تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

بین الاقوامی تعلقات کی عالمگیریت (1): جوشیوا گولڈ سٹین/ جان پیووہاؤس

by اسامہ مشتاق 21/03/2017
written by اسامہ مشتاق 21/03/2017
118

عالمگیریت، بین الاقوامی تعلقات اور روزمرہ زندگی:

بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) ایک دلچسپ مضمون ہے کیونکہ یہ دنیا کی مختلف اقوام اور ان کی ثقافتوں کے بارے میں نت نئی معلومات فراہم کرتا ہے ۔ دنیا کی مختلف  اقوام کے درمیان تعلقات کے  وسیع دائرہ کار اوران کی پیچیدگی کے کارن اس مضمون پر یدطولیٰ رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر اس کی ایک محدود تعریف کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کا ڈسکورس دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتوں کے باہمی تعلقات کا احاطہ کرتا ہے، لیکن ان تعلقات کو دیگر اہم عناصر سے الگ تھلگ رکھ کر سمجھنا تقریباً ناممکن ہے ۔ یہ تعلقات بہت سے دوسرے فعال کردار (جیسے بین الاقوامی تنظیمیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بین الاقوامی شناخت کے حامل افراد)، سماجی ڈھانچوں، ممالک کی داخلی سیاست، معیشت، ثقافت، جغرافیائی اور تاریخی اثرو رسوخ  جیسے عوامل کے ساتھ گندھے ہوتے ہیں ۔ یہ تمام عناصر  دورِ حاضر میں بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی میلان ” عالمگیریت  (گلوبلائزیشن) ” کو علمی، فکری اور عملی قوت فراہم کرتے ہیں ۔

fفی الواقع ماضی قریب کے دو اہم واقعات عالمگیریت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ اول ” عرب بہار (Arab (Spring کی تحریک کہ جس میں نوجوان مظاہرین نے فیس بک ((Facebook اوراپنے موبائل فونز پر اس  انقلاب کی منصوبہ بندی کی اور باہم مربوط رہتے ہوئے 2012-2011 ء  میں کئی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ۔ دوم 2009-2008 ء کا عالمی مالیاتی بحران ہے جو امریکہ کی سودی لین دین کی ملکی منڈی سے شروع ہوا اور فی الفور دنیا کے دیگر ممالک تک پھیل گیا ۔ عالمگیری سرمایہ داری نظام کے زیرِ اثر مربوط عالمی مالیاتی منڈیوں نے پوری دنیا  پر ناہموار اثرات مرتب کیے ہیں جو اب بھی جاری و ساری ہیں  اور جنہیں آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ عالمگیریت کے پھیلاؤ کے دو آلہ کار ایسے ہیں جنہوں نے ہماری روزمرہ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دینے والے اسباب، حالات اور واقعات کو جنم دیا ہے،اور وہ ہیں :

1 – تیزی سے پھیلتی ہوئی مواصلاتی ٹیکنالوجی

2ــ – دنیا کے تمام ممالک کی معیشتوں کو باہم مربوط کردینے والی عالمی منڈیاں

اب بڑے بڑے سانحات اور واقعات ہی نہیں ، عالمی سطح پر ہونے والی ہر ایک معمولی سے معمولی تر سرگرمی اور تبدیلی ہماری  زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ گریجویشن کے بعد نوکریوں کے حصول کے امکانات اب عالمی معیشت اور بین الاقوامی سطح  پر جاری معاشی مسابقت پر منحصر ہے۔ ان  نئی نوکریوں میں بیرونِ ممالک اسفار ، بین الاقوامی پیمانے پر خرید و فرخت اور ذرائع مواصلات کی شراکت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ عالمی تجارتی نظام کے اصول و ضوابط ان تمام اشیاء کی پیداوار اور مارکیٹ میں ان کی فراہمی پر اثر انداز ہوتے ہیں جو ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں ، جیسے الیکٹرونکس کی مصنوعات، ملبوسات اور ایندھن وغیرہ  ۔ ایک خاص زاویےسے دیکھا جائے تو  عالمگیریت نے ہماری روزمرہ زندگی پر منفرد اور مثبت اثرات بھی مرتب کیے ہیں ۔ جوں جوں ٹیکنالوجی میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر آنے والے سال کے ساتھ دنیا مزید سکڑتی جا رہی ہے ۔ ذرائع مواصلات اور نقل و حمل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سہولیات کے ساتھ کسی بھی ملک کے ایک عام آدمی کا دوسرے ممالک کے افراد ، پیداوار اور نت نئے افکار((Ideas تک رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمگیریت ہم میں سے ہر ایک کواس کے  انفس و آفاق میں اور  اس کی شعوری و وجودی سطح پر ایک بین الاقوامی فرد بنا رہی ہے ۔ عالمگیریت اور بین الاقوامی تعلقات کے ہماری روزمرہ زندگی پر  حاکمیت کے احساس کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک عام شہری بھی اپنی انفرادی حیثیت میں اس دنیا پر اثر انداز ہونے کی اہلیت کا حامل ہے۔ عموماً بین الاقومی تعلقات کے مضمون کو عملیت سے دُور اور اُن تجریدی سیاسی رسومات کے  علمی ڈسکورس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہیں ایک محدود گروہ کے افراد جیسے ریاستوں کے سربراہان ، فوجی جنرلز اور سفارت کاروں کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ سیاسی رہنما  بین الاقوامی اہمیت کے حامل معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ، لیکن ان میں عوام کی شراکت داری بھی بھرپور ہوتی  ہے۔ کالج کے طالبعلم اور عام شہری جب بھی سیاسی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں یا کسی سیاسی مہم میں  کام کرتے  ہیں ، عالمی منڈیوں میں ہونے والی تجارت سے مقامی مارکیٹ میں آنے والی کوئی شے خریدتے ہیں اور پیشہ ورانہ خدمات مستعار لیتے ہیں اور  خبریں دیکھتے ہیں , ان ذرائع سے وہ باالواسطہ بین الاقوامی معاملات میں حصہ لیتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارا ہر انتخاب اس دنیا کو متاثر کرتا ہے جو ہم سب کا مسکن ہے ۔ یوں کسی کام یا چیز کا انتخاب کرنے یا اسے مسترد کرنے سے ہر شخص بین الاقوامی تعلقات پر عملی اور منفرد انداز سے اثرانداز ہوتا ہے ، چاہے یہ شراکت داری معمولی درجے کی ہی کیوں نہ ہو ۔

(جاری ہے )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنفین کا تعارف:

جان پیوو  ہاؤس (Jon C. Pevehouse)

جان پیووہاؤس یونیورسٹی آف وِسکونسن -ماڈیسن میں سیاسیات کے پرفیسر ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات، بین الاقوامی سیاسی معیشت، امریکہ کی خارجی پالیسی، بین الاقوامی تنظیمیں اور سیاسی منہاجیات جیسے موضوعات پر ان کا تحقیقی کام موجود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ایک مشہور جریدے International Organization کے مدیر ہیں۔ Oxford Handbook of International Political Economy اور Cambridge Elements Series in International Relations  کی ادارتی ٹیم  میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔

 

جوشیوا ولڈ سٹین (Joshua S. Goldstein)

جوشیوا گولڈ سٹین امیریکن یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی  کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات، جنگ، سیاسی تصادم، ورلڈ آرڈر،طاقتور ممالک کے باہمی تعلقات، قیامِ امن، اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی سیاسی معیشت، نوعِ انسانی اور جنگ جیسے موضوعات کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کی ایک  کتاب "War and Gender: How Gender Shapes the War System and Vice Versa”    نے   International Studies Association کی  "Book of the Decade” کا اعزاز حاصل کیا ۔ ان کی ایک دوسری کتاب "Winning the War on War: The Decline of Armed Conflict Worldwide”  2013 ء میں Conflict Research Society کی”Book of the Year” قرار پائی۔ بین الاقوامی تعلقات اورعالمی مسائل پرآٹھ مشہورکتابوں کے مصنف ہیں۔ کئی مشہور بین الاقوامی جریدوں میں ان کے آرٹیکلزچھپتے رہتے ہیں۔ انہیں بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
اسامہ مشتاق

اسامہ مشتاق خان نے UET , Lahore سے Chemical Engineering میں اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عمرانیات میں گریجویشنز کر رکھی ہیں۔ سائنسز، فلسفہ, تاریخ، دینیات ،تصوف ،ادب، سیاسیات جغرافیہ ، بین الاقوامی تعلقات، بین الاقوامی قانون، انتھروپولوجی اور جینڈر سٹڈیز جیسے مضامین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر انہیں اپنا وقت اور خود کو ضائع کرنے سے فرصت ملے تو ان مضامین کی حدود میں اپنی بساط بھر پڑھنے، سوچنے اور ان کی episteme میں قلم برداشتہ لکھنے کا شغل فرماتے ہیں۔

previous post
انڈیا میں ذبح پہ پابندی اور سیکولرزم: محمد آصف
next post
معیشت کی پہلی بیماری   معیشت اور عوام کا نصیب: (4)  لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.