تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

شیخاواٹی اور راجپوتوں کے قصے – 8 —- عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 22/08/2021
written by دانش ڈیسک 22/08/2021
100

گذشتہ سے پیوستہ: اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اختر شیرانی نے "او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن” بھی اسی عرصے میں کہی گئی
۔ عذرا اور سلمی جیسی لازوال نظمیں کہنے والے شاعر فطرت اختر شیرانی بھی ٹونک کے باسی تھے۔

۔ 19 ویں صدی میں اس محل کی پہلی منزل دھونی فیملی نے تعمیر کرائی۔ مہاراجہ جے پور کا راج محل جدید دور کے ساتھ تاریخ میں بھی اہمیت رکھتا ہے، راجستھان کی شاہی ریاست کئی کہانیاں اور قصے اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ جے پور ایئر پورٹ سے 170 کلومیٹر پر واقع ہے۔ کوٹہ بھوندی، اور دیولی چھاونی بھی اس کے قریب ہیں اور ٹونک شہر بھی۔ راج محل گاﺅں کا نام بھی ہے اور اب راج محل پیلیس ہوٹل اینڈ ریزورٹ کا روپ دے دیا گیا ہے۔ راجپوت خاندان کی داستانیں بھی راج محل سے وابستہ ہیں۔ اورپریوں کی کہانی بھی۔ ٹونک والے بناس ندی کے کنارے راج محل پکنک منانے اور خربوزوں کی باڑ کھانے آیا کرتے تھے

ہمارا گاؤں بنیادی طور پر کوٹ پوتلی (والد کی طرف سے) اور بیراٹھ (والدہ کی جانب سے) ہے۔ بیراٹھ کا نام اب ہندوستان میں تبدیل ہوکر ویراٹھ کردیا گیا ہے۔ سوشیالوجی اور راجپوتانے کی تاریخ کی جستجو رکھنے والے رئیس اختر کہتے ہیں کہ راجپوتانے کے لوگ ہمیشہ سرکار کے مخالف اور خود سر رہے ہیں، اس لیے ان کو ایک ریاست کا درجہ دینے کے بجائے اس کے مختلف حصوں کو کاٹ کر ادھر ادھر بانٹ دیا گیا، کچھ پنجاب میں کچھ دوسرے صوبوں میں، بیراٹھ میں اکبر بادشاہ نے ایک دن قیام بھی کیا تھا۔

ہسٹری آف شیخاواٹ، میں ان علاقوں کا بیان کچھ اس طرح سے ہے۔ 16 ویں صدی میں 51 پارگنہ زمین( جس میں بہت سے گاؤں و دیہات شامل تھے) قائم خان جھنجونو سے ضبط کی گئی۔ جھوائی سنگھ کو 25 لاکھ روپے سالانہ اجارہ پر دے دی گئی۔ یہ رقم جھوائی سنگھ کو حکومت کو ادا کرنی تھی۔ جے پور اسٹیٹ کے ساتھ جو پارگنہ (parganas) تھے۔ ان میں کوٹ پوتلی، بیراٹھ، سنگھانا، فتح پور( جو جے پور سٹی سے شمال کی جانب 29 میل پر ہے) اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

اس پیراگنہ کی دوسری کہانی جو دوسرے معاصر میجر جیمز براؤن 1785 اور مونا لال نے ہسٹری آف شاہ عالم II نے لکھی ہے۔ یہ ہسٹری دہلی کورٹ میں فارسی میں لکھی گئی ہے۔ وہ کچھ یوں ہے۔ فتحپور کا منصب ڈوگر خان قائم خانی تھا۔ جب وہ دہلی سے واپس لوٹ رہا تھا تو اس کو اس کے حقیقی بھائی عبداللہ خان نے ریواڑی کے مقام پر اسے قتل کر دیا۔ اس واقعے کی شکایت دولت خان کی بیوہ نے شاہی دربار میں کی۔ جس پر جے پور آرمی نے اس اراضی کو قبضے میں لے لیا اور اس میں سے پانچ گاؤں دولت خان قائم خانی کی بیوہ کو دے دیئے۔ قائم خان ایک جنگجو اور ایک شاہی منصب دار تھا وہ شیخ واٹ کی جنگ میں اپنے 80 سرداروں کے ساتھ شریک رہا تھا۔ جن میں سے صرف ایک سردول سنگھ زندہ بچا۔ جس کو قائم خان نے اپنا معاون اور نائب بنا لیا۔ قائم خان اور بغداد کے افغان بادشاہ کے منصب دار تھے۔ لیکن یہ لوگ بہت مغرور اور نافرمان تھے اور احکامات کی خلاف ورزی کیا کرتے تھے اور جہاں انہیں جانے کا اور کام کرنے کا کہا جاتا تھا اس سے انکار کر دیتے تھے۔

اس لیے محمد شاہ نے جوائی سنگھ سے کہا کہ انھیں ان کے محلات سے نکال دو۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کر لو۔ شاہی حکم پر جے سنگھ نے سردول سنگھ کو حکم دیا کہ قائم خان سے لڑائی کرو اور جھنجونو کی زمین پر قبضہ کر لو۔ اس پر عمل کیا گیا۔ پارگنہ نار نول، کوٹ پوتلی وغیرہ شاہی وزیر قمر الدین خان حماد الدولہ کی جاگیر کا حصہ تھی۔ جے سنگھ کی درخواست پر وزیر نے ان پارگنہ کو 25 لاکھ سالانہ اجارہ پر دے دیا۔ اور اس بارے میں راجہ کو ایک سند دے دی۔ جے سنگھ سال بہ سال یہ رقم ادا کرتے رہے اور اس وقت سے یہ زمین جےپور حکومت کے پاس ہے۔

راج محل ایک تفریحی مقام تھا۔ یہ مہاراجہ جے پور کا موسم گرما کے پڑاؤ کا مقام تھا۔ میرے دادا یاسین خان اس راج محل کے آخری کیئرٹیکر تھے۔ دریا بناس جسے پہلے (Banas River)بناس ندی کہا جاتا ہے۔ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ، ، یہ خطہ زمین اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بھی حسین جمیل مترنم ردد بناس پرآباد تھا۔ جس کا ذکر امیر خسرو نے بھی کیا ہے۔ اس بناس نے گنگ جمن کی طرح کئی مدد وجزر دیکھے، اور کئی طوفانوں سے ہمکنار ہوئی۔ یہاں ہزاروں قافلے اترے، متعد عساکر، متعدد افواج اور مختلف قافلوں نے اس کو پار کیا۔ اس رود بناس نے طوفانوں کو بھی پناہ دی۔ (حوالہ امیر خسرو اور ٹونک از شوکت علی خان)۔ راج محل بناس ندی کے کنارےواقع ہے۔ اروالی پہاڑیوں کے نزدیک ساڑھے تین سو سال قبل رائے سنگھ سیسوڈا نے تعمیر کرایا تھا۔ جو مہارانا پرتاب کا پوتا تھا۔

یہ اس کی ذاتی جاگیر اور موسم گرما کا تفریحی مقام تھا۔ جسے اس مقام کی خوبصورتی کے سبب پسند کیا گیا تھا۔ بعد میں یہ مہاراجہ جے پور کی راج دھانی میں آگیا۔ جنہوں نے 1798 میں اس راج محل کو راﺅ سمبھو سنگھ کو دے دیا۔ 19 ویں صدی میں اس محل کی پہلی منزل دھونی فیملی نے تعمیر کرائی۔ مہاراجہ جے پور کا راج محل جدید دور کے ساتھ تاریخ میں بھی اہمیت رکھتا ہے، راجستھان کی شاہی ریاست کئی کہانیاں اور قصے اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ جے پور ایئر پورٹ سے 170 کلومیٹر پر واقع ہے۔ کوٹہ بھوندی، اور دیولی چھاونی بھی اس کے قریب ہیں اور ٹونک شہر بھی۔ راج محل گاﺅں کا نام بھی ہے اور اب راج محل پیلیس ہوٹل اینڈ ریزورٹ کا روپ دے دیا گیا ہے۔ راجپوت خاندان کی داستانیں بھی راج محل سے وابستہ ہیں۔ اورپریوں کی کہانی بھی۔ ٹونک والے بناس ندی کے کنارے راج محل پکنک منانے اور خربوزوں کی باڑ کھانے آیا کرتے تھے۔

دریائے بناس، راجھستان کا دریا ہے، 512 میل لمبائی پر محیط اس دریا کو وان کی آشا (جنگلات کی امید) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نشیب اجمیر، بھیل واڑہ، بوندی، جیتوگڑھ، اور ٹونک سے بھی گذرتا ہے۔ یہاں خربوزے کی باڑ ہوتی ہے۔ اس کے کنارے پر تھالا کی ماتا کا مندر بھی ہے، جو دیولی میں ہے۔ عذرا اور سلمی جیسی لازوال نظمیں کہنے والے شاعر فطرت اختر شیرانی بھی ٹونک کے باسی تھے۔

حافظ محمود شیرانی صاحب 1940 میں ملازمت سے سبک دوش ہوکرلاہور سے ٹونک واپس آئے تو اختر شیرانی صاحب بھی ٹونک آگئے تھے۔ تقریباً آٹھ سال ٹونک میں رہے، آزادی کے بعد 1948 میں لاہور آئے۔ قوی اندیشہ ہے کہ انہوں نے مسما ت عذرا اور مسمات سلمٰی وغیرہ اور ان کی سر گرمیوں کی تفصیلات کے بارے میں اس دوران طبع آزمائی کی ہو۔ صرف یہی نہیں، مشہور نظم "او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن” بھی اسی عرصے میں کہی گئی اور اس نظم کے درج ذیل بند میں جس دریا کا ذکر ہے وہ ٹونک کی بناس ندی ہی ہے:

کیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواں
دریائے حسیں لہرائے ہوئے
جوں گود میں اپنے من کو لیے
ناگن کوئی تھرائے ہوئے
یا نور کی ہنسلی حور کی گردن
میں ہو عیاں بل کھائے ہوئے

اس پوری نظم میں ٹونک کی معاشرت اور تاریخ کے کئی حوالے ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ” شعلہء مستعجل، اختر شیرانی”، در کتاب : ” کہاں سے لاؤں انھیں”، مصنفہ: مظہر محمود شیرانی (پسر جناب اختر شیرانی)۔ (عبدالسلام سلامی) ٹونک کے ادیب، شعراء، شہری، روسا بناس ندی کے کنارے تفریح کرنے اکثر جاتے تھے۔ بناس ندی اور ٹونک تاریخ میں مشہور ہیں۔ ٹونک کا قدیم نام، ، ٹونکرے، ، ہے۔ یہ بادشاہوں، سلطان کے عساکرفتوحات کے دوران چھاونی اور چراگاہوں کا کام بھی دیتے رہے۔ اس پر کبھی مالاوا، کبھی سولنگی، کبھی چوہان، کبھی پنوار، کبھی مرہٹے، کبھی پٹھان راج کرتے رہے، قدیم ٹونک کی تاریخ سے پتی چلتا ہے کہ یہ ہزاروں سال سے آباد تھا۔ ٹونک کے گاؤں، مہوا، نانیر اور سبنھلتی سے لوہے کی قدیم اشیاء برامد ہوئی ( خرائن الفتوح (باب تاریخ جہانگیر فتح چتوڑ)

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

Facebook Comments Box
ٹونکراجپوتشیخاواٹی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
افغانستان میں امریکی ذلت عالمی تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ —- پیٹر اوبورن
next post
شوق، شغل اور عیاشی —– کومل راجہ

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.