تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمعلم و ادب

خوراک کا خاتمہ: ڈیوڈ ویلس ویلز —- ترجمہ: ناصر فاروق 

by دانش ڈیسک 24/08/2020
written by دانش ڈیسک 24/08/2020
151

موسم ہر جگہ ایک سے نہیں ہیں، مختلف خطے مختلف فصلیں اُگاتے ہیں، سازگاری میں مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ مگر آج صورتحال یہ ہوچکی ہے، کہ کھیتی باڑی کی فضا ہر جگہ مرجھا رہی ہے۔ اگر اس صدی کے آخر تک کرہ زمیں مزید پانچ ڈگری گرم ہوجاتا ہے، تو پچاس فیصد مزید بھوکے انسان اور پچاس فیصد اناج کی کمی ہمارے سب سے بڑے مسائل بن جائیں گے۔ ماہرین روزامنڈنیلر اور ڈیوڈ بیٹسٹی نے ظاہر کیا ہے، کہ گرم علاقے پہلے ہی قابل زراعت نہیں ہیں، اور جہاں جہاں زمین زرخیز ہے وہاں دن بہ دن درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ذرا سی بھی زیادہ گرمی سے زیادہ زرعی پیداوار گھٹتی چلی جائے گی۔

شاید، قحط حدت سے بھی بڑا مسئلہ بن جائے گا، دنیا کے سب سے زیادہ زرخیز خطے تیزی سے ریگستان بنتے جارہے ہیں۔ ترسیب ایک ناپسندیدہ نمونہ ہے، اُس پراس صدی کے اواخر کے لیے پیش گوئیاں بنیادی طورپرمتفق ہیں: ہر جانب بے نظیر قحط پڑجائیں گے۔ سن2080 تک، اگر کاربن کے اخراج میں ڈرامائی کمی نہ کی گئی، جنوبی یورپ شدید قحط کی لپیٹ میں آجائے گا۔ یہی صورتحال عراق، شام، اور بیشتر مشرق وسطٰی میں بھی سامنے آئے گی؛ آسٹریلیا کے بہت زیادہ گنجان آباد علاقے، افریقا، اور جنوبی امریکا میں بھی یہی حالات بن جائیں گے۔ چین کے انتہائی زرخیز ترین breadbasket خطے بھی قحط سے دوچار ہوجائیں گے۔ ان میں سے کوئی بھی مقام، جو آج دنیا کا سب سے زیادہ اناج پیدا کررہے ہیں، قابل بھروسہ ذرائع ’’خوراک‘‘ نہیں رہیں گے۔

یاد رہے، ہم ایک ایسی دنیا میں نہیں رہتے کہ جہاں بھوک کا کوئی وجود نہ ہو۔ اکثر تخمینے کہتے ہیں، کہ دنیا بھرمیں اسی کروڑ انسان ضروری خوراک سے محروم ہیں۔ افریقا اور مشرق وسطٰی میں پہلے ہی ریکارڈ قحط آچکا ہے۔ اقوام متحدہ مختلف موقعوں پر صومالیہ، جنوبی سوڈان، نائجیریا، اور یمن کو بھوک سے ہلاکتوں کے امکان پر خبردار کرتا رہا ہے، یہ ہلاکتیں سالانہ دو کروڑ تک رہی ہیں۔

موسمی وبائیں
کیا ہوگا کہ جب ببونک(وبائی، جراثیمی) آئس پگھلے گی؟
چٹانیں، انجان صدیوں سے ارضی تاریخ اپنی تہوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح برف کام کرتی ہے، موسموں کا کھاتا جمائے رکھتی ہے۔ یہ منجمد تاریخ ہے، مگرپگھل جائے توپھر سے حرکت میں آسکتی ہے۔ جیسا کہ آرکٹک آئس میں آج بھی بیماریوں کی صورت جمی ہوئی ہے، اور کروڑوں سال سے فضا میں گردش نہیںکرسکی ہے۔ ان میں سے بہت سی وہ نامعلوم وبائیں ہیں، جن سے آج کے انسان کا امیون سسٹم (دفاعی نظام)شناسا بھی ہے یا نہیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ نہ جانے ما قبل تاریخ کی یہ بیماریاں کس نوعیت کی ہوں گی۔

آرکٹک میں حالیہ وقتوں ہی سے بہت خوفناک جرثومے جمع ہوچکے ہیں۔ امریکی ریاست الاسکا کی برف میں، محققین کو 1918 فلو کی باقیات مل چکی ہیں، جس نے پچاس کروڑ انسانو ں کومتاثر کیا تھا، اوردس کروڑ کی جان لی تھی، جو اُس وقت دنیا کی آبادی کا پانچ فیصد تھی۔ سائنس دانوں کوشبہ ہے کہ سائبیرین برف میں بھی جراثیمی وبائیں جمع ہیں۔ یوں سمجھیے کہ انسانی بیماریوں کی مختصر تاریخ آرکٹک میں محفوظ ہے۔ بتیس ہزار سال قدیم بیکٹیریا extremophile سن2005 میں ازسرنو زندہ ہوچکا ہے۔ اسی لاکھ سال پرانا ایک جرثومہ سن 2007میں پھر سے زندہ کیا جاچکا ہے۔ جو چیز ماہرینِ وبا کوزیادہ پریشان کررہی ہے، وہ قدیم بیماریوں سے زیادہ موجودہ متعدی امراض ہیں، جوحدت کے سبب مقامات بدل رہی ہیں اور خود کو دہرارہی ہیں۔

آج کی دنیا میں، کہ جب عالمگیریت ہے، آبادیوں میں بھرپور ملنا جلنا ہے، ہمارا ماحولیاتی نظام مستحکم ہے۔ مگر عالمی حدت اس ماحولیاتی نظام کو اُتھل پُتھل کرسکتی ہے۔ آپ اگر امریکی ریاست مین یا ملک فرانس میں رہتے ہیں، تو ڈینگی یا ملیریا سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگرگرمی شمال کی طرف بڑھنے لگے اور مچھربھی ساتھ ہی سفر کرجائیں، توپھرپریشانی ساتھ ساتھ منتقل ہوجائے گی۔

ہم اس بارے میں پُر یقین نہیں ہیں کہ بدلتا موسم کس طرح بیماریوں پراثر انداز ہوتا ہے۔ سائنس دان درحقیقت نہیں جانتے کہ وہ کیا کچھ سمجھ چکے ہیں، اور کیا کچھ نہیں جان سکے ہیں۔ مثال کے طورپرملیریا ہے، کہ جو گرم موسم کے ساتھ حرکت کرتا ہے، اور ہربڑھتے درجہ میں دس گنا زیادہ تیز ی سے بیماری پھیلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بینک نے تخمینہ لگایا ہے کہ سن 2050تک پانچ اعشاریہ دو ارب انسان اس سے کسی نہ کسی طور متاثرہوں گے۔

ایسی ہوا، کہ سانس لینا دشوار ہوجائے
ایک جان لیوا سماگ، جو کروڑوں انسانوں میں گھٹن پیدا کردے
ہمارے پھیپھڑوں کو آکسیجن کی ضرورت ہے، مگریہ ضرورت ہماری سانس کا محض ایک جُز ہے۔ جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جُز بڑھتا جارہا ہے، کُل بنتا جارہا ہے: یہ فی دس لاکھ چارسو حصوں کونگل چکا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ سن 2100میں فی دس لاکھ ہزار حصوں تک چلاجائے گا۔ اس ارتکاز پر، اُس ہوا سے اگر موازنہ کیا جائے کہ جس میں ہم آج سانس لے رہے ہیں، انسان کی حسی صلاحیت اکیس فیصد گھٹ جاتی ہے۔ گرم ہوا کے دیگر اجزائے ترکیبی اور بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ فضا میں آلودگی کا معمولی سا اضافہ بھی انسانی زندگی کی مدت دس سال گھٹا دیتا ہے۔ جوں جوں کرہ ارض گرم ہورہا ہے، اور مزید اوزون تشکیل دے رہاہے، اکیسویں صدی کے وسط تک امریکی ممکنہ طورپر ستر فیصد اضافی مضرصحت اوزون اسماگ میں زندگی بسر کریں گے، جیسا کہ نیشنل سینٹربرائے ماحولیاتی تحقیق نے محقق کیا ہے۔ سن2090 تک، دوارب انسان اُس ہوا میں سانس لے رہے ہوں گے، کہ جوعالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ ’محفوظ‘ سطح سے تجاوزکرچکی ہوگی۔

پہلے ہی، دس ہزار سے زائد لوگ روزانہ قدرتی ایندھن سے خارج ذرات کے سبب موت کا شکار ہورہے ہیں۔ ہرسال 339,000 افراد جنگلات کی آگ سے بننے والے دھوئیں کی نذرہوجاتے ہیں۔ بدلتے موسم کے سبب جنگلات میں آگ بھڑکنے کا امکان بڑھتا جارہا ہے۔ امریکا میں 1970 سے اب تک جنگلات میں آگ بھڑکنے کی مدت اٹھہتر روز بڑھ چکی ہے۔ امریکا کی فوریسٹ سروس کے مطابق، سن 2050 تک، جنگلات کی آگ دگنی تباہ کُن ہوجائے گی، اور کچھ علاقوں میں یہ پانچ گنا زائد بڑھ جائے گی۔ جو بات زیادہ تشویشناک ہے، وہ یہ کہ جنگلات کی یہ آگ نباتاتی کوئلہ سے جو دھواں اٹھائے گی، وہ انتہائی زہریلا ہوگا۔ اس کی ایک مثال انڈونیشیا کے ایک نباتاتی دلدلی جنگل میں بھڑکنے والی وہ آگ ہے، کہ جس کی آلودگی نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عالمی اخراج میں چالیس فیصد اضافہ کردیا تھا۔ مزید آگ کا مطلب مزید گرمی ہے، اور مزید گرمی کا مطلب مزید آگ ہے۔ ایمازون جیسے بارشوں والے جنگل کے لیے بھی خدشات ہوسکتے ہیں، کہ جو پہلے ہی سن 2010 میں دوسرے ’’سوسالہ قحط‘‘ سے گزر چکا ہے، اور یہ قحط سالی پانچ سال تک رہی، اور مستقبل میں یہ اُس حد تک خشک پڑسکتا ہے، کہ آگ بھڑکنے کے سلسلے چل سکتے ہیں۔ یہ سلسلے نہ صرف فضا میں کاربن کی مقدار خوفناک حد تک بڑھا سکتے ہیں بلکہ جنگلات کا رقبہ بھی گھٹا سکتے ہیں۔ اس کی بہت زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ ایمازون تنہا پوری دنیا کو بیس فیصد آکسیجن مہیا کرتا ہے۔

یہاں فضائی آلودگی کے اور بھی کئی جانے پہچانے نمونے موجود ہیں۔ 2013 میں، آرکٹک کی پگھلتی برف نے ایشیا کے موسمی نمونے بدل دیے تھے، صنعتی چین کو قدرتی ہواداری ventilation کے نظام سے محروم کردیا تھا، کہ جس پر اُس کا بہت انحصار تھا، اور اب شمال کا بہت بڑا علاقہ مضر صحت سماگ کی لپیٹ میں رہتا ہے۔

جنگ مسلسل
تشدد حدت میں پک جائے گا
ماہرین ماحولیات جب شام کے بارے میں کوئی بات کرتے ہیں، بہت محتاط لب ولہجہ اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب بدلتا موسم قحط برپا کرے گا، اورجس کے سبب خانہ جنگی پھوٹ پڑے گی، تب یہ کہنا درست ہوگا کہ تنازع کا سبب محض ’’حدت‘‘ ہے، کیونکہ پڑوس لبنان میں بھی فصلیں اچھی نہ ہوئی ہوں گی۔ تاہم محققین، جیسے کہ مارشل برک اور سولومون سیانگ کہتے ہیں، کہ درجہ حرارت اور تشدد میں گہرا تعلق ہے: ہر آدھا درجہ ڈگری بڑھنے پر، معاشرے مسلح تنازعات میں دس سے بیس فیصد اضافہ دیکھیں گے۔ ماحولیات کی سائنس کہتی ہے، کہ کچھ بھی سادہ نہیں، دراصل اعدادوشمار دل خراش ہیں: رواں صدی معاشرتی تصادم دگنے ہوسکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے جس بھی سائنس دان سے بات کی، اُس نے یہ نشاندہی ضرور کی کہ، امریکی فوج بدلتے موسم کی لپیٹ میں ہے، اس کے وہم میں مبتلا ہے۔ سمندروں کی بلند ہوتی لہروں میں امریکی نیوی کے اڈے ڈوب جائیں گے، اور دنیا کا پولیس مین بڑی مشکل میں پڑجائے گا۔ اُس پر مستزادیہ کے جرائم کی شرح دگنی ہوجائے گی، جن سے نمٹنا امریکا کے بس میں نہ ہوگا۔ یقینا، یہ صرف شام نہ ہوگا، کہ جہاں موسم کی گرمی تنازع کا سبب بنے گی بلکہ پوری دنیا کا یہی مقدر ہوگا۔ موسم اور جنگ کا یہ تعلق بڑی بڑی ہجرتوں کا سبب بن جائے گا۔ جبکہ پہلے ہی چھ کروڑ پچاس لاکھ مہاجرین دنیا بھرمیں در بہ در ہیں۔

(جاری ہے)

اس سے پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

Facebook Comments Box
featuredڈیوڈ ویلس ویلز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار — زاہد مغل
next post
مشق سخن سے شاعری تک: میرے خیالات و تجربات — ادریس آزاد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.