تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیفلمکالمکلچر، آرٹ

ارطرل: اسلامی شعور یا ایک فتنہ؟ —- عمار راجپوت‎

by دانش ڈیسک 22/04/2020
written by دانش ڈیسک 22/04/2020
189

آپ کسی بھی سوشل سائٹ سے لاگ ان کیجیے، آپ کے پاس میری اس رائے پر ایمان لانے کے سوا کوئ چارہ نہیں رہے گا کہ ہم آزادیِ اظہار کے آخری عہد میں جی رہے ہیں۔ اس سے آگے جاتے ہوئے تو اب آزادی کے بھی پر جلیں گے۔ معلوم انسانی تاریخ میں اظہار کے اتنے وسیع اور نہایت آسانی سے دستیاب زرائع چشم فلک نے آج تک نہ دیکھیں ہوں گے۔ آپ سکرین کے سامنے بیٹھیں، کی بورڈ پر اپنی سرپٹ “انگلیاں” دوڑائیں اور شئیر کا بٹن دبا دیں، بس۔ تاہم اس کے باوجود یہ ستم ظریفی آج بھی اپنے تئیں ایک ٹھوس حقیقت اور الگ عنوان کے ساتھ موجود ہے کہ بظاہر آزاد نظر آنے والی آزادیِ اظہار کی مثال نثار ناسک کے اس شعر ایسی ہی ہے کہ

مجھ کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئ صحن میں پنجرہ رکھ دے

خیر! اس آزادی کے مثبت پہلوؤں کے اقرار کے ساتھ ساتھ آپ میرے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کریں گے کہ اظہار کی آزادی کی آڑ میں ہم نے اپنے وہ وہ رنگ دکھائے ہیں کہ اب اگر اظہار بھی اک نظر پیچھے کو مڑ کر دیکھے گا تو اپنے لیے پابندی مانگے گا۔ نہیں یقین تو آج رات اپنی دیوار پر کسی ایک موضوع پر دو تین مختلف پوسٹیں کر کے سو جائیے اور صبح اٹھ کر افاقہ پرور تماشا دیکھ لیجئے۔

مجھے اس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئ کہ جب سے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے ترکی ڈرامہ سیریل ارطرل نشر کرنے کا اعلان کیا ہے یہ ایک نئ بحث کے ساتھ سوشل میڈیا کا ہاٹ ٹاپک بن گیا ہے، اس بحث میں دو قسم کے گروہ آمنے سامنے ہیں۔ ایک وہ جن کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ اسلامی تعلیمات اور ہمارے شاندار ماضی کا عکس ہے لہذا اس لیے اسے دیکھنا مثبت فوائد سے خالی نہیں جبکہ دوسری طرف والوں کا فکری تعلق حضرت ابو زر غفاری رضی اللہ عنہ سے جا کر ملتا ہے۔ انہیں اس ڈرامے یا تاریخ سے تو کوئ خاص اختلاف نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں عورتیں بھی کردار نبھا رہی ہیں اور پورے ڈرامے میں کہیں نہ کہیں عاشقی و معشوقی والے سین بھی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں لہذا اُن کے نزدیک اس کا دیکھنا فتنے سے خالی نہیں۔ اور وہ اس چیز کو دودھ میں میگنوں کی مثل سمجھتے ہیں۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے۔ اور تو اور آپ جو کچھ دن میں دیکھتے، کرتے یا سوچتے ہیں رات کو سوتے ہوئے بھی خواب میں وہی دہرا رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر میں اپنی “پامال شدہ” آزادیِ اظہار کی بات کروں تو فی زمانہ اس بات سے انکار کی کوئ گنجائش باقی نہیں کہ میڈیا اور سکرین اب انسان کے جسم کا ہی ایک عضو اور زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اور اس بات کی صداقت کو یوں چانچیے کہ ڈرامے کی مخالفت کرنیوالے بھی مخالفت کے لیے اسی میڈیا اور سکرین کا سہارا لے رہیں ہیں۔ ایسے میں اب دو راستے ہیں یا تو میڈیا اور سکرین کا مکمل بائیکاٹ کر لیا جائے اور عالمی گاؤں ( گلوبل ولیج) کہلاتی سات بیلین انسانوں کی اس دنیا سے بے نیاز ہو جائیں، جو کہ آخرالذکر (ڈرامہ مخالف گروہ) کے لیے بھی قابل قبول نہیں اور نہ ہی قابلِ عمل۔ تو پھر دوسری اور آخری آپشن میں یہی ہے کہ جب میڈیا اور سکرین کا استعمال ناگزیر ہے تو کیوں نا اس استعمال میں ہم مادر پدر ننگ اور گند دکھانے کی بجائے اپنی نسل کو ایسی تاریخی اور معلوماتی سیریز کی طرف لائیں جو خاندانی نظام، صاف ستھرے رہن سہن، بھائ چارے، باہمی محبت و تعاون، صلح رحمی اور عدل و انصاف جیسی بے شمار خوبیوں کی ترغیب پہ مشتمل ہے۔

اب ان پیاروں سے جو اس بات کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ “ارتغل اسلامی شعور بیدار کر رہا ہے “ ایک آخری بات کہ جب آپ کا چھ سات سال کا بچہ ارطرل دیکھتے ہوئے پرجوش انداز میں پلاسٹک کا بلا تلوار کی طرح لہراتے ہوئے ننھے ہونٹوں سے “اللہ اکبر” کہتا ہے تو آپ کو پتہ ہے کیا ہوتا ہے؟

لاکھوں ڈالروں سے بنے سینکڑوں تھنک ٹینک اور ہزاروں این جی اوز آن کی آن میں زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔ جی ہاں ! زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔

Facebook Comments Box
Ertugrul Dirlis
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مولوی محمد باقر کے جاں نشین —- اقبال حسین
next post
مولانا مودودی کا تصورِ انقلاب —- مراد علوی

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.