تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

باوا جی سیالکوٹ؟ —– عبدالرحمان قدیر

by دانش ڈیسک 01/02/2021
written by دانش ڈیسک 01/02/2021
141

کچھ دن پہلے ایک ٹک ٹاکر، سیالکوٹ سائلنٹ گرل کے نام سے وائرل ہوئی، اور بہت سے لوگ سیالکوٹ سے پہلی دفعہ متعارف ہوئے، بذریعہ ٹک ٹاک۔ اور یوں لگا کہ سیالکوٹ کی صرف ایک ہی خاص بات ہے جو ابھی ہی منظر عام پر آئی ہے، اور وہ ہے "باوا جی سیالکوٹ”۔ اور کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہا کہ سیالکوٹ کا ذکر ہی پہلی بار سنا ہے۔ بہت اچھے۔ یعنی کہ سارا لاہور بھی Alex Bhatti ہی ہے۔ تاہم، اگر آپ کو پہلی بار سیالکوٹ کے بارے میں کوئی قابل ذکر چیز نظر آئی ہے تو اس میں سیالکوٹ کا کوئی قصور نہیں، بلکہ آپ تاریخ، اور اقتصادیات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

Sunset-at-Sahuwala-Canal

اس لیے سیالکوٹ کے بارے میں کچھ باتیں جو آپ نے کبھی جانی نہ ہی آپ کو کبھی بتائی گئیں، ان کا ذکر کرتا چلوں۔

سیالکوٹ براعظم ایشیاء کے چند قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے، اور آج سے پانچ ہزار سال قبل سے لے کر کوئی ایک ہزار قبل، یعنی کے لاہور کے آباد ہونے سے پہلے تک کی تمام برصغیری تہذیبوں کا دارلخلافہ رہ چکا ہے۔ تاریخ کے صفحوں میں جو اس شہر کے قدیم ترین آثار ملتے ہیں، وہ یونانی ادب میں ہیں۔ جس کی تاریخ 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی شہر پر شہر پر قبضہ کے وقت سے جا ملتی ہے۔ سکندر اعظم سے پہلے شہر مادرا تہذیب/بادشاہت کا دارلخلافہ تھا۔ تو سکندر اعظم نے ایک انتباہ کے طور پر شہر کو مکمل طور پر تباہ وہ برباد کر دیا تا کہ دوسرے شہر سر اٹھانے یا مزاحمت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ سگالہ نامی شہر جس میں اسی ہزار کے قریب شہری مقیم تھے، اس کو لمحوں میں راکھ کر دیا گیا۔

بعدازاں ہندی یونانی بادشاہ بنام مناندر جو 160 سے 135 قبل مسیح کے درمیان حاکم رہا، اس نے اسی مقام پر شہر کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا، اور تعمیر کے بعد شہر تعمیر و ترقی کا عظیم مرکز ٹھہرا۔ ریشم کی تجارت کے لیے مشہور زمانہ رہا۔ بدھ متون کے مطابق جب مناندر نے خود بدھ مت اختیار کر لی تو شہر نے بدھ مت کے مقدس مقام کی حیثیت اختیار کر لی۔

An-example-of-old-door,-Mujahid-Road

پہلی صدی عیسوی میں بطلمیوس کے ‘جغرافیہ’ تاریخی متن کے مطابق قدیم سیالکوٹ کا نام بکتری تہذیب کے شہر ایوتھیمیڈیا کے نام سے بھی درج ہے جو کہ کوئی 2500 قبل مسیح آباد تھی۔

بعدازاں ہفتالی نامی حکومت کا بھی دارلخلافہ سیالکوٹ رہا۔ اور پھر کشمیر کے سردار راج میں بھی سیالکوٹ موسم سرما کے دورانیے میں دارالخلافہ رہتا تھا۔

شہنشاہ اورنگزیب کے زمانے میں شہر اقبال دین اسلام کے لیے خیالی، اور علمی تعمیر کا مرکز رہا۔

پہلی بار سیالکوٹ کی چکاچوند میں کمی مغلوں اور بعد کے زمانے میں سکھوں کی حکومتوں کے مرکز اور دارلخلافہ کے طور پر لاہور کی تعمیر اور عروج سے ہوا۔ تاہم برطانوی نوآبادیات کے دور میں سیالکوٹ ایک بار پھر ترقی کی سیڑھیوں پر گامزن ہوا اور برصغیر کے انڈسٹریلائز ہونے والے اولین شہروں میں ٹھہرا۔ پہلی بیگ پائپ انڈسٹری سیالکوٹ میں لگائی گئی، دھاتوں کے آلات، برتن وغیرہ بنانے کا مرکز سیالکوٹ بن گیا۔ آلات جراحی کا کام اس عروج کو پہنچا کہ جنگ عظیم کے دوران برطانوی فوج کے لیے آلات جراحی بھی سیالکوٹ سے بن کر جانے لگے اور یہ روایت آج بھی قائم ہے۔

بجلی کی فراہمی، ترسیل، اور پھر اپنا بجلی گھر رکھنے والے شہروں میں بھی سیالکوٹ کا نام اسفل السافلین میں شامل ہے۔

تقسیم ہند کے وقت خانہ جنگی اور ہجرت کے باعث کارخانے ویران ہو گئے۔ 80% صنعت تباہ ہو گئی اور شہر کا سرمایہ 90% نقصان سے دوچار ہوا۔ مگر شہر دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور آج تک مسلسل ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ پوری دنیا کا 80 فیصد کھیلوں کا سامان اسی شہر سے بن کر جاتا ہے، جن میں چالیس سے ساٹھ لاکھ ہر سال صرف فٹ بالز بنتے ہیں۔ (یعنی کہ کھیلنا بھی سیالکوٹ کے بالز سے ہے اور پھر باتیں بھی سیالکوٹ کو ہی۔ ) کھیلوں کے سامان کے علاوہ برصغیر کی اعلی کوالٹی کے آلات موسیقی بھی یہاں بنتے ہیں، اور اسلحہ، ریسلنگ کے سامان سے لے کر سکاٹش مقامی لباس اور موٹر بائیک ریسنگ کے حفاظتی لباس تک کوئی ایسی شے نہیں جو نہ بنتی ہو۔ ای-کامرس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ایشیائی منڈیوں میں اولین ناموں میں ہے۔ الپائن سٹار، ڈائنیز، ایڈیڈاس وغیرہ جیسے برانڈز کی پروڈکشن یہاں ہے۔ اور ایک آزاد موٹر سائکل کے حفاظتی سامان بنانے والے برانڈ کے ساتھ راقم بذات خود کام بھی کر چکا ہے۔

رہی بات مشاہیرِ شہرِ اقبال یعنی اقبال، فیض، عمیرہ احمد، سارہ نوید، شاہد ذکی، وغیرہ وغیرہ، تو اس کے لیے ایک بالکل الگ مقالہ لکھنا پڑے گا۔

ہیش ٹیگ: ہور کوئی ساڈے لائق؟

کچھ تصاویر جو میری اپنی کیپشن ہیں اور سیالکوٹ کی landscape خوبصورتی کو منعکس کرتی نظر آتی ہیں، وہ بھی حاضر خدمت ہیں۔

A n-old-building-on-Paris-Road

Abbot-Road,-Sialkot

A-forest-a-long-the-Sahuwala-Canal

Old-Sabzi-Mandi

Facebook Comments Box
bawa jee sialkotfeaturedSialkotباوا جی سیالکوٹسیالکوٹعبدالرحمان قدیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ذِکراُس پری وَش کا، یونس جاوید کے تحریر کردہ زندہ جاوید خاکے —- نعیم الرحمٰن
next post
مسلم تہذیب کا انتشار، زوال اور تجدید —- عمرانی تجزیہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.