یہ تین اور چار اکتوبر 2021 کی درمیانی رات تھی، 11 بجے کا وقت ہوگا، جب میٹروپولیٹن کارپوریشن سرگودھا کے فیصل مسیح اور ندیم مسیح نے سرگودھا کی مین روڈ چونگی نمبر 9 کے گہرے، گندے اور بدبودار پانی کے گٹر میں دم گھٹنے سے دم توڑ دیا۔ اتوار کی درمیانی رات میونسپل کارپوریشن کے تین مسلم سپروائزروں نے انھیں بند گٹروں کوکھولنےکے لیے کسی حفاظتی سامان یا احتیاطی تدابیر کے بغیر اس بدبو دارپانی میں اترنے پر مجبور کیا۔ ایسے افسوس ناک سانحہ پاکستان کے کسی نہ کسی قصبے میں ہر چند ماہ بعد جنم لیتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں غیر مسلم سینیٹری ورکرز کو سیوریج گٹروں میں یوں داخل کرنے کا یہ غیرانسانی اور ظالمانہ فعل شائد ساڑھے چار ہزار سال پرانی موہنجودڑو تہذیب میں سنیٹری کا کام کرنے والوں کے لیے بھی قابل اعتراض ہوگا۔ کوئی بھی اپنی پیدا کردہ گندگی کو صاف کرنے کو تیار نہیں، بڑی میٹروپولیٹن کارپوریشن چینی، ہسپانوی اور ترک کمپنیوں کو صفائی ستھرائی کا ٹھیکہ دے رہی ہیں۔ جبکہ چھوٹی کمپنیاں مقامی غیر مسلموں کا استحصال کرتی ہیں۔
ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں سیوریج گٹروں میں داخل ہوکر اسے صاف کرنے کا یہ انتہائی گھٹیا، خطرناک اور مکروہ کام کرنے والے سو فیصد کارکن غیر مسلم ہیں۔ ہر بار جب وہ ان گندے نالوں اور گٹر میں اترتے ہیں تو ان کے برہنہ جسم غلاظت سے لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے پھیپھڑے زہریلی گیسوں سے بھرے ہوتے ہیں اور ان کی عزت نفس تار تار ہوچکی ہوتی ہے۔
صفائی کرنے والے غیر مسلم کارکنوں کے ساتھ ظالمانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک اس وقت شروع ہوتا ہے جب صفائی کے عملہ کے لیے نوکری کی درخواست طلب کرتے ہوئے اخباری اشتہارات میں واضح طور پر صرف ‘غیر مسلموں کے’ لیے لکھا ہوتا ہے۔ صرف 2021 میں حکومت سندھ نے 100 سے زائد ایسے امتیازی اخباری اشتہارات جاری کیے۔ ستم کی بات یہ ہے کہ ان سینیٹری ورکرز کو یا تو عارضی کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے یا تیسرے فریق پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے۔ ہمارے سروے سے مزید پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایک بھی میونسپل کارپوریشن یا کنٹونمنٹ بورڈ ایسا نہیں ہے جو صحیح کم از کم قانونی اجرت ادا کرتا ہو یا مزدوروں کے اس غریب طبقے کو ای او بی آئی، سوشل سیکورٹی یا میڈیکل چھٹی فراہم کرتا ہو۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم گزشتہ 70 برسوں سے اس غیر قانونی اور امتیازی سلوک کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور غیر قانونی اجرت، غیر محفوظ حالات اور غیر مسلم صفائی کے عملے کی جانوں کے ضیاع کے لیے کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہراتے۔ یہ ظلم ہزار سال تک جاری رہنے کا امکان ہے، جب تک ہم مندرجہ ذیل چھ ضروری اصلاحات نافذ نہ کریں۔
سب سے پہلے، اس عالمی تسلیم شدہ اصول کو لاگو کریں کہ صحت اور حفاظت کی ذمہ داری ان افراد کی ہے، جو اعلیٰ ترین عہدے یعنی وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور متعلقہ بلدیہ کے سربراہان یا کنٹونمنٹ بورڈ کے سربراہ ہیں۔ اور کسی کارکن کو نقصان پہنچنے اور کسی بھی ہلاکت کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے۔
دوسرا، اعلان یہ کریں کہ سینیٹری ملازمتوں کے اشتہار میں ‘صرف غیر مسلموں کے لیے’ لکھنا بند کریں۔ یہ ایک جرم اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
تیسرا یہ کہ، کسی شخص کو سیوریج گٹر میں اس وقت تک داخل نہیں کیا جائے، جب تک اس کو مہلک امراض سے محفوظ کرنے والا لباس، حفاظتی کنٹرول، حفاظتی امدادی رسیاں، سانس لینے کے آلات، گیس ٹیسٹنگ، ریسکیو اہلکار، ‘کام کرنے کی اجازت’ اور داخلے/باہر نکلنے کے طریقہ کار کو یقینی نہ بنایا جائے۔
چوتھا، سیوریج کی صفائی کے لیے جسمانی طور پر داخل ہونے کے بجائے جہاں تک ممکن ہو مکینیکل آلات سے کام لیا جائے۔
پانچویں، تمام سینیٹری ورکرز کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ کم از کم اجرت سے دوگنی تنخواہ دیں تاکہ اس خطرناک پیشے کی حوصلہ افزائی ہو۔
چھٹا، ہر سینٹری ورکر کو EOBI میں رجسٹر کریں اور معاہدے کی نوعیت سے قطع نظر سماجی تحفظ، طبی چھٹی اور ہفتہ وار تعطیلات کی سہولت دی جائیں۔
گذشتہ 74 برسوں سے صفائی کرنے والے غیر مسلم عملے کا، کم تنخواہ اور غلاموں جیسے سلوک سے استحصاک کیا جا رہا ہے۔ انہیں غیر قانونی طور پر انتہائی غربت میں رکھا گیا ہے اورانھیں انسانی وقار اور انسانیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہیں خطرناک، ناگوار اور شرمناک حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا تجاویز کو اپناتے ہوئے یہ سب ختم ہونا چاہیے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ ریاست اور پاکستان کے شہریوں کی جانب سے ہمیں صفائی کے کام کے دوران دم گھٹنے سے ہلاک ہونے غیر مسلموں سے بے حسی اور خاموشی پراجتماعی معافی مانگنی چاہیئے۔
