تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرعلمیکالمکلچرکلچر، آرٹ

پاپولر فیمنزم : فیشن و سیکس انڈسٹری کا آلہ کار —- وحید مراد

by وحید مراد 27/02/2021
written by وحید مراد 27/02/2021
337

٭ پاپولر فیمنزم، پاپولر کلچر، کنزیومر کلچر کیا ہے؟

٭ کیا پاپولر فیمنزم خواتین کے حقوق و آزادی کی بات کرتا ہے یا فیشن و سیکس انڈسٹری کیلئے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے؟

٭ کیاپاپولر کلچر کا آغاز ماڈرن فیمنسٹ لیڈران و ماہرین کے ہاتھوں سے ہوا اور اب اسکے نتیجے میں فیمنزم کے غیر فعال اور مسترد ہونے کا عمل بھی انہی کے ہاتھوں سے انجام پا رہا ہے؟

٭ نو عمر لڑکیوں کو باصلاحیت، کرشماتی شخصیت، دنیا پر رواج کرنے والی، توانا و تاباں چہرے کے خطابات کیوں دئے جاتے ہیں اور انکے لباس پر فحش ملکہ Porn Queen، رسیلی Juicy، Pay to touch، اور LSE Babes جیسے ٹیگ کیوں لگائے ہیں؟


مردوں کے مساوی نظر آنے کی خواہشمند نوعمر خواتین کا تعلیم حاصل کرنا، اعلیٰ پیشہ ورانہ ڈگریاں لینا، قابلیت اور کام کے مواقع و مراعات سے فائدہ اٹھانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ماں بننے اور بچے پیدا کرنے کے بجائے جنسیت اور کنزیومر کلچر میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہش بالکل نئے رجحانات ہیں. ان رجحانات کے تحت اقتدار اور اتھارٹی کی جگہ بھی فیشن اور خوبصورتی لے رہی ہے۔ اب نوعمر لڑکیوں کو اخلاقی و معاشرتی نظم و ضبط کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے، ‘توانا و تاباں چہرے Luminous Potential’ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نیو گلوبل اکانومی کی ضروریات کے تحت ان کی صلاحیتوں میں نکھار لاتے ہوئے انہیں بہت احتیاط سےتیار، استعمال اور کنٹرول کیا جاتا ہے۔ نوجوان خواتین کو کامیاب، باصلاحیت، بولڈ، بااعتماد، کرشماتی شخصیت، دنیا کو بدل دینے والی اور دنیا پر راج کرنے والی کے خطابات سے نوازا جاتا ہے۔ اب گرل ایٹ رسک (girl at risk) کی اصطلاح بھی کین ڈو گرل (can-do girl) میں بدل رہی ہے۔ پاپولر فیمنزم کے ان بدلتے ہوئے رجحانات پر دنیا بھر میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور انجیلا میکروبی ایک ایسی اسکالر ہے جسکی تحقیق اور دلچسپی کے یہ خاص موضوعات ہیں۔

انجیلا میکروبی Angela McRobbie لندن یونیورسٹی، گولڈ سمتھ کالج کی پروفیسر، کلچرل تھیوریسٹ اور تجزیہ کار ہیں۔ انکا زیادہ تر کام پاپولر کلچر، معاصر میڈیا کے طرز عمل اور فیمنزم کے بارے میں عام لوگوں کے اضطراری تاثرات کی تحقیق پر مبنی ہے۔ انہوں نے نوجوان خواتین، مقبول ثقافت، صنف و جنسیت، فیشن انڈسٹری، معاشرتی و ثقافتی نظریات، کارپوریٹ کلچر، نئی جمالیاتی و تخلیقی معیشت اور نولبرل ازم کے عروج پر بہت سی کتابیں و علمی مضامین لکھے ہیں۔ انکی سب سے زیادہ مشہور کتاب The Aftermath of Feminism ہے۔

میکروبی نے 1974 میں پاپ کلچر، پاپ میوزک، ٹین ہائیپ کلچر، فیشن، جنسیت، نو عمر لڑکیوں کے رومانس اور نسائی موافقت پر تحقیق کرتے ہوئے رومانوی انفرادیت کی نشاندہی کی۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں میکروبی نے میڈیا کے ہیجان خیز اشتہارات کو ڈی کوڈ کرتے ہوئے جنسی زیادتیوں کی تصاویر کا تجزیہ کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ فیمنزم کی بدلتی ہو ئی سیاست اور غیر رسمی معیشت میں اسکے کردار کا جائزہ لیا جس میں لڑکیوں کو اپنی دیکھ بھال کرنے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور وسیع تر ثقافتی میدان میں فیمنسٹ مہارتوں کو استعمال کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں میکروبی نے فیمنزم کے حوالے سے ان پیچیدہ رویوں کا مطالعہ کیا جو اقتدار اور طاقت کے عہدوں پر خواتین کی تعیناتی و نمائش، طلاق کی شرح میں اضافہ، مردانگی کے بحران، اسکول، کالجوں کے نصاب میں فیمنسٹ آئیڈیالوجی شامل ہونے وغیرہ کے خلاف رد عمل کے طو رپر سامنے آیا۔

نومبر 2008 میں انجیلا میکروبی کی کتاب The Aftermath of Feminism شائع ہوئی جس میں نوعمر خواتین کی زندگی میں دکھائی دینے والا معاشرتی ثقافتی مظہر، فیشن فوٹو گرافی، ٹیلی ویژن کی میک اوور، کھانے پینے کے عوارض، جسمانی اضطراب اور ناجائز غصے کے اظہار پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ پوسٹ فیمنسٹ سوسائٹی میں نو عمر خواتین ایک ‘نئے جنسی معاہدہ New Sexual Contract’ میں مشغول دکھائی دیتی ہیں۔

فیمنزم، نیو لبرل ازم کے شکنجے:

آج کی جینڈر رجیم gender regime اور پاپولر پولیٹیکل ڈسکورس میں خواتین کی سرگرمیاں انفرادیت کے خطوط پر مقبول عام بنائی جا رہی ہیں۔ خواتین کے اجتماعی مسائل اور فلاح و بہبود پر بات نہیں ہوتی بلکہ مقابلہ کی دوڑ، ذاتی عزائم، اپنی مدد آپ اور الفاگرل ماڈل Alpha Girl Model پر زور دیا جاتا ہے۔ میکروبی کا استدلال یہ ہے کہ آج کے دور میں خواتین کے نام پر چلنے والی تحریک اصل میں خواتین کیلئے ہے ہی نہیں بلکہ اسکے تحت منعقد ہونے والے نوخیز نسوانی صلاحیتوں کے جشن اور صنفی آزادی کے فروغ کی تقریبات سرمایہ دارانہ منڈی، کنزیومر کلچر اور فیشن انڈسٹری کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ یہ دانشوارانہ روایت کا اختتام، فیمنزم کی ناکامی اور ثقافت اور شناخت کی Re colonization ہے۔

میکروبی نے اس معاشرتی و تاریخی تبدیلی کا سہرا جدید پیداواری نظام اور نولبرل طرز حکمرانی کو دیا ہے جس میں فیمنزم، میڈیا اور پاپ کلچر، خواتین کو آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ حکومتوں کی پالیسیوں کے تحت کنزومر کلچر کو فروغ دینے کی غرض سے ہورہا ہے۔ اس بے رحم مارکیٹ میں نوجوان خواتین کے علاوہ 5 سال تک کی کم عمربچیوں کو بھی فیشن کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔

آج کے دور میں خواتین کے نام پر چلنے والی تحریک اصل میں خواتین کیلئے ہے ہی نہیں بلکہ اسکے تحت منعقد ہونے والے نوخیز نسوانی صلاحیتوں کے جشن اور صنفی آزادی کے فروغ کی تقریبات سرمایہ دارانہ منڈی، کنزیومر کلچر اور فیشن انڈسٹری کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

نیو لبرل ازم کا سیاسی منصوبہ ڈی ریگولیشن اور نجکاری کو فروغ دیتا ہے اور پبلک سیکٹر و فلاحی ریاست کو سکیڑتے ہوئے مارکیٹ کی اقدار کے مطابق سوشل ماڈل کی بات کرتا ہے۔ یہ ہیومن کیپٹل تصورات کے ذریعے خود انحصاری، انفرادیت، انتخاب، آزادی کو فروغ دینےکی وکالت کرتا ہے اور دوسروں پر انحصار کرنے کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نوجوان خواتین، طاقت کے اس نئے محور کی غلام کیسے بنیں؟ فیمنسٹ تحریک نےاس لبرل منصوبے کو کیسے جذب کیا اور اسکے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نوعمر خواتین کو اسکی محکومی میں کیسے دیا؟

خواتین کے مسائل اور صنفی مساوات کا دائرہ اب تک بائیں بازو کے ساتھ وابستہ تھا اور اسکا مرکز سماجی جمہوری پروگرامز تھے۔ ہیومن کیپٹل کے تصورات، لیبر مارکیٹ میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت، کمائی کی طاقت و معاشی صلاحیت کے نقطہ نظر کو اپنانے کے بعد خواتین کے حقوق اور صنفی عدل و انصاف کی اصطلاحات انفرادیت، قابلیت، آرزو اور کامیابی کے الفاظ کے ذریعے ڈیفائن ہونے لگیں اور بائیں بازو و سوشل ڈیموکریٹس نے بھی اسے قبول کر لیا۔ اب گھریلوخاتون اور معاشی طور پر غیر فعال اور مرد پر انحصار کرنے والی خاتون کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ خواتین سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ہر اس قسم کے ماحول اور حدود میں کام کرنے کیلئے تیار ہو جائیں جو انہیں کچھ کمانے کی غرض سے تعاون پیش کرتے ہوں۔ میکروبی اس عمل کو ایک نئے جنسی معاہدہ New Sexual Contract اور صنفی شہریت Feminine Citizenship سے تعبیر کرتی ہے۔

یہ ایک ایسا hegemonic پراسس ہے جسکا مقصد نوجوان خواتین کی اسٹیٹس اور شناخت کے حوالے سے ایک قسم کا ‘صنفی تصفیہ Gender Settlement’ ہے۔ اس عمل کے تحت اسکول، کالج اور یونیورسٹی اور کام کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں صنفی مساوات کے اصول کی پاسداری ہو۔ ریاست بھی اس حوالے سے ہر ممکن مدد فراہم کرتی ہے اور مراعات دیتی ہے تاکہ مالی خودمختاری کے حصول کیلئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے لیبر مارکیٹ کا حصہ بنا جائے۔ معاشی خود انحصاری کےماڈل پر عمل کرتے ہوئے ‘مردوں پر انحصار’ کو ختم کیا جا رہا ہے اور خواتین کی زیادہ سے زیادہ آزدی اور خودمختاری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ریاست کو اب اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس عمل کے دوران ازدواجی ٹوٹ پھوٹ ہوگی، طلاقیں ہونگی، خاندان ٹوٹیں گے، بچوں کی پرورش بن باپ کے ہوگی یا دونوں والدین کے بغیر ہوگی۔

فیمنزم جس قسم کے سیاسی نظریات اور جدوجہد کی بات کرتا ہے اس سے پورنوگرافی اور جنسی تعلقات کی خواہش میں رکاوٹ ضرور پیدا ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے ان نوعمر خواتین نے فیمنزم کی تحریک اور جدوجہد کو ترک کرکے محض خوبصورت الفاظ اور آسان نعروں کو اپنا لیا ہے۔

میکروبی کہتی ہیں کہ کنزیومر ازم اور پاپولر کلچر ہماری سوسائٹی میں تجاوزات ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو غلام بنایا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر خواتین کی آزادی اور خودمختاری کے حامی دکھائی دیتے ہیں اور خواتین کی ذاتی کامیابیوں کے گن گاتے ہیں لیکن درحقیقت یہ خواتین کو فیمنزم کی ایک اعصابی رسی Post-feminist neurotic dependencies میں جکڑ رہے ہیں۔

میکروبی ان طریقوں کا تجزیہ بھی کرتی ہے جن میں فیمنزم کو کالعدم قرار دینے کیلئے پاپولر کلچر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ فیمنزم کو تاریخ اور ماضی کی ایک مستحکم اور خوفناک تحریک دکھا کر یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب نوجوان خواتین اور اداروں کو اسکی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پاپولر کلچر کے بعد فیمنزم کے تنقیدی نظریات اپنا اثر کھو چکے ہیں، فیمنسٹ تحریک غائب ہو چکی ہے اور اب نئی نسل اسے ماضی کا قصہ ہی سمجھے۔ میکروبی بتاتی ہیں کہ فیمنزم کے غیر فعال ہونے کا عمل فیمنسٹ ماہرین اور لیڈران کے اپنے ہاتھوں سے ہوا۔ میکروبی اسے رد عمل کی پیچیدگی Complexification of backlash سے تعبیر کرتی ہیں۔

Angela McRobbieفیمنزم کی اپنے ہاتھوں شکست:

1990 کے عشرے میں جب فیمنسٹ تحریک نے اپنے نظریے اور سیاست میں تبدیلیوں کا آغاز کیا تواسکے ساتھ ہی پاپولر کلچر نے فیمنزم کو یہ عندیہ دے دیا کہ آپ سے جو کام لیا جانا تھا وہ پورا ہوچکا، مستقبل کے نظام میں آپکی ضرورت نظر نہیں آتی۔ وہ اسکی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ سوسائٹی کے مرکزی دھارے میں فحش تصویروں کی قبولیت فیمنزم کے ذریعے ہوئی کیونکہ پورنوگرافی فیمنسٹ ماہرین کی تنقید کا ایک تاریخی موضوع تھا اور وہ اسے عورتوں کے استحصال کا ذریعہ قرار دیتے تھے لیکن جدید نوعمر خواتین نے استحصال کی اس تنقید کو الٹ دیا اور یہ فحاشی کی مذمت اور انکار کرنے کی بجائے اسکی حمایت کرتے ہوئے اسے اپنانے لگیں۔ اسکی تفصیلات خواتین کے ان رسالوں میں دیکھی جاسکتی ہیں جہاں خواتین کی جنسی آزادی کو سینے breast کی برہنگی کے ذریعے ظاہر کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور نوخیز لڑکیوں کے لباس کے اوپر ‘فحش ملکہ Porn Queen’ اور ‘رسیلیJuicy’ جیسے ٹیگ لگائے جاتے ہیں۔

جنسی طور پر آزاد عورتیں اب Lap Dances اور Pole Dancing میں شمولیت سے اپنی آزادی اور ایمپاورمنٹ کا اظہار کرتی ہیں۔ انکا خیال ہے کہ جنسی آزادی سے لطف اندوز ہونے سے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا لیکن فیمنزم جس قسم کے سیاسی نظریات اور جدوجہد کی بات کرتا ہے اس سے پورنوگرافی اور جنسی تعلقات کی خواہش میں رکاوٹ ضرور پیدا ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے ان نوعمر خواتین نے فیمنزم کی تحریک اور جدوجہد کو ترک کرکے محض خوبصورت الفاظ اور آسان نعروں کو اپنا لیا ہے۔ وہ ایسی ٹی شرٹس پہنتی ہیں جن پر LSE Babes، Pay to touch کے نعرے لکھے ہوتے ہیں۔

یہ نوخیز لڑکیاں Babes جیسے الفاظ صرف اپنے لباس پر ہی نہیں لکھتیں بلکہ سیکس اور پورن انڈسٹری کیلئے دیگر جوکس اور سلوگن بھی تیار کرتی ہیں جنہیں دیکھ کر اب فیمنسٹ ماہرین اور لیڈران کو بھی خوف آتا ہے۔ پاپولر اور کنزیومر کلچران خواتین کو ایسا ماحول فراہم کر رہا ہے جس میں خواتین کی توجہ ہر وقت اپنی خوبصورت جسمانی شبیہ پر ہی مرکوز رہتی ہے اب انہیں جنونی فیشن اپنانے کیلئے مردوں کی منظوری بھی درکار نہیں۔ کام کی جگہوں پر نسائی ظاہریت کو زیادہ اجاگر کرنے اور خواتین کو اپنے آپ میں مصروف رکھنے کیلئے انکی ساری توجہ رنگ برنگے کپڑوں، جیولری، ہیلز، بیگز، جوتوں، اورباڈی ٹریٹمنٹ وغیرہ پر مبذول کرائی جاتی ہے۔ جب ساری توجہ مرئی اشیاء اور علامات پر مرکوز ہو تو پیشہ وارانہ سختیوں اور کام کی بوریت سے دل اچاٹ نہیں ہوتا اور انسان مسلسل غلامی اور محکومی پر آمادہ رہتاہے۔

پدرسری نظام میں عورتیں مردوں پر انحصار کرتی تھیں لیکن اپنے گھر، بچوں اور خاندان میں محفوظ تھیں، اب انکا نہ کوئی گھر ہے نہ خاندان۔

فیشن اور سیکسی علامات کی یہ وہ سطحیت ہے جو پاپولر کلچر پیدا کررہا ہے اور اس مصنوعی شناخت کے اندر عورت کی اصل شناخت کو چھپادیا گیا ہے۔ فیمنزم نے اس پر نہ صرف خاموش اختیار کئے رکھی بلکہ اپنے ہاتھوں سے نوعمر خواتین کو پدرسری نظام سے نکال کر اس سے بڑے غلامانہ نظام میں دھکیل دیا۔ اس نظام میں عورت فیشن کے قواعد پر زیادہ سختی سے عمل درآمد کرنے کا مظاہرہ کر رہی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اسکی مرضی سے ہورہا ہے۔ پدرسری نظام میں عورتیں مردوں پر انحصار کرتی تھیں لیکن اپنے گھر، بچوں اور خاندان میں محفوظ تھیں، اب انکا نہ کوئی گھر ہے نہ خاندان۔ فیشن کی اس چکا چوند میں انکا جسمانی حسن اور کشش ختم ہونے کے بعد انہیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے اور پھر کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔

فیشن کے نظام حسن کو ثقافتی اصول کے طو ر پر اپنانے میں خود پسندی اور خود پرستی کا بھی اہم کردار ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خواتین یہ سب کچھ اپنے آپ کو خوش رکھنے کیلئے کر رہی ہیں لیکن درحقیقت یہ فیشن انڈسٹری کا وہ جبر ہے جسے خودپسندی کی آڑ میں عورتوں پر مسلط کیا گیا۔ نوجوان خواتین ہر وقت اپنی بھنویں کمان کی شکل میں بنا کر رکھتی ہیں and they are also waxing their bikini area. ان سے اگر دریافت کیا جائے کہ یہ سب کچھ آپ کس کی خاطر کر رہی ہیں تو انکا جواب ہوتا ہے کہ I’m doing it for me لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جوش و جذبہ جھوٹے زعم اور خودپسندی پر مشتمل ہےجسے فیشن انڈسٹری اپنے مقصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔

آج کی نوجوان عورت اپنے آپ کو کامیاب عورت سمجھتی ہے مگراسکا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ہر وقت بن سنور کر رہنا ہے اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ مقابلہ حسن کی اس دوڑ میں اسے یہ سب کچھ اس لئے بھی کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ ابھی تک اسکی جنسی کشش برقرار ہے۔ جس پدرسری نظام اور معاشرتی جبر کا رونا رویا جاتا تھا، مغربی معاشرے میں تو کم ازکم اب اسکے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد سے یہ ضرور ہوا ہے کہ فیشن انڈسٹری اور نظام حسن نے ثقافت میں اپنی مستقل جگہ بنا لی ہے اور تمام عورتیں، پدرسری کے ظلم سے نجات پا کر ایک زیادہ ظالمانہ نظام کی محکوم بن چکی ہیں۔

آج کے فیمنزم کا تعلق محض دکھاوے کے کاموں سے ہے اور اسکا حقوق نسواں، تعمیری، تخلیقی اور گہرائی کے کاموں سے کوئی تعلق نہیں۔

خواتین پر ظلم کے نئے انداز:

پاپولر و کنزیومر کلچرکا ظلم و ستم، پدرسری نظام سے کہیں زیادہ ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ اسکے ظلم کے انداز بدل گئے ہیں۔ جسمانی تشدد اور جبر، ذائقہ اور تمیز کی علامتوں میں بدل گیا ہے جن کے ذریعے معاشرتی طور پر غالب گروہ اپنے استحقاق کی حفاظت کرتے ہیں۔ کمتر لوگوں کو اب ماراپیٹا نہیں جاتا بلکہ جبر و تشدد کے نئے ہتھیاروں کے ذریعے انہیں شرمندہ اور بدنام کیا جاتا ہے۔ انہیں یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ انہیں مہنگے ریستورانوں میں عمدہ کھانوں کے ذائقے، لباس اوراعلیٰ چیزوں کے استعمال کے آداب، ثقافت و فنون لطیفہ کے بارے میں مناسب معلومات اور تجربات حاصل نہیں۔ فیمنزم کو اپناکر طلاق لینے والی عورت کو صرف اکیلی ماں کا طعنہ ملتا تھا مگر اب پاپولر کلچر کو اپنا کر اکیلی رہ جانے والی عورت کو ناکام اور لوئر کلاس اسٹیٹس کے طعنے بھی سہنے پڑتے ہیں۔

کنزیومر ازم اور پاپولر کلچر ہماری سوسائٹی میں تجاوزات ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو غلام بنایا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر خواتین کی آزادی اور خودمختاری کے حامی دکھائی دیتے ہیں اور خواتین کی ذاتی کامیابیوں کے گن گاتے ہیں لیکن درحقیقت یہ خواتین کو فیمنزم کی ایک اعصابی رسی Post-feminist neurotic dependencies میں جکڑ رہے ہیں۔

پاپولر و کنزیومر کلچر نے حقوق نسواں اور فیمنزم کو سیاسی طور پر بے گھر کر دیا گیا ہےکیونکہ عورتوں کی حوصلہ افزائی صرف اس بات پر ہورہی ہے کہ وہ ورک فورس جوائن کرکے پیسےبنائیں اور اپنی ذات اور انفرادیت پر توجہ دیں۔ انفرادی صلاحیتوں نے فیمنسٹ نظریات کی جگہ لے لی ہے اور ایک نیا نظریہ تخلیق پا رہا ہے کہ افراد ساختی رکاٹوں پر بہت کم غور وفکر کرتے ہوئے اپنا طرز زندگی تشکیل دے سکتے ہیں۔ ان تمام ترجیحات اور انتخابات میں خواتین کی آزادی کے ساتھ ساتھ مقبول ثقافت میں وابستگی اہم چیز بن گئی ہے اور میکروبی کے خیال میں یہ سب کچھ فطری آزادی کی قیمت پر ہو رہا ہے۔

خود پسندی کے جھوٹے زعم میں مبتلا نو عمر خواتین کو بظاہر اس بات کا احساس نہیں کہ انہیں فیشن کے نام پر غلام بنایا جا چکا ہے لیکن پاپولر کلچر کے’ پوسٹ فیمنسٹ جینڈر اضطراب’ کا اظہار خواتین کے انفرادی انتخاب کی ان اصطلاحات سے ہوتا ہے جو خواتین کو منظم کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں شادی اور زچگی میں تاخیر delayed marriage and motherhood، رومانس کی تلاش finding romance، کیرئیر اور خاندان دونوں کی خواہش desires to have both career and family شامل ہیں۔ حقوق نسواں اور فیمنزم کا کام تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ پاپولر و کنزیومر کلچر کے پیچھے کارفرما طاقتوں کو بے نقاب کرتے اور خواتین کو ان کے ہتھکنڈوں سے بچنے کی تربیت کرتے لیکن ان لیڈران و ماہرین نے اپنے ہاتھوں سے نوعمر خواتین کو اس چنگل میں پھنسا دیا۔ سچ بات یہ ہے کہ آج کے فیمنزم کا تعلق محض دکھاوے کے کاموں سے ہے اور اسکا حقوق نسواں، تعمیری، تخلیقی اور گہرائی کے کاموں سے کوئی تعلق نہیں۔

Facebook Comments Box
'نیا جنسی معاہدہAlpha Girl Modeland they are also waxing their bikini area.Angela McRobiecan do girlComplexification of backlashdelayed marriage and motherhooddesires to have both career and familyfeaturedFeminine Citizenshipfinding romancegender regimeGender SettlementI’m doing it for me!LSE BabesLuminous PotentialNew Sexual ContractPay to touchPorn QueenPost-feminist neurotic dependenciesThe Aftermath of Feminismانجیلا میکروبیانجیلامیکروبیانفرادیتپاپ کلچرپاپ میوزکپاپولر فیمنزمپاپولر کلچرپبلک سیکٹرتوانا و تاباں چہرےٹیگٹین ہائیپ کلچرخود انحصاری'دنیا پر رواج کرنے والیدنیا پرراج کرنے والیڈی ریگولیشنرسیلیJuicyرومانس کی تلاشسوشل ماڈلشادی میں تاخیرصنف و جنسیتصنفی تصفیہصنفی شہریتفحش ملکہفلاحی ریاستفیشن انڈسٹریفیشن و سیکسفیمنسٹ لیڈران و ماہرینکرشماتی شخصیتکنزیومرنجکارینیولبرل ازمہیومن کیپٹل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
خواہشات کا ٹک ۔ ۔ ۔ ٹاک یا ہماری ترجیحات —– فارینہ الماس
next post
علامہ شبلی نعمانی اور امام حمید الدین فراہی پر فتوائے تکفیر —- حسان عارف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.