عناصر ہین جن کی مشترکہ کارکردگی سے ایک نقاد کی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔ اور اسی انفرادیت کی بنا پر اس کے تنقیدی امتیازات متعین ہوتے ہیں۔ یہاں یہ کہنے میں کسی نوع کا کوئی تامل نہیں کہ معاصر تنقید میں ابو الکلام قاسمی کی تنقیدی انفرادیت مسلم ہے۔ "میرا تنقیدی موقف” کے عنوان سے انھوں نے جن بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے ان کے تنقیدی طریقِ کار کو سمجھنے میں خاسی مدد ملتی ہے:

تنقیدی تصورات، خواہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے، میری دلچسپی کا محور رہے ہیں۔ ان تصورات کو تقریبا سو سال کے عرسے میں اردو کے نمائندہ نقادوں نے جس طرح تنقیدی معیار و پیمانہ بنانے کا عمل جاری رکھا، ان کو مختلف جہات سے دیکھنا، پرکھنا اور کھرے کھوٹے کی تفریق کرنا میرا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ تاہم کوئی تنقیدی رویہ میرے لیے اس وقت تک قابلِ قبول نہیں بن پاتا جب تک شعری متن کے براہِ راست مطالعے نے اس کی توثیق نہ کر دی ہو چنانچہ میرے لیے تنقید نگار کا منصب بنیادی طور پر ایک ایسے باذوق قاری کا منصب ہے جو شاعرانہ تدبیر کاری سے باخبر ہونے کے باوجود شاعری کی بھرپور تفہیم، تحسین اور جمالیاتی قدروں کے تعین کے عمل سے سب سے پہلے گزرنا چاہتا ہے

مندجہ بالا سطور کی روشنی میں یہ باتیں بہ آسانی کہی جا سکتی ہیں کہ ان کے یہاں متن کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ جس کے معنوی تعین کے لیے وہ ہر قسم کے تنقیدی تصورات کو بروئے کار لانے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان سے متن کے تجزیاتی عمل میں معانی و مفاہیم کی نئی جہتیں سامنے آئیں یا ان سے نئی معنویت کے انگیز ہونے کے امکانات پیدا ہو سکیں۔ مطلب یہ کہ ان کے یہاں ہر اس نظریے کی پاسداری ملتی ہےجس سے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متن کی نت نئی تعبیریں پیش کی جا سکیں۔انھیں نظریوں کی کوری تقلید پسند نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ کسی شعر یا تخلیق کی معنوی عظمت کا تعین محض فنی تدابیر کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ اس لیے نقاد کو چاہئیے کہ وہ دورانِ نقد ان کیفیات و احساسات کو بھی اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرے جو شعر یا تخلیق کے اندرون میں جاری و ساری ہوتے ہیں۔ شاعری یا کسی تخلیق کے اظہاری نظام تک رسائی حاصل کرنا مشکل کام ہے۔ اور جو محض فنی تدابیر سے ممکن نہیں۔ عام طور پر تشبیہ، استعارہ، کنایہ، علامت اور پیکر وغیرہ کسی شعری بیان کو تہہ دار بناتے ہیں لیکن اس میں بعض ایسی کیفیتیں بھی پوشیدہ ہوتی ہیں جو استعاروں، علامتوں اور پیکروں کے توسط سے نمایاں نہیں ہوسکتیں۔۔ ایسی کیفیتیں اسی وقت انگیز کی جاسکتی ہیں۔ جب نقاد اپنے غائر مطالعے کے دوران شعری وسائل پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان معاملات و نکات سے بھی پوری طرح باخبر ہو جو کسی نہ کسی اعتبار سے متن سے متعلق ہوتے ہیں اور جن پر نگاہیں مرکوز کرنا آسان نہیں ہوتا۔

جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ ابوالکلام قاسمی کی تنقید میں زیادہ زور متن سازی کے عوامل، اس کے لفظی نظام اور اس کے معنوی بند و بست پر ہوتا ہے تو سوال اٹھ سکتا ہے کہ آخر انہیں بنیادوں پر ان کی تنقیدی انفرادیت کے تعین کا عمل کس حد تک مناسب ہے؟ کیوں کہ یہ سارے طریقِ کار نئی تنقید کے بیش تر ناقدین کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ نئی تنقید کے نمائندہ نقادوں کے یہاں یہ طریقِ کار موجود ہے۔ یہاں جو سوال ابوالکلام قاسمی کے تعلق سے اٹھایا گیا ہے ٹھیک وہی سوال انگریزی کے نئے نقادوں کے متعلق بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ جس کا آسان سا جواب ان کی نظریہ سازی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ انگریزی کے بیش تر نمائندہ نقاد نظریہ سازی کی صفت سے متصف نظر آتے ہیں۔ لیکن اس سے اختلاف ضرور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تنقیدی انفرادیت طریقِ کار میں نہیں نظریہ سازی میں پوشیدہ ہے۔ مثلا ریچرڈز نے چہار معنی کے تسور کو پیش کیا وہیں ولیم ایمپسن نے ابہام کی سات قسمیں کا نظریہ پیش کر کے ریچرڈز کے تصورِ معنی کو آگے بڑھایا۔ یہاں الیٹ کا حوالہ بھی ناگزیر ہے جس نے اپنی تنقید میں شخصیت سے فرار کا نظریہ اور روایت سے آگہی کا تصور پیش پیش کیا جس کی آواز آج کے جدید ترین تنقیدی تصورِ بین المتونیت میں سنائی دیتی ہے۔ ان نظریوں کے بارے میں دو باتیں بالکل صاف ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ان نظریات کو نئی تنقید کے بنیادی طریقِ کار سے علٰحدہ نہیں کیا جاسکتا یعنی یہ کہ جب تک یہ تنقیدی آلئہ کار کا حصہ نہیں بنتے اس وقت تک ان سے متن کی افہام و تفہیم کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ دوسری یہ کہ یہ سارے نظریے انفرادی ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں۔ جس سے ان کی بنیادی ساخت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان نظریوں کے ارتقا کا سلسلہ اتنا دراز ہے کہ وہ افلاطون اور ارسطو سے جا ملتا ہے۔ تنقیدی طریقِ کار کی یکسانیت کے باوجود کیا نئے نقادوں کی انفرادیت سے انکار کیا جاسکتا ہے؟ ریچرڈز ہوں یا ایمپسن، کلیم الدین احمد ہوں یا محمد حسن عسکری، شمس الرحمن فاروقی ہوں یا گوپی چند نارنگ، شمیم حنفی ہوں یا ابو الکلام قاسمی، ہر ایک کے یہاں تنقید کے بنیادی آلات ایک ہیں لیکن ان کے استعمال کے طریقوں میں واضح تفریق پائی جاتی ہے جو نہ صرف یہ کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے بلکہ اسی سے ان کی انفرادیت کا تعین بھی ہوتا ہے۔ مثلا:

As flies to wanton boys, are we to the gods For their sport,

دانتے کی ایک نظم سے شیکسپیر کے مذکورہ مصروں کا تقابل کرنے کے بعد الیٹ لکھتا ہے:

It is equally great poetry, though the philosophy Behind it is not great. But the essential is that each expresses, in perfect language, some permanent human impulse. Emotionally, the latter is just as true and just as useful and beneficial in the sense in which poetry is useful, as the former. sydney sweeney republican

یہاں الیٹ دونوں شاعروں کی نظموں کو اس لیے عظیم المر تبت قرار نہیں دیتا کہ ایک کے یہاں فلسفہ تو دوسرے کے یہاں انسانی تجربہ اپنی صداقت کے ساتھ موجود ہے بلکہ اس لیے کہ دونوں کے یہاں اظہار و بیان کی وہ قوت موجود ہے جو زبان کے خلاقانہ استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ دانتے کی شاعری کی فلسفیانہ بنیادیں اپنی جگہ لیکن اگر وہ زبان کے حسن سے محروم ہوتی تو شائد الیٹ کے لیے قابلِ احترام نہ ہوتی۔ یہی واقعہ شیکسپیر کے ساتھ بھی پیش آسکتا تھا اگر وہ فلسفے کے عین مطابق شاعری کرتا۔ چونکہ الیٹ کا شمار نظریہ سازوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے نظریئہ غیر ژخصی جذبات کی روشنی میں دانتے کی نظم کے مقابلے میں شیکسپیر کی نظم کو زیادہ موئثر ثابت کرتا ہے۔ وہ شیکسپیر کے متعلق یہاں تک پیش گوئی کرتا ہے:

If Shakespeare had written according to a better philosophy; he would have been written worse poetry.

جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے یہاں فلسفے کی قدر و منزلت کیا ہے۔ وہ فلسفے کا منکر تو نہیں لیکن یہ سچائی بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ فلسفے کی تخلیقی عظمت کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ تخلیق یا شاعری کے منصب پر فائز نہ ہوجائے۔دیکھا جائے تو الیٹ کے یہاں متن سازی کے عوامل اور اس کے لفظی نظام نیز معنی کے انکشاف کی وہی تدبیریں موجود ہیں جو نئی تنقید کی تدبیریں کہلاتی ہیں۔ اقبال کے لفظیاتی نظام سے بحث کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں

حقیقت یہ ہے کہ شاعری زبان کی وہ کیفیت ہے جس میں اسے مخصوص شدت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

یعنی یہ کہ ان کے نزدیک شاعری کیفیت کا نام ہےجو ہمیشہ زبان کی رہینِ منت ہوتی ہے۔ لیکن مخصوص شدت کی شرط عاید کر کے وہ زبان کے استعمال کی حد بندی بھی کر دیتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وہ لفظوں کا مطالعہ متنی اکائی کے باہر نہیں کرتے۔ اقبال کا لفظیاتی نظام اس کی عمدہ مثال ہے۔ جہاں مطالعئہ الفاظ کے دوران وہ زرہ برابر بھی متنی اکائی سے باہر نہیں گئے ہیں البتہ شعرِ شور انگیز میں انھوں نے بعض لفظوں کو شعری متن سے الگ کر کے دیکھنے کی کوشش کی ہے لیکن عام طور پر وہ ایسا نہیں کرتے۔

ابو الکلام قاسمی کی تنقید میں بھی مطالعہ الفاظ کے معاملے میں وہ کسی بندھے ٹکے اصول کی پیروی نہیں کرتے۔ اس لیے ان کے یہاں لفظوں کو جانچنے اور پرکھنے کے کسی مخصوص نظریے کی تصدیق نہیں ہوتی۔شعری متن کے تجزیاتی اور تشریحاتی عمل میں وہ جہاں لفظوں کو عصری تناظر میں رکھ کر دیکھتے ہیں وہیں ان کی نظر لفظوں کے تہذیبی و تاریخی سیاق و سباق پر بھی ہوتی ہے۔ لفظوں کے رسومیاتی برتاو یعنی ان کی معنوی روایت سے وہ اس وقت تک رجوع نہیں کرتے جب تک کہ تعبیرِ متن کے دوران ایسا کرنے کی ضرورت نہ پیش۔ مثلا خسرو کی غزلیہ شاعری کی حرکیات کو نشان زد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ان کی غزل اپنے پیرئیہ اظہار کے اعتبار سے فعالیت، حرکت اور محرک قوتوں کی کشمکش کا ایسا تاثر قائم کرتی ہے جس کی تشکیل میں استعارہ سازی، پیکر تراشی اور قولِ محال کی موجودگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ محبوب کی بلند قامتی کو سرو کے استعارے سے بیان کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ سرو بلند قامتی کی نمائندگی ضرور کرتا ہے مگر یہ استعارہ حرکت یا نقلِ مکانی کو قبول نہیں کرتا۔ اس کے بر خلاف خسرو کے استعارے کو اپنی روایت سے قبول کر لیتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ کسی نہ کسی صفت کا اضافہ بھی کر دیتے ہیں اور یہ صفت ایسی ہوتی ہے جو حرکت کو بھی قبول کر تی ہے اور نقلِ مکانی کو بھی

مذکورہ اقتباس کی روشنی میں یہ بات بہ آسانی سمجھی اور سمجھائی جاسکتی ہے کہ وہ پہلے لفظ کو لفظ کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں پھر ان کے روایتی ارتباط کی تلاش کے بعد انھیں استعارے، علامت، پیکر وغیرہ سے منسلک کر کے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سے شعر کے معنیاتی نظام میں کتنی وسعت و گہرائی پیدا ہوتی ہے۔انھوں نے جہاں خسرو کی غزلیہ شاعری کی محرک قوت کو کلاسیکی روایت سے وابستہ کر کے اس کے سبب کی وضاحت کی ہے وہیں اس کی تحرکی صفت کے اجتہادی نکتے کو بھی دریافت کیا ہے جو ان کے ان کی غیر معمولی باریک بینی کا حیرت انگیز نتیجہ ہے۔ ٰیہاں چونکہ انھوں نے شعر کے تحرکی پہلو کو معرضِ بحث میں لانے کی کوشش کی ہے اس لیے ان ہی استعاروں کو مرکزِ مطالعہ بنایا ہےجو دو خود مختار لفظوں سے مرکب ہوتے ہیں۔، اور جن سے شعری سطح پر حرکی پیکر خلق ہوتا ہے۔اپنی بات کی حمایت میں انھوں نے خسرو کے جن اشعار کی مثالیں پیش کی ہیں ان میں استعمال ہونے والے سرو رواں اور سرو خرامندہ جیسے الفاظ کو فعال استعاروں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ جس سے شعری منظر نامے کی فعالیت اجاگر ہوتی ہے۔ انھوں نے خسرو کے بعض ایسے اشعار کو بھی موضوع گفتگو بنایا ہے جن میں ایک خاص قسم کا ستعاراتی نظام، جو معنی آفرینی کا سر چشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاص نوع کی کیفیت کی تجسیم کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ آہوانِ صحرا اور رخشِ زمانہ جیسے مرکب استعاروں سے کے تعلق سے اٹھائی گئی ان کی منطقی بحث سے جہاں خسرو کی شاعری کا حرکیاتی گوشہ سامنے آتا ہے وہیں لفظوں کو جانچنے اور پرکھنے کے ان کے تنقیدی رویے کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔

نئی تنقید ادبی فن پارے کی معنویت پر جس طرح اصرار کرتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ شعری متن کی کثیر المعنویت کے انکشاف کے لیے وہ جن تدابیر کو بروئے کار لاتی ہے، ان میں لہجے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یوں تو مشرقی تصورِ نقد میں خصوصا عربی اور سنسکرت میں قرات اور لہجے کی وضاحت ملتی ہے۔ خود اردو کی تذکراتی تنقید میں بھی اس کے ایک آدھ اشارے مل جاتے ہیں۔ لیکن وہ نئی تنقید ہی ہے جہاں اسے ایک اصول کے طور پر اپنانے کے عملی شواہد ملتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اسٹنلے فش نے قرات کے جس تصور کو عام کرنے کی کوشش کی اور متن کی جگہ قاری کو رکھ کر معانی کے انکشاف کی جو جرات مندانہ پیش رفت کی وہ بظاہر نئی اور انقلابی معلوم ہوتی ہے جو در اصل نئی ہے اور نہ انقلابی کیوں کہ نئی تنقید میں متن کو پڑھنے، سمجھنے اور ان کی تعبیرات پیش کرنے کے تصورات کی وضاحتیں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ فش کے تصورِ قاری میں اتنی کشش ضرور ہے کہ اس میں معنی کی مرکزیت کو چیلنج کیا گیا ہے، اور متن کی بجائے قاری اور اس کی قرات کو معنی کا اصل سر چشمہ قرار دیا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو اس امر کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ یہ سارے معاملات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ نئی تنقید ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس سے نئی تنقید کی ہمہ گیریت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ابو الکلام قاسمی کے یہاں بھی معانی کے انکشاف میں لہجے اور قرات سے حسبِ ضرورت کام لیا گیا ہے۔ شعری متون کی جانچ پرکھ میں وہ جہاں مختلف وسائل بروئے کار لاتے ہیں وہیں لہجے کے توسط سے نئے معنی دریافت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ شعری متن کے تجزیاتی عمل میں ان کی یہ کوشش کہیں نہ کہیں ضرور نمایاں ہو جاتی ہے۔ البتہ غالب کی شاعری کی قدر و قیمت کے تعین میں ان یہ کوشش اپنے نقطئہ عروج پر نظر آتی ہے۔۔ شعری لہجےاور قرات کی نیاد پر انھوں نے غالب کی شاعری کے معنوی جہان کو جس طور پر دریافت کیا ہے، معاصر تنقید میں اس کی مثال کم ملتی ہے۔ اردو کا شائد ہی کوئی شاعر ایسا ہو جسے غالب کی طرح مختلف تنقیدی معیارات اور تنقیدی پیمانوں پر جانچنے کی سعی کی گئی ہو۔

ابو الکلام قاسمی کو اس اعتبار سے اولیت حاصل ہے کہ انھوں نے باقاعدہ شعری لہجے کی بنیاد پر غالب کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا یہ تنقیدی مطالعہ روایتی مطالعے سے یکسر مختلف ہے کیوں کہ اس میں یہ بات پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ لہجے کے وسیلے سے شعر کے عام یا مروج معنی کس طرح نئے معنی میں منقلب ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ لسانی پیرایوں، صوتی آہنگوں اور نحویات کے وہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو براہِ راست شعری لہجے سے متعلق ہوتے ہین۔ یہ وہ پہلو ہیں جو شعر مین معنی کے معنی کی تشکیل کرتے ہیں۔ غالب کے یہاں ان تمام پہلوو ں کو شعری لہجے کے سیاق و سباق میں دیکھنے اور دکھانے کے مشکل ترین کام کو جس ہنر مندی، مشاقی اور خوش اسلوبی سے ابو الکلام قاسمی نے انجام دیا ہے اس کی مثال اردو کے کم ناقدین کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ انھوں نے غالب کی شاعری میں لہجے کے تنوع کا ذکر کرتے ہوئے جس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اشبو س کا براہِ راست تعلق نظامِ اظہار سے ہے۔ نظامِ اظہار سے مراد شعر میں لفظوں کی مخصوص ترتیب سے ہے۔ جو شاعر کی انفرادی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مثلاََ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ قولِ محال اور تعقیدِ لفظی کے استعمال سے شعر میں معنوی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ غالب کے یہاں ایسے متعدد اشعار موجود ہیں جو قولِ محال اور تعقیدِ لفظی کی نمائنگی کرتی ہیں۔ ابو الکلام قاسمی ان اشعار سے بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ معنوی تعینات لہجے کے تعین کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ یہ بات بھی ثابت کرتے ہیں کہ قول محال اور تعقید لفطی سے شعری لہجے کی تشکیل ہعتی ہے۔ جو طنزیہ بھی ہو سکتا ہے اور ڈرامائی بھی اور استفہامیہ بھی۔ غالب کے یہاں ان تینوں غالب لہجوں کی تشکیل و تعمیر میں قول محال اور تعقید لفظی کی غیر معمولی کار کردگی کو طشت از بام کرکے انھوں نے غالب تنقید میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے جو فکر انگیز بھی ہے اور بحث طلب بھی۔

یہ بات پہلے بھی بیان کی جاچکی ہے کہ ابو الکلام قاسمی کی تنقید میں متن سازی پر خاس توجہ دی جاتی ہے۔ جس کی توثیق ان کی کتابوں کے دیباچوں سے بھی ہوتی ہے اور ان تحریروں سے بھی جو شاعری کی تنقید سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے تنقیدی موقف کو کسی بھی اعتبار سے خیالی نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ ان سے براہِ راست اور بعض اوقات بالواسطہ طور پر تنقید کے مجہول تصورات مسترد ہوتے ہین۔ مثلا وہ یہ کہنے پر قطعی اکتفا نہیں کرتے کہ فلاں شاعری بڑی ہے اور فلاں شاعری چھوٹی۔ جب وہ یہ کہتے ہیں تو بڑی اور چھوٹی شاعری کے تمام خصائص ان کے پیشِ نظر ہوتے ہیں۔جنہیں شعری متن کے سیاق و سباق میں دریافت کرنے کے بعد ہی وہ کسی فیصلے تک پہنچتے ہیں۔ وہ فیصلے جو جزباتی کم اور اقداری زیادہ ہوتے ہیں۔

الیٹ کی یہ رائے نصف صدی گزجانے کے بعد بھی قابلِ اتباع معلوم ہوتی ہے:

Comparison and analysis are the chief tools of The critic. It is obvious indeed that they are tools, to be handled with care… you must know what to compare and what to analyse.

الیٹ کی یہ رائے اس لیے اہم نہیں کہ اس میں تقابل اور تجزیے کو رو بہ عمل لانے پر اصرار کیا گیا ہے بلکہ اس میں ایک بڑی حقیقت کا اشاراتی بیان بھی موجود ہے۔ جو تنقید کے تجزیاتی اور تقابلی عمل میں پائی جانے والی حسیت اور توزن سے عبارت ہے۔ دیکھا جائے تو اوسط درجے کی تنقیدی تحریروں میں بھی تقابلی طریقِ کار کی مثالیں مل جاتی ہیں لیکن ان میں وہ شعور نہیں ملتا جو ضروری اور غیر جروری تفصیلات میں فرق کر سکے۔ ابو الکلام قاسمی کی تجزیاتی تحریروں کا مطالعہ الیٹ کے مذکورہ اقتباس کے حوالے سے کیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ ان میں نہ صرف یہ کہ تقابل اور تجزیے سے حسبِ ضرورت کام لیا گیا ہے بلکہ ضروری اور غیر ضروری تفصیلات میں امتیاز کرنے کا واضح شعور بھی موجود ہے۔ مچلا زیب غوری کی غزل کے دوسرے شعر میں جنگل اور درویش کے استعاروں سے متعلق جن تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے، ان میں مناسب ہم آہنگی نمایاں ہے۔ اگر ان تفصیلات کو منہا کر دیا جائے تو وہ منظر نامہ بھی غائب ہو جاتا ہے جو شعر میں معنی کی تخلیق کا ذریعہ بھی ہے اور احساس کی تجسیم کا وسیلہ بھی۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈجی کھاتا -Digi Khata- چھوٹے کاروباروں کیلئے کیوں فائدہ مند ہے
next post
تانیثیت کے بنیادی مباحث اور ” ہوا سے مکالمہ ” میں تانیثی رجحانات —- شاہد شوق

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.