تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

داڑھی والا، عام مسائل پر عام فہم کالم اور بلاگ — نعیم الرحمٰن

by دانش ڈیسک 16/06/2021
written by دانش ڈیسک 16/06/2021
101

حسنین جمال نوجوان پاکستانی کالم نگار، بلاگر اور وی لاگر ہیں۔ 23فروری 1981ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی مراحل ملتان میں طے کیے۔ 2002ء میں ایم اے ماس کمیونیکیشن بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے کیا۔ 2011ء میں ورچوئل یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹر یشن کی ڈگری لی اور تاحال آئی بی اے کراچی کی مختلف صحافتی ورکشاپس سے کسبِ فیض جاری ہے۔ پہلی نوکری بحیثیت استاد کی۔ اس کے بعد انشورنس، کونٹیکٹ لینز، ایکسپورٹ کوالٹی گارمنٹس، ویکسین، دوائیاں اور متفرق کام کیے۔ 2005ء میں دورانِ ملازمت تبادلے پر لاہور چلے گئے۔ 2019ء میں رزق اسلام آبادلے آیا۔ چکی کی مشقت کے ساتھ مشقِ سخن بہرطور جاری تھی۔ نرسری پریپ سے کہانیوں کی کتابیں پڑھتے براستہ عمران سیریز، سسپنس، جاسوسی و سب رنگ ڈائجسٹ ادبی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسکول کے دنوں میں نیشنل سینٹر اور ریڈیو پر کام کیا۔ پہلی تحریر 2002ء میں کسی روزِ سعید نوائے وقت کے سلیم نازصاحب نے چھاپی۔ 2001ء میں والد پر لکھا گیا خاکہ، ان کی پہلی پہچان بنا۔ اب تک کئی خاکے، کہانیاں، بلاگ اور کالم تحریر کرچکے ہیں۔ ’’ایوان اردو دہلی‘‘ اور ’’ادب لطیف‘‘ سمیت موقر ادبی جریدوں میں شائع ہونے کا شرف حاصل رہا۔ آکسفرڈکے زیرِ اہتمام ہم عصر افسانہ نگاروں کے انتخاب بنام ’’کوزہ‘‘ میں ان کا ایک افسانہ شامل کیا گیا۔ 2013ء میں آن لائن لکھنے اور ایڈیٹنگ کی دنیانے ان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ ثقافتی، سماجی، ادبی اور روزمرہ مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ آج کل کتابوں پر وی لاگ تبصرے کرنے اور اپنے ہفتہ وار کالموں کی وجہ سے پہنچانے جاتے ہیں۔ ’’داڑھی والا‘‘ ان کی پہلی کتاب ہے جس میں ان کی ساری تحریروں کا نچوڑ شامل ہے۔

حسنین جمال نے اپنے منفرد، سادہ اورشگفتہ طرزِ تحریر سے قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کرلی۔ وہ اپنے کالمز اور بلاگز میں زندگی کے روزمرہ مسائل کو عام فہم انداز میں ایسے پیش کرتے ہیں کہ قاری محسوس کرتاہے۔ ’گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔ ‘ان کی تحریروں میں غیرضروری لفاظی اور دانشوری کے بجائے ایسے امور کابیان ہوتاہے، جن سے ہر فرد دوچار ہوتا رہتا ہے۔ اس بیان میں شگفتگی کی لہر قاری کا لطف دوبالا کر دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم مدت میں حسنین جمال نے قار ئین کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے۔ ان کے کالمز، بلاگز اور خاکوں پر مبنی پہلی کتاب ’’داڑھی والا‘‘ بک کارنرجہلم نے اپنے روایتی حسنِ طباعت کے ساتھ شائع کی ہے۔ تین سو اڑسٹھ صفحات کی بہترین کتابت، جلدبندی اور سرورق سے آراستہ کتاب میں حسنین جمال کی اٹھاسی تحریریں شامل ہیں۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ آٹھ سو روپے قیمت موجودہ دورکے لحاظ سے کم ہے۔ کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا پہلا ایڈیشن چالیس دن میں ختم ہوگیا اور دوسرا ایڈیشن چنددن میں منظر عام پرآنے والا ہے۔

’’داڑھی والا‘‘ کے انتساب میں حسنین جمال نے اپنی فیملی کا تعارف منفرد انداز میں کرایا ہے۔ ’’جمال اور تنویر کے نام، جو میرے ابو اور امی ہیں۔‘‘، ’’اوما اور آئلہ کے نام، جومیری شریک حیات اور بیٹی ہیں‘‘، ’’خاور اور ہما کے نام، جو میرے بھائی اوربہن ہیں‘‘، ’’سیما باجی کے نام، جو میری پھپھو ہیں‘‘ ہم سب اکھٹے رہتے تھے، اب تین شہروں میں ہیں، رزق تیراشکر، وقت تیراشکر۔ ‘‘اس طرح انتساب میں ہی اہل ِ خانہ سے گہری وابستگی اورالگ شہروں میں رہنے کی وجہ بھی بیان کردی۔

کتاب کا انتہائی دلچسپ پیش لفظ حسنین جمال نے’’یہ کون ہے داڑھی والا؟‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔ ’’جدھر جاؤں سب سے پہلے یہی سوال کانوں تک پہنچتاہے۔ فرض کیجئے میں پشاورمیں ہوں، ننھیال میں کوئی فیملی فنکشن ہے، وہاں بی یہی سوال پوچھاجارہاہوگا۔ کوئی بتائے گا، ’’اے بے بی باجی داپترہے‘‘، اس کے بعد ایک لمبی سی’ہلااا‘‘ ہوگی۔ پھر سفیدبالوں اورحلیے پہ افسوس، حیرت یاخوشی کااظہارکیاجائے گا۔ ملتان میں ددھیال کی برادری ہے۔ کوئی خوشی غمرہو، جاکربیٹھ جاؤںتواگلے دن خبرملتی ہے کہ فلاں نے پوچھا، ’’کیا جمال کابیٹا سکھ ہوگیا ہے؟‘‘ چیزے لینے والو! تمہاری خیرہو۔ مجھے توخاک فرق نہیں پڑتا، امی بے چاری کیلیے میری ٹوپی میں ایک اورپرلگ جاتاہے۔ یاروں کو عیب ڈھانپنے والی چھتری لگتی ہے یہ داڑھی۔ اجنبیوں کواس میں پراسراریت لگتی ہے۔ ویگن میں بیٹھوں تو ’صوفی صاب‘، بازار میں ’مولی صاب‘، فقیر آواز لگائے تو’حاجی صاب‘ دکان والوں کا ’چاچو‘ یا ’انکل‘۔ زندگی الحمداللہ ایک فلم کی طرح چلتی جارہی ہے جس کا ہر کردار میں خود ہوں۔ داڑھی والے کے بارے میں جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے داڑھی کاقصہ جان لیں۔ بچپن میں بختی ماموں کی داڑھی مجھے بہت پسندتھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پشاور، مری، سوات کہیں جائیں۔ لے کرجانے والے بختی ماموں ہوتے تھے۔ ماموں غصے کے تیزتھے، اس غصے پران کی داڑھی کمال سجتی اورشخصیت مجموعی طور پر فل دبنگ قسم کی نظرآتی۔ میں بختی ماموں سے شدید ڈرتاتھا۔ بلکہ شایدڈرتاہی ان سے تھا۔ اصولی طور پر آپ جس سے ڈرتے ہیں، اسے پسند نہیں کرتے۔ لیکن سالم ماموں کا، ان کی داڑھی سمیت، میں بچپن سے عاشق تھا۔ کوئی پوچھتابڑے ہوکرکیاکرناہے؟ توجواب آتاکہ بختی ماموں جیسی داڑھی رکھنی ہے۔ باقی بننا وننا کیا ہے، تب بھی ٹینشن نئیں تھی، نہ اب ہے۔ الن فقیر، ٹیگور، مارکس، اوشو، عنایت خان، ناناپاٹیکر اور ٹالسٹائی کو پہلی نظر میں پسند کرنے کے پیچھے بھی شایدیہی نفسیاتی مسئلہ ہو۔ فن کا معاملہ بہت بعد کا تھا، وہاں کوئی اختلاف بھی کرسکتا ہے، دماغ کو توداڑھی سے مطلب ہوگا۔‘‘

پیش لفظ میں مصنف اورداڑھی کے اس دلچسپ تعارف کے بعدکون بدبخت قاری ہوگاجو’’داڑھی والا‘‘ کوختم کیے بغیر چھوڑدے۔ معروف فکاہیہ کالم نگارگل نوخیزاختر کا کہناہے۔ ’’مجھے حسنین جمال کا مکمل قاری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تصنع سے عاری، دوٹوک تحریران کاخاصا ہے اورسب سے بڑی بات کہ انھیں اپنی بات کے ابلاغ پر مکمل عبور حاصل ہے۔ ان کی تحریرکاحُسن وہ بظاہرچھوٹے چھوٹے معاشرتی موضو عات ہیں جن کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ وہ ملتانی مٹی سے ابھرے ہیں اسی لیے ان کی تحریر اور گفتگو دونوں سوندھی سوندھی خوشبو سے لبریز ہیں۔‘‘ جبکہ کالم نگار اور دانشور وجاہت مسعود نے امیدظاہرکی ہے۔ ’’حسنین جمال اردونثرکی تازہ امید ہیں، لفظ کا احترام کرتے ہیں اور خیال کاتعاقب، لکھتے رہے توبہت دُورتک جائیں گے۔‘‘

معروف صحافی اور کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی نے مصنف کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہیں۔ ’’حسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تویہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواترکے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سوفی صدیاچلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچیانو ے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کی دوتہائی سے زیادہ کالم/ بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پرمیں لکھ پاتا، مگر پھر سوچاکہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کاخاصاہے۔ حسنین جما ل کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثرمیںکمال درجہ بے ساختگی ہے، یوں لگتاہے جیسے مصنف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گل افشانی کر رہاہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوارگِرا کر ان کاحسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کرلیتے ہیں جوہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اورپھران پر نہا یت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے، مگرجس سلیقے اورشائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثرکن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کامجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بی صاحبِ ذوق کی لائبریری کاحصہ بن سکے۔‘‘

اردو کے مشہور مزاح نگار، شاعر اورکالم نگار عطاالحق قاسمی کے صاحبزادے منفردکالم نگاریاسرپیرزادہ نے کتاب اور صاحبِ کتاب کے بارے میں تحریرکیا ہے۔ ’’حسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہراؤ اورچاشنی ہے۔ زیرِ نظرکتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پرشائع ہوئے تھے۔ ایک تحریرتواب تک نہیں بھولتی’’محرم توسب کاہوتاتھا۔ ‘‘حسنین جمال نے قلم توڑدیاتھا۔ پڑھ کربے ساختہ فون کیااورداد دی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ اداکرتے ہوئے بولا، ’’یہ نومضامین کی سیریزکاحصہ ہے جومحرم کے حوالے سے مختلف موقعوںپرلکھے۔ کبھی محرم پر لکھنے بیٹھتا ہوں توحسنین جمال کی یہ تحریریادآجاتی ہے، خدایااس سے بہتراب کیالکھاجائے گا۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہوگا۔ کتابوں کے سرورق پررائے عموماً مبالغہ آرائی پرمبنی ہوتی ہے مگراسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صفِ اول کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریرمیں بعض اوقا ت غیرضروری طورپرانگریزی کے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں، شایدیہ آج کے دورکی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کویہی مشورہ دوں گاکہ اس سے اجتناب کرے اوراگر کہیں انگریزی لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یارلوگ بادل نخواستہ مانع حمل نسخے استعمال کرتے ہیں۔‘‘

عامر خاکوانی اوریاسرپیرزادہ جیسے مستنداورمعروف اورصاحبِ کتاب کالم نگاروں کی جانب سے پیش کیاگیایہ خراجِ تحسین حسنین جمال کی تحریر کی خوبیوں اورحسن تحریرکاآئینہ دارہے۔ ’’ابا کاا یک خاکہ‘‘ حسنین جمال کی پہلی اور ’’داڑھی والا‘‘ میں شامل آخری تحریرہے۔ ذرا پہلی تحریر کا دیکھیں، خدوخال سے لیکر عادات کا مختصر ذکر عمدگی سے کیاہے۔ ’’ کشادہ پیشانی، ابروگھنے، چمپئی رنگت، خط سبزبتدریج مائل بہ سفید، مونچھیں ایوب خان نما، میانہ قد، لہجے میں ناگپوراورملتان کی تمام تہذیب سمیٹے، شاہ حجرہ مقیم، مستقل کتابوں میں غرق، ٹی وی اوربچوں کے شورسے قدرے دوررہنے کی ہمہ دم کوشش میں مصروف، یہ ہیں ہمارے ابا۔ دادی کے لاڈلے، تین بہنوں کے اکلوتے بھائی، شادی کے بعدپانی والا حمام اٹھاکر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا پڑا تو بقول امی، دادی توروپڑیں کہ ہائے میرامنا! کیاکیاسخت کام کرنے پڑرہے ہیں! آپ ان کے بسترپرایک چنے کے برابرکوئی چیز چادر کے نیچے رکھ دیجیے، حتیٰ کہ ڈبل روٹی کے ذرے تک کیوں نہ ہوں، جب تک وہ اچھے طریقے سے ان کو ہٹا نہیں لیتے، مجال ہے اس جگہ بیٹھ بھی جائیں، ساون کے موسم میں جب ہفتوں دھوپ نہ ہونے کی وجہ سے کپڑے ٹھیک طورپرنہ سوکھ پائیں توان میں ایک بدبورہ جاتی ہے، ایساکوئی کپڑاپہن کر اگر آپ ان کے کمرے میں جائیں توبمشکل چھ سیکنڈ بعدآپ انہیں کمرے نہیں پائیں گے، یاخود کو شاید، فرق اس میں بلحاظ مراتب ہوتاہے۔‘‘

کس دلچسپ انداز میں والد کا سراپا بیان کیاہے کہ پڑھنے والااس کے بعد پوراخاکہ پڑھے بغیررہ نہیں سکتا۔ یہی حسنین جمال کی تحریرکی کہ قاری ایک مرتبہ ’’داڑھی والا‘‘ ہاتھ میں اٹھالے توآخری مضمون پڑھ کرہی اسے چھوڑے گا۔ والد طرح اپنی عادا ت کاذکرکچھ یوں کرتے ہیں۔ ’’مجھے ویسے ماڈرن ملنگ کہاجاسکتاہے۔ جوتوں اور کپڑوں کاشوق ٹِکاکرہے۔ شایدوہی شوق ہے جواب تک باقی ہے۔ کپڑوں کی الماری تمیزسے رکھنااوردھوبی کی استری، یہ اپنے نوابی شوق ہیں۔ کھانے میں اب کوئی نخرہ نہیں رہ گیا۔ پیٹ بھرناہے۔ خدامعدہ چلتارکھے، رزق بحال ہوتوبس جومل جاتاہے سکون سے کھالیتا ہوں۔ آٹاگوندھ کے روٹی بنالیتاہوں۔ ماڑاموٹاسالن بھی بن جاتاہے۔ چائے دوا کے طورپرسردیوں میں پیتاہوں۔ پتلی لسی گرمیوں میں اورکوئٹے کی پتی والاقہوہ سردیوںمیں چوبیس گھنٹے پسندہے۔ ہاں، سردیوں کاموسم بالکل پسندنہیں۔ دُھند سے نفرت ہے۔ بہاراوکے ہے۔ گرمی زندہ باد۔ خزاں سبحان اللہ۔ برسات نری کل کل۔ ہواچلتی رہے، پسینے سے کپڑے ٹھنڈے ہوتے جائیں اورکیاچاہیے بابا!! بال لمبے کرنے کاشوق بچپن سے تھا۔ جب بال ھے تواجازت نہیں تھی۔ اب اجازت ہے توبال رہ نہیں گئے۔ جتنے ہیں، گھیرگھار کے جُوڑا بنالیتاہوں۔ گنج چھپ جاتی ہے اوربندہ فنکارٹائپ بھی لگتاہے۔ کانوں میں بالے ڈالنے کاشوق بھی ہے، ابونے سختی سے منع کیاہواہے۔ خداانھیں زندگی صحت دے، اپن کان چھدائے بغیرجوگ میں راضی ہے۔ ‘‘

خواتین کے بارے میں ’’عورتوں کاموڈایویں نئیں خراب ہوتے‘‘سے اقتباس ملاحظہ کریں۔ ’’شادی کے بعدامی پشاورسے ملتان آئیں۔ ایک دن آندھی آئی توامی کہتی ہیں۔ ’میں روپڑی۔ ‘ میں اس وقت چھوٹابچہ تھااورسوچتاتھاکہ اس میں رونے کی کیابات تھی؟ امی دوبارہ صاف کرلیتیں۔ شہربدلا، اکیلارہاتواستادبہت کچھ سمجھ میں آگیا۔ اکیلے آدمی کابھی پھیلاوابہرحال ہوتاہے۔ صفائی کامعاملہ ہردوسرے دن پیش آتا۔ پچھلے ہفتے جھاڑپونچھ کرلی توکمرتھوڑی ناراض تھی، کچن صاف کرتے ہوئے پھراحتجاج کیاتواسے دواپیش کردی۔ صبح اٹھ کرپتاچلاکہ رات ایسی بارش ہوئی جومکمل صفائی پرپانی پھیرگئی۔ کچھ کے سلیب اورفرش ہرجگہ پانی تھا۔ تب اس چھوٹے حسنین جمال کوجاکرسمجھایاکہ بابو !ا، ہ اس لیے روئی تھیں۔ یہ توایک مثال تھی۔ دنیاکی اسی فیصدعورتوں سے شکایت ہوتی تھی کہ کھاناپکاتی ہیں توشوربہت کرتی ہیں۔ موڈآف ہوجاتاہے، گرمی لگنے لگتی ہے، پکاکرسامنے رکھ دیں گی، خودنہیں کھائیں گی کہ بھوک مرگئی ہے۔ میں اس بات کونخرہ سمجھتاتھا۔ صرف اپنے لیے روٹی سالن بناناشروع کیا۔ یارقسم پیداکرنے والے کی، واقعی موت پڑجاتی ہے۔ سالن بن جائے تواس کی خوشبواورگرمی سے پیٹ بھرچکا ہوتاہے، روٹی پک جائے تودھویں سے بھوک مرجاتی ہے۔ سرف اپنے لیے کرناہوتوپھربھی تھوڑاآسراہوتاہے۔ ایک آدھ روٹی بنالی، چلو دوسری بھی ہوگئی، لیکن جہاں دوسری سے تیسری روٹی لگانی پڑے۔ واللہ ! بھوک ختم ہوجاتی ہے بلکہ توابھی پرایالگنے لگتاہے۔ تب میں نے جاناکہ اس میں ناراضی کادخل نہیں ہوتا۔ توبھائی یقین کیاجائے کہ فقیران سارے تجربوں سے گزرکراس نتیجے پرپہنچاہے کہ گھرداری میں شامل کوئی بھی کام آسان نہیں ہے۔ چنگی بھلی ورزش بھی ہے اورذہنی فٹیگ الگ سے ہے۔ اگرآپ کے اردگردکوئی بھی خاتون آپ کے یہ سارے کام کردیتی ہیں اورموڈان کابعدمیں آف رہتاہے، تویہ قدرتی بات ہے۔ کوئی خاتون گھرآکرکام کرنے کے بے شک پیسے لیتی ہو ں، ان کے لیے بھی گوشہ ہمدردی کارکھیں۔ وہ بھی اتنے پیسے نہیں لیتیںجتنے آپ کے دردسرکم کررہی ہوتی ہیں۔ اگرآ پ کوبھاشن بازی کی فیلنگ آرہی ہے توصرف ایک بار، پورے ایک ہفتے سب کچھ خود کرکے دیکھیں۔ خداشفادینے والاہے۔ ‘‘

سادہ اسلوب میں گھریلوخواتین کی تکالیف کوسمجھا اورقارئین کوسمجھایاکہ ان کاموں کومعمولی نہ سمجھیں، انہی کی دم سے گھرکی رونقیں قائم ہیں، انہیں ضرورسراہیں۔

’’ہجر منانے کے چیمپئن لوگ‘‘ میں حسنین جمال اپنے منفرداندازلکھتے ہیں۔ ’’ہم لوگ ہجرمنانے کے چیمپئن ہیں۔ ہم انتظار کو سیلیبریٹ کر تے ہیں۔ ہمیں وصل سے زیادہ جدائی پسندہے اوران دونوں سے بھی زیادہ محبت کا انجام ہمیں موت کی صورت میں اچھالگتاہے۔ کیاایساہی نہیں ہے؟ پرانی داستانوں پرایک نظرڈال لیں۔ رانجھابے چارہ کتنے سال تک بھینسیں چراتارہا؟ سوہنی غریبنی کیسے کچے گھڑے پرچڑھ کے مہیوال سے ملنے جاتی تھی؟ سسی پنوں کوہم نے کبھی ملنے نہیں دیا، کہانی کی ہائیٹ یہ تھی کہ زمین دوبارپھٹی ایک دن سسی اور پھر اگلے دن بے چارہ پنوںاس میں دفن ہواتاکہ کم ازکم ملاقات ہی ہوجائے۔ صاحباں نے بھی لمبے انتظارکاٹنے کے بعد وہی کیاجوعدالت میں لومیرج کے بعد ہوتاہے۔ گھر والوں کے دباؤ میں بیٹیاں انکارکردیتی ہیں۔ حبس بے جا کا مقدمہ الگ بنتاہے اورجوان کورٹ کچہری نمٹاتارہ جاتا ہے۔ اس نے مرزے کے تیر چھپادیے، خالی ہاتھ مرزابے چارہ مر گیا، پھرخود بھی تلوارسے خودکشی کرلی۔ لیلیٰ مجنوں کے بھی دوانجام مشہورہیں، ایک میں قیس کو سنگسارکردیتے ہیں، دوسرے میں لیلیٰ کی شادی کسی کزن سے ہوجاتی ہے اورمجنوں پاگل ہوجاتاہے۔ یوسف خان شیربانو کی شادی ہوئی تویوسف خان کوشکار پر قصہ گو نے مروا دیا، اس کے غم میں شیربانوبھی چلی گئیں۔ فرہاد بھی پہاڑ کاٹتا رہا اور شیریں کوپانے کا موقع آیا تو اس غریب کوکسی نے جعلی خبر بھجوادی کہ شیریں تو فوت ہوگئی، فرہاد نے وہی تیشہ اپنے سرمیں مارلیا، شیری کوجب ساراسین پتا لگاتو اس نے چپکے سے خودکشی کرلی۔ ادب کو اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ حرام ہے کہ اسی فیصدافسانوں یاناولوں میں ہیروہیروئن کی شادی ہوسکے۔ شاعری میں توسارے اچھے شعردردبھرے پائے جاتے ہیں۔ ‘‘

ایک بہت دلچسپ موضوع کومصنف نے اپنے شگفتہ اسلوب میں پیش کیاہے۔ ذراچندکالمزیاولاگ کے موضوعات ملاحظہ کریں۔ ’’ہم اپنے گھرکیاسوچ کربناتے ہیں‘‘، ’’ بجھی ہوئی راتیں گزارنے والوں سے خطاب!‘‘، ’’ زندگی میں پرسنل اسپیس کیوں ضروری ہے؟‘‘، ’’ کیاآپ کی گاڑی جینوئن ہے؟‘‘، ’’ اپنی ہی چیزکے استعمال سے ڈرتے لوگ‘‘، ’’ آپ صرف پرانا گھر نہیں چھوڑتے!‘‘، ’’اے دھوپ تیری خیرہو! ‘‘، ’’ جب روشنی اورہنسی نے انسان کوپرچالیا‘‘، ’’ اندھے فقیر کو نیا سال مبارک ہو!‘‘، ’’ سردیوں کی رات اورٹرین کی سیٹی‘‘، ’’ سگریٹ بری چیزہے توچھوڑکیوں نہیں دیتے؟‘‘، ’’ گزاراہی کرنا پڑے گا!‘‘، ’’ مسکراتی آنکھیں، جن سے ملاقات آدھی رہ گئی‘‘ اور’’ غلط لہجے میں اردو بولنے والوں کااحسان!‘‘۔ ان عنوانات سے اندازہ ہوتاہے کہ حسنین جمال نے کیسے منفرداورروزمرہ زندگی کے مسائل کوچناہے اور عام فہم اورشگفتہ انداز میں اپناپیغام اس طرح قارئین تک پہنچایاہے کہ عموماً خود انہیں بھی اندازہ نہیں ہوتاکہ کسی نے انہیں نصیحت کی ہے اور اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی کامشورہ دیاہے۔

حسنین جمال کی سادہ باتوں میں کیسی گہری سوچ، آگہی اورفلسفہ چھپاہے، ذرایہ اقتباس ملاحظہ کریں۔ ’’ فقیر آپ سے دس بیس پچاس سو روپے سے امیرنہیں ہوجائے گا، ناں آپ غریب ہوں گے۔ یہ تویاربس ایک سوداہے۔ آپ اچھا محسوس کریں گے کہ آپ نے کسی انسان کی مددکردی۔ وہ انسان آپ کودعادے گاکہ آپ کے پیسے وقتی طورپراس کے رزق میں اضافہ کردیں گے۔ میری توعرض یہ ہے کہ اے صاحبِ دل نواز! روپے پیسے دیتے وقت یہ مت دیکھیں کہ بھکاری شکل سے نشئی لگتاہے، جوان جہان ہے، ہٹاکٹاہے یالمباچوڑاہے بلکہ جوسامنے آئے اسے بغیرجج کیے پیسے دیں اوراپناراستہ پکڑیں۔ آپ کو، مجھ کو، ہمیں اپنی انابہت پیاری ہوتی ہے۔ جواناکوتج کر باہر مانگنے نکل آیااسے آپ ے کیاسبق دیناہے؟آپ سکھاہی کیاسکتے ہیں؟ ایک دن خالی جیب گھوم کے دیکھ لیں یا دو راتیں بھوکے پیٹ خدانہ کرے سوناپڑے تو تیسرے دن قسم اللہ پاک کی، ہرفقیرپرآپ کوپیارآرہاہوگا۔ ‘‘

اسی طرح حسنین جمال سگریٹ نوشی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’چیزیں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہیںاورزندگی بہت چھوٹی ہے، اتنی کم اوراتنا پھیلاؤ کہ یاد کرنے بیٹھیں توسوصفحے کی کتاب بھی نہ بن پائے اورگزارنے پرآئیں تو ہردن ایک نیاناول ہو، جس کے صفحے ہزارہوں۔ اس چھوٹی سی زندگی میں ہم جس چیزکے بارے میں طے کرلیں کہ اس نے ہمیں نقصان دیناہے تووہ کوئی نہ کوئی چن چڑھاہی دیتی ہے۔ ان میں سے ایک چیزسگریٹ ہے۔ اے حمید نے کہیں لکھاتھاکہ’اگرآپ سمجھتے ہیں کہ آپ کوسگریٹ سے نقصان ہوتاہے تواسے چھوڑدیں۔ پیناہے تو انجوائے کرکے پئیں ورنہ پرے ماریں اورسائیڈپرہوجائیں۔ ‘ تواس بیان سے فقیرمتفق ہے۔ اگرنقصان آپ کوڈراتے ہیں، اگر آپ ہر دوسرے سگریٹ سے ہونے والے نقصان کی پریشانی میںتیسراسگریٹ پیتے ہیں تویہ سگریٹ کی بھی بے عزتی ہے، اسے چھورڈیجئے۔ ہرمعقو ل چیزکی طرح سگریٹ کی بھی اناہوتی ہے۔ روز روزاس کی عزتِ نفس کو پسلیوں میں ٹھڈے لگانے کی جگہ ایک ہی بارخود سے ایک طرف ہو جائیں، یہ مہذب طریقہ ہے۔ ‘‘

کس رسانیت سے کسی بھی نقصان دہ شے کوترک کرنے یابلاوجہ نقصان کاواویلاکرکے اسے جاری رکھنے کی طرزِ عمل کی مخالفت کی ہے۔ بک کارنرجہلم کے بانی مرحوم شاہدحمیدکی یادمیں کالم’’مسکراتی آنکھیں، جن سے ملاقات آدھی رہ گئی‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’کوئی عجب نہیں کہ جب میں فوت ہوجاؤں توفیس سے میری کوئی پرانی تصویر اٹھاکرایک شخص کہے کہ اصل حسنین یہ تھا۔ وہ حق پرہوگا! داڑھی چہرے پرمتانت ایسی سنجیدگی اور متانت لاتی ہے جوکلین شیوڈشکل سے بالکل مختلف ہوتی ہے، ایک آدمی جوساری زندگی ابن صفی کافین تھا، سب رنگ جسے شدت سے پسندرہا، دنیابھرکاجس نے اعلیٰ ترین ادب پڑھا، جوبے تحاشہ سیلف میڈتھا، جسے اپنے مستقبل پراتنایقین تھاکہ اولاد ہونے سے پانچ چھ برس پہلے ہی ان کے نام بھی رکھ چھوڑے اوروہ نام باقاعدہ کتابوں پرچھاپتابھی رہا۔ اس لیے کہ ایک آنہ لائبریری سے شروع ہونے کے بعدجب اس کاسفرختم ہواتووہ ایک پورے پبلشنگ ہاؤس کامالک تھا۔ اس سفرمیں ایک وقت ایساتھا، جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی اور تب ایک دوست نے ہاتھ دیکھ کربتایاکہ تمہارے دوبیٹے ہوں گے، اوراس نے اسی لمحے دونوں کے نام سوچ لیے، وہ نام پھر تواتر سے اس کی چھپی کتابوں میں نظرآتے رہے۔ میں حیران تھا، جوانسان ایسی بھرپورزندگی گزارنے والاہو، میرے لیے شروع ہی سے اس بندے کا تصورصوفی منش قسم کانہیں تھا۔ سوچتاتھاکہ یہ سب باتیں خودپر، اپنے زورِ بازوپریقین رکھنے والوں جیسی لگتی ہیں، اوروہ باریش تصویریں جو میں نے فیس بک پرہمیشہ دیکھیں، ان میں وہ ایک متشرع اور پابندقسم کاانسان لگتاتھا۔ پھرایک دن مجھے اصل تصویردکھائی دی۔ امربولے کہ ابوپانچ چھ سال پہلے تک ایسے ہواکرتے تھے۔ تب میں مطمئن ہوگیا۔ اس تصویرمیں رنگ مکمل تھے۔ آنکھوں میں بھرپورزندگی تھی، چہر ے پرآسودہ مسکراہٹ تھی، شاندارزندگی کاعکس تھا، جدوجہدکی لکیریں تھیں، یہ وہی تصویرتھی جو میرا دماغ بناتاتھا۔ ایک دن موج سمائی کہ چلو چلو جہلم چلو۔ چلاگیا۔ اس سے پہلے جہلم تک جانے کی وجہ یا روہتاس فورٹ ہواکرتاتھایاکٹاس مندر، اس بارمنزل’’بک کارنر‘‘تھا۔ توبس چلاگیا، بلکہ گگن بھائی کاہاتھ پکڑے چلاگیا۔ جتنے فون راستے میں انھوں نے کیے مجھے اب تک یہی لگتاہے کہ میں ان کاہاتھ پکڑکرشوروم تک پہنچا، راستہ اب بھی یادنہیں الحمداللہ۔ جودوست نہیں جانتے وہ جان لیں کہ امرشاہد، گگن شاہددوبھائی ہیں۔ شاہدحمیدان کے والد تھے اور جہلم بک کارنرنامی کتابوں کاادارہ انھی تینوں نے مل کراس معیارتک پہنچایاہے کہ اب پاکستان کے ٹاپ تھری میں شامل ہے۔ توجن بچوں کے نام قبل ازپیدائش رکھ کے چھاپے بھی جاچکے تھے، وہ یہی امر اور گگن شاہد تھے، جس نے چھاپے وہ شاہدحمیدتھے۔ شاہدحمیدجن سے میں مل نہیں سکا۔ جن کے اس دنیاسے رخصت ہونے کے بعدانہیں جان سکا۔ شاہدحمیدجن کی کاروباری زندگی دوبارصفرسے شروع ہوئی اورکامیابی کی بلندیوں کوچھوا۔ شاہدحمید جوہرکتاب کامسودہ انتہائی باریک بینی سے پڑھتے تھے اوراس کے بارے میں رائے بھی محفوظ رکھتے تھے۔ شاہدحمیدجن کے زیرِ مطالعہ آخری مسودوں میں وہ کتاب بھی شامل تھی جومیں نے لکھی۔ جب یہ بات مجھے امربھائی نے بتائی تومیں مطمئن ہوگیا، بلکہ فی الحقیقت بہت خوش ہواکہ ان سے میری آدھی ملاقات بہرحال ہوگئی۔ اب میراان سے ملناباقی رہ گیا؟تومیری آدھی ملاقات تب پوری ہوگی جب ان کی آٹوبائیوگرافی چھپ کرآئے گی۔ ’میں شاہدہوں‘۔ ‘‘

کسی دوست نے حسنین جمال کوکتاب Tuesdays with Moorie پڑھنے کوکہا۔ اپن عادت کے مطابق کسی کی ریکمنڈ کردہ کتاب پڑھناانہیں پسندنہیں۔ ایک دن گھرمیں کچھ نہیں ملاتواسی کتاب کوپڑھناشروع کردیا، اور احساس ہوا کہ کبھی دوستوں کی بات بھی سن لینی چاہیے۔ ’’موری ایک پروفیسرہے، وہ بسترمرگ پرپڑاہے اور اسے معلوم ہے کہ اس نے تھوڑے دنوں بعدمرجاناہے۔ اسے ڈاکٹرنے ایسی بیماری تشخیص کی ہے جوپہلے اس کے پیروں پر اثر کرے گی، وہ کام کرناچھوڑدیں گے۔ پھروہ گھٹنوں تک آئے گی پھرمکمل ٹانگوں پر، پھرکمر، اس کے بعد بازو پیرالائز ہوں گے اورفائنلی اس کی گردن تک اس بیماری کااثرپہنچے گا۔ اینڈآف دی ڈے موری کی موت واقع ہوجائے گی۔ کتاب کادوسراکردارمچ البوم ہے جس نے یہ سب حال بیان کیاہے۔ وہ ایک کامیاب اسپورٹس جرنلسٹ ہے اوریہ داستان اس کی سچی کہانی ہے۔ مچ ایک کم گواورپھسڈی طالب علم ہے۔ موری جواس کافیورٹ پروفیسر ہے کیونکہ وہ اسے خاص توجہ دیتاہے، اس کے مسائل سلجھانے میں اس کی مدد کرتاہے اورپڑھائی میں بھی ہمیشہ مچ کی راہ نمائی کرتاہے۔ بیس سال گزرچکے ہیں، مچ البوم تیزی سے کمرشل دنیاکی سیڑھیاں چڑھ رہاہے۔ اچانک چینل بدلتے ہوئے ایک چہرہ اس کے سامنے آتاہے جسے دیکھ کراسے شک ساہوتاہے کہ یہ کہیں پروفیسر موری نہ ہو۔ بندہ وہی نکلتاہے۔ پروفیسربتائی گئی بیماری کاشکارہے۔ مچ فیصلہ کرتاہے کہ اسے فوری طورپراپنے استاد سے ملناہے۔ وہ فلائٹ سے سیدھااس کے گھرپہنچ جاتاہے۔ موری جوایک مرتا ہواآدمی ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہے۔ وہ آخری لمحے تک اپنی زندگی بامقصد رکھناچاہتاہے۔ ‘‘

ایک بے حددلچسپ اوربامقصدکہانی جسے کالم پڑھنے کے بعدپڑھنے کی جستجوہوتی ہے۔ یہ اورایسے اٹھاسی کالم، ولاگ، خاکے، کتابوں پر تبصرے ’’داڑھی والا‘‘ میں شامل ہیں۔ جودلچسپ توہیں ہی، قاری کوسوچنے اورعمل کرنے پرمجبورکردیتے ہیں۔ کتاب ختم ہونے پرمزید پڑھنے کی طلب ہوتی ہے۔ محرم کے بارے میں مضامین پرمبنی حسنین جمال کی دوسری کتاب کاانتظارشروع ہوگیاہے۔ حسنین جمال کے لیے ڈھیروں دعائیں انہوں نے ایک بامقصدکتاب قارئین کی خدمت میں پیش کی۔

Facebook Comments Box
حسنین جمالداڑھی والا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات — ادریس آزاد
next post
مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف —- احمد جاوید

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.