تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

انتہا ہو گئی ——- غزالہ خالد

by دانش ڈیسک 25/08/2021
written by دانش ڈیسک 25/08/2021
159

واقعی انتہا ہی ہوگئی! کیا کہوں اور کیا لکھوں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ کبھی نور مقدم تو کبھی موٹر وے کا واقعہ ، کبھی زینب کا کیس تو کبھی شوہر کے ہاتھوں بیوی کا قتل ، کہیں ڈکیتی تو کہیں راہ زنی ، کبھی توہین رسالت کے الزامات پر قتل تو کہیں جائیدادوں کے جھگڑوں پر قتل اور کچھ نہیں تو پسند کی شادی کی سزا کے طور پر جوان بہن اور اس کے نوزائیدہ بچے کو زندہ درگور کرنے کے واقعات ۔۔۔۔ کس کس کا ذکر کروں اور کس کس کو روؤں اور اب پورا ملک مینار پاکستان پر پیش آنے والے ناگوار واقعے کے پیچھے لگا ہوا ہے میں نے سوچا تھا کہ اس واقعے پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے اور اس واقعے کی شروعات کے بارے میں اتنی معلومات مل چکی ہیں کہ میں اس پر نہیں لکھوں گی سوائے اس کے کہ عورت کی بے عزتی کرنے والے مردوں کو سخت سزا دینے کے ساتھ ایسے قوانین بھی بناۓ جائیں جس میں ٹک ٹاکر عورت بھی دعوت دے کر سینکڑوں لوگوں کو پبلک مقامات پر نہ بلا سکے۔

لیکن اس واقعے پر سوشل میڈیا پر سوچ کی جو دو انتہائیں دیکھنے کو ملیں وہ بھی قابل افسوس تھیں کہیں صرف عورت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا تھا تو کہیں عورت کو معصوم فرشتہ ثابت کیا جارہا تھا ،کہیں پورے ملک کے مردوں کو لچا لفنگا اور آوارہ کے خطاب مل رہے تھے تو کہیں ان بے غیرت آدمیوں کی قابل نفرت حرکتوں پر یہ بھی سننے کو ملا کہ ” وہ تو مرد ہیں وہ تو یہ کریں گے ہی عورت نے بلایا کیوں تھا ”
توبہ یعنی مرد ہیں یا جانور ہیں کہ جنہیں اپنے اوپر کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔

لوگوں کے رویئے ، لوگوں کی سوچ ، لوگوں کا اپنی بات پر اڑجانا چاہے وہ مذہب کا معاملہ ہو یا عام معاشرتی مسائل ، اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا ، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا یہ سب شاید ہمیشہ سے ہی تھا لیکن کچھ سالوں سے اس میں جو شدت اور انتہا پسندی دیکھنے میں آئی ہے وہ قابل افسوس ہے بلکہ اس پر واقعی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں ؟ اور ہم کیا بنتے جارہے ہیں؟

اسی طرح حال ہی میں افغانستان کے حالات پر بھی لوگوں کی عجیب وغریب سوچ اور تجزیے دیکھنے کو ملے یعنی کچھ لوگ خواہ مخواہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں کہ طالبان آگئے! اور کچھ لوگ سوگ کی کیفیت میں منہ سر لپیٹے ہوئے ہیں کہ ہاۓ طالبان آگئے! کچھ کی خوش گمانیاں اس حد تک ہیں کہ جیسے اب افغانستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی اور کچھ کی بدگمانیاں کہتی ہیں کہ
” بس اب گیا افغانستان پتھر کے زمانے میں، اب کچھ نہیں ہوسکتا ”
ارے بھئی تھوڑا صبر کریں ابھی تیل دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں۔ ہمارا قومی مزاج ہی یہ ہوگیا ہے کہ ہم فوراً دو انتہاؤں پر پہنچ جاتے ہیں لگتا ہے درمیان کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔
اعتدال پسندی اور توازن آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہے ہیں بلکہ اب تو لوگ بھول ہی چکے ہیں کہ توازن بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

ترقی پسند، جدید تہذیب کے حامی، مغرب کے پیروکار بنیں گے تو ایسے آزاد کے مدد پدر آزاد ہوجائیں گے اور اسلام سے محبت ہوگی تو ایسی شدت پسندی سے ہوگی کہ اپنے سوا سب گناہ گار لگیں گے ۔۔۔عجیب انتہا پسندی والی سوچ ہے جس میں جینا واقعی بڑا مشکل ہے ۔ بہت سے لوگ اپنے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس رہنے والوں کی زندگیوں پر راہ راست ایسا اثر بھی ڈالتے ہیں کہ انہیں نفسیاتی مریض بنادیتے ہیں ۔
انتہا پسندی کسی بھی معاملے میں قابل قبول نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں صبر و تحمل، برداشت اور توازن سے رہنے کا درس دیا ہے رشتوں میں توازن، لین دین میں توازن، وراثت میں توازن یہانتک کہ موسموں میں بھی توازن اگر گرمی حد سے بڑھ جاۓ تو ہمارا زندہ رہنا مشکل ہے اور اسی طرح اگر سردی حد سے بڑھ جاۓ تو بھی ہمارا زندہ رہنا ممکن نہیں ہم ایک خاص حد تک ہی ان موسموں کی شدت سے بچاؤ کر سکتے ہیں لیکن پھر اس خاص حد کے بعد ہماری برداشت ختم ہوجاتی ہے۔

روزمرہ کے معمولات میں بھی یہی انتہا پسندانہ سوچ دیکھنے کو ملنے لگی ہے پہلے ہم بیمار پڑتے تھے تو ڈاکٹر سے دوا لے آتے تھے اب اس میں بھی دو انتہائیں آگئی ہیں ایک گروپ ایک چھینک آنے پر بڑے سے بڑے ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے تو دوسرا گروپ قدرتی طور پر ٹھیک ہونے کے انتظار میں اپنی بیماری کو طول دیتا ہے ، ایک گروپ ڈھول تاشے لیکر اور لاکھوں روپے کا زیاں کر کے ننھی ننھی سی خوشیوں کو مناتا ہے تو دوسرا گروپ جشن آزادی پر قومی ترانے پڑھنا جائز ہے یا ناجائز کے سوال میں الجھا رہتا ہے اور خود بھی پریشان ہوتا ہے دوسروں کو بھی پریشان کرتا ہے۔
دو انتہاؤں کی تازہ ترین مثال پچھلے ہفتے ہی دیکھنے کو ملی جب لاہور میں رنجیت سنگھ کے مجسمے کو گرا کر نوجوان نے ایسے نعرے بلند کیے جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو اور دوسری طرف اسلام آباد میں قایداعظم کے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ساۓ تلے ایک جوڑے نے نیم عریاں تصاویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا جس میں مرد نے بھی جو برائے نام لباس پہنا ہوا تھا وہ زنانہ تھا اور موصوف سولہ سنگھار بھی کیے ہوۓ تھے اگر آپ لوگ اب تک کی میری بات نہیں سمجھے ہوں تو ذرا ان دوتازہ ترین واقعات کے بارے میں اپنے دوست احباب کی رائے پوچھ کر دیکھئے گا کوئی کہے گا کہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑنے والا ہیرو ہے سیدھا جنت الفردوس میں جاۓگا تو کوئی کہے گا اس نوجوان کو چوک میں الٹا لٹکا دو۔

اسی طرح نیم عریاں تصویر والے جوڑے کے بارے میں بھی کوئی کہے گا کہ دونوں کو کوڑے مارنے چاہیئں ، جیل میں بند کردیا چاہیے ، ہاتھ پاؤں کاٹ دو ان کی ہمت کیسے ہوئی کہ قائد اعظم کی نشانیوں کے سامنے انہوں نے ایسی حرکت کی ؟ تو کوئی کہے گا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ جیسے چاہیں جئیں اور جہاں جی چاہیں جو چاہے کریں یہ آزادی اظہار ہے۔

تو قارئین میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ یہ دو انتہائیں آخر ایک نہ ایک دن ہمیں کہاں تک لیجائیں گی اور ہم اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟

Facebook Comments Box
Noor Mukaddamنور مقدم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا طالبان کی فتح مغرب کی سلطنت کے خاتمےکا نکتہ آغاز بنے گی؟ —- ڈیوڈ ہرسٹ
next post
گیدڑ اور گیدڑی کا بیاہ —- احمد اقبال

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.