تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

داغ دہلوی: مابعد نوآبادیاتی مطالعہ، نیا تفہیمی بیانیہ —- عامر سہیل

by دانش ڈیسک 24/06/2020
written by دانش ڈیسک 24/06/2020
128

ڈاکٹر طارق ہاشمی کی آپ جو تنقیدی کتاب بھی اٹھاکر دیکھیں آپ کو وہاں کچھ نیا ضرور ملے گا۔ بات معاصر نظم کی ہو یا غزل میں ہونے والے نئے تجربات کا محاکمہ،قاری اُن کی کتابوں سے ہمیشہ نئے اور اچھوتے تجزیات اور مطالعات کا لطف حاصل کرتا ہے۔ اُن کی نئی کتاب "داغ دہلوی: مابعد نوآبادیاتی مطالعہ” ایک بار پھر کلامِ داغ کو بالکل نئے اور منفرد زاویے سے دیکھنے کی کامیاب کوشش ہے۔ اس اہم کتاب کا مقدمہ بعنوان "تفہیمِ داغ کا تازہ بیانیہ” ہمارے عہد کے معروف نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا لکھا ہوا ہے جس میں اُنھوں نے مابعد نو آبادیاتی تناظرات کو خالص علمی انداز سے سامنے لایا اور زیر تبصرہ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کتاب کی باقی ترتیب و تہذیب اور ذیلی عنوانات ملاحظہ ہوں:

الف) داغ کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ کیوں ضروری ہے؟
ب) داغ دہلوی اور اردو تنقید کا بیانیہ
ج) رئیس زادہ ہے داغ
د) برطانوی نو آبادیاتی عہد کی تشکیل اور 1857ء کا معرکہ
ر) داغ کی غزل اور نو آبادیاتی صورت حال
ز) دہلی کا شہر آشوب

یہ کتاب بظاہر چھے عنوانات پر مشتمل ہے لیکن درحقیقت کتاب کا نفسِ مضمون تین کلیدی جہات کے گرد گھومتا ہے۔ فاضل نقاد نے سب سے پہلے تو داغ کی غزل پر روایتی تنقید کا وہ مقبول بیانیہ سامنے لایا جس کے مطابق فصیح الملک اور فصیح اللغات داغ کو دہلی کی زبان اور روزمرہ کا آخری بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ اس حوالے سے زبان میں شوخی، شرارت، روانی، برجستگی اور معاملہ بندی کے ساتھ خاص دلی محاورے کے چٹخارے کا ذکر بھی شامل ہے۔ داغ پر ہونے والی تنقیدی روایت میں جو کج فکری پائی جاتی ہے اس کا جائزہ لینے سے پہلے ڈاکٹر ہاشمی کہتے ہیں:

"جو شاعر ایک عظیم ثقافتی جغرافیے اور اس سے وابستہ تہذیب کے انحطاط پر خون کے آنسو رویا ہو اس کی شاعری کو اگر محض رندی اور ہوسناکی کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ایسی دانش مندی اور تنقیدی فہم کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے”(ص35)

اس کی وجوہات پر وہ اس طرح روشنی ڈالتے:

"داغ کی غزل کی تفہیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی شخصیت کا مسخ شدہ وہ تصور ہے جسے ان کے مخالفین نے بڑی حکمت کے ساتھ پھیلایا۔۔۔ اس سلسلے میں نہایت اہم ناقدین سے لے کر بہت معتبر مورخین تک شامل ہیں اور کسی معاملے میں تحقیق سے کہیں زیادہ روایت کا سہارا لیا جاتا رہا ہے”(ص36)

تنقیدی روایت میں البتہ دو نام ایسے ہیں جنھوں نے داغ کے شعری سرمائے کو سماجی، تاریخی اور نوآبادیاتی تناظر میں دیکھنے کی راہ دکھائی۔ اس خصوص میں ڈاکٹر طارق ہاشمی نے سید سبط حسن اور خواجہ منظور حسین کی علمی کاوشوں کو بطور خاص نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جس کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ماضی کے کچھ اہم لیکن فراموش کردہ اوراق بھی منظر عام پر آ گئے ہیں۔ سید سبط حسن نے اپنے مضمون "داغ کی شخصیت اور شاعری” مشمولہ "افکار تازہ” میں بھی داغ کی شاعری کے اس پہلو پر بڑے بلیغ اشارے کیے ہیں جس مین انھوں نے انگریزوں کے مظالم اور ان کی سفاکی کا حال روایتی علامتوں مین بڑی کامیابی سے کیا اور ساتھ ناقدین سے یہ شکوہ بھی کیا کہ "تعجب ہے کہ اردو کے تذکرہ نویسوں اور تنقید نگاروں نے داغ کے اس دور کے کلام کو بالکل در خوراعتنا نہیں سمجھا ہے۔ وہ درد و مصیبت کی اس کہانی سے یوں کترا کر گزر جاتے ہیں گویا یہ اشعار داغ کی شاعری پر کوئی بدنما داغ ہے۔ "(ص65)

کتاب کا دوسرا حصہ برصغیر میں نوآبادیاتی تسلط پر مبنی ہے،یہاں حد درجہ اختصار کے ساتھ یورپی نوآبادیات کی آمد، حکمت عملی اور سیاسی پھیلاو نیز مقامی آبادیوں میں پیدا ہونے والی آویزش تک کا جامع احوال مع تاریخی شواہد سامنے لایا گیا ہے۔ اس پس منظری مطالعے میں جہاں داغ کی اصل پوزیشن کا تعین ہو جاتا ہے وہاں کلام داغ سے استناد کا نیا جواز بھی قاری کے مطالعے کا حصہ بنتا ہے۔ طارق ہاشمی نے جہاں دیگر مورخین سے مدد لی وہاں خطوط غالب سے بھی اپنے مطلوبہ مواد کا استخراج کیا ہے۔ اسی حصے میں داغ کے والد گرامی نواب شمس الدین خان کی پھانسی کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ جس سے داغ کی شخصیت میں چھپے اس نفسیاتی کرب کا پتا چلتا ہے جو شروع بچپن سے ہی ان کی شخصی نشونما کا لازمی جزو بن چکا تھا۔ کتاب کا تیسرا حصہ کلام داغ کی اس خاص جہت کو منکشف کرتا ہے جس کے تمام تر لوازمات اور تناظرات خالص نوآبادیات پر مشتمل ہیں۔

کتاب کا یہ اہم حصہ اپنی تاریخی ترتیب، موضوع کی زمانی حد بندی اور نئے تنقیدی مطالعات و تجزیات کے حوالے سے جہاں نوآباد کاروں کا اقتداری کلامیہ سامنے لاتا ہے وہاں مصنف کی طرف سے مابعد نو آبادیاتی تنقیدی ماڈل بھی فراہم کرتاہے۔ ڈاکٹر ہاشمی کا کہنا ہے

"کلام داغ کو توجہ سے نیز اردو تنقید کے معروف بیانیے سے ذرا ہٹ کر دیکھا جائے تو ان کے اشعار میں وہ پوری داستاں رقم ہے جس کی ابتدا میرٹھ سے ہوتی ہے اور دلی شہر کے صرفِ استبداد اور تباہ و برباد ہو جانے پہ اختتام پذیر ہوتی ہے۔ "(ص76)

یہ اہم تاریخی المیہ بھی سامنے کہ "1857 کی جنگ دو سطحوں پر لڑی گئی۔ ایک طرف باغی لشکر انگریزی افواج کے خلاف برسر پیکار تھے،دوسری طرف قلعے کے اندر حصول اقتدار کی جنگ جاری تھی۔” یہ دوسرا پہلو زیادہ خطرناک تھا کیوں کہ ان کا توڑ نکالنا محال تھا۔ اندرونی سازش کے دو اہم کردار زینت محل اور الہی بخش تھے،جسے ڈاکٹر ہاشمی نے ممکنہ تاریخی شواہد کی روشنی میں اس سر نو پرکھنے اور تجزیانے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام خصوصی پہلووں کو زیر بحث لانے کے علاوہ برطانوی نو آبادیات کے اساسی کردار کا محاکمہ، مزاحمت کاری اور استحصالی حربوں کا بیان بھی حصہ سوم کے اہم اجزا ہیں جن کی روشنی میں کلام ِداغ کی سماجی مطابقت پذیری کے شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ مجھے اس کتاب میں 1857 کے ایک فراموش شدہ ہیرو بخت خان کا احوال پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ جنگ آزادی کا یہ بے مثال ہیرو ابھی تک تاریخی گمنامی میں پڑا ہوا ہے کیوں کہ تاریخ کی عمومی کتب میں اس کا ذکر نہ ہونے کےبرابر ہے، اردو زبان کے نوآبادیاتی نقادوں نے بھی بالعموم اس سے صرف نظر کیا ہے،لیکن اس کتاب میں بخت خان کے بارے میں خاصی معلومات مل جاتی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ممکن ہے کہ جنگ آزادی کے اس عظیم جنگجو کی تاریخی شخصیت کو پردہ اخفا میں رکھنا بھی نوآباد کاروں کا کوئی حربہ ہو۔ بخت خان کی قبر کا بھی کوئی سراغ نہیں ملتا ایک روایت کے مطابق بخت خان کی زندگی کا آخری حصہ ہزارہ کے پہاڑوں میں بسر ہوا ہے۔ یہ موضوع اس حوالے سے مزید تحقیق طلب ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے داغ کے غزلیہ معاملات کو از سر نو دیکھنے اور پرکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور ان کا یہ ماننا ہے کہ داغ نے غزل کے ایمائی پہلو کو فرنگی حاکمیت پسندی کے حوالے سے بطور حربہ استعمال کیا ہے۔ یہ داغ فہمی کا ایسا باریک نکتہ ہے جو خاصا توجہ طلب ہے،یعنی ماضی میں داغ کی غزل کے جس کلیدی پہلو کو صرف شوخی، مستی، سرمستی اور لفظی بازی گری اور محاورہ بندی کا ذریعہ تسلیم کیا جاتا رہا اسی ایمائیت کو ایک نئے معنیاتی سسٹم کے تحت مختلف تناظر میں رکھ کر داغ کو سمجھا گیا ہے۔

اس کتاب کا مطالعہ قاری کی یہ تربیت بھی کرتا ہے کہ ایمائیت صرف لفظی بازی گری نہیں ہے بلکہ اس کا رشتہ انسانی نفس میں بہت دور تک جاتا ہے جہاں انسان کی اندرونی کیفیات اور انسان کی نفسی پیچیدگیاں روپ بدل بدل کراپنا اظہار پاتی ہیں۔ اسی طرح داغ کی غزل میں موجود دیگر صنائع کو مزید گہرائی میں اتر کر سماج کی نئی نئی تفہیمی صورتوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ طارق ہاشمی نے پہلی مرتبہ داغ کی غزل اور اس میں موجود علائم و رموز کو باقاعدہ ایک نظام فکر کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ داغ کی یہ حیثیت پہلی بار اتنی منضبط طور پر ہمارے سامنے آئی کہ اب سنجیدہ قاری کے لیے داغ کی شخصیت کسی عاشق مزاج شاعر،شاہد باز اور رند لاابالی کی نہیں رہتی بلکہ اب یہ شخصیت اعلی ذہانت اور فکری بلوغت کا مرقع بن جاتی ہے۔ ہماری روایتی تنقید یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکی تھی کہ داغ اکہری شخصیت کے مالک اور روزمرہ زندگی میں ایپی کیورئین فلسفے کے شیدائی ہیں ڈاکٹر ہاشمی کی یہ موجودہ کتاب داغ کے اُس مقبول شخصی بیانیے کے بر عکس اِن کی پہلو دار اور تہہ دار شخصیت کو سامنے لاتی ہے۔

عموماً تنقید میں کسی کلاسیکی شاعر کے تخلیقی سرمائے سے سراسر کوئی نئی بات نکال لانا محال ہے۔ نیا کام کرنے کے لیے جہاں دور رس نگاہ اور عمیق مطالعہ خضر راہ کا کام دیتا ہے وہاں جدید تنقیدی ڈسپلن سے آگاہی اور آگہی کی بھی بڑی سخت ضرورت پڑتی ہے، ڈاکٹر طارق ہاشمی ان تمام منزلوں سے آسان گزرے ہیں۔ ان کا گزشتہ تنقیدی کام بھی جمود کو توڑ کر نئی راہیں تلاشنے کا فن سکھاتا ہے اور یہ حالیہ کتاب بھی اردو تنقید میں پیراڈائم شفٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ مابعد نوآبادیاتی تناظرات میں کسی بھی اردو شاعری کا یہ پہلا جامع و مانع تفصیلی مطالعہ ہے جہاں صرف ایک غزل کو تحلیل و تجزیہ کا مرکز نہیں بنایا گیا بلکہ اس کے مجموعی کلام کو سامنے رکھ کر نوآبادیاتی تنقید کا اطلاقی ماڈل مرتب کیا گیا ہے۔ کلام داغ سے اس نوع کے نتائج کا استخراج قاری کو ایک بار پھر فکری سطح پر متحرک کرتا ہے.آخر میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ اس کتاب میں زبان کے بارے میں ایک نئی میکانکس بھی ابھرتی محسوس ہوتی ہے اور زبان میں موجود کوڈز کی مدد سے نئی دنیا کی تعمیر ہوتی نظر آتی ہے نیز فکر و احساس اور ابلاغ و اظہار کے تازہ گوشے سامنے آتے ہیں۔ یہ بات کہنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ ہمارے روایتی نقادوں نے داغ کے بارے میں ایک حتمی بات کہہ کر اسے ایک طرف رکھ چھوڑا تھا لیکن ڈاکٹر طارق ہاشمی نے داغ کی فکری بازیافت کا بیٹرا اٹھایا اور جدید تنقید کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ یہ کتاب مطالعہ داغ کے ضمن میں ایک اہم تنقیدی دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔

Facebook Comments Box
داغ دھلویڈاکٹر طارق ہاشمیعامر سہیل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
طالب جوہری: ایک ملاقات، ایک نعت —- عدنان کریمی
next post
حادثہِ وقت —- سید ریحان احمد

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.