تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

پنشن کا نظام: خاندان بھر کی پریشانی ——– نعیم صادق

by دانش ڈیسک 17/05/2020
written by دانش ڈیسک 17/05/2020
141

ذرا تصور کریں کہ آپ حکومت پاکستان کے ایک ریٹائرڈ ملازم ہیں اور جلد ہی کسی وقت “سکون و آرام” کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ آپ کے لیے مناسب ہوگا کہ آپ ایک لمحہ کے لئے رکیں اور اپنے مواقع پر غور کریں۔ اگر آپ مرد ہیں، تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ آپ گھر گرہستی والے ہوں گے، اور بیوی کی نعمت اور اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہورہے ہوں گے۔ یہ خوشی کی بات ہے۔ لیکن دوسرا ناخوش گوار امکان یہ بھی ہے، جس کے لیے منطقی طور پر سب سے زیادہ فکر مند رہنا چاہئے۔ کہ دونوں میاں بیوی میں سے ایک رخصت ہوگیا ہو۔ اس طرح کے ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی رخصتی سے متعدد نہ ختم ہونے والے، اذیت ناک اور افسر شاہی واقعات جنم لیں گے۔ جن کو اجتماعی طور پر “خاندانی پریشانی ” کہا جاسکتا ہے۔ لہذا ان تین لاکھ افراد یا ان افراد کے لئے جو ایک سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں، اور اپنی زندگی میں پنشن وصول کر رہیہیں، ان کے لئے گھمبیر مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔

آئیے ابتداء سے شروع کرتے ہیں۔ آپ کی اہلیہ کو بیوہ کہلانے کا حق اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب وہ تین لازمی شرائط پوری ہوجاتی ہیں جو اس کے لیے ضروری ہیں، پہلی یہ کہ وہ ایک خاتون ہے، اور آپ یعنی (اس کے شوہر) کا انتقال ہوگیا ہے اور اس نے دوبارہ شادی نہیں کی ہے۔ نظریہ رشتہ داری کی خصوصی تھیوری کے مطابق ، اگر کسی خاتون نے اس فرد سے قانونی طور پر شادی کی تھی۔ جو اس دنیا میں رہتے ہوئے سرکاری پینشن وصول کررہا تھا، تو وہ اپنے شوہر کی پنشن کے کچھ حصے کی بھی حقدار ہے، جسے عام طور پر “فیملی پینشن” کہا جاتا ہے۔ بظاہر، حکومت نے اس سلسلے میں بہت مشکل سے گذر کر ، ہر ممکنہ بدعنوانی اور چوری سے روکنے کے لیے اس مقصد کے لئے ایک ’’ قیاس پر مبنی‘‘ بلٹ پروف طریقہ کار وضع کیا ہے۔

اس پینشن کو پانے کے لیے سب سے پہلے تو غمزدہ بیوہ خاتون کو اپنے شوہر کے انتقال کے بارے میں حکومت کو تحریری طور پر لکھنا اور “فیملی پنشن” کے لئے درخواست دینی ہوگی۔ تاہم، یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ مختلف غیر متعلقہ اور انوکھی دستاویزات کی متعدد کاپیاں تیار کراکے دینے کی آزمائش پر راضی ہو۔ اسے بہت سی فوٹو کاپیاں، فارم، دستاویزات، حلف نامے اور قانونی دستاویزات تیار کرنا ہوں گے جیسے، (i) فارم 1، 2، 3، 4، 5 کی دو کاپیاں – (ii) پر کیئے ہوئے فارم کی دو کاپیاں جو پوری طرح سے مکمل ہوں اور شناخت کے ذاتی نشان دکھا کر اس کی تصدیق کی گئی ہو۔ (iii) دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلیوں کے نقوش کی دو کاپیاں؛ (iv) بیوہ کے دستخطوں کے تین نمونوں کی دو کاپیاں۔ (v) نکاح نامہ کی دو تصدیق شدہ کاپیاں یا کسی اسٹیمپ پیپر پر حلف نامہ جس کی تصدیق اوتھ کمشنر / نوٹری پبلک کے ذریعہ کی گئی ہے جس میں متوفی ملازم کے ساتھ شادی کی تاریخ ظاہر ہو۔ (vi) مذکورہ بالا نامزد ملازم کے سلسلے میں نادرا سے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی دو تصدیق شدہ کاپیاں جن میں اس کے اہل خانہ کی تفصیلات دکھائی گئی ہوں۔ (vii) نادرا کے ذریعہ جاری کردہ ملازم کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی دو تصدیق شدہ کاپیاں۔ (viii) بینک کے ذریعہ تصدیق شدہ براہ راست کریڈٹ سسٹم کے لئے آپشن فارم کی دو تصدیق شدہ اصل کاپیاں۔ (ix) انڈیمنٹی بانڈ کی دو تصدیق شدہ فوٹو کاپیاں 50روپے کے عدالتی کاغذ پر۔ (x) لائف سرٹیفکیٹ کی دو تصدیق شدہ اصل کاپیاں۔ (XI) پاسپورٹ سائز کی چار تصدیق شدہ تصاویر اور (Xii) بیوہ کی CNIC کی چار تصدیق شدہ کاپیاں۔

ہماری غیر فعال سست رو، بیوروکریسی کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ معلومات جو مندرجہ بالا 12 احکامات میں طلب کی گئی ہیں۔ وہ پوری معلومات، یا تو مکمل طور غیر ضروری ہیں یا پہلے ہی سے نادرا کے خاندانی ریکارڈ میں دستیاب ہے۔ اگر حکومت، ایسٹ انڈیا کمپنی کی نوآبادیاتی ذہنیت کو ترک کرکے ان معلومات کو حاصل کرنا چاہے تو وہ آسانی سے صرف ایک ضروری وضاحت سے یہ کام کرسکتی ہے۔ “ملازم کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ کروائیں اور ہمیں ترمیم شدہ فیملی (شادی کے ذریعہ) رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھیجیں۔”

واضح طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مصروف نظر آنے اور بڑے پیمانے پر، دستاویزات کے پلندے بنانے کی ایک بڑی خواہش میں مبتلا رہتی ہے۔ اس کو تھوڑا سا بھی احساس نہیں ہے کہ اس سے زندگی میں مشکلات بڑھا کر، یہ جعلی سازی اور دھوکہ دہی کے لئے ہی زیادہ سے زیادہ صلاحیتیں پیدا کررہی ہے۔ ایک ملازم ریٹائرمنٹ کے وقت اپنا نادرا سے جاری کردہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھیج سکتا تھا اور بیوہ بھی یہی سرٹیفیکٹ بھیج سکتی ہے۔ ہم اسٹونین ماڈل کی پیروی کیوں نہیں کرسکتے ہیں جس کے مطابق کوئی شخص حکومت کے کسی محکمے کو کوئی معلومات فراہم نہیں کرے گا اگر وہ شخص وہی معلومات کسی حکومتی ادارے کو ایک دفعہ پہلے ہی دے چکا ہے۔

Facebook Comments Box
NADRANBPpensionersپنشنپنشن لینے والے بوڑھےپنشنرزپنشنرز کے مسائل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ھسپتالوں میں قومی ھیروز —— حماد حسن
next post
مریم نواز غازی —- فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.