تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

جب ہم تاریخ کے روزن سے جھانکتے ہیں ——– قاسم یعقوب

by دانش ڈیسک 12/01/2022
written by دانش ڈیسک 12/01/2022
415

عام طور پر تاریخ کو ماضی کے واقعات کا مجموعہ قرارد دیا جاتا ہے جس میں سماجی اداروں کے جملہ اعمال، اُن کی ابتدا و نشوونما، ترقی و تنزلی کے واقعات درج ہوتے ہیں۔ تاریخ کے اندر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو ماضی میں بیت گیا۔ ہم حال میں جاری انسانی سرگرمی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسانی سرگرمی کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات تک محدود نہیں ہوتی۔ تاریخ میں سماجی سرگرمی سے منسلک سب کچھ ہورہا ہوتا ہے، جس طرح حال میں کوئی ایک سرگرمی نہیں لاتعداد انسانی سرگرمیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ ہم حال میں رہتے ہوئے بھی مجموعی منظر نامے کو گرفت میں نہیں لے سکتے ہیں۔ تاریخ بھی ایسے ہی کام کرتی ہے۔ کچھ واقعات سطح پر پیش کرتی ہے اور کچھ واقعات کو پس منظر میں بھیج دیتی ہے۔ تاریخ میں چھپی تہذیبی، سیاسی، معاشی، مذہبی قوتیں اس رَد و انتخاب میں شامل ہوتی ہیں۔ یہ قوتیں ہی ہوتی ہیں جو تاریخ میں موجود انسانی سرگرمی کے چند اعمال سامنے لانے کی اجازت دیتی ہیں اور باقیوں کو حاشیے پہ دھکیل دیتی ہیں۔ بعد میں یہ رَو انتخاب کا جبر مورخ کے پاس آجاتا ہے جس کے بَل بوتے پر وہ تاریخی داستان کی تشکیل کرتا ہے۔

ایڈورڈ ہیلٹ کار (Edward Hallett Carr) نے اپنی کتاب ”تاریخ کیا ہے“ میں تاریخ کو صرف مورخ کا انتخاب قرار دیا ہے۔ ہیلٹ کار اسے مغالطہ قرار دیتا ہے کہ تاریخ کا کوئی واقعہ حقیقت (Fact) ہوسکتا ہے۔ وہ مختلف واقعات کے سلسلوں کو مورخ کے تعصب (opinion) کے بغیر نامکمل دیکھتا ہے۔ یعنی تاریخ کے وہ حقائق جسے ہم کل تاریخ سمجھ رہے ہیں وہ مورخین کے انتخاب کا نتیجہ ہیں کہ سامنے آ گئے ہیں ورنہ ایسے ہی بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں گم پڑے ہیں۔ یہ تاریخ نویسوں نے واقعات کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ پوری تاریخ کا بیرونی (Objective) ڈھانچہ بنا کر پیش کر دیا۔ اس کے نزدیک (تاریخ میں) حقائق اُس مچھلی کی طرح ہرگز نہیں ہوتے جو مچھیرے کے سامنے تختے پر پڑی ہوتی ہے بلکہ یہ تو اُس مچھلی کی طرح ہوتے ہیں جوایک وسیع اور ناقابلِ دسترس سمندر میں تیرتی ہے۔ تاریخ نویس اس میں سے کیا پکڑتے ہیں یہ کسی حد تک موقع پر ہی منحصر ہے۔

”حقائق ہرگز مچھیرے کی سلیب پر پڑی ہوئی مچھلی کی طرح نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک وسیع اور بعض اوقات غیر محدود (رسائی سے باہر) سمندر میں تیرتی مچھلی کی طرح ہوتے ہیں اور (اُس سمندر سے) مؤرخ کیا پکڑتا ہے یہ جزوی طور پر اس بات پہ منحصر ہے کہ اُس کو کیا موقع مِلا۔ لیکن بنیادی طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ وہ مچھلی پکڑنے کے لیے سمندر کے کون سے حصے کا انتخاب کرتا ہے اور کس داؤ پیچ کا انتخاب کرتا ہے۔ ان عوامل کا فیصلہ یقیناً مچھلی)حقائق) کی قسم کرے گی جو وہ (مؤرخ) پکڑنا چاہتا ہے۔ مجموعی طور پر مؤرخ حقائق کی وہ قسم حاصل کرے گا جو وہ چاہتا ہے۔ تاریخ کا مطلب ہی توضیح و ترجمانی کرناہے۔ “(۱)

کار نے تمام ذمہ داری مورخ کے کاندھوں پر ڈال دی ہے کہ وہی تاریخ کو خارجی صورت میں پیش کرتا ہے لہٰذا جس طرح کا نقطہ نظر وہ رکھتا ہوگا وہی واقعات منظر عام آئیں گے۔ یوں تاریخ کا معلوم منظر نامہ تعصب سے خالی نہیں۔ اصل میں معلوم منظر نامہ صرف مورخ کے جبر تک محدود نہیں ہوتا۔ ایڈورڈکار نے تاریخ کے حقائق (Facts) کو مورخ کی ذمہ داری قراردیا مگر یہ سب مورخ کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ سماجی جبربھی بہت سے واقعات یا سماجی عمل (Practice) کو دبا دیتا ہے، کچھ واقعات میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ طاقت ور واقعات کے آگے خود کو قائم رکھ سکیں۔ یعنی وقت کا بہاؤ خود بھی بہت سا انتخاب کرتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہُوا، طاقت ہی ایک ایسا مظہر ہے جس کے ہاتھ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ طاقت بھی واقعات کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مورخ کے تعصبات بھی کام کرتے ہیں کیوں کہ مورخ ماضی سے باہر ہوتا ہے اور وہ اشیاو واقعات کو اس طرح دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے اُس کے سامنے ظاہری (Objective)حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ واقعات کی خام حالتوں سے آگے کچھ سمجھ ہی نہیں سکتا جب تک اپنے تعصب یا دوسرے لفظوں میں اپنی رائے (Openion) کی نظر سے ان کو ملا نہیں پاتا۔ اشیا کی شناخت اسی صورت میں ممکن ہے جب Objectiveیا خارجی سطح پر اشیا کے درمیان مشترکہ صفات کو تلاش کرکے ان کو باقی اشیا سے الگ کیا جائے۔ مورخ بھی تاریخ کی مشترکہ صفات کو (غیر شعوری یا شعوری طور پر) ملاتا ہے اور ایک کل کی صورت میں اپنے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مورخین نے تاریخ کو کبھی بادشاہوں کے تناظر میں دیکھا، کبھی معاشی اُتار چڑھاؤ کے خانوں میں بانٹا یامذہب کی متنوع اشکال کے دائرے کھینچ کے تاریخ کی گتھی سلجھائی۔ کوئی واقعہ اپنے دیگر واقعات (Practices) سے کٹ کے وقوع پذیر نہیں ہوتا مگر تاریخ اُسے تنہا دکھا رہی ہوتی ہے جو کبھی بھی وہ شکل نہیں بنا پاتا جس طرح حال میں سماجی سرگرمی کسی واقعے کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ تاریخ کو دیکھنے کا یہ عمل ان کے ہاں بھی موجود ہے جو تاریخ کو دائروی حرکت کہتے آئے ہیں۔ دائروی حرکت کا تصور مستقیمی حرکت کی ضد کہلاتا ہے۔ تاریخ کی مستقیمی (Linear)شکل اشیا کو ہمیشہ ایک ہی طرح آگے بڑھتے ہوئے دیکھتی ہے (جیسے نشوونما کا تصور) جب کہ دائروی حرکت اُسے آگے اور بیک وقت پیچھے کی سمت بڑھتا دیکھتی ہے اور بلاخر ایک دن اپنی انتہا (یا اختتام) کو پہنچ جانے پر یقین رکھتی ہے۔

افلاطون جیسا عقل پرست بھی تاریخ کی دائروی حرکت کا قائل تھا۔ یعنی کائنات کا یہ سارا سفر بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ تاریخ بھی خود کو دوہرا (Recurrence) رہی ہے۔ اس سلسلے میں یونانیوں کے ہاں عظیم سال کا تصور موجود تھا جب ستارے ایک مخصوص گردش کے بعد اپنی پہلی والی جگہ دوبارہ پہنچ جاتے۔ (۲)

ہندوستان میں تناسخ ارواح کا نظریہ بھی تاریخ کے اسی قسم کے خیالات پر مبنی ہے۔

دائروی حرکت بھی واقعات یا سماجی تحریکات و اعمال کو ایک ترتیب میں دیکھنے کا عمل ہے اور بلاخر اُن کے زوال کی قائل ہے جب کہ مستقیمی حرکت بھی وقوعہئ انسانی کو ایک ترتیب کے عمل سے مستقیمی انداز میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھنے کا نام ہے۔ تاریخ کا پورا سماجی عمل کبھی بھی گرفت میں نہیں لیا جا سکتا۔ تاریخ کے مجموعی عمل کی شناخت کرنا ناممکنات میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

۱۔ تاریخ کو گرفت میں لینے والا تاریخ کے مجموعی سماجی وتہذیبی اعمال(Practices) سے نا آشنا ہوتا ہے۔
۲۔ وہ تاریخ کے گزشتہ عہد کا ادراک اپنے موجودہ عہد کے تناظر سے کر رہا ہوتاہے، لہٰذا اپنے تعصبات اور تناظرات کے بغیر وہ گزشتہ عہد تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔

یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ہم اپنے زمانے یا حال کے تمام اعمال سے آگاہ ہیں؟ کیا ہمارے اور سماج کے درمیان بھی سماجی آئیڈیالوجی کا پردہ نہیں ہوتا۔ ہم حال میں رہتے ہوئے بھی بہت سی طاقتوں کے زیرِ سایہ نہیں ہوتے؟ جو واقعات (Practices)کو اپنے جبر کی وجہ سے کم یا زیادہ اہمیت دینے پر قدرت رکھتی ہیں؟

جی ہاں، طاقت کے جبر کا اطلاق حال پر بھی ہوتا ہے۔ مگر چوں کہ ہم زمانے کے اعمال کو خود بھی دیکھ سکتے ہیں اس لیے طاقت اپنے آئیڈیالوجیکل جبر سے اتنا متاثر نہیں کرتی جتنا تاریخ کے راستے سے کرتی ہے۔ تاریخ کے راستے ہم پورا کا پورا اُنھی واقعات اور منظر نامے تک محدود ہو جاتے ہیں جو ہم تک پہنچ پاتے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ ہم تاریخ میں پوری طرح طاقتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ہم حال کا ادراک صرف واقعات یا ظواہر سے نہیں کر رہے ہوتے۔ اپنے زمانے کے اُن خاص میلانات اور طاقتوں کے مرہونِ منت بھی سمجھتے (یا دیکھ رہے ہوتے)ہیں جوغیر شعوری طور پر پوری سماج کی حرکیات کو متعین کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے اپنے ضوابط ہوتے ہیں۔ یوں عہد حاضر کا پورادھارا متعین ہوتا ہے۔ جس کی ایک روح (Spirit) ہوتی ہے ایک ضابطہ (Pattern) ہوتا ہے جو پورے عہد کی فکری تشکیل کرتا ہے۔

یہاں ہمارے سامنے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں:

یہ زمانے کی روح کیا ہے؟ اگر تاریخ مستقیمی ہے تو کیا پوری تاریخ کی ایک روح ہوتی ہے؟ اگر ہر زمانہ دوسرے زمانوں سے مختلف ہے تو کیا ہر زمانے کی روح بھی مختلف ہوگی؟ اورکیا ہر زمانے کی الگ تاریخ ہوتی ہے اور یوں تاریخ میں بہت سی روحیں موجود ہوتی ہیں؟

Facebook Comments Box
featuredhistoryPhilosophy of Historyتاریخفسلفہ تاریخ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سانحہ مری اور ہمارا گہرا سماجی بحران —— راشد کاظمی
next post
پاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے نظریاتی مخمصے —- نعمان علی خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.