تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

 جنریشن گیپ : ہر شخص کو ساٹھ سال کی عمر میں ہر سرگرمی سے لازماََ ریٹائر ہو جانا چاہئیے — محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 02/12/2020
written by دانش ڈیسک 02/12/2020
151

ہمارا مشاہدہ ہے کہ اس وقت زندگی کے ہر شعبے میں ساٹھ۔ ستر سال کے بزرگ فعال ہیں، دندناتے پھرتے ہیں اور اپنے ہمراہ کام کرنے والے پچاس پچپن سال کے رفیق کی بات بھی درخور اعتنا نہی سمجھتے، ایک مستند جملہ جو پنجابی میں موزوں لگتا ہے "اوئے چُپ کر تینوں نہی پتہ” مطلب یہ شٹ اپ کال دے کر، فرمائیں گے، “میں جب تمہاری عمر کا تھا تو میں بھی یوں ہی سوچتا تھا، کہتا تھا”۔

اب اس کے بعد بزرگ تاری لگا گے ماضی میں ڈبکیاں کھانے لگیں گے۔
اوہو! اس سے پہلے کہ کوئی بااختیار حاکم ٹائپ بزرگ اسے اپنی بے عزتی سمجھ کے ہمارے خلاف عدالت میں “توہین شرف بزرگی“ کا دعوی دائر کر دیں، جو آج کل آسان ہے، کہ بابے ٹائپ سارے وکلا فارغ البال ہیں بلکہ بال بچوں نے انہیں سر سے ٹالنے کے لئے چیمبر، بار روم اور مذاکرے میں شرکت پے محدود کر رکھا ہے۔

ہم یہ وضاحت پہلے کئے دیتے ہیں، یہ خود تادیب ہے، خود کلامی بھی ہو سکتی ہے، خودستائی کے مرض کے علاج کی کوشش بھی کہہ سکتے ہیں۔ بچپن سے ہر بورڈ اشتہار پڑھنے کا شوق تھا، مندرہ بھون ریلوے لائن جو تاحال زندہ درگور ہے اس پر سفر یاد ہے۔ ٹریک کے دونوں طرف بنے ڈیروں کی ہر دیوار پر مردانہ کمزوری اور پوشیدہ امراض کے جلی حروف میں لکھے اشتہار دیکھتے، چھپڑ بازار میں سلاجیت اور سانڈے کا تیل بیچنے والے مداری پاس دائرے میں کھڑے بڑوں میں گھس کر ماہرانہ حکمت بھی سنتے تھے، اب یہ حکیم گردی اور اعمال زوجیت پر مشاورت کے ساتھ پیر اور عامل حضرات کے اشتہار یہاں سوشل میڈیا پر ہر سائیٹ پر موجود ہوتے ہیں۔

بڑھاپا از خود بیماری ہے یہ ضرب المثل تو بڑے بڑے ہسپتالوں میں بھی فریم شدہ لگی ہوتی ہے۔ ساری عمر ان اطلاعات کو دیکھنے پڑھنے سے ذہن فطری طور تسلیم کرنے پے مائل ہوتا ہے۔ اب بابا جی کو اگر موتر یا چھوٹا پیشاب کرنے میں عمومی دقت ہو تو ذہن میں ان اطبا و ماہرین عملیات کا خیال آتا ہے جن کے فون نمبر ہر جگہ نمایاں مل جاتے ہیں۔ وہاں کال ملائی جاتی ہے، عامل حکیم ڈاکٹر کو لمبی تفصیل سنائ جاتی ہے، وہ بہت ادب احترام اور توجہ سے سنتا ہے، کال تو ممکنہ مریض کے کھاتے سے ہوتی ہے، مشورہ دیتا ہے کہ اتنے پیسے آن لائن بھیج دیاں، نسخہ دوائی تعویذ یا عملیات بمعہ ہدایات آپکو آن لائن یا بائی پوسٹ مل جائے گی۔ یہ لازمی ملتی ہے کہ وصول کنندہ اپنے دوستوں کو بتائے گا اور گاہک بن جائیں گے۔

اب مرض تو ٹھیک نہی ہوتا، بندہ لاچار کسی سپیشلسٹ کے پاس جانے پر مجبور ہوتا ہے، تو پھر لیب سے ٹیسٹ در ٹیسٹ کراتا ہے، رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹر اسے ڈراتا ہے کہ بس علاج میں کوتاہی ہوئی تو آپ فوت ہوئے مطلب آپ اب دوائی کے مستقل نشہ پر لگ گئے، بلکہ دیگر امراض ڈھونڈ کے دیگر ڈاکٹرز کو بھی ریفر کیا جائے گا۔

ہم اس تجربے سے گزرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن نسخہ کیمیا جو ہمارے پاس تھا اسے استعمال کیا۔
آسان سا ہے، آپ یہ تسلیم ہی نہ کریں کہ بیمار ہیں، ڈاکٹر کی بات سن لیں علاج کرائیں لیکن اگر وہ ڈرانے کی بات کریں تو اس کی ماں بہن کر دیں، گالی دینے کی سہولت آپکو بطور بزرگ ہر جگہ حاصل ہے۔ ہسپتال، لیب، ڈاکٹری چیک اپ دوائیں فیس ان سب کو بیماری یا علاج کی بجائے ایک ایکٹیوٹی سمجھیں۔ اسے قدرت کی طرف انفاق کا موقع سمجھیں، کہ آپ کتنے ہسپتال و لیب وغیرہ کے تمام ملازمین کے لئے وسیلہ رزق ہیں، اخراجات کو اپنی جان اور شفا کے لئے صدقہ اور خیرات کی مد میں ادائیگی سمجھیں۔

ان مصروفیات سے مفر نہیں، تو انکے ساتھ اگر آپ کاروبار، ملازمت روزگار سے فارغ نہی ہیں تو دونوں کام خراب۔ آپ بڑے افسر بھی ہوں تو روٹین میں دفتر سے چھٹی کریں گے ماتحت تنگ ہوں گے عمر بھر کی محنت سے بنائی عزت و شہرت پر داغ آئے گا۔ تو جناب ساٹھ سال پر خود کو ریٹائر کریں، یہ حد بہت صدیوں کی سوچ بچار اور عملی تجربے پر مبنی ہے، اہم ترین وجہ آپکی نفسیاتی آزار بھی ہیں۔

آج ہمارے ہاں جو طوائف الملوکی پھیلی ہے اس کی بڑی وجہ بھی زائدالعمر، منجمد ذہن کے افراد کا اقتدار میں ہونا ہے۔
ستر سال کا بندہ سماج، معاشرے سوسائیٹی ادارے کے نوزائیدہ مسائل سمجھ ہی نہی پاتا

ہر انسان کا صرف ایک ذاتی تعلق ہوتا رب اور بندے میں معبود اور عبد کا، دیگر زندگی گزارنے کے ضوابط قوائد رسوم رواج روایات سب اجتماعی طور مرتب ہوتے ہیں، ہر بندہ سماج کا حصہ ہوتے بھی جدا مقدر رکھتا ہے، اجتماعی انسانی حقوق بارے ویسے تو نام نہاد دنیا بھر کے مشترکہ ادارے یو این نے بنیادی انسان کا چارٹر بنا رکھا ہے۔ لیکن اسی کے ذیلی ادارے جو ان حقوق کے محافظ ہیں وہی اسے زک پہنچاتے ہیں۔ یونیسیف اور یونیسکو، ڈبلیو ایچ او وغیرہ میں مشاہیر اور افسران کی فوج ظفر موج کا خرچہ رفاعی رقوم کا زیادہ حصہ ہضم کرتا ہے۔ پھر ان سے منسلک این جی او امداد کی تقسیم سے مال ہڑپ کرتی ہیں۔ سارا نظام اجتماعی وسائل پر عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے نام پر قبضہ کرنے کے لئے مرتب ہوا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملکی امور ہوں یا بین الاقوامی ادارے ان کے منتظمین کی اکثریت زائد المعیاد عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو کارآمد زندگی گزار چکے ہوتے ہیں۔ ماضی یا نوسٹلجیا کے اسیر یہ بزرگ وقت گزاری، تنخواہ، مراعات کے ساتھ بس وقت گزاری کرتے ہیں، ان سے تعمیری سوچ کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

آج ہمارے ہاں جو طوائف الملوکی پھیلی ہے اس کی بڑی وجہ بھی زائدالعمر، منجمد ذہن کے افراد کا اقتدار میں ہونا ہے۔
ستر سال کا بندہ سماج، معاشرے سوسائیٹی ادارے کے نوزائیدہ مسائل سمجھ ہی نہی پاتا، ہر لمحہ فرشتہ اجل آنے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ اس سے دھیان ہٹانے کو بے کار قسم کی سکیم سوچتا رہتا ہے۔ یہ ناکارہ ذہن آپ پر ہر جگہ فائز ہیں۔ ملک کی ریڑھ کی ہڈی تھی زراعت، جو دیہات میں ہوتی کسانوں اور دیگر پیشے روزگار کرتے ایسے ہی معذور ذہن حاکم تھے جنہوں نے ساری سہولیات شہروں میں محدود رکھیں۔ تعلیم صحت کی سہولت درکنار زرعی اجناس کی منڈیاں کارخانے سب شہروں میں ہیں، تو نقل مکانی ہوتی رہی، یہ بابے لمبی تان کے سوتے رہے۔ آج ہم زرعی پیداوار کی کمی کا شکار ہیں دیہات میں بےروزگاری ہے، شہروں پے آبادی کا دباؤ اس قدر اور بے ہنگم رہائشی سکیموں کا پھیلاؤ۔ اب بتائیے جو ذمہ دار تھے، سرکاری عہدوں پر پینتیس چالیس سال رہتے ان مسائل کا تدارک نہی کر پائے یہ سٹھیائے، سترے بہترے بزرگ اب مشیر بن کے کیا کر لیں گے۔

اپنے ہاتھ سے اپنی ذات پر خرچ اور خیرات پہلا فرض ہے، متعلقین کا حق بعد میں۔

انسانی زندگی تین زاویوں پر عمومی طور مشتمل ہوتی ہے چالیس سال تک زاویہ حادہ کی طرح بلندی کی طرف رخ ہوتا ہے، چالیس سال میں زاویہ قائمہ پر مستقر ہوتی ہے یہ اوج کی پوزیشن ہے آگے منفرجہ زاویہ لگتا ہے جو زوال کی طرف سفر ہے۔ چالیس سال کی حد پر اگر انسان اپنے وسائل اور اخراجات میں انفاق اور کفایت میں توازن پیدا کرنا شروع کرے۔ اولاد کی پرورش کے فرض ادا کرے اسے بطور انوسٹمنٹ نہ پالے پوسے، انکی جائز ضروریات پوری کرے لیکن ساتھ اگلے بیس سال میں اپنے بڑھاپے کی ضروریات کے لئے پلان بنا کے پس انداز بھی کرتا رہے کہ ساٹھ سال کے بعد بھی وہ خود کفیل ہو، اولاد کا محتاج نہ ہو تو اسے پھر اس عمر میں جب بدن مضمحل ہونے لگے تو محنت مزدوری کی مشقت نہ کرنی پڑے۔ نہ کسی عزیز رشتہ دار کے گھر رہنا پڑے۔ یورپ کی طرح اولڈ ہوم جو اب یہاں بھی فیشن آ گیا وہاں پنا گزین نہ ہونا پڑے۔

ایک اور حقیقت بھی مدنظر رکھئیے۔ یہ مسند اقتدار پے بیٹھے مدقوق بوڑھے ان مسائل سے مبرا نہیں، ہر گز نہیں۔
ہم نے ٹیکس کی وکالت میں ان بڑوں کے خانگی، مالی، جائیداد، کاروبار اور دیگر امور بہت قریب سے دیکھے ہیں۔
عبرت سے بھرپور ہے۔ دعا ہے کہ ہمارے ملک کی قیادت سے اور اداروں کی سربراہی سے یہ زائدالمعیاد بزرگ خود ہی فارغ ہوں اور ریٹائرڈ زندگی سکون سے گزارنے کا سواد لے کے دیکھیں۔

اولاد ماں باپ کی کمائی میں وارث اور حصہ دار ہونے کا حق جتاتی ہے لیکن والدین جنہوں نے انہیں اس قابل کیا وہ ان کی کمائی میں حصہ کجا، یہ ہے کتنی جاننے کے بھی حقدار نہی ہوتے، جس ماں نے زیور بیچ کے بیٹے بیرون ملک بھجوائے وہ گاؤں میں اسکی جدائی کاٹ رہی ہے۔ بیٹے مڈل ایسٹ سے کینیڈا شفٹ ہونے کی تیاری میں مشغول ہیں۔
اپنے ہاتھ سے اپنی ذات پر خرچ اور خیرات پہلا فرض ہے، متعلقین کا حق بعد میں۔

اللہ کریم سب کو شفا دے صحت کاملہ دے اور اولاد کی محتاجی سے بچائے اپنا محتاج رکھے، زندگی عزت پردے سے گزرے عزت پردے کی موت نصیب ہو، اور روز حساب عزت پردہ نصیب ہو،
قلندر عفّی عنہ

یہ بھی پڑھیں: ریٹائرمنٹ کی عمر اور کرسی کی محبت--------- اے خالق سرگانہ
Facebook Comments Box
featuredOld ageOld pepleOld politiciansبوڑھے سیاستدانبوڑھے ملازمینریٹائرمنٹریٹائرمنٹ کی عمرمحمد خان قلندر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کرونا کی صورتحال میں انڈسٹریلائزیشن : ایک جائزہ ۔۔۔۔ محمد شاہ جہان اقبال
next post
راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 23) —- یاسر رضا آصف

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.