تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

فیمنزم کا قضیہ اور ہم — ضیاء الرحمن فاروق

by دانش ڈیسک 13/02/2021
written by دانش ڈیسک 13/02/2021
85

گزشتہ ہفتہ ایک محفل میں فیمنزم کا قضیہ چھڑا تو عرض کیا کہ فیمنزم کے حوالے سے تاریخی ورثے میں فرانس کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں فیمنزم کی تحریک اور فلسفہ کے ابتدائی چشمے پھوٹے۔

یہ انیسویں صدی کے قریباً وسط کا زمانہ ہے جب دنیا کے افق پر دو ایسے واقعات نمودار ہوئے جس نے اس کرہ ارض کے تمدنی دھارے میں دور رس اور گہرے نقوش چھوڑ دیے ہے۔

ان میں ایک مشینی انقلاب (industrial revolution) ہے اور دوسرا جمہوری نظام حکمرانی شمار کیا جاتا ہے۔

مشینی انقلاب سے پیداواری کھپت کئی گنا بڑھنے لگی۔ اسی لئے کارپوریٹ سیکٹر میں "برانڈ” کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی مقصد کے حصول کیلئے سرمایہ داروں نے لاشعوری طور پر انسانوں کو بحیثیت "گاہک” راغب کرنے کیلئے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے "عورت” کو جنس کے طور "کارپوریٹ اٹریکشن” کیلئے متعارف کروادیا۔

چونکہ انسان فطری طور پر حسن پرست ہے اسی لئے معاشرے کا ایک غالب طبقہ اس پیش رفت کو زمانے کی گردش سمجھتے ہوئے خاموش رہا۔ رفتہ رفتہ یہ کاروبای ٹوٹکہ تمدن کا رنگ اوڑھنے لگا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک انہی کے اپنے اقوام میں سے اخلاقی اقدار کا نعرہ لگاتے ہوئے اختلاف کی آوازیں ایک حد تک توانا ہوچکی تھی لیکن تب تک عورت بطور "شو ہیس” سرمایہ داروں کی مجبوری بن گئی تھی۔ اسی لئے اپنے مکروہ دھندے کو قائم رکھنے کیلئے "نسوانی حقوق” کے نام پر عورت کی آزادی کو جدیدیت کا منہج قرار دینے کے جتن شروع کردیے۔ تب سے لیکر اب تک یہ لڑائی وقت کے دھارے پر مختلف صورتوں میں سر اٹھانے لگا ہے۔ جس میں ہمیشہ تین قسم کے گروہ سامنے آجاتے ہیں۔ دو وہ گروہ ہوتے ہیں جو آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں اور تیسرا یعنی سرمایہ دار دونوں کو اپنے اشیاء بیچنے کیلئے اس لڑائی کو قائم رکھنے بلکہ مذید مستحکم کرنے کیلئے نت نئے ڈھونگ رچاتے ہیں۔ گویا شطرنج کے بساط پر پیادوں کی قطاریں اسے اپنی لڑائی قرار دے کر لڑ رہے ہوتے ہیں لیکن اصل چال چلانے والا پیچھے بیٹھا وہ بادشاہ گر ہوتا ہے جس کے ہاتھوں میں میدان کارزار کی لگامیں موجود ہوتی ہے۔

بادشاہ گر کبھی مذہبی فصیل میں نقب زنی کرتے ہوئے اسے دقیانوسی سوچ قرار دے کر مذہبی اقدار پر گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں اور کھبی انسانی آزادی کا فلسفہ اٹھا مرد اور عورت کو ذاتی حیثیت میں بطور جنس اس لڑائی کیلئے بطور ایندھن جھونک دیتے ہیں۔

چونکہ ہمارا تعلق خطہ ارضی کے اس علاقے سے ہیں جہاں مذہبی عقائد عملاً سوسائٹی میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں، لیکن یہاں کے داعیان مذہب اکثر و بیشتر اسے بالاصل مذہب کی لڑائی سمجھ کر بحث میں لگ جاتے ہیں اور باقاعدہ دفاعی پوزیشن لیتے ہوئے ایک بیانیہ سامنے لیکر آتے ہیں جو فیمنزم کے علمبردار اپنے حق میں استمعال کرتے ہوئے اس فلسفیانہ معاملہ کو مذہبی رنگ چڑھا دیتے ہے۔

ازل سے یہ ایک فلسفی بحث رہی ہے۔ اور اب بھی اس پر کھل کر بحث ہی ہونی چاھئیے۔ مذہب نے جو آزادی چودہ سو سال پہلے عورت کو عطاء کی تھی۔ فیمنزم کے علمبردار صدیوں میں اس کا عشر عشیر نہیں دلا سکیں۔ مذہب نے اسی دن اس قضیے کا قصہ تمام کیا تھا جب عرفات کے میدان میں یہ اواز گونج اٹھی کہ "مرد کو عورت پر، کالے کو گورے پر اور عربی کو عمجی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں”۔ ازل کے سامنے فوقیت کا منہج صرف اور صرف تقوی کو قرار دیا گیا ہے۔

دوسری بدقسمتی ہماری یہ رہی کہ جس وقت ہمارے علاقے میں یہ بیج درآمد کیا گیا اس وقت ہم ایک محکوم قوم کی حیثیت سے ذہنی احساس کمتری کے کرب سے گزر رہے تھے۔ اسی لئے عام سوسائٹی نے شعوری اور لاشعوری دونوں حیثیتوں سے جوں کا توں قبول کیا۔ انگریزوں کے دیس میں تو بہت پہلے مذہب کو رسم و رواج سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ اپنے اس سوچ میں کتنے ٹھیک ہے یا غلط ہے اس ایک الگ بحث ہے۔ لیکن بہرحال ہم مذہبی حوالے سے یکسوں تھیں اور ہیں لیکن ہم نے اس نکتے کو سمجھنے میں تاریخی غلطی کر ڈالی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ ہو کوئی اپنی حیثیت میں اس طوفان کے زد میں آچکا ہے۔

بحث کے اصل کی طرف لوٹتے ہوئے عرض ہے کہ انیسویں صدی کے اخر تک عام اخلاقی اقدار میں مرد کو قریباً اخلاقی اوارہ گردی کی آزادی حاصل تھی اور عام سوسائٹی میں عفت تقاضا صرف عورت کے ذات تک محدود کیا گیاتھا۔ صرف عورت کی عصمت کو قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی۔

والدین اپنے لڑکے کی آوارہ گردیاں جوانی کا ترنگ سمجھ کر گوارا کرتے تھے لیکن اپنی لڑکی کے دامن پر داغ دیکھنے کے روادار نہیں تھے۔ ایک عرصہ بعد اسی کو بھی قبول کیا جانے لگا اور اب اسی پر وہ "عورت کی آزادی” کا نام چسپاں کرتے ہیں۔

سوچتا ہوں تو لاشعوری طور پر محسوس ہوتا کہ یہ دو رنگی تو ابھی ہمارے معاشرے کا بھی حصہ ہے۔ اور اگر ہم نے بحثیت مجموعی بطور انسان اس طوفان کا تجزیہ کرکے اس کے گہرائی ماپنے کی کوشش نہیں کی تو کیا بعید کہ پچاس یا سو سال بعد دوسرا گڑھا ہمارے گرنے کے انتظار میں ہو۔

اس تحریک کے جڑوں دوسرا امر واقعہ جمہوری نظام حکومت ہے۔ جو لگ بھگ اسی زمانے کا واقعہ ہے۔ کالم کا دامن تنگ ہونے کے باعث فی الحال یہاں تک اکتفا کرتے ہیں۔ باقی انشاءاللہ اگلی نشست میں۔

مصنف کا مختصر تعارف:
راقم پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے۔ پڑھنا اور لکھنا اوڑھنا بچھونا اور مرغوب مشغلہ ہے۔ قدرتی حسن اور گھومنے پھرنے کا دلدادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل ------ وحید مراد
Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
علم کیا ہے؟ اور کیا ایک نئی انسانی دانش کی تشکیل ناگزیر ہے؟ —– نعمان علی خان
next post
فیض، اردو افسانہ اور حقیقت نگاری — محمد حمید شاہد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.