تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

غلام عباس کی ’آنندی‘ اور آج کی "این جی او” — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 12/10/2020
written by دانش ڈیسک 12/10/2020
78

میری بدقسمتی ہے کہ میں نے ابھی تک غلام عباس کو نہیں پڑھا۔ مگر میں نے اُن کے افسانے آنندی سے ماخوذ فلم ’منڈی‘ دیکھی ہے۔ شیام بینیگل کی یہ کمال فلم عہد حاضر کی بڑی سچائی سے پردہ اٹھاتی ہے۔ شبانہ اعظمی، نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کی یہ فلم موقع ملے تو ضرور دیکھئے۔ اِس فلم کی چند بنیادی تھیمز میں سے ایک یہ ہے کہ آج کے دور میں جو کسی برائی کو مٹانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خود ہی اسی برائی کے بیوپاری ہیں۔ فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ طوائفوں کے خلاف مہم چلانے والی میڈم خود کوٹھے سے چھڑائی گئی لڑکی سے دھندا کروانا چاہ رہی ہیں۔ جارج آرویل نے بھی نام اور کام کی دورنگی اپنے ناولوں میں خوب دکھائی ہے۔ آزادی، غلامی ہے اور سچ، جھوٹ۔ نام بدل دئے جاتے ہیں کام وہی ہوتے ہیں۔ سماجی ادارے مرتے نہیں بلکہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتے ہیں اور بے حد قوی ہوجاتے ہیں۔ پرانی چیزیں گندی مشہور ہو جاتی ہیں۔ سب جان جاتے ہیں کہ اُن میں کیا کیا برائیاں ہیں تو نئے نام سے وہی چیزیں متعارف ہوتی ہیں اور نئے نام میں پرانی برائی کی پیکیجنگ کر دی جاتی ہے، اللہ اللہ خیر صلا۔

ضیاء صاحب کے دور میں ہیرا منڈی اور نیپئر روڈ وغیرہ پر پابندی کی صورتحال پیدا ہوئی تو نتیجے میں دھندا کرنے والیاں سارے شہر میں ادھر ادھر پھیل گئیں اور اس یشے کا پورا ہی چہرہ بدل گیا۔ آج دھندے کے لئے کوٹھا کوئی مخصوص جگہ رہی ہی نہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والی، بڑے بڑے معروف اداروں میں پڑھانے والی اور سیاست کے ایوانوں میں موجود بھی کچھ عورتیں پارٹ ٹائم اسی قدیم دھندے سے منسلک ہیں۔ بہت مرتبہ شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو اُن کے سسرال والے اور اُن کے شوہر بھی اِس دھندے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کہنے کو تو ہیرا منڈی ختم ہی ہو گئی مگر دراصل اب سماج میں بڑے بھیانک طور پر پھیل چکی۔ کہنے کو نیپئر روڈ ماضی کا قصہ بن چکی مگر نیپئر روڈ تو اب نجی اور سرکاری جامعات تک پھیل چکی۔ بلکہ کون سا ادارہ اِس سے محفوظ ہے؟ ناموں میں کیا رہ گیا ہے اب؟

پچھلے 18 سالوں میں یہ ”آنندی“ بڑی تیزی سے NGO’s کی مہربانی سے پھیل رہی ہے۔ غریب گھروں کی لڑکیوں کو تعلیم کی امداد کے نام پر اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات انہیں دوسرے ملکوں میں تعلیم کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ پھر وہ واپس آ کر اس NGO کی پوسٹر گرل بھی ہوتی ہیں اور اپنے پس منظر میں (جو پسماندہ ہوتا ہے) ایک نوع کی مستند سفیر بھی بن جاتی ہے۔ پھر وہ NGO اِس نوع کی لڑکیوں کی نمائش کر کے اپنے غیر ملکی امداد کنندہ اداروں سے پیسے لوٹتی ہیں۔ چند ماہ قبل منعقدہ ”عورت مارچ“ میں اسی نوع کی ایک لڑکی جو سرائیکی وسیب کے بڑے غریب پس منظر سے تعلق رکھتی ہے، مجھ کو پوسٹر اٹھائے کھڑی نظر آئی۔ کیونکہ میں اس لڑکی کو اور اسکے پس منظر کو اچھی طرح جانتا تھا اسلئے جھٹکا لگا۔ اُس لڑکی کو آپ آسانی کے لئے آنندی ہی کہہ لیجئے۔ آنندی کے پوسٹر پر کیا لکھا تھا یہ تو شائد سب جانتے ہی ہیں مگر مجھے اُس لڑکی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ غیر تعلیم یافتہ پس منظر کی اُس لڑکی میں اب اپنی تہذیب و ثقافت کیلئے محض نفرت و حقارت کے سوا کچھ بھی باقی نہیں کیونکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے سادہ و غریب گاؤں سے نکالنے والی NGO والی آنٹی نے اُسے برطانیہ کی سیر کروا دی ہے۔ اسے گریجویشن تک تعلیم دلا دی ہے اور ترقی یافتہ دنیا کے سارے آزاد مزے کروا دیے۔ اس قیمت پر اس بیچاری نے اپنی روح اور جسم سب NGO والی آنٹی کو فروخت کر دیے۔ کتنی سستی قیمت لگی ہے عورت کی۔ لگانے والی بھی عورت ہی ہے۔ چلانے والی بھی عورت ہے چلنے والی بھی عورت ہے۔ اب وہ ایک کٹھ پتلی ہے جو ایک طرف NGO والی آنٹی کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے اور دوسری طرف اپنی نت نئی خواہشات کے ہاتھوں میں۔ اب وہ ’پدرشاہی‘ کو گالی بکے گی مگر اس پر آنٹی کی شاہی قائم ہے۔ یہ ہے وہ آزادی جس کے نعرے مارچ میں بلند کئے گئے۔ ویسے اگر یہ آزادی ہے تو غلامی کس چڑیا کو کہتے ہیں؟ یہ ہے آزادی کے بھیس میں غلامی۔ اسی کو کہتے ہیں آنندی یا منڈی؟ معلوم نہیں۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہماری ترجیحات —- سعدیہ بشیر
next post
سیمون دی بووا: شادی مخالف، اسقاط حمل کی حامی فیمسنٹ اسکالر — وحید مراد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.