تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

گلی کا دکاندار —- سہیل بلخی 

by دانش ڈیسک 22/04/2020
written by دانش ڈیسک 22/04/2020
58

دنیا کے بہت سے ممالک میں لوکل دکانداروں سے خریدنے کی ترغیب دینے والی تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں اور انکے پاس اس مطالبے کے حق میں مختلف دلائل ہوتے ہیں جن میں سے کچھ ہمارے پاکستانی معاشرے پر بھی پورے اترے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ گلی محلے کی دکانیں، چائے والے، سبزی والے اور گروسری والے سب ملکر لوکل کمیونٹی کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں، آپ اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، ایک دوسرے کا حال چال پوچھتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاروبار میں مدد دیتے ہیں …..

مقامی کاروبار، مقامی بلدیہ کو ٹیکس دیتے ہیں جس سے مقامی اسکول، لائبریری اور دیگر عوامی سہولیات کو چلانے میں مدد ملتی ہے۔

مقامی کاروبار، مقامی کلچر، رنگ اور رسم و رواج کو قائم رکھتے ہوئے کاروبار کرتے ہیں جس سے اس علاقے کے فطری حسن اور تہذیب کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔

مقامی کاروبار میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں ملتی ہیں … کاروبار کو اگر اس علاقے میں فروغ حاصل ہو رہا ہو تو دیگر علاقوں کے کاروباری بھی وہاں ان علاقوں میں کاروبار کرنے پہنچتے ہیں جس سے مزید مقامی روزگار پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

دنیا کے بہت سارے ممالک میں مقامی دکاندار کچھ نہ کچھ چندہ اور اعانت مقامی فلاحی کاموں میں ڈالتے رہتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی کے پروگرامات اور فلاحی منصوبے مقامی کاروباری لوگوں کی مدد سے ہی چلتے ہیں۔

مقامی چھوٹے کاروبار کے مالکان اور ملازمین دونوں مقامی ہوتے ہیں جو اپنے مقامی گاہکوں کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور انکو بہتر کسٹمر سروس دیتے ہیں۔

چھوٹے مقامی دکاندار آپکو نام لیکر پکارتے ہیں اور آپکی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پروکٹس تجویز کرتے ہیں …جبکہ بڑے سپر مارکیٹ میں آپ صرف ایک "گاہک” ہوتے ہیں اور انکی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ آپکی جیب سے زیادہ سے زیادہ کرنسی انکے کیش رجسٹر میں منتقل ہوجائے، آپکا اور انکا کوئی رشتہ اور کوئی تعلق ہوتا ہی نہیں ہے نہ کبھی بن سکتا ہے۔ ۔ ۔

آپکے علاقے میں متنوع اقسام کے کھانے پینے کی چیزوں کی دکانوں میں کوئی نہ کوئی کچھ نام بنا لیتی ہے اور ارد گرد کے علاقے کے لوگ وہاں اس دکان کی وجہ سے آکر دیگر دکانوں کو بھی بزنس دینے لگتے ہیں۔

اگر چھوٹی دکانوں کی مارکیٹیں آھستہ آہستہ کم ہوتی جائیں اور سب کچھ دیو ہیکل سپر مارکیٹوں، مالز میں منتقل ہو جائیں تو ذرا سوچیں دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں کے لیے اس شہر میں کیا کشش رہ جائے گی ….. ہر شہر کی اصل اسٹرینتھ اسکے مقامی بازار ہی ہوتے ہیں اور سیاح یہی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ..

ایک مقامی صارف کی حیثیت سے، آپ اپنی گلی میں مصنوعات کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں اور ان لوگوں کو منتخب کرسکتے ہیں جو آپ کے طرز زندگی میں بہتر فٹ ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کی رقم آپ کی مقامی برادری کو فائدہ پہنچا رہی ہے، مقامی کاروبار کو مستحکم بنا رہی ہے، اور مقامی معیشت کی تشکیل کر رہی ہے، تو آپ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ برقرار رہے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ مقامی کاروباری مالکان کے ساتھ زبردست تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔ آپکے اچھے برے وقت میں وہ آپکے اور آپ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اگر آپ کسی علاقے میں نئے بھی منتقل ہوئے ہیں تو اپنے مقامی اسٹور کو دیکھنے کے لئے تھوڑا سا وقت لگائیں اور اپنی گلی کے ساتھ ساتھ چلیں۔ اپنی گلی کی برادری کو مضبوط بنائیں۔ ۔ گلیاں ترقی کریں اور مظبوط ہوں تو شہر اور ملک ترقی کرتے اور مظبوط ہوتے ہیں۔ ۔

گلی محلے کی دکانوں کی قدر پوچھنی ہو تو بدس رہنے والے لوگوں سے پوچھیں جو آج بھی دور دراز کے ممالک میں رہتے ہوئے جب اپنے گھر کا تصور کرتے ہیں تو اس میں انکی گلی کا چائے والا، پان والا اور گروسری اسٹور والا بھی شامل ہوتا ہے۔ جاپان میں ایک دوست مستقل طور پر پاکستان واپس جارہا تھا اور بہت خوش تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کس سے ملو گے اور کیا کروگے ؟ اس نے جوابدیا کہ گھر والے تو ایئرپورٹ پر ہی مل جائینگے، میں تو سب سے پہلے اپنی گلی کے سلیم پان شاپ پر پہنچ کر گولڈ لیف کا کش لگاؤں اور سلیم بھائی سے پوچھوں گا کہ باقی لوگ کون کہاں ہے آجکل ؟

Facebook Comments Box
featured
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دیوار گریہ کے آس پاس از کاشف مصطفی —– تبصرہ: علی عبداللہ
next post
بجھا دو —- سعدیہ کیانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.