تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینتصوفمزید

ناقدینِ تصوف اور اہل تصوف سے شکوہ —– سراج الدین امجد

by دانش ڈیسک 21/11/2021
written by دانش ڈیسک 21/11/2021
240

تصوف خاکسار کا ذوقی مضمون ہے۔ لہذا اس حوالے سے کچھ نہ کچھ دیکھنے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوتی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ ناقدین تصوف کی تنقیدات دشنام طرازی اور تعصب آمیزی کا لہجہ لیے ہوئے ہیں۔ مثلاً کوئی سلفیت آشنا "کشف المحجوب” کی کسی عبارت کو مضوع سخن بناتا ہے تو کوئی مُوحِّد "فوائد الفواد” میں کفریہ کلمات ڈھونڈ نکالتا ہے۔ کہیں استیلائے مغرب سے مرعوب تصوف کو "افیون” سمجھنے والوں کی نعرہ زنی ہے تو کہیں استشراقی فسوں کاری سے متاثر ہوکر تصوف کو "متوازی دین” قرار دینا فیشن بن چکا۔ کہیں دین کی انجینئرنگ کے عنوان سے صلحائے امت کو”بابوں کی بے باکی” کہہ کر مسترد کیا جارہا ہے تو کچھ دین کے ڈاکٹر تصوف و سلوک کو”فروغ شرک کی تحریک” قراردیتے رہے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود تصوف اور خانقاہی طرز کے دفاع پر طبیعت ہے کہ مائل ہی نہیں ہوتی۔ وجہ کیا ہے؟

سچ پوچھیں تو آج کے مروجہ خانقاہی نظام کی ناگفتہ بہ صورت حال سے کون حساس فرد پیری مریدی کے عمومی نظم میں تَدیُّن سے دوری، استخفافِ شریعت اور فساد ِعقائد کے حوالے سے بے خبر ہوگا۔ یہ کج ادائی اور عصیاں شعاری صرف عوام کالانعام کا نصیبہ نہیں بلکہ بے اعتدالی اور بے بصیرتی کا ایک جہان ہے جو نامی گرامی مشائخ اور خانوادوں کا طرزِ حیات بن چکا۔ دور کیوں جائیے۔ ایک مثال عرض کیے دیتا ہوں۔ ماہ رواں یعنی بلحاظِ قمری تقویم ماہ ربیع الثانی کی گیارہ تاریخ کو تصوف کی دنیا کے عظیم سپوت سیدی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ الله کا یوم وصال ہے۔ اس حوالے سے تقریبات کا ملک بھر میں شوروغوغا ہے۔ لیکن کیا ان محافل میں حضرت قُدس سرہ العزیز کی تعلیمات کی کچھ جھلک ہے؟ شیخ کی ذاتِ بابرکات لاریب "قُرۃ عُیونِ الموحدین” ہے۔ لیکن مجال ہے کہ ان کے نام لیوا اور چمنستانِ قادریت کے خوشہ چیں آپ رحمہ الله کی اصلی تعلیمات عوام الناس کے سامنے پیش کریں۔ "فتوح الغیب” اور”فتح الربانی” ایسی معارف توحید سے لبریز کتابوں کا تعارف و مطالعہ تو شاید ہی کسی خانقاہی نظم کا حصہ ہو۔ لیکن کیا "غنیۃ الطالبین” کے دروس عام ہیں۔ نہیں قطعاً نہیں۔ ایک طرف استغاثہ و توسل کے نام پر "یاشیخ عبد القادر جیلانی شیئاللہ” ایسے اوراد کی جھنکار ہے (جنھیں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ جیسے بزرگ اور نادر روزگار عالم پڑھنا روا نہیں سمجھتے بلکہ کئی اکابر ایہام شرک کی بنا پر عامۃ الناس کے لیے ایسے الفاظ کو قطعاً ناجائز قرار دیتے ہیں)۔ دوسری طرف” گیارھویں شریف” اور اعراس و محافل کے نام پر ملک کے طول و عرض میں رسومات کی ایک دنیا آباد ہے۔ پچاس سال مسند تدریس پر بیٹھ کر قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں کو بلند کرنے اور"درستُ العلمَ حتی صِرتُ قطبًا” کے الہامی کلمات سے حقیقت تصوف کو واشگاف کرنے والے اس بے مثل شیخِ طریقت کی تعلیماتِ توحید اور معارف الہیہ کی جھلک آج بھلا کس خانقاہ میں ہے۔ الا ماشاء اللہ۔

کچھ سال قبل خانوادہ گیلانیہ کے ایک فرزند پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رح نے جب امام الموحدین کی درست تعلیمات منصہ شہود پر لانے کی کوشش کی تو ‘محبان ِاولیاء’ ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے۔ تاہم اس حقیقت سے مفر نہیں کہ شیخ جیلاں رحمہ اللہ کی سچی تعلیمات ہی فساد عقائد واعمال کے لیے تریاق ہیں لہذا ان کی اشاعت سے دست بردار نہیں ہوا جاسکتا۔ شاید اسی سے ہماری قوم احکام خداوندی اور اسوہ محمدی علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کو اپنانے کے حوالے سے یکسو ہو جائے اور اعمال میں بہتری آئے نیز وقت کے ساتھ ساتھ سلوک و احسان کی صحیح برکات سے بھی آشنا ہوجائے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں اولیاء اللہ کی درست تعلیمات قوم کے سامنے رکھنے کی توفیق سے نوازے۔ تاکہ آج کی مادیت پرستانہ تہذیب کا نہ صرف جرات مندانہ مقابلہ ہو بلکہ ایمان و اخلاص کی دولت کی کما حقَُہ حفاظت ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں —- احمد جاوید

 

Facebook Comments Box
featuredSufismاہل تصوفتصوفشیخ عبدالقادر جیلانی
0 comments 1 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سیاست کی درس گاہ: سٹی کالج حیدرآباد  -12 —- عطا محمد تبسم
next post
محمد اسد کے ترجمہ قرآن اور تفسیر پر ایک نظر —– میر امتیاز آفریں

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.