تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

لباس، خواتین اور جنسی ہراسگی — علی عبداللہ

by علی عبداللہ 26/06/2021
written by علی عبداللہ 26/06/2021
197

لباس کی اہمیت اسی روز شروع ہو گئی تھی جب شجر ممنوعہ کھانے پر آدم و حوا کو برہنگی کے باعث اپنے بدن جنت کے پتوں سے چھپانا پڑے (وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘) اور پھر یہیں سے لباس اور حجاب کی بحث نے جنم لیا جو آج تک زیر بحث ہے۔ مرد و عورت کے مابین ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کو جہاں مختلف مذاہب نے اصول و ضوابط پیش کیے، وہیں ظاہری طور پر مرد اور عورت کے لیے لباس کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ کوئی بھی الہامی مذہب شرم و حیا اور لباس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں پیچھے نہیں رہا چاہے وہ عیسائیت تھی یا یہودیت یا پھر اسلام، تمام مذاہب نے باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی محفوظ اور پاکیزہ بنانے پر زور دیا ہے۔ پست ترین قوموں میں بھی لباس کی اہمیت برقرار رہی اور ایسی قوموں نے جنگلوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی سمجھ بوجھ اور مرتبے کے مطابق لباس وضع کیے تاکہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور حیا کا تصور برقرار رکھا جا سکے۔ سینٹ پال نے لکھا کہ،

"I want women to adorn themselves with proper clothing.”
یہاں سینٹ پال نے لفظ پراپر کلاتھنگ ( proper clothing) کی تشریح کچھ یوں کی ہے،
"Modesty and Discreetly”
یعنی خواتین کو سجاوٹ کے لیے ایسا مناسب لباس استعمال کرنا چاہیے جو شائستہ اور عمدہ ہو۔ تلمود جو کہ یہودیوں کی اہم مذہبی کتاب ہے، اس کے مطابق،
"people of Israel are known as merciful, bashful and benevolent”
"ایلزبتھ بیر” جو کہ ایک یہودی ربی ہیں ان کے مطابق یہاں لفظ "bashful” کا مطلب ہے مناسب لباس پہننا۔ اسلام کی بات کریں تو قران کہتا ہے،
"یا بنی آدم قد انزلنا علیکم لباس یوری سوءتکم و ریشا”
اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے زینت ذریعہ بھی ہو۔ یہاں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ لباس جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ہمیں محفوظ بنانے اور شرم و حیا کو برقرار رکھنے کا باعث ہے۔

لباس جسم انسانی کو خوبصورتی بخشتا ہے اور اسے طمانیت کے احساس سے روشناس کرواتا ہے۔ انسانی جذبات پر لباس کا گہرا اثر ہے، اسی لیے سیاہ لباس، سفید لباس، سرخ لباس وغیرہ مختلف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ بسنت اور بہار کی مناسبت سے پیلے اور تیز رنگوں والے لباس استعمال کیے جاتے ہیں۔ جذبات برانگیختہ کرنے والے کئی اقسام کے لباس جدید دنیا میں رائج ہیں جو انسانی جذبات کو بھڑکا کر جنسی طور پر انھیں مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ آپ کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین کے لباس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملیں گی کیونکہ جذبات کو ابھارنے میں یہ لباس نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فرائڈ کے مطابق

"ہمارے اکثر افعال کی رہنمائی عقل نہیں کرتی۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، جو کچھ ہم خواب میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، ان کا تعین اکثر اوقات ہماری غیر عقلی جبلتیں جنھیں ترنگ یا من کی موج بھی کہا جا سکتا ہے، کرتی ہیں۔ اس قسم کی غیر عقلی جبلتیں بنیادی انگیختوں یا ضروریات کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً شیر خوار بچےکا ماں کا دودھ چوسنے کی جبلت بنیادی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جنسی انگیخت بھی بنیادی ہو سکتی ہے”۔

جنس مخالف کی جانب مائل ہونے کی بہت سی نفسیاتی، حیاتیاتی اور فطری وجوہات ہیں اور انہی عناصر کو مزید تقویت دینے کے لیے مختلف انداز کے لباس مستعمل ہیں۔ جب ایک لباس آپ کو محفوظ ہونے کا احساس دلا سکتا یا آپ کو مذہبی اور کسی خاص قوم یا طبقے کا فرد کہلوا سکتا ہے تو یقیناً لباس انسان کے جذبات کو بھی ابھار سکتا ہے۔ لہذا یہ بحث ہی نہیں کہ لباس کا جنسی جذبات پر کوئی اثر ہے یا نہیں، یہ حقیقت ہے کہ لباس جنسی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس جنسی ہراسگی کی وجہ ہے؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ ریپ اور ہراسگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ لباس بھی ہے۔ پوری دنیا میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق خواتین کا چست اور مختصر لباس ہراسگی اور ریپ کی وجوہات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ "Grammer et al. 2004” کے مطابق کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص لباس مردوں کو جنسی طور پہ لبھانے اور اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیےاستعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق جو کہ 20سال سے 68 سال کی خواتین سے انٹرویو کے ذریعےکی گئی، میں بتایا گیا کہ خواتین لباس، کاسمیٹکس اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے جنسی جذبات کو ظاہرکرتی ہیں۔ 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق (Gueguen 2011) کے مطابق مختصر اور چست لباس پہننے والی خواتین کی جانب لوگ سب سے زیادہ متوجہ ہوئے جبکہ ڈھیلے اور مکمل لباس پہننے والی عورتوں کے جانب بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جو جوان عورتیں مختصر اور اعضا کو ظاہر کرنے والے لباس پہنتی ہیں وہ بہت زیادہ جنسی جرائم کے خطرات سے دوچار ہوتی ہیں (Vali and Rizzo)۔ ورک مین اور جانسن کی تحقیق جس میں مرد و عورتوں کو دو تصاویر دکھائی گئیں، ایک تصویر میں مختصر اور چست لباس والی خاتون جبکہ دوسری تصویر میں عام ڈھیلے ڈھالے لباس والی خاتون موجود تھی۔ دیکھنے والے مردوں اور عورتوں نے پہلی تصویر میں موجود مختصر لباس والی خاتون کو جنسی ہراسانی پر اکسائے جانے کی وجہ قرار دیا۔ ایسی ہی چند تحیقات مراکش، افریقہ اور ہندوستان میں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سی خواتین اس بات سے متفق تھیں کہ چست اور مختصر لباس جنسی ہراسگی کا سبب بنتا ہے۔ لباس اور جنسی ہراسگی کے مابین تعلق پر بہت سے نظریات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں ایٹری بیوشن تھیوری، آبجیکٹیفکیشن تھیوری اور فیمینسٹ تھیوری وغیرہ شامل ہیں۔ 2018 کی تحقیق کے مطابق مختصر اور غیر مناسب لباس میں ملبوس عورت کم ذہین، کمزور کردار اور کم اہل سمجھی جاتی ہے۔

اس ساری بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسگی میں ہمیشہ عورت ہی ذمہ دار ہوتی ہے اور مرد بیچارہ بے قصور ہے۔ جنسی جرائم کی بے شمار وجوہات ہیں اور مرد ہمیشہ اس میں شامل ہوتا ہے، لیکن لباس کو اس سارے معاملے سے نکال دینا اور اس کی اہمیت سے انکار کرنا خطرناک بات ہے۔ جو لوگ بچوں سے زیادتیوں کی مثالیں دیتے ہیں اور لباس کو جنسی ہراسگی کی وجہ نہیں مانتے، وہ بھی درحقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ، فلمیں، فیشن شو اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لایئکی اور سنیک ویڈیو پر پیش کیے جانے والے پروگرام اور ویڈیوز میں اکثریت ایسے مواد کی ہوتی ہے جو مسلسل جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں اور جن میں ماڈلز اور اداکاروں نے پرکشش اور چست و مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام آدمی مسلسل جب ان کو دیکھتا ہے اور جنسی طور پر مشتعل ہوتا ہے تو پھر اس کے سامنےجو موقع آئےوہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس طرح آسان ترین شکار انہیں چھوٹے بچے بچیاں نظر آتے ہیں جنہیں وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ دوسری دلیل لوگ مغرب کی پیش کرتے ہیں کہ وہاں تو ہے ہی مختصر لباس تو پھر وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ ریپ اور ہراسگی کے سب سے زیادہ واقعات یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا مختلف وجوہات کی بنا پر پیش نہیں کرتا۔ پھر وہاں زنا بالرضا پر کوئی روک ٹوک نہیں اور اکثریت اسی پر گزارہ کرتی ہے۔ سخت قوانین اور سزائیں صرف جبراً زیادتی پر ہیں۔ اس کے باوجود اس معاشرے میں جنسی جرائم کی شرح بلند ہونا حیران کن ہے۔ اور تحقیقات نے ثابت بھی کیا ہے کہ لباس ان واقعات کے پیش آنے میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلکسس کاریل کے مطابق لوگ ان قوانین طبعی کی مخالفت کرتے ہیں جن کو اسلامی زبان میں کائناتی سنتیں کہا جاتا ہےاور اس نتیجے میں تہذیبی و اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔

مغربی اثر و رسوخ کی بنا پر ہمارے ہاں بھی چونکہ اب عورت آزادی کے نام پر پرانی کسان عورت کی طرح ماں کے کردار اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور بقول ایک عرب سکالر کے، وہ ابسن کی عورت کی طرح دوست، گرل فرینڈ اور ساتھی بننے کو جدت سمجھتی ہے۔ حالنکہ یہ مغرب کا مسئلہ تھا کہ امریکی عورت کسی قیمت پر تقریب میں حاضری ترک نہیں کرتی، پیرس کی معزز عورت ڈرتی ہے کہ اس کا عاشق اسے چھوڑ نہ جائے اور ابسن کی ہیروئن اپنی ذات کے علاوہ کسی کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتی، لیکن اب مشرقی عورت بھی اس ڈگر پر چلنے کو پر پھیلا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زنا بالجبر ہو یا بالرضا، دونوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس پر سزائیں مقرر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے قائل افراد کو صرف مرضی کے بنا کیے گئے فعل پر اعتراض ہوتا ہے اور انہیں سخت سزا دیے جانے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے استوار کیے گئے جنسی تعلقات پر اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر لاگو شرعی سزا پر بات کی جاتی ہے۔ لباس میں آئے روز جدت کے نام پر عجیب و غریب انداز اپنائے جا رہے ہیں جو شرم و حیا سے عاری ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے عورت کو شائستہ اور عمدہ لباس پہننے کی تلقین کی ہے جس میں اس کے اعضا ظاہر نہ ہوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اب ان دونوں احکامات پر بیک وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ صرف نگاہیں نیچی کرنے پر زور دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ہراسگی, صنف نازک اور فیشن-------- ڈاکٹر مریم عرفان
Facebook Comments Box
featuredLess Clothes and harassmentجنسی ہراسگیخواتین کا لباس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
جدیدیت اور نوآبادیات کی کہانی، کچھ ان کی کچھ میری زبانی — نوشین قمر
next post
ٹرین حادثات کیوں ہوتے رہیں گے؟ — نعیم صادق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.