تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

کتابیں پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ بچے کیا پڑھیں؟ —- ہمایوں تارڑ

by ہمایوں مجاہد تارڑ 20/03/2021
written by ہمایوں مجاہد تارڑ 20/03/2021
164

ہمایوں مجاہد تارڑ، دلیل کے مصنف Daleel.Pkپہلے افسانوی ادب کی بات کرتے ہیں، یعنی کہانی پڑھنا یا سُننا۔ یہ حقیقی دنیا سے متعلق ہو یا قطعی تصوّراتی/ غیر حقیقی دنیا سے متعلق یعنی فینٹسی، اس کا کمال یہ ہے کہ قاری کچھ دیر کے لیے زمانہِ حال سے نکل کر ایک مختلف، نئی صورتحال میں ٹرانسپورٹ ہو جاتا ہے ـــ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ٹائم مشین یکلخت آپ کو کسی دوسرے مقام پر پہنچا دے، وہ گذشتہ زمانہ ہو یا مستقبل۔

اب، کہانی کا مواد چونکہ دلچسپ ہوتا ہے، اس سے لطف اندوز ہونے کے لمحات میں بچے کا ذہن نئےنئے الفاظ بِنا کسی ذہنی مشقت کے سیکھ جاتا ہے۔ محاورات کا استعمال اور جملوں کی بناوٹ بھی۔ لفظوں کو اُن کے حقیقی اور مجازی معنوں میں استعمال کرنے کا شعور بھی، یعنی figurative language کا استعمال۔ حیرت و استعجاب، خوف، خوشی، غم اور گھبراہٹ جیسی کیفیات کے اظہار کے لیے الفاظ اور مرکّبات از خود اس کے لاشعور کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ مثلاً، پاؤلو کوہلو کا ناول The Alchemist پڑھتے ہوئے درج ذیل اور متعدّد دیگر الفاظ از خود بچے کو ذہن نشین ہو جاتے ہیں:

Alchemist, Sycamore, Levanter, Seminary, Omen, Oasis, Pyramid, Destiny, Treasure, Droplet, Embed, Merchant, Sheared, Tribesman, Fascinate, Immerse, Conspire, Evolve, Monk, Flock ….

علاوہ ازیں، بچے کے ذہن میں اشیا اور واقعات میں ربط connections پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو بلوغتِ ذہن کے مراحل میں اہم عنصر ہے۔ ایک باشعور انسان وہی ہوتا ہے جو چھوٹے ٹکڑوں کو یکجا کر کے ایک بڑا ‘کُل’ تیار کر لے، جو معمولی جزئیات کو پراسس کر کے کسی نتیجہ تک پہنچ جائے، جو اشارات اور علامات سے پوری صورتحال کو visualize کر سکے، ابھرتے امکانات کو ذرا واضح طور دیکھ لے۔ مطالعہِ کتب ذہنِ انسانی کی اس صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ دیکھیں، یہ قابلیت نہ ہو تو اس سے اگلا مرحلہ بہت کمزور واقع ہو گا، اور نتیجتاً نقصان اٹھانا ہو گا، یا کم تر درجہ کا فائدہ حاصل ہو گا۔

مطالعہ کتب کے عادی افراد ذہنی امراض کا کم کم شکار ہوتے ہیں بہ نسبت اُن افراد کے جو مطالعہ نہیں کرتے۔ مطالعہ کرنے کے عادی ایک شخص کے دماغی مَسلز متواتر اور بہتر فنکشن کرتے رہتے ہیں۔

وہ اگلا مرحلہ کیا ہے؟

اگلا مرحلہ ہے ‘فیصلہ سازی’۔ فیصلہ سازی کا عمل انسان کی زندگی کو کوئی سمت عطا کرتا ہے۔ یعنی آپ کے رجحانات، وقت، اور توانائیوں کا ایک مختصر یا طویل عرصہ کے لیے کسی خاص سمت میں متحرّک ہو جانا۔ مُڑ کر دیکھا جائے تو ہر اچھا، برا فیصلہ دماغ اندر استوار ہوئے کنکشنز کی پیداوار ہوتا ہے۔ انہی کنکشنز سے تحریک پا کر وہ فیصلہ متشکّل ہوا کرتا ہے۔ مثلاً، مشکل وقت میں گھبرا جانے، ہتھیار ڈال دینے، رو پڑنے، اور چیخنے چلانےکی بجائے کوئی حکمتِ عملی اختیارکرنے، ہمت، کوشش اور دُعا سے کام لینے والا مائنڈ سیٹ تیار ہو گا اگر بچہ باہمّت افراد کی کہانیاں پڑھے۔ اِس بِنا پر مطالعہ کرنے والا بچہ نفسیاتی اعتبار سے خاصا مضبوط واقع ہو سکتا ہے۔

اس سے منسلک رِیڈنگ یا مطالعہ کا ایک اور اہم فائدہ مسائل کا حل تلاش کر لینے کی استعداد میں اضافہ ہونا ہے، یعنی پرابلم سالوِنگ سکلز پیدا ہوتی ہیں۔ کوئی معاملہ کس طور اُلجھ سکتا ہے، کس کس زاوئیے سے اُسے دیکھا جا سکتا ہے۔ پھرحل تلاش کرنے کو اس کی گرہیں کیسے کھولی جا سکتی ہیں؟ یوں، سوچنے کی استعداد یقینی طور بڑھتی ہے جب بچے کا ذہن کہانی اندر برپا ایک پورے فکری سفر میں سے گذرتا ہے۔

کہانی یا افسانوی ادب کی سب سے بڑی خوبی دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت یعنی empathy کا پیدا ہو نا ہے۔ دیکھا جائے تو یہاں بیشتر جھگڑے، خرابیاں دوسروں سے وابستہ اپنی توقعات سے جڑی ہیں۔ کہانی کے مختلف کردار جب ایک دوسرے سے انٹرایکٹ/ تعامل کرتے ہیں تو انسان اس صورتحال سے باہر کھڑے ہو کر بہت سے لوگوں کی مائنڈ ریڈنگ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ حتٰی کہ بےجان اشیا اور جانوروں کے احساسات تک سے آشنائی نصیب ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علم، کتاب، زندگی اور ہم —- عارفہ سیدہ

بچوں کی نفسیات پر کام کرتے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے چھے سات برس ایک بچے میں empathy بہت کم ہوتی ہے، بالخصوص دو سے تین سال کے بچے میں تو ہوتی ہی نہیں۔ اُسے فقط اپنی تکلیف، اپنے مطلب، اپنے فائدے سے غرض ہوتی ہے۔ اس لیے، اُسے منہ سے بول بول کر بتانا پڑتا ہے کہ آپ جب ایسا کرتے ہیں تو دوسرا بندہ/ بھائی/ بہن/ کزن ایسا محسوس کرتے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ بہت سے بچے خاصے بڑے ہو کر بھی اس دولتِ ہم دردی و ہم احساسی سے عاری نظر آتے ہیں۔ مخصوص پیرنٹنگ ٹپس کے علاوہ اس کا ایک علاج فِکشن پڑھنا یا پڑھ کر سنانا ہےــــ کہانی!!

زیادہ چھوٹے بچے خود پڑھ نہیں سکتے، اس لیے ماہرین کے مطابق اُنہیں پڑھ کر سنانا چاہئیے۔ چھوٹے بچوں کے ڈھیروں مسائل کا حل داستان گوئی میں دھرا ہے۔ والدین کابچے کوا سکرین ہاتھ میں پکڑا کر خود اپنی دنیا میں مگن ہو جانا ایک المیہ ہے۔ نتیجہ بچے میں اشتعال، بے صبری، بے اعتنائی، اور ضد جیسی جبلتوں کا مضبوط ہو جانا ہے۔

سن 2009 میں ایک گروپ آف رِیسرچرز نے ‘ذہنی دباؤ’ کے حوالے سے تحقیق کی۔ اس تحقیق میں یوگا، ہنسی مزاح، اور رِیڈنگ پر فوکس کیا گیا تھا کہ آیا یہ تین چیزیں ذہنی دباؤ کم کرنے میں معاون ہیں؟ گیارہ صفحوں کی یہ رپورٹ ‘جرنل آف کالج ٹیچنگ اینڈ لَرننگ’ میں شائع کی گئی۔ اِس ریسرچ میں نوٹ کیا گیا کہ 30 منٹ کی رِیڈنگ ایک بندے کا بلڈ پریشر، ہارٹ ریٹ، اور نفسیاتی اُلجھن کو اتنا ہی مؤثر طور کم کر دیتی ہے جتنا کہ یوگا والی مشق اور ہنسی مزاح۔ اب یہ کہنا اور سمجھانا نری فضول سی بات ہو گی کہ مطالعہِ کتب والی عادت کی داغ بیل انتہائی بچپنے میں ہی ڈالی جاتی ہے۔

اسی طرح، ‘رَش یونیورسٹی میڈیکل سنٹر’ کے مطابق اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مطالعہ کتب کے عادی افراد ذہنی امراض کا کم کم شکار ہوتے ہیں بہ نسبت اُن افراد کے جو مطالعہ نہیں کرتے۔ مطالعہ کرنے کے عادی ایک شخص کے دماغی مَسلز متواتر اور بہتر فنکشن کرتے رہتے ہیں۔

Parentune - World Book Day: Introduce Book Reading Habit To Your Childاب آتے ہیں اس نکتے پر کہ بچے کیا پڑھیں؟

انگریزی زبان میں دستیاب فِکشن پر بات کی جائے توسب سے پہلے اِس کتاب کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

انگلینڈ کے جنوب مشرق میں واقع بکنگھم شائر وہ روایتی قسم کا دیہی علاقہ ہے جو قدرتی حسن یعنی فطری مناظر سے لدا پھدا ہے۔ اس کی شہرت اسی اعتبار سے ہے۔ راقم نے خود تو نہیں دیکھا، تاہم انگریزی ادب میں متعدّد کہانیاں اِس علاقے کی setting میں رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ “ڈینی، دا چیمپئن آف دا وَرلڈ” بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔

Danny the Champion of the World

مشہور برطانوی مصنّف رولڈ ڈَل نے جس فضا اورماحول کو یہاں پیش کیا، جو منظر نگاری کی، خاصی سحرزدہ کرنے والی ہے۔ کہانی اور کردار قاری کے دل و دماغ میں جذب ہو جانے والے ہیں۔ پھر سارا مواد گوروں کی مخصوص کلچرل خرافات سے بھی پاک ہے۔ چھوٹے چھوٹے عمدہ پیغامات ہیں جو اخلاقی تربیت میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ بچوں کے لیے لکھے افسانوی ادب میں مجھے یہ کہانی ذاتی طور پر بہت پسند ہے۔ سلیس زبان میں لکھا یہ عمدہ ناول بچے کی لائبریری میں ہونا چاہئیے۔

اِسی طرح، آکسفورڈ اور کیمبرج پبلی کیشنز نے تمام تر کلاسیکی ادب کو بچوں کے لیے آسان فہم زبان میں خلاصہ کر دیا ہے۔ یہ کتابیں ووکیبلری کنٹرول کے ساتھ ایج گروپ کے اعتبار سے دستیاب ہیں۔

اگرچہ مطالعہ سے مرادہارڈ فارم کتاب کو پڑھنا ہے، تاہم ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ یوٹیوب پر دستیاب سٹوریز دکھا اور پڑھا دینے میں حرج نہیں۔ اس حوالے س Dick Whittington and His Cat بھی ایک دل پذیر کہانی ہے۔ بچوں کے ساتھ مل بیٹھ کرسلیبریٹ کرنے والے انداز میں ایسی کہانیاں دیکھی، پڑھی جا سکتی ہیں۔ یہ بھی میری پسندیدہ کہانیوں میں سے ایک ہے۔ یوٹیوب پر اس کا لِنک یہ ہے:

www.youtube.com/watch?v=l2LBb7uBcXM

احباب اکثر پوچھتے ہیں ‘فِکشن’ اور ‘نان فکشن’ میں بچوں کو پڑھنے کے لیے کیا دیں؟ سوچا، اس موضوع پر اپنی معلومات بتدریج شیئر کی جائیں ـــ تا کہ دلچسپی رکھنے والے احباب، جو اِس بات کا کامل فہم رکھتے ہیں کہ گھر میں بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی لائبریری قائم و مستحکم کرنا کس قدر مفید ہے، استفادہ کر سکیں۔ آج آغاز کر دیا ہے۔ اس پر بات ہوتی رہے گی۔ نیز، تخصیص کے ساتھ مزید کتابوں پر بھی بات ہوگی، انشااللہ۔

یہ بھی پڑھیں: کتب بینی اور سماجی ذرائع ابلاغ: درست تناظر ----- شاہد اعوان

Facebook Comments Box
Book reading in kidsfeturedکتابکتابیںکتب بینیمجاہد تارڑ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

previous post
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اور اقبال اکادمی —- اعجازالحق اعجاز
next post
لپ اسٹک فیمنزم : Lipstick Feminism نسوانی بالادستی کا خواب —- وحید مراد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.