تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ہماری ترجیحات —- سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 12/10/2020
written by دانش ڈیسک 12/10/2020
143

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بزرگ نے اعلان کیا جس بادشاہ کا ملک سب سے خوب صورت ہو گا اسے بہترین حکمران کا خطاب اور انعام دیا جائے گا۔ مقابلے کے لیے ایک سال کا وقت طے ہوا۔سال بعد بزرگ اور ہمراہی پہلے ملک میں پہنچے تمام لوگ استقبال کے لیے گھروں سے باہر اور رستوں پر کھڑے تھے۔ ہر طرف بلند و بالا عمارات تعمیر و ترقی کی بہار دکھا رہی تھیں۔۔ بزرگ بڑی خاموشی سے سب دیکھتے رہے۔ دوسرے ملک میں ہر طرف باغات اور پھولوں کی بہار تھی۔ البتہ پہلے ملک کی رعایا کی طرح یہاں کے لوگوں کے چہرے بھی سپاٹ اور ہر قسم کے جذبات سے عاری تھے۔ بزرگ نے یہ سب بھی خاموشی سے دیکھا اور تیسرے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ تیسرے ملک میں بھی لوگ ان کے استقبال کے لیے گھروں سے باہر کھڑے تھے۔ ان کے چہرے خوشی اور جوش سے تمتما رہے تھے۔ ان کے انداز میں طمانیت تھی ۔دوسرے ممالک کی طرح کوئی نمایاں ترقی نہ ہونے کے باوجود اس ملک کے باشندے مطمئن اور اپنے ملک سے پیار کرنے والے تھے۔ چینی شاہزادہ کی طرح اس ملک کا بادشاہ عوام کی سرگوشیاں اور ان کی نہ بیان کی جانے والی تکالیف کا ادراک رکھتا تھا۔ بزرگ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور انھوں نے اس ملک کو انعام کا حق دار قراردیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا اصل اور حقیقی معیار وہاں کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے حکمران کی سب سے پہلی ترجیح اس کی عوام ہونا چاہیے۔ یہ تو بزرگ کا خیال تھا۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو وہ انسان کا پیٹ اور اقتدار کی ہوس ہے۔ ہر انسان کی طرح ہر حکومت اور اس کے نمائنگان کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن بنیادی ضروریات تبدیل نہیں ہو سکتیں ۔جسں طرف نظر اٹھائیے عوام کے پھیلے ہاتھ محض دو ہاتھوں کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ان محرومیوں کی طویل داستان ہے جو ہاتھ کی لکیروں سے دل و دماغ کی حبس زدہ فضا تخلیق کرتی ہے۔ یہی پھیلے ہاتھ اور خالی پیٹ گروہی اور اقوام کی آمریت پہ مہر ثبت کرتے ہیں۔ تیسری دنیا میں بالخصوص عوام کی اہمیت ایک سٹیمپ یا انگوٹھے کی سیاہی سے زیادہ نہیں۔ ہمیں گمان تک نہیں ہوتا کہ انگوٹھے سے لگائی گئی یہ سیاہی ہماری تقدیر کے ورق کو کالا کر سکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیکس پر ٹیکس دیے جانے والے عوام کرتب دکھانے والے شعبدہ باز کے سامنے بے دست و پا ہیں۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

کھانے کی تھیلیوں پر جھپٹتے عوام کی تصاویر جہاں یہ بتاتی ہیں کہ ان کا بنیادی مسئلہ بھوک ہے۔ وہیں ننگے پاؤں ان کے پرخار سفر کی داستان ہے اور دوسری طرف برانڈ پر لگی سیل پر ایک جم غفیر پکار پکار کر کہتا ہے کہ اس کا مسئلہ خود ساختہ سٹیٹس ہے ۔تاکہ وہ اپنا گروہ تبدیل کر سکے۔ یہ گروہی تعصب کسی مذہب یا نظریہ کا شاخسانہ نہیں۔ یہ تو divide and rule کی کھلی جنگ ہے۔ پاکستانی سے پہلے پٹواری اور انصافی کی تشخیص میں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ دونوں کے انگوٹھے پر لگی سیاہی کالی ہی ہے۔ بھلے سے یہ سیاہی سوکھ چکی ہے لیکن اس کے اثرات لگانے والوں اور حاصل کرنے والوں کے دلوں تک پہنچ چکے ہیں۔

ہمیں اپنے حقوق و فرائض سے زیادہ دوسروں کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ یہ ادھوری شخصیات تعصب کی عینک سے جو دیکھتی ہیں وہ لب پہ آسکتا نہیں۔ سو ادھوری معلومات، ادھورے تعلقات، ادھوری تعلیقات مکمل ماحول کی منظر کشی اور تشکیل میں چوک جاتی ہیں ۔ہمارے معاشرہ میں ہر طرف ادھورے منظر ہیں ۔جن میں کہیں تو ریسیور نہیں اور کہیں ٹرانسلیٹر کی کمی ہے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں بھی میسر ہیں وہاں ڈائل کرنے والا نمبر نہیں ۔جہاں نمبر مل جائے وہاں دوسری طرف ریسیور تو موجود ہوتا ہے لیکن وہاں بزی کی ٹیون سنائی دیتی ہے۔۔ یہ سب محض اس وجہ سے ہے کہ ہم دوسروں کے مقام کا تعین کرنے میں مصروف اپنی جگہ خالی کیے بیٹھے ہیں۔

وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

ہم اپنی جنگ نہیں لڑ سکتے کیونکہ ہمیں علم ہی نہیں ہمیں کیا چاہیے۔ بھوکا اور خالی پیٹ ہر فرقہ کا حصہ بننے کے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کیونکہ اس کو صرف روٹیاں نظر آرہی ہوتی ہیں۔ یہ محکوم خواب سے بیدار کیسے ہو سکتا ہے۔ حکمراں کی سامری اب مافیا بن چکی ہے۔ اس کی پٹاری سے تعلیم، اسپتال اور اشیائے خورونوش کے لیے مہنگائی اورقانون کے بے شمار سانپ ہیں ۔جن کی نظریں اب بیج پر ہیں کہ کب فصل نکلے اور اپنا حصہ وصولا جاسکے۔

روٹی مہنگی ہوئی تو جواز پیش کیا گیا کہ خواتین کو سگھڑاپے کا مظاہرہ کرتے ہوئے روٹیاں گھروں میں پکانا چاہیے۔ دوکانوں سے آٹا غائب ہوا تو شاید اگلا مشورہ یہ ہو گا کہ روٹی مٹی سے بھی بنائی جا سکتی ہے۔وہ بچے جو یہاں کی محرومی سے تھک کر باہر مزدوری کرنے جاتے ہیں وہ باہر سے اپنے استعمال کے لیے جو موبائل لیں ان کو اس پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے جو موبائل کی قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ عوام کے پھیلے ہاتھ اور خالی پیٹ ان کی کم عقلی ہے اور عقل مند لوٹ مار کے نئے قوانین متعارف کروا رہے ہیں۔ گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی پر بحث کرنا ایسے ہی ہے جیسے باسی کھانا سامنے رکھ کر اس کے نقائص بتانا. ہماری پلیٹوں میں تازہ کھانا پڑا ہے اور ہم باسیوں روٹیوں کی لڑائی میں پڑے ہیں۔سب حکومتیں اپنے نعرے لے کر آتی ہیں حالیہ حکومت نے بھی تبدیلی کا نعرہ بلند کیا اور تبدیلی کے نام پر دھند ہی دھند ہے۔ تنخواہوں میں اضافے سے محرومی، ادویات کا مہنگا ہونا، صحت اور تعلیم کے مسائل سب تبدیلی کی نذر ہو چکا ہے۔ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور ہمارے پاس نئی بات کرنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں. صرف چیخ پکار، الزامات کی بوچھاڑ اور لعن طعن ۔گرین پاکستان پر بات کرنے والے فوسل فیولز کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ تقاریر کا شوق گفتار کے غازی پیدا کر رہا ہے ۔ہماری ایک وزیر صاحبہ کو اتنا بولنے کا شوق ہے کہ وہ مدعا بھول جاتی ہیں۔ گرمی دھوپ سے بے نیاز کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کر کے ہرے بھرے پاکستان کی تشکیل میں مشغول ہیں۔علم و شعور کے وہ پودے جو پانی نہ ملنے سے سوکھ رہے ہیں ان پر تبدیلی کے بند بندھے ہیں جو تازہ ہوا اور پانی کی ترسیل کو روک رہے ہیں۔ تبدیلی کا وہ عمل جو زمین سے شرونا ہونا تھا۔تجاوزات کی مسمار پر رک گیا ہے ۔نہ زمین نرم کی جا رہی ہے نہ بیج کی بوائی کا اہتمام ہے۔
وہ فصل کہاں ہے جسے اندیشہء زوال نہیں cutie.mia anya matusevich nude Cutie Mia

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سجاول خان رانجھا: ایک فراموش سفرنامہ نگار — نعیم الرحمٰن
next post
غلام عباس کی ’آنندی‘ اور آج کی "این جی او” — فرحان کامرانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.