تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

انسان اور ”پروفیشنل“ کا فرق — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 31/08/2020
written by دانش ڈیسک 31/08/2020
135

مشینیں انسان کی ایجاد ہیں، آج کل کہا جاتا ہے کہ مشینیں ذہین (عام اصطلاح میں smart) ہو گئی ہیں اور اب مشینوں کی ذہانت انسان نما ہو گئی ہے یعنی انسان کی تخلیق اسی کی طرح ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بات جتنی مشہور ہے اتنی ہی غلط ہے۔ مشین کبھی انسان جیسی نہیں ہو سکتی، مشین میں رحم نہیں ہوتا، مشین میں صبر نہیں ہوتا، مشین میں ہمدردی نہیں ہوتی، مشین میں محبت بھی نہیں ہوتی، نفرت بھی نہیں ہوتی، مشین بس پٹڑی پر چلتی ہے، چاہے وہ پٹڑی ریل کی ہو یا سوفٹ ویئر کی صورت میں پروگرامنگ کی پٹڑی۔ کبھی کوئی ٹرین اسلئے خود سے نہیں رکی کہ اس کے سامنے پٹڑی پر کوئی خودکشی کرنے لیٹا ہے اور اگر کل کو ٹرینیں سامنے کسی انسان کے آنے پر رکنے لگیں تو یہ بھی رحم یا ہمدردی کی وجہ سے نہ ہو گا بلکہ صرف اس لئے ہو گا کہ اس میں ایسی پروگرامنگ کر دی جائے گی۔

جو انسان جتنا بڑا پروفیشنل ہے وہ دراصل اتنا ہی بڑی مشین ہی تو ہے

یعنی مشین تو انسان نہیں بن سکتی مگر انسان مشین بن سکتا ہے۔ اسے بس اپنے اندر سے انسانی اوصاف مٹانے پڑیں گے اور کسی کی پروگرامنگ کی پٹڑی پکڑنی پڑے گی۔ شائد یہ ساری باتیں قاری کو محض طنز معلوم ہوں مگر راقم الحروف کا طنز کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ بات اگر جانچنی ہو تو ذرا غور سے کسی ”پروفیشنل“ کو دیکھئے۔ غور کیجئے کہ جو انسان جتنا بڑا پروفیشنل ہے وہ دراصل اتنا ہی بڑی مشین ہی تو ہے، مگر کیسے؟

ہمارے پاس بہت ساری مثالیں ہیں۔ سب سے پہلے چلئے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، اسپتالوں میں کون آتے ہیں؟ مریض۔ مریض یعنی وہ لوگ جو تکلیف میں ہوتے ہیں مگر ان تکلیف کے شکار افراد کے ساتھ اسپتال میں جیسا بھی رویہ ان افراد سے اختیار کیا جائے، اس سارے رویے کا دارو مدار صرف اس پیسے پر ہوتا ہے جو اسپتال کے اکاؤنٹ میں آپ جمع کرواتے ہیں۔ اسپتال والے پیسہ نہ ملنے پر علاج روک دیتے ہیں۔ پیسہ نہ ملے تو آپریشن نہیں کرتے، دوا نہیں دیتے، الغرض اگر پیسے نہیں تو مر جاؤ! غور کیجئے کہ ہم نجی اسپتالوں کی بات کر رہے ہیں، یہ ادارے بڑی بھاری ڈگریوں والے ”پروفیشنل“ چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر بھی بڑے ”پروفیشنل“ ہوتے ہیں، اکاؤنٹ سیکشن میں گلّے میں بیٹھے جلاد بھی بڑے پروفیشنل ہوتے ہیں۔

جی اسکولوں میں جو جتنا بڑا ”پروفیشنل“ ہے وہی ادارہ اتنا سفاک ہے۔

اب ذرا نجی اسکولوں پر متوجہ ہوں، یہ ادارے بھی بڑے ”پروفیشنل“ لوگ چلاتے ہیں۔ کسی بچے کی فیس دیر سے جمع ہو تو اسے پرنسپل کے کمرے میں بلا کر ذلیل کیا کیا جاتا ہے۔ پھر اُس کے والدین کو بلا کر ذلیل کیا جاتا ہے۔ اگر فیس نہ دی جائے تو بچے کو اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ آخر مجبوری کیا ہوئی، آخر مسئلہ کیا ہے۔ شائد کسی گلی محلے کے اسکول میں تو ہمدردی میں کسی اچانک غریب / یتیم ہو جانے والے بچے کی فیس معاف کر بھی دی جائے مگر ایسا کبھی بھی کسی بھی ”پروفیشنل“ ادارے میں نہیں ہو گا اور اگر ہوا بھی تو انسانی و برجستہ احساس کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ کسی پالیسی کی وجہ سے ہو گا جو کسی بہت ہی اُ تھلی اور بڑی حد تک وسیع تر معنوں میں کسی نوع کی امیج بلڈنگ کے منصوبے سے جڑی وجہ سے ہو گا۔ نجی اسکولوں میں جو جتنا بڑا ”پروفیشنل“ ہے وہی ادارہ اتنا سفاک ہے۔ اس پروفیشنل ازم کی مثال مشینوں میں گاڑی، ٹرین وغیرہ سے نہیں دی جا سکتی، اس کی مثال صرف کلاشنکوف ہے۔

پھر ایک مثال NGOs کی ہے، یہ ادارے اور ان کے کرتا دھرتا لوگ دنیا پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تو رفاہ انسانیت کیلئے مرے جا رہے ہیں مگر ان اداروں اور ان سے منسلک پروفیشنلز کی حقیقت مردار خور گدھ کی ہے۔ یہ ادارے قومی، صوبائی اور شہری سطحوں پر رجسٹرڈ ہوتے ہیں، جب کسی بین الاقوامی ادارے سے پیسے NGO کو ملتے ہیں تو اس میں سے 33 فیصد اپنے پاس رکھنا ان ”پروفیشنل“ اداروں نے قانونی طور پر اپنا حق بنا رکھا ہے۔ اب یہ قومی سطح کا ادارہ یہ پیسہ اپنے ہی صوبائی سطح کے ادارے کو یہ پیسہ منتقل کرتا ہے اور یہ صوبائی ادارہ بھی 33 فیصد اپنی جیب میں رکھ کر وہ پیسہ اپنے ہی شہری سطح کے ادارے کو منتقل کر دیتا ہے۔ یوں سارا ہی پیسہ بڑے پروفیشنل طریقے سے ہضم کر لیا جاتا ہے، صدر میں ایک بے گھر سڑک پر پلنے والے بچوں کی فلاح کے نام پر NGO کا مرکز ہے۔ وہاں دنیا کو دکھانے کیلئے درجن بھر ایسے بچے رکھے گئے ہیں اور ان کے نام پر یہ ادارہ کروڑوں روپے سالانہ ہضم کر رہا ہے۔ اسی بات کو تو پروفیشنل ازم کہا جاتا ہے۔

اداروں کا پروفیشنل ازم، افراد کا پروفیشنل ازم الغرض اب تو ہر طرف یہی غیر انسانی پروفیشنل ازم سکہ رائج الوقت ہے۔ وکیل اپنے موکلین کو نچوڑ کر کنگال کردیتے ہیں اور کبھی ایک لمحے کو ان کی راتوں کی نیند بھی خراب نہیں ہوتی۔ ان کا ضمیر ان کو ملامت نہیں کرتا۔ جب KDA اور KMC ،SBCA وغیرہ کے افسران لوگوں کی دکانیں اور مکانات گرانے آتے ہیں تو ان پروفیشنلز کو اُنکی انسانیت، ان کے اندر کا رحم کا جذبہ ان کی ہمدردی اس فعل سے نہیں روکتی۔ یہ بس کر گزرتے ہیں اپنا کام، اسلئے کہ سارے پروفیشنل دراصل مشینوں کی طرح پٹڑی پر چلتے ہیں، پروگرامنگ پر چلتے ہیں، ساہیوال میں معصوم لوگوں کو گاڑی روک کر گولیوں سے بھون دینے والے CTD کے افسران کے دل میں بھی ایک لمحے کو بھی رحم نہ جاگا، کیسے جاگتا؟ وہ پروفیشنل تھے۔ پروفیشنل میں احساس کب ہوتا ہے؟ جذبات کب ہوتے ہیں؟ اس میں تو بس پروگرامنگ ہوتی ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ آج کے دن تک ہمارے ملک کے لوگوں کی جمیع اکثریت اچھی پروفیشنل نہیں بنی۔ کسے معلوم تھا کہ انسانیت پر یہ وقت بھی آئے گا کہ جب انسان اپنی ہی تخلیق یعنی مشینوں کی ایک دوسرے درجے کی نقل بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: اختصاص کا وحشی پن: تحسین فراقی
Facebook Comments Box
featuredman and machineprofessionalismانسان اور مشینپرفیشنلفرحان کامرانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سفرپارے: امجد اسلام امجد کے سفری کالم — نعیم الرحمٰن
next post
منصور اختر صدیقی : جدوجہد کا استعارہ —– سلمان عابد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.