تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علمیکالممذہبی

ترجمہ کی اہمیت، اقسام اور مقاصد: قرآن کے تناظر میں —- محمد زوہیب حنیف

by دانش ڈیسک 10/06/2020
written by دانش ڈیسک 10/06/2020
1.1K

ہر زبان کا اپنا رواج اور خاص رنگ ہوتا ہے۔ اس کے اپنے محاورات، کہاوتیں اور مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں۔ لہٰذا ایک زبان کو دوسری زبان کا روپ دیتے ہوئے کئی مشکلات پیش آتی ہیں۔ جو لفظ ایک زبان میں ہوتا ہے اس کا ٹھیٹھ ترجمہ دوسری زبان میں بہت مشکل ہوتا ہے۔ (صالحہ، ڈاکٹر، عبد الحکیم شریف، قرآن مجید کے اردو تراجم، ص، ۷۰، قدیمی کتب خانہ، آرام باغ، کراچی۔ س ن۔ (قوموں کی تہذیبی تاریخ میں ترجمہ کو اہم مقام حاصل ہے۔ کیوں کہ ترجمہ دونوں زبانوں کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ ہے۔ باہمی میل جول اور آپس میں لین دین کے ذریعے ہی انسان نے ترقی کی منزلیں طے کیں ہیں، خصوصاً علمی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر زبانوں میں موجود علوم و فنون سے ہی آگہی حاصل کی جائے جن کے لئے کما حقہ واقفیت ضروری ہے (صالحہ، ڈاکٹر، عبد الحکیم شریف، قرآن مجید کے اردو تراجم، ص، ۷۰، قدیمی کتب خانہ، آرام باغ، کراچی۔ س ن۔)

ترجمہ کی تعریف:

کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں نقل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں۔ جیسے ایک ہی زبان کے ردیف کو ہٹاکر اس کی جگہ اسی زبان کا دوسرا ردیف رکھ دیا جائے (۔حریری، پروفیسر، غلام احمد، تاریخ تفسیر و مفسرین، ص، ۲۱، ملک سنز پبلشرز، کارخانہ بازار، فیصل آباد، تاریخ اشاعت، ۱۹۹۹ء، ۲۰۰۰ء۔ )

ترجمہ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ایک کلام کا مطلوب ومقصود دوسری زبان میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا جائے (حریری، پروفیسر، غلام احمد، تاریخ تفسیر و مفسرین، ص، ۲۱، ملک سنزپبلشرز، کارخانہ بازار، فیصل آباد، تاریخ تاریخ اشاعت، ۱۹۹۹ء، ۲۰۰۰ء۔ )

ایک اور تعریف اس طرح کی جاتی ہے:

کسی مصنف کے خیالات کو ان کو اپنی زبان کا لباس پہنایا جائے ان کو اپنے الفاظ ومحاورات کے سانچے میں ڈھالا جائے اور اپنی قوم کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ ترجمہ اور تالیف میں کچھ فرق معلوم نہ ہو۔ (قریشی، نثار احمد، ترجمہ اور روایت اور فن، نظر ثانی محمد شریف گنجاہی ص، ۴۰، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، سن اشاعت ۱۹۸۵ء)

ترجمہ کرنے کا ”اول اول یہ طریقہ تھا کہ اصل جو لفظ ہوتا تھا اس کے ہم معنی الفاظ کو ڈھونڈ کر لفظی ترجمہ کرتے جاتے تھے۔ (۔ مقالاتِ شبلی، جلد ششم، ص، ۴۰، مرتبہ مولوی مسعود علی، اعظم گڑھ، دار المصنفین، ۱۹۳۶ء۔ )

ان تعریفات کو سامنے رکھ کرترجمہ کو اس طرح سمجھا جائے کہ:

٭           ایک کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں نقل کرنا ترجمہ کہلاتا ہے۔
٭            ایک کلام کا مطلوب و مقصود دوسری زبان میں وضاحت کے ساتھ بیان کردیا جائے۔
٭            مصنف کے خیالات کو اپنی زبان کا لباس اس طرح پہناجائے کہ ترجمہ وتالیف میں کوئی فرق معلوم نہ ہو۔

اقسامِ ترجمہ:
ترجمہ کی مختلف اقسام بیان کی جاتی ہیں، یہاں معروف مثالیں سپردِ قرطاس کی جارہی ہیں۔

۱۔ علمی ترجمہ:
علمی ترجمہ عام طور پر لفظی ترجمہ کی ذیل میں آتاہے۔ اس میں اس بات کا خیال رکھا جاتاہے کہ جس لفظ یا اصطلاح کا جو ترجمہ ایک جگہ کیا جاتاہے وہ ان معنوں میں ہر جگہ استعمال کیا جاتاہے تاکہ ترجمہ کی یکسانیت بر قرار رہے اور قاری کا ذہن کہیں الجھنے نہ پائے۔ (رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص۷۰، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

۲۔ ادبی ترجمہ:
اس نوع کے ترجمہ کے لیے ضروری ہے کہ بامحاورہ کیا جائے اور اپنی زبان کے روز مرہ تشبیہات، استعارات و کنایات اور رموز و علامات سے کیام لیا جائے تاکہ ترجمہ میں ادبی رنگ آجائے اور ترجمہ طبع زاد سے کم تر دکھائی نہ دے (رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص ۷۰، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

۳۔ صحافتی ترجمہ: اسے کھلا ترجمہ کہا جاتاہے۔ بہ قول ڈاکٹر مسکین کے

’’مفہوم کا ترجمہ کرنا سب سے زیادہ آسان ہے ایسے ترجموں میں کسی پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مترجم کے لیے آسانی ہوتی ہے کہ اصل مفہوم سمجھ کر اپنی زبان میں اپنے طور پر بیان کرے۔ ‘‘(رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص ۷۱، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

۴۔ لفظی ترجمہ:
لفظی ترجمہ کے معنی یہ ہیں کہ کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں اس نظم وترتیب کے ساتھ منتقل کردیا جائے جیسے کہ وہ پہلے ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اصل کلام کے معنی ومفہوم کو بہر نوع قائم رکھا جائے اور اس میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ (حریری، غلام احمد، تاریخ تفسیر و مفسرون، ص، ۲۲، ملک سنز پبلشرز، کارخانہ، فیصل آباد، سن اشاعت، ۱۹۹۹ء۔ ۲۰۰۰ء۔ )

۵۔ تفسیری ترجمہ:
ایک کلام کا مطلب دوسرے زبان میں کھل کر بیان کردیا جائے اس میں سابقہ نظم وترتیب اور کلام کے اصل تمام معانی کا قائم رکھنا ضروری ہیں۔ (۱۱۔ حریری، غلام احمد، تاریخ تفسیر و مفسرون، ص، ۲۲، ملک سنز پبلشرز، کارخانہ، فیصل آباد، سن اشاعت، ۱۹۹۹ء۔ ۲۰۰۰ء۔ )

ترجمہ کیوں ضروری ہے؟

ترجمہ دو تہذیبوں کے مابین پل کا کام دیتاہے۔ معروف اسکالر ڈاکٹر ظہیر احمدکہتے ہیں:

’’اگر ترجمہ کا دستور نہ ہوتا تو دنیا گونگوں کی بستی ہو کر رہ جاتی۔ ۔ ایک ملک یا ایک کلچر کے خیالات کو دوسرے ملک، یا کلچر کی زبان میں منتقل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں۔‘‘ (رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص ۱۷۹، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

ترجمہ کے مقاصد:

پروفیسر محمد حسن کے خیال میں ترجمہ کے تین مقاصد ہوتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

بنیادی طور پر کسی ترجمہ کے تین مقاصد ممکن ہیں، پہلا معلوماتی، دوسرا تہذیبی، تیسرا جمالیاتی۔ ۔ ۔ مترجم کا بنیادی مقصد نئی زبان کی وساطت سے معلومات کی ترسیل ہے۔ یہاں ترجمہ جتنا اصل سے قریب ہوگا معلومات کی ترسیل کا حق اتنا ہی بہتر طور پر ادا ہو سکے گا۔ ۔ ۔ دوسرا سطح تہذیبی جہاں ایک تہذیب کے تصورات دوسری تہذیب کے پیکر میں ڈالے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ تیسر سطح جمالیاتی ہے اور غالباً سب سے زیادہ دشوار ہے، جمالیاتی انبساط خود نہایت پیجیدہ عمل ہے دوسرے یہ عمل الفاظ الفاظ کے سطحی معنوں کے بجائے ان کے تنوع متعلقات کے ذریعے اداہوتے ہیں۔ (رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص۷۲، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔

ترجمہ میں علما و فقہا کا حصہ

دینی طور پر ترجمہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو علما و فقہا کا ایک اہم کردا ر رہا ہے، جیسے آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ پور کا پورا دین اور اس کے مبادیات کا ترجمہ اردو میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں معروف اسکالر ڈاکٹر ظہیر احمد علما کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں:

ترجمہ کے سلسلے میں ہمارے علما اور فقہا کا بڑا حصہ رہا ہے ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ جب ان کی دینی خیالات نئی نسلوں تک پہنچانے کی ضرورت محسوس ہوئی جو ان کی علمی زبانوں (عربی۔ فارسی) اور ان کے طرز ِ بیان سے نا آشنا تھے تو انہوں نے ان خیالات کو عوام کی زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح عربی اور فارسی الفاظ کا سادہ عوامی زبان میں ترجمہ ہوا۔ شاہ عبد القادر کا ترجمۂ قرآن اس کی عمدہ مثال ہے۔ ۔ بعد کے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن و حدیث کے ترجمہ اوردینی خیالات کے منتقل کرنے میں عربی اورفارسی کی مضحک نقالی شروع کی۔ اس طرح وہ مولویانہ اردو ترجمہ وجود میں آئے جن کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے اور ایسے ترجمہ اصل سے زیادہ قابل فہم ہوتے ہیں۔ (رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص ۱۸۰۔ ۱۸۱، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

اصولِ ترجمہ:

ہر فن کی طرح ترجمہ کی بھی کچھ بنیادی شرائط ہوتی ہیں جوکچھ اس طرح سے ہیں:

٭           پہلی شرط یہ ہے کہ اصل تصنیف کی زبان، اس کے ادب اور اس کی قومی تہذیب سے نہ صرف واقفیت بلکہ دلچسپی اور ہمدردی بھی ہو۔
٭            دوسری اہم شر ط اپنی زبان پر اس قدر قدرت اور نئے خیالات کے اظہار کے لیے نئے الفاظ، ترکیبیں اور اصطلاحیں وضع کرنے کی استعداد ہے۔
٭           تیسری شرط ِاصل تصنیف کی زبان سے ایسی واقفیت ہے کہ وہ اس کی باریکیوں، نفاستوں اور تہہ داریوں کو بخوبی سمجھ سکے۔
٭           چوتھی شرط یہ ہے کہ اصل تصنیف جس عہد اور جس موضوع سے تعلق رکھتی ہے اس کی زندگی اور زبان اور اس موضوع کی اہم تفصیلات سے مترجم کی واقفیت ہو۔
٭:          آخری شرط یہ ہے کہ ترجمہ کی صلاحیت، دلچسپی اور شوق و انہماک ہے۔ ( رئیس، ڈاکٹر، قمر، ترجمہ کا فن اور روایت، ص ۱۲، ۱۱، تاج پبلشنگ ہاؤس، مٹیا محل، جامع مسجد، دہلی، بار اول، جون ۱۹۷۶ء۔ )

قرآن مجید کا ترجمہ :

ایک ایسے زمانے میں، جب کہ دنیا بھر میں علما اس بحث میں اُلجھے ہوئے تھے کہ قرآن حکیم کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کرنا جائز بھی ہے یا نہیں؟ شاہ صاحب نے اس پر بڑا زور دیا ہے کہ اگر لوگوں کی عمومی زبان، علوم و فنون کی زبان سے مختلف ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے علوم کا عام لوگوں کی زبان میں ترجمہ کیا جائے۔ شاہ صاحب کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے علوم و فنون کا صحیح فہم و شعور اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ انھیں کی زبان میں ان علوم و فنون کا ترجمہ نہ کیا جائے (آزاد، عبد الخالق، مفتی، قرآن حکیم کے ترجمہ کے اصول و قوانین اور ترجمہ نگاری کی روایت کا تسلسل، ماہنامہ دارلعلوم، شمارہ۹، ۸، ص، ۲۰، سہارنپور، یوپی، سن اشاعت، ۲۰۱۲ء۔ )

اس ضمن میں شاہ ولی اللہ فرماتےہیں :

’’و دریں زمانہ کہ ما در آنیم، و دریں اقلیم کہ ما ساکنِ آنیم، نصیحت ِمسلماناں اقتضاء می کنند کہ ترجمہ قرآن بزبانِ فارسی سلیس، روزمرہ، متداول، بے تکلف فضیلت نمائی و بے تصنع عبارت آرائی، بغیر تعرضِ قصص مناسبہ، و بغیر ایرادِ توجیہاتِ منشعبہ تحریر کردہ شود؛ تا خواص و عوام ہمہ یکساں فہم کنند، و صغار و کبار بیک وضع ادراک نمایند۔ “ ”آج ہم جس زمانے میں ہیں، اور جس ملک (برصغیر ہندوستان) میں رہتے ہیں، مسلمانوں کی خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کا ترجمہ سلیس فارسی زبان میں روز مرہ محاورہ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔ جس کی عبارت ہر قسم کے تصنع، بناوٹ اور خودنمائی سے پاک ہو اور اس میں قصص و واقعات اور غیر ضروری توجیہات و تشریحات کے بجائے آیات کا ترجمہ پیش کیا جائے؛ تاکہ عوام و خواص یکساں طور پر اس کو سمجھیں، اور چھوٹے بڑے ایک ہی نہج پر اس کا شعور حاصل کریں۔ ‘‘(آزاد، عبد الخالق، مفتی، قرآن حکیم کے ترجمہ کے اصول و قوانین اور ترجمہ نگاری کی روایت کا تسلسل، ماہنامہ دارلعلوم، شمارہ، ۸، ۹جلد۶۹، ص، ص، ۲۰، سہارنپور، یوپی، سن اشاعت، ۲۰۱۲ء۔ )

کیا قرآن مجید کا ترجمہ ممکن ہے ؟

قرآنِ مجید کا ترجمہ کرنا آسان کام نہیں، زبان سے صرف آشنائی ہی کافی نہیں بلکہ اس زمانے تک پہنچ کر اسی ماحول سے آشنا ہو کر پھر قرآن کے الفاظ پر تدبر کرے تو کافی حد تک اس کا ترجمہ ممکن ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآنِ مجید کا ترجمہ ممکن ہے؟ بسا اوقات تو ایک زبان کا لفظ ٹھیٹ اسی معنی میں دوسری زبان میں ہوتا ہی نہیں اس صورت میں اس کا قریب ترمعنی والا لفظ لینا ہوتا ہے یا پھر لفظ کے معنی شرح کرنے پڑتے ہیں۔ محاوروں اور کہاوتوں کے ساتھ بھی یہی مشکلات ہوتی ہیں۔ یہ تو بس انسانی تحریر کے بارے میں ہے۔ چہ جائیکہ کلام اللہ! لہٰذا قرآن کا ٹھیٹ ترجمہ تو کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا۔ (صالحہ، ڈاکٹر، عبد الحکیم شریف، قرآن مجید کے اردو تراجم، ص، ۶۹، قدیمی کتب خانہ، آرام باغ، کراچی۔ س ن۔)۔

ان تمام مباحث کے بعد ترجمہ سے متعلق جو نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں:

٭           کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں۔
٭           ترجمہ کی معروف اقسام میں سے علمی، ادبی، صحافتی، لفظی اور تفسیری ترجمے شامل ہیں۔
٭           ترجمہ دو تہذیبوں کے مابین پل کا کام دیتاہے۔
٭           بنیادی طور پر ترجمہ کے تین اہم مقاصد ہوتے ہیں: معلوماتی، تہذیبی اور جمالیاتی۔
٭           دینی علوم کے تراجم میں علما و فقہا کا ایک بڑا حصہ رہاہے۔
٭           ترجمہ کی اہم شرائط میں:شوق، اصل تصنیف کی زبان، نئے الفاظ اور ترکیبیں اور زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔
٭           شاہ و لی اللہ نے کہا کہ قرآن مجید کاترجمہ فارسی زبان میں روز مرہ محاوروں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔

تبصرہ:

حقیقت یہ ہے کہ کسی زبان کو دوسری زبان میں ڈھالنا اتنا آسان کام نہیں۔ زبان کا بیان قواعد ان سب چیزوں کو سامنے رکھ کر بھی حقیقی معنی میں نہیں لایا جاسکتا ہے لیکن اصل کے قریب ضرور لایا جاسکتا ہے یہاں حقیقت ہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ترجمہ اور اس کی انواع کی حقیقت ایک ماہرِ لسانیات ترجمہ کرے تو اسے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Facebook Comments Box
QurantarjumaTranslation of Al-Qurantranslation of quranالقرآن الکریمترجمہ قرآنترجمہ کی اہمیتقرآنی ترجمے
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زمین کی دوری و محوری گردش اور قران —- شہباز بیابانی
next post
ایس-او-پیز SOPs کس کیلئے بنتے ہیں؟ —- نعمان علی خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

1 comment

محمد اكرم 16/05/2023 - 5:47 شام

بہت ہی عمدہ اور بہترین کاوش ہے

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.