تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینسماجیعلم و ادبکالم

جدید غالب صارفیت اور غالب کی تہذیب — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 14/02/2021
written by محمد حمید شاہد 14/02/2021
276

جب کچھ سال پہلے ہمارا دلی جانا ہوا تو جو دو تین خواہشات گرہ میں باندھ کر لے گئے تھے ان میں حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ اور مرزا غالب کے مزار پر حاضری بھی تھی۔ ہم وہاں جشن ریختہ والوں کی دعوت پر پہنچے تھے لہٰذا ارادہ تھا کہ جن نشستوں میں ہمیں شریک ہونا ہے پہلے وہ ہو لیں تو گھومنے نکلیں گے۔ ذرا فرصت نکلی تو خالد اشرف مدد کو آئے ہمیں جشن کی بھیڑ بھاڑ سے نکالا۔ ہم اس دوست کی رہنمائی میں یہاں وہاں گھومتے گھماتے ایک ایسی تنگ گلی میں تھے جس کے دونوں طرف پھولوں کی دکانیں تھیں اور سارے علاقہ ان کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ وہاں صرف پھول ہی نہ تھے درگاہ پر چڑھانے کے لیے چادریں بھی سجی تھیں۔ ہمیں وہاں اپنے جوتے اتارنے تھے اور ننگے پاؤں درگاہ کی طرف جانا تھا۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ تاہم پہلے امیر خسرو کے مزار پر حاضری دی۔ یہ مزار پہلے نگاہ میں آیا اور وہ بھی یوں کہ ہم بے اختیار اس جانب کھچتے چلے گئے۔ جی، وہی خسرو جنہوں نے اپنے مرشد سے سچی لو لگائی اور یہاں تک کہہ دیا تھا: "چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے ” وہاں سے نکلے تو لپک کر درگاہ پہنچے مگر یاسمین کو وہاں مزار کے دروازے پر رُک جانا پڑا کہ دروازے کی دونوں اطراف میں ذرد رنگ کی تختیوں پر ایک عبارت ہمارا منھ چڑا رہی تھی۔ "عورتوں کا اندر جانا منع ہے”۔ یاسمین دروازے کے باہر بنی آہنی رکاوٹوں کے پاس رُک گئی اور مجھے یوں لگا جیسے اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔ شاید وہ پوچھنا چاہ رہی تھی عورتیں اندر قبر پر جاکر پھول اور چادریں کیوں نہیں چڑھا سکتیں اور جیسے ہم مرد وہاں فاتحہ پڑھتے ہیں ویسے ہی وہ قبر کے پاس کھڑے ہوکر کیوں نہیں پڑھ سکتیں۔ میں جب اندر داخل ہو رہا تھا تو مڑ مڑ کر یاسمین کو دیکھ رہا تھا جو مجسم سوال تھی اور چند قدم دور کھڑی حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ ہم فاتحہ پڑھ چکے اور الٹے قدموں دروازے سے باہر نکلنے لگے تو وہاں کھڑا ایک شخص اپنے دونوں ہاتھوں میں سبز چادر اٹھائے میری سمت لپکا اور میرے سر سے ہاتھ بلند کرتے ہوئے مجھے اوڑھا دِی۔ یہ وہی شخص تھا جس نے کچھ دیر پہلے ہمیں وہ پیلی تختیاں پڑھنے کے لیے ادھر اشارہ کیا تھا۔ میں نے یہ چادر درگاہ کے احاطے ہی میں یاسمین کے کندھوں پر ڈال دی تو وہ سب کچھ بھول بھال کر بچوں کی طرح چہکنے لگی تھی۔

درگاہ سے نکل کر ہماری منزل مرزا غالب کا مزار تھی۔ خالد اشرف نے بتایا کہ وہ کچھ زیادہ دور نہیں تھا تاہم اس نے بہ طور خاص یاسمین کو متنبہ کیا تھا کہ اپنے پرس وغیرہ کا خیال رکھے۔ تنگ گلیاں طرح طرح کے سامان سے اٹی پڑی تھیں۔ اس تنبیہ کے باوجود یاسمین کبھی ایک دکان ہر رکتی کبھی دوسری پر کہ کوئی الگ سی اور مقامی سوغات توبچیوں کے لیے لیتی چلے۔ جب ہم گلیوں گلیوں گھومتے یہاں وہاں رکتے کچھ آگے بڑھے توخالد اشرف نے یہ کہہ کر چونکایا لیجئے غالب کا مزار آگیا۔ ایک احاطے میں سنگ مرمر کی انتہائی سادہ سی کوٹھڑی اور اس کے اندر ایک قبر۔ میں قبر کے تعویز کی سمت گیا اور وہیں فاتحہ کو ہاتھ اٹھا دیے۔ اس بار یاسمین بھی قبر پر ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہی تھی۔ فاتحہ پڑھ کر میں کتبہ تھام کر وہیں بیٹھ گیا اور اس باکمال شخص کے بارے میں سوچنے لگا:

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہتا تھا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

اس گزر چکی مدت میں زمانہ ہر پل بدلتا رہا ہے۔ 1857کی جنگِ آزادی یا غدر کا ایسا ہنگامہ کہ غالب کی دِلی اجڑ رہی تھی اور غالب کو وہ کچھ دیکھنا پڑا تھا جو وہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ کوئی اس پر کہاں قادر ہے کہ وہی دیکھے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ میں نے وہیں قبر کے سرہانے بیٹھے بیٹھے یہ سوچا تھا کہ غالب آج کے زمانے میں ہوتے تو یہ سب کچھ کیسے دیکھ پاتے جو ہم دیکھنے پر مجبور ہیں۔ غالب نے کہا تھا:

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں

مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پرصارف بنا ڈالنے کے درپے ہے۔ بظاہر ہم پر حکم رانی کا دعویٰ رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔

یوں ہے کہ بعد میں آنے والوں نے ہر گزرتے پل کے ساتھ غالب کو یاد کیا ہے تو اس کا بھی کوئی سبب ہوگا۔ جی، بدلے ہوئے زمانے میں مجھے بھی غالب کی قبر پر بیٹھ کر انہیں یاد کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ یادرہے کہ غالب نے اپنے آپ کو اپنے بدلتے زمانے میں پایا تھاتو خود کو”عندلیب گلشن نا آفریدہ”کہا تھا۔ نیا زمانہ جس میں ہم غالب کو یاد کر رہے ہیں بہت تبدیل شدہ ہے، بہت آگے کا تبدیل شدہ۔ اُدھر دِلی اجڑتی تھی اور غالب کے دِل پر چرکے لگتے تھے۔ اِدھر پورے گلوب کا انسان سہما ہوا ہے۔ وہ نسلی تفاخر جو غالب کو عزیز تھا اب مکمل طور پر مٹنے کو ہے۔ جس زمانے میں نسلوں کی نسلیں تیل، مارکیٹ اور قوت کے منابع کے حصول کے لیے کولہو میں پلوائی جارہی ہوں وہاں نسلی یا مذہبی تفاخر تو کیا انسان کا اپنا وجود ہی ہیچ ہورہا ہے۔ وہ تہذیبی رویے جو غالب کو عزیز تھے اور ان میں ذرا سا بھی بگاڑ انہیں برہم کر دیتا تھا اب مسلسل معدوم ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پرصارف بنا ڈالنے کے درپے ہے۔ بظاہرہم پر حکم رانی کا دعویٰ رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ انیسویں صدی کو غالب مل گیا تھا یوں کہ اب ہم گزرے حالات کو اپنے زمانے پر منطبق کرتے ہیں تو غالب ہمارے زمانے کے شاعر لگتے ہیں۔

اب میں ہوں اور ماتم یک شہرِ آرزو

غالب نے ایک قدم اپنی صدی میں رکھا تھا اور دوسرا رکھنے کے لیے آنے والے زمانے بھی چھوٹے پڑ گئے تھے۔

کہتے ہیں یہ غالب کی اپنی خواہش تھی کہ انہیں نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قرب میں قبر ملے۔ وہاں ان کے سسر کی ملکیتی زمین تھی۔ غالب کے اپنے خاندان کے لوگ آگرہ کے قبرستان میں دفن تھے۔ یہ مزار کہیں ۱۹۸۴میں بن پایا تھا اور ۲۰۰۵ میں بھارتی حکومت نے اسے قومی اثاثہ مانا مگر اس سب کے باوجود مزار کی جو حالت ہم وہاں دیکھ رہے تھے اس پر دل دکھتا تھا۔

ہم دکھی دل سے وہاں سے اُٹھے تھے مگر میں نے کہا ہے نا ں کہ غالب اس مزار تک کہاں محدود تھے وہ تو وہاں سے نکل کر ہمارے زمانے تک ہمارے زمانے تک آگئے تھےاور اگلے زمانوں میں بھی جست لگانے کو تیار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: Feminism : روائتی معاشروں میں سرمایہ دارانہ جبر کے پھیلاو کا آلہ کار ------ طلحہ افتخار
Facebook Comments Box
Ghalibحمید شاہدصارفیتغالبمرزا غالب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل کیا ہے؟ ہینڈ رائٹنگ بمقابلہ کِی-بورڈ
next post
تنہائی، اضطراب اور تخلیق —– ظہور احمد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.