تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

بگرام کا عقوبت خانہ جسے گوانتا مامو’ٹو‘بھی کہا جا تا ہے — غازی سہیل خان

by دانش ڈیسک 13/07/2021
written by دانش ڈیسک 13/07/2021
82

سوویت یونین کی شرمناک شکست کے بعد دنیا کی ایک اور دیوہیکل سامراجی طاقت امریکہ نے ایک جھوٹا بہانا تراش کے مسلمانوں سے ازلی دشمنی کی بنا پہ دسمبر2001ء میں افغانستان پر حملہ کرکے اپنی ملکی فوج کے ساتھ ساتھ دنیا کے اکتالیس ممالک کی نیٹو فوج کوبھی افغانسان کی سرزمین پر اُتار کر کشت و خون کا بازار گرم کر دیا۔ یہ محض ایک حملہ نہیں تھا بلکہ افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ایک منظم پروگرام تھا جس کی بنا پہ امریکہ نے افغانستان پر ہزاروں ٹن بارود برسا یا اور لاکھوں افغانیوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔ اس سفید شیطان نے بغیر ایٹم بم کے دنیا کا ہر ایک ہتھیار اور بارود افغانستان پر برسا کر کھنڈارت میں تبدیل کر دیا۔ یعنی دنیا میں عظیم ترین مجرم اگر آج کی تاریخ میںکسی کو مانا جائے گا تو وہ یہی امریکہ ہوگا۔ اسی ظالم سامراج نے دنیا میں جہاں بھی چاہا مسلمانوں کا قتل عام کیا اور جہاں پہ براہ راست یہ داخل نہیں ہو پایا وہاں پہ اس نے اپنے پالتو ایجنٹوں کی اور سے انسانیت کو تباہ کروانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ وہ چاہے عراق ہو یا شام یا افغانسان جہاں پہ آج بھی امریکی ہتھیاروں سے انسانی جانوں کے چیتھڑے ہوائوں میں اُڑتے نظر آ رہے ہیں۔ افغان جنگ میں رپورٹس کے مطابق اب تک ایک اندازے کے مطابق 47؍ہزار افغان شہری اور 70؍ہزار کے قریب افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 25؍سو کے قریب امریکہ فوجی اور 3800؍سے زائد امریکی نجی سیکورٹی ٹھیکے دار بھی اس جنگ کی نذر ہو گئے ہیں۔ اور دیگر نیٹو افواج کے 1200؍کے قریب فوجی اس جنگ میں کام آئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ 20؍کھرب 260؍ارب ڈالر کی خطیر رقم بھی اس سامراج نے نہتے مسلمانوں کے قتل عام پر خرچ کیے ہیں۔ امریکہ ایک ایسا ظالم سامراج ہے جس نے دنیا میں انسانیت کے قتل کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اذیت ناک سزائوں کا بھی بندو بست کر کے رکھا ہے۔ خاص طور سے 9؍11کے بعد سے دنیا میں اس سفید سامراج نے مسلمانوں کو دنیا کے تین عقوبت خانوں میں اذیت ناک سزائوں سے دو چار کیا جن میں سے کیوبا کے جزئرے میں گوانتا ناموبے، عراق میں اُبو غریب اور افغانستان میں بگرام قابل ذکر ہیں۔ ہم آج بگرام کے متعلق گفتگو کریں گے۔ بگرام کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے تین سو سال قبل مسیح آباد ہونے والا یہ شہر گندھارا تہذیب کا مسکن تھا۔ دارالحکومت کابل سے 25؍کلو میٹر شمال میں واقع بگرام اب صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار کے مضافاتی علاقہ درہ پنجشر کا دہانہ ہے۔ یہ طویل وادی پنجشر افغان تاجکوں کا علاقہ ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بگرام کا فوجی اڈہ 1980ء کی دہائی میں سوویت افواج نے افغانستان پر حملے کے بعد قائم کیا تھا۔ یہ کابل سے چالیس کلو میٹر شمال میں ہے اور اس کا نام ایک قریبی گائوں کے نام پر ہے۔ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے دسمبر 2001ء میں یہ اڈہ حاصل کیا اور اسے 10؍ہزار فوجیوں کی رہایش گاہ کے قابل بنایا۔ اس کے دو رن وے(run way)ہیں جن سے نیا رن وے 3.6کلو میٹر طویل ہے جہاں بڑے کارگو اور بمبار جہاز لینڈ کر سکتے ہیں۔ ایسوسیٹدپریس کے مطابق اس میں طیاروں کی پارکنگ کے لئے 110؍جگہیں ہیں جن کی حفاظت کے لئے بم پروف دیواریں ہیں۔ پچاس بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال ہے، ٹراما مرکز ہے، تین آپریشن تھیٹر ہیں اور ایک جدید دانتوں کا کلینک بھی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بہت ہی خوبصورت اور جدید آلات سے لیس زندگی کی ہر ایک ضرورت کو پورا کرنے والا یہ اڈہ ہے یہ تو اس اڈے کا ایک رُخ ہو اجب ہم اس اڈے کا دوسرا پہلو دیکھتے ہیں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس اڈے کو کیوبیا میں واقع بدنام زمانہ امریکہ فوجی جیل کے نام پر ـ’’افغانستان‘‘ کاگوانتا نامو کہا جاتا ہے۔ اسی بگرام کے عقوبت خانے میں مظلوم افغانیوں پر ظلم و ستم اور دردناک تشددکی چیخیں، آئیں اور سسکیاں آج بھی انسانی ضمیر کو جھنجوڑ کے رکھ دیتی ہیں۔ یہ اڈہ آج بھی افغانستان کے لئے خوف کی علامت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افغانی والدین اپنے بچوں کے رونے کے دوران اسی جیل کا نام لے کے اُن کوڈرا کر چُپ کراتے ہیں۔ پاکستان کے ایک تجزیہ نگار مسعود ابدالی نے اپنے ایک مضمون میں اسی بگرام کے متعلق لکھا ہے کہ ’’اسی کے ساتھ بگرام کے ایک حصے میں وہ قید خانہ بھی ہے، جس کی سرگرمیوں کے بارے میں جب ایک رپورٹ امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی تو کیلی فورنیا کی سینیٹر محترمہ ڈائن فینسٹائن اجلاس سے یہ کہتے ہوئے اٹھ گئیں کہ ان کے لیے اسے سننا ممکن نہیں۔ باہر آکر آنسو پونچھتے ہوئے انھوں نے حیرت سے پوچھا ’’کیا یہ سب کچھ ہماری سی آئی اے کرتی تھی؟‘‘ یہاں تشدد کے لیے مصری فوج کے جلاد بلائے گئے تھے۔ آگے لکھتے ہیں کہ امریکی حملے کے ابتدائی دس سالوں تک پاکستان اور افغانستان سے شہریوں کا لاپتا ہوجانا عام تھا، اور ان کا سراغ بگرام کی کسی کوٹھری ہی سے ملتا تھا۔ ایک سیاسی کارکن نے اس جیل میں 6؍ سال گزارے ہیں۔ اس نے (وائس آف امریکہ) VOA سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ بگرام کا نام سنتے ہی میرے کانوں میں درد بھری چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ امریکی سی آئی اے نے فلپائن، تھائی لینڈ اور مشرقی ایشیائی ممالک میں کئی جگہ عقوبت کدے بنا رکھے ہیں جنھیں کوچہ سیاہ یا dark sites کہا جاتا ہے، لیکن نائن الیون کے بعد طالبان اور القاعدہ کے افراد پر تشدد کے لیے کیوبا کے جزیرے گوانتاناموبے، عراق میں ابوغریب جیل اور افغانستان میںبگرام خصوصی مراکز قائم کیے گئے۔ اِس وقت بھی کئی ہزار قیدی بگرام میں بند ہیں۔ ‘‘

غرض وقت گزرتا گیااور آج تاریخ نے وہ دن دیکھ لیا جب دنیا کا طاقت ور ملک اپنے درجنوں اتحادیوں سمیت ان چند افغانیوں سے شکست کھا کے رات کی تاریکی میں بھاگ گیا۔ ان باغیرت افغانوں کے پاس جدید ہتھیار اور زندگی کی دیگر عیش و عشرت والی چیزیں مہیا نہیں تھیں اگر کچھ تھا جس کے سبب دنیا کی ’’سلطنتوں کا قبرستان‘‘ افغانستان بنا تو وہ محض ایمانی غیرت تھے جس نے ان کو دنیا کے اس سامراج کے سامنے جھکنے نہیں دیا۔ غرض امریکہ انتہائی شرمناکی کی حالت میں افغانستان کو چھوڑ کر اس جنگ میں بُری طرح سے پٹ گیا وہیں دوسری اور طالبان اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ افغانستان پر قبضہ جما رہا ہے۔ اور اب طالبان کے پہلے نشانے پہ یہی بگرام ائیر بیس ہوگا۔ اور اب اس اڈے کا انتظام کابل سرکار کے پاس ہے۔ طالبان نے بھی بگرام پر قبضے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بگرام کے جنوب مشرق میں کوہ صافی کے بڑے علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے اسی طرح سے جنوب میں بھی افغان فوج اور طالبان کی شدید جھڑپوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ اب افغان سیکورٹی فورسز کے لئے بگرام کو بچانا ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ بی بی سی کے مطابق بگرام اہم ہے علامتی طور پر بھی اور اسٹر یٹجک اعتبار سے بھی۔ ملک کے مختلف ضلعوں میں پیش قدمی کر رہے طالبان جنگجوئوں کی نظر اسی انعام پر ہے۔ گذشتہ اکتوبر بھی اس اڈے کے ارد گرد شہر کے لوگوںنے ہمیں بتایا تھا کہ طالبان اُن کے درمیان ہی ہیں۔‘‘ یعنی طالبان نے افغان فوج کو ایک طرح سے باندھ کے رکھا ہے جس کی وجہ سے کابل کو بگرام کی اور مزید کمک بھیجنا مشکل ہو گیا ہے۔ وہیں دوسری اور افغان صدر اشرف غنی کے لئے بگرام کا طالبان کے قبضے میں جانا کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا جس کے لئے اشرف غنی امریکہ کی مدد سے طالبا ن کے ساتھ جنگ میں شدت لا سکتے ہیں۔ مجموعی طور پہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ طالبان کے ہاتھوں بدترین قسم کی شکست کھا چُکا ہے اوراب اشرف غنی بھی رہی سہی ہزیمت اپنے کھاتے میں ڈالنے کا خواہاں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ طالبان کب اور کتنے وقت میں بگرام ائیر بیس پہ قبضہ جما کے کابل کی فتح کے لئے اپنی راہ ہموار کر سکتا ہے؟

Facebook Comments Box
bagram jail
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بابو جی —– عطا محمد تبسم
next post
قریش کا نظامِ ایلاف : ایک معاہدہ جس نے عرب کی تاریخ اور قسمت بدل دی — وليد فكري / ترجمہ: تنویر آفاقی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.