تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

گلستانِ افسانہ کا ایک اور بلبل رخصت ہوا —- ڈاکٹر فرید حسینی

by دانش ڈیسک 09/03/2021
written by دانش ڈیسک 09/03/2021
114

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کی بہار کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا کہ اردو افسانے کا بلبل اپنی آخری منزل کی جانب پرواز کر گیا۔ اپنی 80 ویں سالگرہ سے محض 2 دن قبل رشید امجد ہم سے جُدا ہو گئے۔ 5 مارچ 1940 کو سری نگر میں تولّد ہونے والا یہ فنکار 3 مارچ کو راولپنڈی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ 47 میں کشمیر سے ایک بچہ اپنی ماں کے ساتھ راولپنڈی اپنے ننھیال کو ملنے کے لیے آیا اور پھر حالات کے جبّر کی چکی نے واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیے۔

حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ انسان اور جینوئن ادیب، جس کی ساری زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت رہی۔ معلمّی کے شعبہ سے وابستہ ہونے سے پہلے انہوں نے محنت مزدوری کر کے اکل حلال کمایا اور ساتھ ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جڑواں شہروں میں ادبی بیٹھک کے معماروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ سر سید کالج، نمل یونیورسٹی، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی، الخیر یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ رہے تو فقط روایتی استاد نہ تھے بلکہ وہ ایک تحریک اور انجمن کی مانند رہے، طلباء میں ذوقِ مطالعہ اور شوقِ جستجو پیداکرنا ان کا نصب العین تھا۔ جہاں بھی رہے وہاں ایک صحت مند علمی و ادبی Legacy چھوڑ آئے۔ تخلیق اور تحقیق اگر دو متضاد شعبے نہیں توبہرحال ہر دو کو بیک وقت سہولت کے ساتھ برتنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور رشید امجد نے یہ معرکہ سر کیا۔ سر سید کالج کے زمانےمیں جی-ایچ -کیو سے ادبی رسالہ "اقراء” کی ادارت سنبھالےرکھی۔ نمل میں آئے تو "تخلیقی ادب” اور "دریافت” جیسے مجلّے شروع کیے جو بعد ازاں جامعاتی تحقیقی مجلاّت میں سرِ فہرست اہے۔ اسلامک میں تقرری ہوئی تو "معیار” کو معیاری پرچہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حتٰی کی آخیر زمانے میں الخیر یونیورسٹی سے منسلک ہوئے تو "تحقیقی زاویے” کے نام سے رسالہ نکالا۔ یہ تمام جرائد ایچ-ای-سی سے منظور کروائے۔ سکالرز اور طلباء کو موضوع کی تلاش سے لیکر اشاریہ بنانے تک کے مراحل میں انگلی پکڑ کر چلتے تھے۔ اردو زبان و ادب کی اکادمیہ کی سطح پر جتنی ان Contribution ہے شاید ہی کسی اور کی ہو۔

مگر ان کی اول و آخر پہچان افسانہ نویسی کی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں سامنے آنے والے جن نئے لکھاریوں نے اپنی اہمیت جتلائی ان میں ایک نام رشید امجد کا تھا۔ علامتی افسانے کا ڈول ڈالا تو وہاں بھی رشید سرِفہرست تھا۔ بے زار آدم کے بیٹے، ریت پر گرفت، سہ پہر کی خزاں، پت جھڑ میں خود کلامی، بھاگے ہے بیاباں مجھ سے، کاغذ کی فصیل، دشتِ نظر سے آگے، عکس ِ بے خیال، دشتِ خواب، گمشدہ آواز کی دستک، ست رنگے پرندے کے تعاقب میں، عام آدمی کے خواب وغیرہ جیسے افسانوی مجموعے اُن کی تخلیقی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا تہذیبی و تاریخی شعور ان کے فن کے آئینے میں صاف جھلکتا ہے۔ مہاجرت کا دکھ سہنے والا فنکار ما بعد مہاجرت کے مسائل کو مسلسل اپنے تخلیقی تجربے میں ڈھالتا رہا۔

تحقیقی و تنقیدی میدان میں بھی وہ برابر کوشاں رہے۔ پاکستانی ادب اور مزاحمی ادب کے کے موضوعات پر پاکستان اکادمی ادبیات کے تعاون سے رشید امجد نے کئی کتب مرتب کیں۔ "میرا جی شخصیت اور فن” پر غالباً انہوں نے پی- ایچ-ڈی کی ڈگری لی۔ اس کے علاوہ "میرزا ادیب شخصیت و فن” نامی کتاب بھی لکھی۔ 2002-2003 میں حرف اکادمی راولپنڈی نے ان کی خود نوشت "تمنّا بے تاب” شائع کی۔ جہاں تک میرا علم ہے خود نوشت کی دوسری قسط "عاشقی صبر طلب”کے نام سے تکمیل کے مراحل میں تھی۔ اس کے علاوہ بے شمار کتب اور مقالے تحریر کئے۔ ان گنت کانفرنسیں اور سیمیناروں میں شرکت کی۔ فن کار اور ادیب ہونا بھی ایک انفرادیت ہے اور یوں وہ منفرد تھے مگر اصل میں وہ مرنجاں مرنج اور عاجزی کا پیکر تھے۔ انھیں اپنی علمی و ادبی طاقت پر گھمنڈ نہیں تھا۔ راقم کو براہِ راست ان سے تلّمذ کا شرف تو حاصل نہیں رہا مگر ایک آدھ ملاقات میرے کریڈٹ پر ضرور ہے۔ کاش میرے قلم میں وہ استطاعت ہوتی کہ میں ان کی شخصیت کا کچھ عکس صفحہِ قرطاس پر منتقل کر سکتا۔ پچھلے چند ماہ میں ہم سے اردو ادب کے کئی بڑے فنکار جدا ہو گئے۔ رشید امجد بھی اس بھر پور ادبی روایت کے حامل ان فنکاروں میں سے ایک تھے۔ جو رفتہ رفتہ داغِ مفارقت دیے چلے جا رہے ہیں۔ شہرِ افسانہ کا شہریار! الوداع۔ ۔ ۔ الوداع۔

Facebook Comments Box
featuredRasheed Amjadرشید امجد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاپولر فیمنزم اور اشتہاری صنعت کا گٹھ جوڑ —- وحید مراد
next post
گھر سے باہر نکلنے والی عورت —- فارینہ الماس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.