تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

چنگ چی اور ہنر مند کے قتل کی کہانی —- خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 10/06/2020
written by دانش ڈیسک 10/06/2020
248

فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا سائٹس پر گاہے بگاہے آنے والے دنوں کی کوئی نہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ دنیا ترقی کرتے ہوئے کہاں سے کہاں چلی جائے گی اور ہم انسانوں کو اس صورت حال کا کب تک اور کیسے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مستقبل کی یہ تصاویر بتاتی ہیں کہ آنے والے پندرہ سے بیس سالوں میں الیکٹرانک اور ہائبرڈ گاڑیوں کا زمانہ شروع ہو گا اور ڈیزل پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جس کی وجہ سے سڑکوں پر کافی جگہ دستیاب ہو جائے گی اور پارکنگ کے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ آنے والے دنوں میں دنیا سے بہت سے پروفیشن ختم ہو جائیں گے، بغیر ڈرائیو کی گاڑیوں کی آمد کے ساتھ ہی دنیا میں ڈرائیو نامی طبقہ ختم ہو جائے گا جس کا براہ راست اثر ٹریفک حادثات پر پڑے گا جو کہ کافی حدتک کم ہو جائیں گے۔ آئی بی ایم واٹسن کے بعدامریکہ میں نوے فیصد سے زیادہ وکیل بے روزگار نہیں بلکہ ختم ہو جائیں گے کیونکہ ہر مسئلے کا بہترین حل یہ سوفٹ وئیر فراہم کر دیا کرئے گا۔ آج بھی امریکہ میں طلاق کے کاغذات بنوانے کے لیے بہترین سوفٹ وئیر دستیاب ہیں جنہیں صرف اپنا نام پتہ دینا ہوتا ہے اور مکمل کاغذات پرنٹ کے لیے تیار ملتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کی ایسی تصاویر دیکھانے والے اکثر کوڈک کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ کمپنی کچھ سال پہلے تک پونے دو لاکھ سے زیادہ کی افرادی قوت رکھتی تھی لیکن ڈیجیٹل کیمرے اس کمپنی کے ملازمین کو ہی سڑک پر نہیں لائے بلکہ کمپنی کو بھی تاریخ کے ورقوں میں گم کر دیا ہے۔ اس ساری بحث کا حاصل صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وقت اور ٹیکنالوجی بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اس لیے ہمیں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو تبدیل کرتے رہنا ہو گا یاں کم از کم نئی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھنا ہو گا اور ہر نئی تبدیلی کو قبول کرنا ہو گا ورنہ ہم کہیں پیچھے نہ رہیں گے بلکہ کہیں کے نہ رہیں گے۔

افسوس یہ رہا کہ ان تمام ہنر مندوں کی نئی نسل نے ہنر کی بے قدری دیکھتے ہوئے ہر طرح کے ہنر سیکھنے سے معذرت کر لی اور شام کی روٹی کمانے کو ترجیح دی۔

ٹیکنالوجی کی ذہنی غلامی قبول کر لینے اور ترقی کی خوش فہمی میں رہنے والے انسان کے لیے مستقبل کی کوئی بھی پیشگوئی حکم اور ایمان کا درجہ رکھتی ہے اور وہ کسی چوں چراں کے بغیر ہر طرح کی بات کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ اس نے ٹیکنالوجی کی بہت سی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ ہاں آنے والے دنوں میں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس ’کچھ بھی ممکن‘ کا حصہ کیوں بننا چاہتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر ہم ترقی کی دوڑ میں ذرا سا پیچھے رہ گئے تو اس سے دنیا کی باقی ترقی پر کون سا برا اثر پڑے گا؟ کون سا دنیا والے ہمارے بغیر آگے بڑھنے سے انکار کر دیں گے؟ مستقبل کی ساری تصویروں میں انسان، ان کے جذبات، احساسات، ہنسی مسکراہٹ وغیرہ ان سب کا کہاں ذکر ہوتا ہے؟ کیوں ہم سب کو چنگ چی ہی چلانا ہے؟ کیوں ہم کسی کو چنگ چی لینے سے نہیں روک پا رہے ؟ اور پھر یہ کس نے سوچا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی اس دوڑ کا اختتام کہاں ہو گا؟

بات دراصل یہ ہے کہ ہم مستقبل میں ختم ہونے والے کاموں کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس وقت جب کہ مستقبل کی صرف باتیں ہو رہی ہیں، تب بھی ہمارے اردگرد بہت سے ہنر اور ہنر مند اپنی موت آپ مر چکے ہیں اورہمیں ان کی کانوں کان خبر بھی نہیں ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے بعد بہت سے ہنر اور ہنر مند اپنی موت آپ مر جاتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ٹیکنالوجیز کی پوجا شروع کرتے ہیں اور اس پوجا میں ہمیں کچھ بھی اور نظر نہیں آتا۔ ہمارے اسی نظر انداز کرنے کے بعد ہنر اور ہنر مند مرنے لگ جاتے ہیں لیکن ہمیں ان کی ذرا برابر بھی فکر نہیں ہوتی بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ اب آنے والے کسی سیمینار یا مذاکرے میں ان کے ذکر سے مزید داد اور ہمدردی سمیٹنے کو ملے گی۔

بہت زیادہ لوگوں کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو بچوں کے کھلونے بنانے والے بہت سے ہنر مند اپنی موت آپ مر گئے۔ پلاسٹک کے کھلونوں سے شروع ہونے والا سفر سیل اور میوزک والے کھلونوں سے ہوتا ہوا بالاخر بچوں کے ہاتھوں میں سمارٹ فونز پر آ کر ختم ہوا جس کی وجہ سے کاغذ اور کانے سے کھلونے بنانے والے ہنر مند ہر گزرتے دن کے ساتھ مرتے چلے گئے اور اب تو شہر بھر میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملتا۔ کمپیوٹرز جہاں بہت سے ہنر مندوں کو کھا گیا وہیں خطاط کی موت کا تو کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ ایک خوش نویس کب اور کیسے مر گیا۔ آج ہزاروں فونٹ کمپیوٹر میں دستیاب ہیں جس کے بعد کسی خطاط کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی لیکن ہاں اپنی لکھائی پڑھنے کے لیے ضرور ہمیں کمپوڈر کو بلانا پڑتا ہے کہ بھیا اگرچہ ہم نے یہ خود لکھا ہے لیکن پڑھا نہیں جا رہا، کچھ بتائیے کیا لکھا ہے؟ بازار میں ایک سے بڑھ کر ایک دستیاب ڈیزائن کے بعد کپڑوں پر ٹھپہ لگا کر دینے والی گلیوں میں پھرتی خواتین بھی ماضی کا حصہ بن گئی ہیں۔ مٹی کے برتنوں پر اپنی مہارت دیکھانے والے بھی اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ سلور کے برتنوں پر گل بوٹے بنانے والوں کا تو آج کی نوجوان نسل کو شائد ہی پتہ ہو۔ بان کی چارپائیاں بننے والے اور برتن قلعی کرنے والے تو اب شہر بھرمیں کہیں دستیاب ہی نہیں کیونکہ آج ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

آج ہزاروں فونٹ کمپیوٹر میں دستیاب ہیں جس کے بعد کسی خطاط کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن اپنی لکھائی پڑھنے کے لیے ضرور ہمیں کمپوڈر کو بلانا پڑتا ہے

سوچنے کی بات یہ نہیں کہ کتنے ہنر اور ہنر مند مر گئے بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام ہنر اور ہنر مند کیسے اور کیوں مر گئے؟ ہم بہت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل نہیں کیا لیکن ایک خطاط کو مار کر ہم نے کمپیوٹر سے بہت اچھا پرنٹ تو نکال لیا ہے جبکہ ہماری اپنی لکھائی لال بیگ کا ڈانس شو پیش کرتی ہے اس کا کوئی حل ہمارے پاس نہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ کسی ہنر کو اختیار کرنے میں دو چار دن کی محنت نہیں لگتی بلکہ اپنی پوری عمر دینی پڑتی ہے تب کہیں کوئی ہنر انگلیوں میں آتا ہے۔ مقام افسوس یہ رہا کہ ان تمام ہنر مندوں کی نئی نسل نے ہنر کی بے قدری دیکھتے ہوئے ہر طرح کے ہنر سیکھنے سے معذرت کر لی اور شام کی روٹی کمانے کو ترجیح دی۔ دس میں سے چھے ہنر مند اب خود یا ان کی اولاد آج چنگ چی رکشے چلا رہی ہے کیونکہ مچھندر کو کسی طور کچھ تو کھانے کو چاہیے۔ ہم بطور معاشرہ اتنے بے حس ہیں کہ ہم کسی کو چنگ چی لینے سے روک نہیں پا رہے کیونکہ ہم بطور مجرم خود ٹیکنالوجی کی پوجا کرتے ہوئے اس ہنر مند کو اس مقام تک لے آئے ہیں کہ وہ اپنے ہنر کا گلہ گھونٹ دے یا پھر اپنے اہل خانہ کو فاقوں مرنے پر مجبور کر دے۔ آپ کو آج سڑکوں پر موجود چنگ چیوں کا شور سنائی دیتا ہے لیکن کاش آپ اس شور کو کسی ہنر اور ہنر مند کی موت کا ماتم سمجھ سکتے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ ہنر اور ہنر مند بچا لیتے۔

Facebook Comments Box
featuredچنگچیخطاطکاریگرہنر مند
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خدا ر ا کوئی پاکستان کے وزیراعظم کو سمجھائے —- افضل رضوی
next post
شوہرکرے پوجا —- غزالہ خالد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.