تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

اے یروشلم —–  علی عبداللہ

by علی عبداللہ 30/12/2020
written by علی عبداللہ 30/12/2020
122

زمین کا کوئی ٹکڑا بعد از مدینۃ النبی، مجھے یوں مغلوب نہیں کرتا اور نہ ہی مجھ پر ایسا ان دیکھا سحر طاری کرتا ہے جتنا کہ”یروشلم” (القدس)۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح اس کی قدیم گلیوں میں پھرتی ہو، اور میری چشم تخیل زمانوں کی گواہ ہو۔ میں اپنے تخیل کی آنکھ سے بیت الحم کے گوشوں میں، مسجد انبیاء کی محراب میں، قبہ الصخراء کی سنہری روشنی میں، اور اقصی القدیم کے احاطے میں خود کو پاتا ہوں۔ میں داؤد علیہ السلام کو یبوس(جیبس) فتح کرتے دیکھتا ہوں اور اس ٹکڑے کو یروشلم بنتے ہوئے پاتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے براق تو صدیوں سے لوٹ گیا، مگر میں ابھی تک اسی چٹان سے بندھا ہوا صلاۃ الانبیاء کی پر لطف کیفیات سے معمور ہو رہا ہوں۔ میں تخیل کے اس سفر میں معراج کی رات کو دیکھتا ہوں، نبی آخر الزمان کی آمد و رخصت کو محسوس کرتا ہوں اور جبرائیل روح الامین کے پروں کی پھرپھڑاہٹ سے لرزنے لگتا ہوں۔ پھر میرے کان تلواروں کی جھنکار سنتے ہیں، عقائد کے نعرے گونجتے ہیں اور پھر مجھے معاہدہ عمر رض لکھتے ہوئے قلم کی آواز متوجہ کرتی ہے۔ یروشلم(القدس) میری روح کو اپنے معنی کی طرح امن و سکون کا احساس دلاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے بے چین کرتا ہے کہ اس وسیع و عریض درخت کا سایا وقت کی تلخیوں نے ماند کر دیا اور مجھ سے دور کر دیا ہے۔

مدینۃ الرسول، کہ جہاں سے تمام کونپلیں پھوٹیں اور کسی کا نام “اندلس” ٹھہرا، کہ جس کے مرجھانےپر، “نادی الرسم لو ملک الجوابا واجزیہ بدمعی لو اثابا” یعنی میں کھنڈرات کو پکار رہا ہوں کاش وہ جواب دے پاتے، میں دل کا بوجھ آنسوؤں سے ہلکا کر رہا ہوں، کاش یہ غم ہلکا ہوتا” سنا گیا۔ کسی کونپل کا نام “غرناطہ” جو دیکھنے والوں کو یوں بھاتا کہ کہنے والے بے ساختہ کہہ اٹھتے، “رعی اللہ من غرناطۃ متبوا, یسر حزینا او یجیر طریدا” یعنی، خدا غرناطہ کی حفاظت کرے جس سے غمگین خوش ہو جاتا ہے اور بھاگے ہوئے کو پناہ دیتا ہے۔ کوئی کونپل “قسطنطنیہ” کہلائی کہ جس بارے زمانوں پہلے فرما دیا گیا کہ “تم ضرور قسطنطنیہ فتح کر لو گے، پس بہتر امیر، اُس کا امیر ہوگا، اور بہترین وہ لشکر ہوگا”۔ “سمرقند و بخارا” ایسی کونپل کہ جہاں امام بخاری کی درس حدیث کی گونج آج بھی سننے والوں کو سنائی دیتی ہے اور عمر خیام کی رباعی کا چرچا دکھتا ہے۔ باوجود ان سب خوبصورت و دلکش شاخوں کے، یروشلم ایک پودے کی مانند صدیوں سے اپنا وجود برقرار رکھنے کی جستجو میں عقائد کے طلاطم کو محسوس کرتا رہا اور ایک مضبوط تن آور درخت بنا، جو شاخوں کے کٹنے کے باوجود آج بھی ان عقائد کے بڑے پیامبروں کے نزدیک معتبر و اہم ٹھہرا ہے۔ باشعور مجذوب کی مانند اپنی کیفیات کو چھپائے ہوئے یہ وہ درخت ہے کہ جس کی جدائی خلیل اللہ بھی برداشت نہ کر پائے اور چالیس سال کے بعد بھی اسے دیکھنے کو بے تاب ہوئے۔ جہاں سے مسیح موعود، آسمان بیکراں کی رفعتوں میں پناہ گزیں ہوئے۔ نجانے اس درخت کا پھل ایسا لذیذ کیوں تھا کہ اس پر قابض ہونے کو اسے 23 بار محصور کیا گیا اور 52 مرتبہ اسے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔

عقائد کے پیامبر کبھی یہاں ایسی خونریزی کرتے رہے کہ گھوڑوں کے سم خون میں ڈوب جاتے تھے اور کبھی یوں امن کا گہوارہ بناتے کہ “معاہدہ عمر رض” اور کبھی “معاہدہ ایوبی” وجود میں آتا۔ جی ہاں وہی صلاح الدین ایوبی جس کے یروشلم فتح کرنے کے بعد صلیبیوں سے اعلی سلوک پر ناروے میں “سیلاڈن ڈے”(یوم صلاح الدین) منایا جاتا ہے اور اسی یروشلم میں اپنے کردار کے باعث ہی انگلستانی شاہی بحریہ نے جنگ عظیم اول میں اپنے جہاز کا نام “ایچ ایم ایس سیلاڈن” رکھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ 1959 سے 1994 کے درمیان برطانوی فوج کی بکتر بند گاڑی کا نام بھی “سیلاڈن” رہا، کیا یہ معاہدے تا ابد یروشلم کے نام پر زندہ نہیں رہیں گے؟ کبھی ہیکل، تو کبھی مسجد اور کبھی مسیح کی پیدائش و رفعتوں کی جانب سفر، عقائد کے پیامبر اپنی اپنی حکمت لیے اس درخت عظیم کی چھاؤں پر چھانے کی کشمکش میں اس کی شاخوں کو جھنجھوڑتے رہے۔ لیکن حقیقت جاننے کے باوجود چند شرپسند اس درخت کی شاخ کو کاٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور اس کی تکلیف محسوس کرتے کرتے عمریں بیت گئیں مگر ٹیسیں کم نہ ہوئیں۔ درد، راحت میں نہ بدل سکا اور پھر کوئی بولا

بـَــكــَــيــْـــتُ .. حــَــتــَّــى اِنــْـــتــَــهــَـــت الــدُّمــُـــوع
میں رویا، حتی کہ آنسو بھی ختم ہو گئے
صــَـــلــَّــيــْــتُ .. حــَــتــَّــى ذَابــَـــت الــشــُّــمــُـــوع
میں نے عبادت کی یہاں تک کہ شمعیں بھی گل ہو گئیں
ســَــألــْـــتُ عــَــنْ مــُــحــَــمــَّــدٍ فــِــيــكِ، وعــَــنْ يــَــســُــوع
تجھ سے، میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسیح(علیہ السلام) کے بارے پوچھا
يــَــا قــُـــدْسُ، يــَــا مــَــدِيــنــَـــةً تــَــفــُــوحُ أَنــْــبــِــيــَــاءَ
اے قدس(یروشلم)! اے انبیاء کی خوشبوؤں سے معطر شہر
يــَــا أَقــْـــصــَــرَ الــدُّرُوبِ بــَــيــْــنَ الأَرْضِ والــســَّــمــَــاءِ
اے زمین و آسمان کے بیچ مختصر ترین راستے
يــَــا قــُــدْسُ، يــَــا مــَــنــَــارةَ الــشــَّــرَائــِــــع
اے قدس، اے مذاہب کے مینار
يــَــا طــِــفــْــلــَــةً جــَــمــِــيــلــَــةً مــَــحــْــرُوقــَـــةَ الأصــَـــابــِـــعِ
اے انگلیوں جلے، حسین بچے
حــَـــزيــنــَــةٌ عــَــيــْـــنــَــاكِ، يــَــا مــَــدِيــنــَـــةَ الــبــَـــتــُــول
تمہاری آنکھیں غمگین ہیں، اے کنواری مریم کے شہر
يــَــا وَاحــَــةً ظــَــلــِــيــلــَـــةً مــَـــرَّ بــِــهــَــا الــرَّســُــول
اے سایہ دار نخلستان، گزرگاہ پیغمبر(محمد صل اللہ علیہ وسلم)
حــَــزيــنــَـــةٌ حــِــجــَــارَةُ الــشــَّـــوَارِع
گلیاں و پتھر اداس ہیں،
حــَــزيــنــَــةٌ مــَــآذِنُ الــجــَـــوَامــِــع
مساجد و مینار مغموم ہیں،
يــَــا قــُــدْسُ، يــَــا جــَــمــِــيــلــَــةً تــَــلــْــتــَـــفُّ بــِــالــســَــوَادِ
اے قدس، اے سیاہی میں لپٹی حسین عورت
يــَــا قــُــدْسُ، يــَــا مــَــدِيــنــَــةَ الأحــْـــزَانِ
اے قدس، اے غموں کے شہر
يــَــا دَمــْــعــَــةً كــَــبــيــرَةً تــَــجــُــولُ فــِـي الأَجــْــفــَــانِ
اے آنکھ میں تیرنے والے اشک
يــَــا لــُــؤْلــُــؤةَ الأدْيــَـــانِ
اے مذاہب کے موتی
مــَــنْ يــَــغــْــســِــلُ الــدِّمــَــاءَ عــَــنْ حــِــجــَــارَةِ الــجــُــدْرَانِ ؟
کون پتھریلی دیواروں سے لہو کو دھوتا ہے؟
مــَــنْ يــُــنــْــقــِــذُ الإنــْــجــِــيــلَ ؟
کون انجیل کی حفاظت کرتا ہے
مــَــنْ يــُــنــْــقــِــذُ الــقــُــرآنَ ؟
کون قران کو بچاتا ہے؟
مــَــنْ يــُــنــْــقــِــذُ الــمــَــســِــيــحَ مـِــمــَّــنْ قــَــتــَــلــُــوا الــمــَــســِــيــحَ ؟
کون مسیح کو قاتلوں سے بچاتا ہے؟
مــَــنْ يــُــنــْــقــِــذُ الإنــْــســَـــانَ ؟
کون انسان کو محفوظ رکھتا ہے؟
يــَــا قــُــدْسُ .. يــَــا مــَــدِيــنــَــتــِــي
اے قدس، اے میرے شہر
يــَــا قــُــدْسُ .. يــَــا حــَــبــيــبــَــتــِــي
اے قدس، اے میری محبت
غــَــداً .. غــَـــداً .. ســَــيــُــزْهــِـــرُ الــلــَّــيــْــمــُــونُ
کل، ہاں کل، لیموں کے پودے کھلیں گے
وَ تــَــضــْــحــَــكُ الــعــُــيــُـــونُ ..
اور آنکھیں مسکرائیں گی
وَ تــَــرْجــَــعُ الــحــَــمــَــائــِـــمُ الــمــُــهــَـــاجــِـــرَةُ ..
اور مہاجر فاختائیں لوٹیں گی
إلــى الــســُّـــقــُــوفِ الــطــَّــاهــِــرَة
پاکیزہ چھتوں کی جانب،
وَ يــَــرْجــِــعُ الأطــْــفــَـــالُ يــَــلــْــعــَــبــُـــون
اور بچے کھیلیں گے،
وَ يــَــلــْــتــَــقــِــي الآبــَــاءُ و الــبــَـــنــُـــون
اولاد و والدین پھرسے جمع ہوں گ
عــَــلــى رُبــَـــاكِ الــزَّاهــِـــرَة ..
تمہاری پھیلتی ہوئی پہاڑیوں پر
يــَــا بــَــلــَـــدَ الــســَّـــلامِ وَ الــزَّيــْـــتـــُـــونِ
اے شہر امن، اے شہر زیتون!

مجھے بتاؤ کیا یروشلم مجھ پر اب بھی سحر نہ کرے، کیا یروشلم کے عشق میں میری آنکھیں نہ تڑپیں اور کیا میرا دل یروشلم کے لیے ہلکان نہ ہو؟ اے یروشلم تو آباد رہ، تو شاد رہ، تو راستوں کی دھول دیکھ کہ کہیں کوئی عیسی علیہ السلام تیری جانب واپس آنے ہی والا ہے۔ اور پھر تیرا سایہ بھی تیری طرح بمعنی یروشلم(امن کا گہوارہ) ہو گا۔

Facebook Comments Box
Al QuduasJeruslamPalestineالقدسفلسطینقبلہ اولیروشلم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
گنہ اور گنہ گار وجود کے درمیان ’گُرگِ شب‘ —— قاسم یعقوب
next post
کہانی —–  مریم عرفان کا نیا افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.