تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

گلدستہ شاہد احمد دہلوی، ساقی سے انتخاب، خاکے اور متفرق تحریریں —– نعیم الرحمٰن

by دانش ڈیسک 02/11/2021
written by دانش ڈیسک 02/11/2021
83

شاہد احمد دہلوی اردوادب کے نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے اوران کا ادبی جریدہ ’ساقی‘ اپنے دورکے بے مثال ادبی مجلہ تھا۔ جس کے پرانے شماروں کی آج بھی ادب دوست حلقوں میں مانگ ہے۔ اردوکے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیراحمد کے پوتے، بشیرالدین احمد جیسے ادیب کے بیٹے شاہد احمد دہلوی خود بھی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ بطورمدیران کا جو مقام تھا۔ وہ ساقی کی مقبولیت سے واضح ہے۔ ادیب، ریڈیو کے صداکار، ماہرموسیقی جس شعبے میں دلچسپی لی اسے بامِ عروج پر پہنچایا۔ شاہد احمد دہلوی کی شخصیت اور تحریروں پر مشتمل کتب وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں اورکچھ ہی عرصہ بعد نایاب ہوجاتی ہیں۔ دلی سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے اوردلی مرحوم پر کتاب ’’اجڑا دیار‘‘ لکھی، تو اس یادگار اور بے مثال کتاب کے ہرچند سال بعد ایڈیشن شائع ہوتے ہیں اورکتاب پھر نایاب ہوجاتی ہے۔ حال ہی میں زندہ کتابیں کے تحت شاہد احمد دہلوی کے ساقی کا ’’جوش نمبر‘‘ ازسرنو شائع کیا گیا ہے۔ جوپچاس سال سے نایاب تھا۔ راقم سمیت بہت سے ادب دوست اس منفرد شمارے کی تلاش میں تھے۔ ڈاکٹراسلم فرخی اوران کے بیٹے آصف فرخی نے اپنے ادارے شہرزادسے شاہداحمد دہلوی کی یادگار اور گمشدہ تحریریں جمع کرکے شائع کی تھیں۔ عقیل عباس جعفری نے شاہد احمد دہلوی کے موسیقی پر مضامین کا مجموعہ اپنے ادارے ورثہ سے شائع کیا۔

راشد اشرف صاحب نے زندہ کتابیں میں ’’گلدستہ شاہد احمد دہلوی‘‘ شائع کیاہے۔ جس میں ساقی سے انتخاب، خاکے اورمتفرق تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔ یہ کتاب دو ہزار پانچ میں شائع ہونے کے بعد سے نایاب ہے۔ چارسو بیالیس صفحات اور تصاویرکے سولہ صفحات سمیت اس یادگارکتاب کی قیمت صرف چھ سو روپے ہے۔ کتاب کے چار حصے ہیں۔ حصہ اول ساقی کے پہلے شمارے سمیت اکیس اداریوں اور چھ تعزیتی شذرات پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں شاہد احمد دہلوی کی گیارہ یادگار تحریریں دی گئی ہیں۔ تیسرا حصہ شاہد احمد دہلوی پرمختلف ادیبوں کے سات خاکے شامل ہیں۔ جبکہ حصہ چہارم شاہد احمد دہلوی سنین کی آئینے میں اورتصاویردی گئی ہیں۔ لیکن کتاب کا اختصاص شاہد احمد دہلوی کے امریکا میں مقیم صاحبزادے محمود احمد کا اپنے والد کی یادوں پرمبنی تحریرہے۔

حسبِ روایت راشد اشرف صاحب نے چند باتیں میں کچھ اہم امورکی وضاحت کی ہے، لکھتے ہیں۔ ’’شاہداحمددہلوی جیسی نابغہ روزگار شخصیت پرعلاحدہ سے کچھ لکھنا عبث ہوگا۔ ایک زمانہ ان کے نام اورکام سے واقف ہے۔ ان کاشماران لوگوں میں ہوتاہے جن کی ادبی خدما ت کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور گاہے گاہے ان کا کوئی چاہنے والا ان پرکام کرتاہے، ماضی کے دھندلکوں سے گم شدہ تحریروں کی بازیافت کرتاہے اور یوں ایسی شخصیات کا ذکرِ خیر جاری رہتاہے۔ شاہد احمد دہلوی پر بہاولپورکے ڈاکٹرسید محمد عارف نے پی ایچ ڈی کی جوکتابی شکل میں بھی شائع ہوئی نیز انہوں نے ساقی سے چند منتخب کردہ تحریروں کوتابی شکل میں یکجا بھی کیا۔ ڈاکٹرجمیل جالبی کامرتبہ کردہ ساقی کا شاہد احمد دہلوی نمبرتواپنی جگہ ایک قیمتی دستاویز کہلایا جاتا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹرجمیل جالبی نے شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کوکتابی شکل میں شائع کر کے ادب کے قارئین پراحسا ن کیا تھا۔ بک کارنر نے ’’شاہد احمد دہلوی کے یادگارخاکے‘‘ میں ان کے شخصی خاکوں کا انتخاب شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر اسلم فرخی، ان کی اہلیہ اورفرزند ڈاکٹر آصف فرخی کی شاہد احمد دہلوی پر مرتبہ کتابیں اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔ اسی طرح مکرمی عقیل عباس جعفری کی ’’مضامین موسیقی‘‘ شاہد احمد دہلوی پرمرتب کردہ کتابوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ راقم الحروف نے زیرِنظرکتاب کامواد جمع کیا، ساقی کے پرانے شمارے کھنگالے، خاکوں کے مجموعوں کا جائزہ لیا، کئی چیزیں حافظے میں محفوظ تھیں، کچھ کوازسرنو دیکھا گیا۔ اسی اثنامیں رابطہ مرحوم کی صاحب زادی محترمہ صائمہ سکندرخان اورفرزند محمود احمد سے ہوا۔ جنہوں نے اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی لی۔ محمود احمد صاحب نے نجی البم سے چند یادگار تصاویر بھی عنایت کیں۔ شاہد احمد دہلوی کثیرالتحریر مصنف تھے ایک موقر جریدے کے مدیر۔ ایک عمدہ خاکہ نگار۔ دلی کی ٹکسالی زبان کے امین۔ اس نوع کی مصروفیات، اردوادب کے ساتھ عالمی ادب پر بھی نظر، فن ترجمہ نگاری پربھی مہارت اوردوسری جانب موسیقی پربلا کا عبور۔ یہ وہ اوصاف تھے جن کی باعث انہیں اپنے ہم عصروں کے درمیان ہمیشہ ایک جداگانہ حیثیت حاصل رہی۔ کتاب کوترتیب دیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ شاہد احمد دہلوی پرمرتب کی گئی دیگر کتب میں موجود مواد کو دوہرایا نہ جائے۔ البتہ نگاہِ اولین کے چند تعزیتی شذرات اور’آل انڈیا ریڈیواورہارمونیم‘ نامی مضمون کودیگر سلسلہ وارتحریروں کی مناسبت سے شامل کیا گیا ہے۔ ‘‘

پسر شاہداحمددہلوی، محمود احمد نے ’’ابا۔ میرے بچپن کی چندیادیں‘‘ میں صاحب اسلوب نثرنگاراورمدیرکی یادوں کوتازہ کرتے ہوئے کیادلچسپ انکشاف کیا ہے۔ ’’ہم مارٹن روڈکے چھوٹے سے کوارٹرمیں رہاکرتے تھے۔ کوارٹرکیا۔ ماچس کی ڈبیہ کہہ لیجئے۔ ماچس کی ڈبیہ میں دیاسلائیاں ہم سے بہت زیادہ آرام سے رہتی ہوں گی، مکان میں بجلی اورپانی کابالکل گزرنہیں تھا۔ پانی دوڈھائی میل دورایک نل سے بڑے بڑے ڈرمزمیں بھرکرلایا جاتا تھا۔ جس کے لیے ابانے ایک گدھا گاڑی خریدلی تھی۔ اب ہم گدھا گاڑی والے کہلاتے تھے۔ تفریح کے لیے کبھی کبھارگدھاگاڑی میں توشک اورچادر بچھا اورتکیے لگا کر ہم بچے شام کی سیرکے لیے جایا کرتے تھے۔ گویا گدھا گاڑی گھوڑا گاڑی بن جاتی تھی۔ ابا بہت خوش مزاج، زندہ دل اوربہت خوددارانسان تھے۔ ان کے لیے قیمتی موٹرکار یا گدھا گاڑی کامصرف ایک تھا۔ ’گدھا گاڑی میں بیٹھنے سے انسان کاوقارکم نہیں ہوتا۔ ‘ کسی شخص کی بڑائی کرتے ہوئے پھوپھی زاد بہن نے کہا ’ماموں اس کے پاس تین موٹرکاریں ہیں۔ ‘ ابا نے بیڑی کاکش لیتے ہوئے کہا۔ ’ہاں، وہ تینوں کاروں میں ایک ساتھ سفرکرتاہوگا۔ ‘پیرالہٰی بخش کالونی کے مکانات بننے شروع ہوئے تو ابا نے دومکان خرید لیے اوربیچ کی دیوارتوڑکرانہیں ایک مکان بنالیا۔ اس گھرمیں نانا، نانی، ابا، اماں ہم تین بھائی، چھ بہنیں، تین خالائیں، تین ماموں۔ اباکے ہم زلف، ان کی اولادیں، میرے بڑے بھائی مشہوداحمد، بھابی اوران کے بچے، ماموں افتخار حسین، ممانی دلہن، ان کے بچے گھرمیں کتا، بلی، بکری، مرغیاں، مرغ اورکبوتربھی پلے ہوئے تھے۔ گھر کیا تھا ایک چھوٹاساگاؤں تھا۔ ‘‘

کیا سادگی اورکنبہ پروری تھی شاہداحمددہلوی کی شخصیت میں، اس کا اندازہ اس اقتباس سے کیاجاسکتاہے۔ ’’اباباتیں بہت مزیدارکیاکرتے تھے۔ مجھے لمبے بال رکھنے کابہت شوق تھا، بالوں کی ایک لٹ اکثرمیرے ماتھے پرپڑی رہتی تھی۔ لٹ کوماتھے سے ہٹانے اوراوپرکرنے کے لیے میں بائیں جانب سے اپنے سرکو ہلکا سا جھٹکا دیا کرتا تھا۔ ابا کی نظرمیں یہ حرکت آچکی تھی۔ ایک شام کھانے پرسب موجودتھے۔ میری اس حرکت کودیکھ کراباسے نہیں رہا گیا اوروہ کہہ اٹھے۔ صاحب آپ بال کٹوائیے تاکہ آپ کے یہ سینگ مارنے کی عادت جائے۔ اس بات پرایک زوردارقہقہہ پڑا۔ اباہم بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ کراچی میں ان کی مالی حالت دلی والی حیثیت سے یکسرمختلف تھی۔ اباریڈیو سے اکثرپیدل گھرآتے تھے مگرہم بچوں کے لیے پنیر، لالی پاپ اورتلی ہوئی چیزیں ضرورلاتے تھے۔ کبھی کبھار شام کوسب بچوں کے ساتھ پہیلیاں، لطیفے اوراسکریبل کھیلا کرتے تھے۔ خاص طور پرمیری بڑی بہن ارجمند، جنہیں ہم سب بی بی کے نام سے پکارتے ہیں، کے ساتھ بہت شوق سے کھیلاکرتے تھے۔ ابابی بی کولفظوں کے معنی، ہجے، صحیح استعمال، ان کے طورطریقے سمجھاتے جاتے تھے۔ ابااس کی صلاحیتوں سے خوش ہوکراسے بہت شاباشی دیاکرتے تھے۔ ‘‘

اس طویل مضمون میں محموداحمد صاحب نے شاہد احمددہلوی کے گھرآنے والے ادیبوں، شاعروں، کی یادیں، ڈاکٹراسلم فرخی اورڈاکٹرآصف فرخی کاان سے پیاراوراحترام بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’اسلم بھائی (اسلم فرخی) اباکے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے۔ انہوں نے اباکوبہت قریب سے دیکھا اور سمجھاہے۔ ان سے بہتر ابا کو کوئی اورشخص نہیں جانتا۔ اسلم بھائی اورتاج آپاکے اباپرلکھے مضامین، اسلم بھائی کا ’زندہ انسان‘ اور تاج آپا کا ’سرگزشت شاہد‘ ان کی مرتب کردہ کتابوں میں اباکے لکھے ہوئے مضامین پڑھ کرمجھے اباکوجاننے میں بہت مدد ملی ہے۔ ‘‘

ساقی کا اداریہ کا عنوان ’’نگاہِ اولین ‘‘ ہوتاتھا۔ ’’گلدستہ شاہد احمد دہلوی ‘‘ کے پہلے حصے میں ان میں سے اکیس منتخب اداریے شامل کیے گئے ہیں۔ ساقی کا پہلا شمارہ جنوری 1930ء میں دلی سے شائع ہوا۔ جس کے پہلے اداریے میں ساقی کی پالیسی واضح کی گئی۔ اردوزبان کے آغازسے لے کردہلی کے حالات پراس کے اثرات کے بیان اوررسائل وجرائد کی اہمیت واضح کرنے کے بعداداریہ میں شاہد احمددہلوی لکھتے ہیں۔ ’’کسی زبان کوترقی دینے کے لیے رسالوں کاجاری کرنابھی ایک عمدہ طریقہ ہے۔ پرانے رسالوں کی بے قدری میں نیارسالہ نکا لنا عالم صحافت کی ترقی کے عجیب سامانوں میں ہے۔ بُرے پرچے ہی اچھے پرچے کے محرک ہوتے ہیں اورجب اچھا پرچہ نکل آتاہے توبرے پرچے داغِ مفارقت دے جاتے ہیں۔ ہم اپنی بے بظاعتی کے باوجود اپنی ناچیزعلمیت کے موافق زبان اردوکی خدمت کرنے کے لیے کمربستہ ہیں۔ ہمارانصب العین یہ ہے کہ ساقی ایک ایساجامعہ ہوکہ ہرشخص اس کے مطالعہ سے محظوظ ہو۔ ساقی میں صرف وہی مضمون درج کیے جائیں گے جوکہ معیارادب پرپورے اُتریں گیاس لیے اگرکسی صاحب کامضمون شائع نہ ہوسکے تواس سے وہ پست ہمت نہ ہوں بلکہ کوشش کریں کہ آئندہ اس سے بہترمضمون لکھیں۔ ‘‘

ساقی کے اس پہلے شمارے میں جومضامین شائع ہوئے۔ فلسفہ رازونیاز، قاری سرفرازحسین صاحب دہلوی کاہے جوپندرہ سال قبل تمدن میں شائع ہوچکاتھا۔ بادہ الست جناب جلال الدین احمدخان نے تحریرکیا۔ تمکین الکاظمی نے ساقی کے نام سے مضمون لکھا۔ قاضی عباس حسین کا طویل افسانہ’’انتقام‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہے۔ بادہ حافظ جناب حافظ غازی پوری کاقابل دادکلام ہے۔ ساقی کے جوائنٹ ایڈیٹر انصارعلی صاحب نے ’’تونہیں آیا‘‘ تحریرکیا۔ نفس اجتماعی جناب مرزامحمودبیگ دہلوی کامضمون ہے۔ ساقی نامہ جناب افضل حسین چشتی المتخلص مضمک کامزاحیہ کلام ہے۔ شوخ گل چیںمیں جناب وکیل احمد صاحب حافظ نے نثرمیں شاعری کی ہے۔ نپولین کارازجناب آغا محمداشرف کی تحریرہے۔ شعلہ نوائی جناب احسن کے افکارتازہ ہیں۔ نشاط کیف جناب کیف حیدری دہلوی کاکلام ہے۔

اس طرح ساقی کے اولین شمارے کے تمام مشمولات پیش کردیے ہیں۔ اس کے دیگربیس اداریوں سے بھی پرچے کی پالیسی اورادب میں اس کاکردارواضح ہوتاہے اورعام قاری کوعلم ہوتاہے کہ ساقی اپنے وقت کااہم ترین ادبی جریدہ کیونکربنا۔ نگاہِ اولین چندمشاہیرادب کی وفات پرتعزیتی شذرات پرمبنی ہیں۔ جوخاکے بھی کہلائے جاسکتے ہیں۔ اس حصے میں نومبر1936ء میں منشی پریم چند، ستمبر1936ء میں علامہ راشدالخیری، جون 1937ء میں ادبی دنیا کے مدیرمنصوراحمد، ستمبر 1941ء میں عظیم بیگ چغتائی، جون 1936ء میں سیدرفیق حسین کی وفات پرتعزیتی شذرات اورراشدالخیری کاایک خاکہ بھی دیاگیاہے۔

حصہ دوم میں ’’ساقی سے شاہددہلوی کی منتخب تحریریں‘‘ دی گئی ہیں۔ جن میں ’’اجڑے دیارکی آخری بہار‘‘ کاجواب نہیں۔ یہ شاہداحمددہلوی کی کتاب ’’اجڑا دیار‘‘ کاہی ایک حصہ ہے۔ جس میں دلی کی بولی ٹھولی، رہن سہن، رسوم ورواج، کھانے پینے کواپنے مخصوص اندازسے پیش کیاہے۔ ذرادلی اوردلی والوں کایہ ذکرملاحظہ کریں۔

’’دلی کی دل والی، منہ چکناپیٹ خالی، یہ جومثل مشہورہے تواس میں بہت کچھ صداقت ہے۔ روپے پیسے والوں کا تو ذکرہی کیا؟ انہیں تو ہمہ نعمت چٹکی بجاتے میں مہیاہوجاتی ہے۔ دلی کے غریبوں کایہ حوصلہ تھاکہ نہ ہوتی میں بھی دھڑلے سے خرچ کرتے۔ کل کی فکرانہیں مطلق نہ ہوتی۔ عجب دل والے لوگ تھے۔ ذراسی بات کے پیچھے لاکھ کاگھرخاک کردیتے۔ بھٹیارے کی بھی بھلا کوئی اوقات ہے۔ بیٹی کی چھٹی میں سونے چاندی کی کھچڑی بھیجی تھی۔ چاندی کے چاول اورسونے کی دال۔ پہاڑگنج کے ایک سادہ کار نے بیٹے کے بیاہ میں چاندی کی چتی ہوئی طشتریاں تقسیم کیں جن میں ایک ایک سونے کا پھول جڑاہواتھا۔ ان میں پاؤبھرکھوئے کا پیڑا اوپر سے ایک ریشمی رومال بندھاہوا۔ اسی برات میں بیٹی والوں نے میناکاری کی چاندی کی بیضوی ڈبیوں میں بُن دھنیا بانٹا تھا۔ سوئی والوں کے سقوں میں ایک شادی ہوئی توپوری برادری کودہراکھاناکھلایاگیااوربہنگیوںمیں گھرگھرحصے بھیجے گئے۔ دو قسم کا سالن، قورمہ اورمیتھے کھئے کاشیرمال اورخمیری روٹی۔ بڑی بڑی رکابیوں میں بریانی اورزردہ۔ ایک جوڑفیرنی کا۔ ایک گھرمیں دس بیاہے ہیں تو دسوں کے دس حصے۔ انہیں دیکھ کرشہرکے کنجڑے، نائی، قصا ئی، کسیرے، ٹھٹھیرے، قلعی گر، بٹنیئے، دبکئے غرض سارے کرخنداراور دست کار اسی دریادلی سے خرچ کرتے تھے۔ ایک برات دیکھی۔ روشنی کے جھاڑبے شمار، ان کے پیچھے انگریزی بینڈ باجا، اس کے پیچھے نقری کا طائفہ، اس کے بعد ایک طوائف مع سفردا۔ برات چند قدم چل کررک جاتی۔ طوائف مبارک بادی کے دوبول گاتی۔ گت بھرتی، تھئی تھئی ناچتی، بیل لیتی، سلام کرتی اور برات آگے بڑھ جاتی۔ گہناپہنے ہو ئے نُقرے پرننھا سا دولہا سوار، دولہاکے ابا زری کی گول چھوٹی باڑکی ٹوپی سرپر، زربفت کی اچکن اورسفید ساٹن کا آڑا پاجامہ پہنے اسی گھوڑے پرسوار، دولہاکے پیچھے پالکی جس پرجھمکتے ڈوپٹے پڑے ہوئے۔ آخر میں مسہری اورجہیزکی لنگتار۔ پالکی اور دولہا پر سے مٹھیاں بھر بھرکے ریزگاری کی بکھیرہوتی جاتی ہے۔ کنگلے لوٹتے جاتے ہیں۔ یہ کسی کی برات نہیں چڑھ رہی۔ گڈے گڑیا کا بیاہ ہے۔ اس میں ساری رسمیں شادی بیاہ کی پوری کی جائیں گی۔ لاڈپیاراورمان اولاد کا اتنا توہو۔ ‘‘

یہ طویل مضمون انتہائی دلچسپ ہے۔ جس میں دلی کے پکوان، کبوتربازی، بلبل اوربٹیروںکی لڑائی، کلکتہ کی بولنے والی کالی میناکی نازبرداری، تیترسمیت مختلف پرندے اورجانور پالنے کاشوق، دلی کے میوے اورپھل اوران کے بیچنے والوں کی بولیاں، جگت باز، پہلوان، قلفی والے، کبابی اوردلی کے بنوٹیے غرض کیانہیں ہے۔ ایک پوری تہذیب قاری کی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ ’’ادب میں دلی‘‘ غدرسے پہلے اور بعدمیں ادب میں دلی کابیان ہے۔ شاہد احمددہلوی کی آل انڈیاریڈیوسے چند دھواں دھار تنقیدی مضامین بھی دلچسپی سے بھرپورہیں۔ لیکن آج کاقاری جس کاریڈیوسننے سے واسطہ نہیں شاید انہیں سمجھنے سے قاصرہو۔ ’’ریڈیو کی کہانی‘‘ اس محکمے کی کہانی اوراس کے کام کرنے کے طریقہ کار کوپیش کیاگیاہے۔ ایک دلچسپ مضمون ’’آل انڈیا ریڈیو اور ہارمونیم‘‘ ہے۔ یہ ریڈیو پرہارمونیم پرعائد پابندی کے بارے میں ہے۔ جس میں شاہد احمد دہلوی نے استاد فیاض خان سے لے کرعبدالوحید خان کرانے والے، رحیم الدین اندوروالے، تان سین الوروالیا اور ضیاالدین سمیت بے شمار گائکوں کی گائکی اورہارمونیم سے ان کی مناسبت ہی کونہیں، گائکی کے مختلف انداز، الاپ، بلمپت لے کاری کواس عمدگی سے بیان کیاہے کہ موسیقی سے ناواقف شخص بھی اس میں ڈوب جائے۔

حصہ سوم میں شاہد احمد دہلوی پرلکھے گئے چندخاکے شامل کیے گئے ہیں۔ بھلا شاہد صاحب کوان کی اہلیہ عاصمہ شاہد احمد دہلوی سے بہترکون جان سکتا ہے۔ ان کا خاکہ ’’میرے شوہر‘‘ اس کاثبوت ہے۔ لکھتی ہیں۔

’’جی ہاں موت توبرحق ہے اس سے انکارکیاجاسکتاہے نہ مفرکا کوئی سوال ہے۔ 27مئی 1967ء رات کے پونے بارہ بجے موت آئی اور آناً فاناً میرے شوہرشاہد احمددہلوی کواپنی آغوش میں لے گئی۔ چند گھنٹے قبل میں خواب غفلت میں تھی کہ شاہدصاحب توایک مانے ہوئے ادیب ہیں۔ موسیقارہیں۔ فن تو زندہ رہنے والی چیزہے۔ یہ بھی زندہ رہیں گے۔ میں سدا سہاگن رہوں گی۔ ایک ہفتے پہلے ان کی فرمائش پرمیں نے نئی چوڑیاں بھی بنوائیں۔ شام کونوک پلک سے درست، شو قین مزاج شوہرکی بیوی بنی سرمیں پھول ودل لگائے بیٹھی تھی۔ شاہد صاحب بیوی کورنگین کپڑے پہنانا کچھ زیورسے آراستہ رکھنا پسند کرتے تھے۔ ‘‘

خاکے میں بچوں اوراہل خانہ اوردوست احباب سے سلوک اور رویہ سمیت شاہد صاحب نئے روپ میں قاری کے سامنے آتے ہیں۔ فضل حق قریشی صاحب نے ’’شاہدوساقی‘‘ کے عنوان سے پچاس صفحات کے طویل خاکے میں شاہد احمد دہلوی کی شخصیت کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ انصارناصری کے خاکے کا عنوان ’’میرے بھائی شاہد‘‘ ہے۔ سیدحسام الدین راشدی نے ’’پنبہ کجا کجا نہم‘‘ کے نام سے خاکہ لکھاہے۔ صادق الخیری نے اپنے خاکے کو ’’شاہد احمد، اک انجمن‘‘ کا نام دیا ہے اورحق ادا کردیاہے۔ ڈاکٹراسلم فرخی نے’’زندہ انسان‘‘ اوراخلاق احمد دہلوی نے ’’رندِ شاہد باز‘‘ کے نام سے شاہدصاحب کے خاکے لکھے ہیں۔ ان تمام خاکوں اورصاحبزادے محموداحمدکے مضمون سے نوجوان قارئین کوبھی اس عظیم شخصیت سے بھرپورواقفیت ہوجاتی ہے۔ مجموعی طور پر’’گلدستہ شاہد احمد دہلوی‘‘ اردوکی اس زندہ جاوید شخصیت پربہت عمدہ اضافہ ہے۔ جس میں شاہد احمد دہلوی کی شخصیت کا ہر پہلو اجاگر کیا گیا ہے۔ راشد اشرف کو’’زندہ کتابیں‘‘ میں ایک اوربہترین کتاب پیش کرنے پربھرپورمبارک باد۔

Facebook Comments Box
گلدستہ شاہد احمد دہلوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان دفاعی اعتبار سے بھارت سے برتر کیوں؟ —- پراوین سانی (بھارتی دفاعی تجزیہ کار)
next post
استبنول: اک شہرِ ذیشان —- عبداللہ

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.