204
ازل سے
یہ رسم چلی آتی ہے،
اہل ہجر
دیواروں اور ستونوں سے
لپٹ کر روتے ہیں،
انہیں حال دل سناتے ہیں،
فریاد کرتے ہیں ؛
تاریخ میں
صرف ایک بار ایسا ہوا ہے،
ایک ستون نے،
شجر خشک نے،
فراق یار میں آنسو بہائے ہیں،
ماتم کیا ہے ؛
اس کا نالہ غم ناک سن کر
اہل دل بھی حیراں تھے،
گریہ کناں تھے ؛
اگر اس روز
یار مہربان نے
اسے سینے سے نہ لگایا ہوتا،
وہ قیامت تک محو گریہ ہی رہتا،
روتا ہی رہتا،
اور سب کو رلاتا !
دست دعا سے
اسے بہار بے خزاں عطا ہوئی ہے،
اب وہ ابد تک
باغ بہشت میں لہلہاتا رہے گا،
مسکراتا رہے گا
Facebook Comments Box
