تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

مولوی اور میرا “احساس کمتری” —-  حسیب احمد حسیب

by دانش ڈیسک 26/08/2020
written by دانش ڈیسک 26/08/2020
122

عالم دین نہ ہونا ہمیشہ میرے لیے احساس کمتری کا موجب رہا ہے۔ نوجوانی میں جب دینی کتب کا بے اختیار مطالعہ شروع کیا تو دل میں یہ شدید خواہش ابھری کہ عالم بنا جائے، اسی خواہش کی تکمیل کیلیے مختلف مدارس کے چکر لگائے، علماء کی خدمت میں حاضری دی مگر

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشَد خدائے بخشندہ

جب بھی علماء کو دیکھا رشک کے ساتھ اور سچ پوچھیے تو کسی نہ کسی درجے میں حسد بھی محسوس ہوا کہ کاش کہ میں بھی عالم ہوتا، کاش مجھے بھی مدارس کا متبرک ماحول ملا ہوتا، کاش میں بھی ان منور محافل میں شریک ہوا ہوتا، کاش مجھے بھی اللہ والوں سے اکتساب کا موقع ملتا، اور یقین جانیے اس احساس کے اظہار میں کبھی بخیلی سے کام نہیں لیا۔ شاید وقت و حالات یا شاید میری کم ہمتی و بے توفیقی نے مجھے اس مبارک صف میں شامل ہونے سے دور رکھا۔ جانے انجانے کہیں مجھے علماء کی نقالی کا شوق ہوا شاید کہ کسی لاشعوری احساس نے شعور کے پردے پر خاموشی سے دستک دے کر اپنی تصویر بنادی، ویسا ہی لباس ویسا ہی لبادہ وہی انداز وہی چال ڈھال ویسی ہی بود و باش بولنے کا ویسا ہی انداز یا اس انداز کی نقالی مگر اندر کی سچائی تو یہ کہ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

کتابوں کا بوجھ کاندھوں پہ لادے خود کو اس دھوکے میں رکھا کہ شاید میں بھی علماء کی کسی صف کا کوئی آخری فرد کہلا سکوں مگر سچائی تو کچھ یوں کہ

خرِ عیسٰی اگر بمکہ رود

چوں بیاید ہنوز خر باشد

پھر یہ خیال ہوا کہ چلو علماء کی صحبت اختیار کی جائے ان کی محافل میں بیٹھا جائے اور اگر کبھی گستاخی کا موقع مل جائے تو دو ایک جملے بول کر خود کو اپنی ہی نگاہوں میں اپنے تئیں عالم محسوس کروایا جائے۔ ہائے یہ خود فریبی ہائے یہ غم نارسائی۔

پھر نجانے کہاں سے سوشل میڈیا کی دنیا میں چلایا آیا۔ رومن سے ابتدا کی اور آہستہ آہستہ اردو تحریر سیکھی۔ مذہب تو موضوع تھا ہی لکھنا شروع کیا تو لوگ باگ یہ سمجھے کہ مولوی ہے، بہت خوشی ہوئی کہ چلو حقیقت میں نہ سہی اس مصنوعی دنیا میں تو مولوی بن گئے۔ ابھی کالر کھڑے ہی ہوئے تھے کہ کان کتر دیے گئے۔ ہوا یہ کہ کچھ مولویوں سے دوستی ہوگئی تو اپنی حقیقت ظاہر ہوئی عقدہ یہ کشا ہوا کہ میاں مولوی اگر کوٹ پتلون میں بھی آجاوے تو تمہاری اس دکھاوے کی ہیئت پر اس کی گمشدہ علمیت بھاری ہے، تو جب ادراک کے در وا ہوئے تو بار بار یہ اظہار کیا، ہر جگہ کیا، ہر محفل میں کیا، کہ میں مولوی نہیں ہوں بلکہ “خدا کی قسم میں مولوی نہیں” کے نام سے تحریر لکھ کر اتمام حجت بھی کردیا کہ جناب مجھے مولوی نہ سمجھا جائے۔ ابھی اس مخمصے سے نکلا ہی تھا کہ ایک نئے انکشاف نے اپنے در وا کیے اور وجدان نے سمجھایا کہ خود مولوی کا مولوی ہونا بھی آگے کا مقام ہے کہ

 مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

تا غلام شمس تبریزی نہ شد

مجھے یاد ہے کہ ایم فل کے انٹرویو میں مجھ سے یہ پوچھا گیا، دیکھو تمہارے ساتھ یہ سارے علماء ہیں درس نظامی پڑھے ہوئے عربی دان فصیح اللسان ان کا مطالعہ حقیقی مطالعہ ہے ان کے اساتذہ عظیم ہیں ان کے پیچھے معتبر درسگاہیں ہیں اور ان کے پاس اسانید ہیں، کیا تم ان کے ساتھ چل پاؤ گے اور میری پیشانی پر عرق ندامت اور سر احساس کمتری سے جھکا ہوا کہ تو کجا من کجا۔

کبھی ایسا ہوا کہ اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی دانی کا مظاہرہ کیا اور کسی محترم ہم درس نے کہا کہ آپ کی انگریزی تو اچھی ہے ہماری انگریزی کیسے اچھی ہو گی اور میں دل ہی دل میں کہ اجی اس موئی فرنگن کی کیا اوقات آپ کے پاس تو جنت کی عربی ہے اور میرا سینہ اس سے خالی۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي* وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي*
آمین ثم آمین

تو آج جب میں علماء کی زبان پر گلہ دیکھتا ہوں، انہیں شکوہ کناں پاتا ہوںتو سوچتا ہوں کہ شاید انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے پاس کیا دولت ہے یا شاید جب کسی کے پاس دولت آجاوے تو اس کے دل سے اس کی قدر نکل جاتی ہے۔ اب یہ تو کوئی کسی فقیر سے پوچھے کہ جس کے دل سے ہمیشہ یہ دعا نکلتی ہو

 فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَىَّ مِنْ خَيْـرٍ فَقِيْرٌ
اور علم دین سے بڑی خیر بھی کیا کوئی ہو سکتی ہے !

Facebook Comments Box
molviعالم دینعلماملامولوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کراچی: فنا ہوتا شہر؟ —– احمد اقبال
next post
ہیں آج کیوں ذلیل ؟ برنارڈ لیوس/ محمد سلیمان قاضی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.