تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ایک طویل اور صبر آزما اعصابی جنگ  —– عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 21/04/2020
written by دانش ڈیسک 21/04/2020
92

نرمی اور فریب ایک ساتھ ہوں تو تاریخ بہت سے نئے قصے سناتی ہے۔ انسانی جانوں کا نقصان ہمیشہ نئی تاریخ مرتب کرتا ہے اور کہیں کہیں جغرافیہ بھی بدل جاتا ہے۔ سب سے زیادہ انسانی جانیں جنگوں کی نظر ہوئیں اور ان جنگوں نے جغرافیہ بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ بہت سے ملک صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور بہت سی قومیں اپنا وجود کھو بیٹھی۔ لیکن اب جو ذہن و دل کی جنگ ہے۔ اس میں خوف زیادہ ہے۔موت کا خوف، جنگ میں انسانوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شجاعت اور بہادری کی انگنت داستانیں رقم کی ہیں۔ شجاعت کے یہ کارنامے انسان کی اپنی قوم ملک اور خاندان سے محبت کا اظہار ہیں۔ لیکن موجودہ حالات نے انسان کو اس محبت کی ایک ایسی سزا دی ہے۔ جس نے اسے بزدل بنادیا۔ وہ اپنے نظریات اور اعتقاد پر مصلحت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اسے اپنی جان سے زیادہ اس کے آس پاس اور اس کے پیاروں کی زندگی کا خوف دلایا گیا ہے۔ اس خوف نے بہت سے مرتے ہوئے لوگوں کو اپنے پیاروں سے اس وقت جدا اور تنہا کردیا جب انھیں اس کی زیادہ ضرورت تھی۔

ابھی تک نہ حکومت ایک پیج پر ہے، اور نہ ہی کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب ہوا ہے، جس سے پوری قوم یک جا ہو کر ایک سمت ہوکر اس وبا کا مقابلہ کرے۔ ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ کرونا کی ویکسین بننے میں ڈیڑھ سال لگ سکتا ھے۔عالمی ادارے بھی ابھی اس بارے میں کوئی حتمی رائے کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ، ، لوگوں سے زبردستی لاک ڈاؤن نہیں کرا سکتے۔ تقریبا ایک ماہ پہلے جب سندھ نے اس بارے میں پہل کی تھی تو اندازہ تھا کہ دو تین ہفتے بعد صورت حال معمول پر آجائے گی۔ لیکن نہ تو پہلے سے اس بارے میں کوئی تیاری تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس کی شدت کا اندازہ تھا۔ ہمارے لوگ یوں بھی سمندری طوفان کی آمد کا سن کر بچاؤ کرنے کے بجائے، سمندر کا رخ کرتے ہیں کہ طوفان کیسے آتا ہے، یہی حال کرونا کے بارے میں ہے، لوگ کرونا کو ڈھونڈ رہے ہیں اور اسے ہر جگہ گلے لگانے کو بے تاب ہیں۔ ایسے میں ہر طرح کے حفاظتی اقدامات لاک ڈاؤن کے نام پر مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ عوام اور انتظامیہ دونوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اب اصولی طور پر عوام گھروں سے اس وقت باہر نکل سکتے ہیں جب باہر کرونا کا ایک مریض بھی نہ ھو یا اس کی ویکسین ایجاد نہیں ہو جاتی۔ کیوں کہ اس وبا پھیلانے کے لئے ایک مریض بھی کافی ہوتا ہے۔ دوسری طرف سندھ گورنمنٹ نے جو بھی سخت لاک ڈاؤن کیا وہ صرف سندھ کے شہری علاقوں، شہرو کے تاجروں اور فیکٹریوں تک محدود رہا۔ بازاروں، بڑے بڑے اسٹورز اور امدادی رقوم کی وصولی کے لیے وہی ہجوم باقی رہا۔ پولیس نے اس صورت ھال کو بھی اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا۔ بہت سے تاجروں اور کارخانہ داروں نے ملازمین کو ملازمت سے فارغ بھی کر دیا ہے۔ سندھ حکومت طبی سہولیات کی فراہمی، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل کو حفاظتی سامان کی فراہمی میں بھی ناکام رہی یا سرے سے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ ٹیسٹوں کی رفتار سست اور ناکافی ہے۔ سندھ حکومت اس بار بھی شفافیت دکھانے میں ناکام رہی، لٹیروں نے اس وبا کو دھندہ بنا لیا ہے۔ اجناس آٹا، چینی ، ماسک گلوز، سینیٹائیزر، اینٹی سیپٹک فروٹ سبزی دودھ اسی طرح مہنگی فروخت کی جارہی ہیں۔ تین دن بعد رمضان بھی شروع ہونے والے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی معشیت شدید خطرے میں ہے، اس لیے لوگوں نے جزوی طور پر دکانیں کھولنے اور کام پر واپس جانا بھی شروع کردیا ہے۔

معاشرے میں نفساتی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ کرونا نے انسانوں کو اندر سے توڑ پھوڑ دیا ہے۔ لوگ اس خوف میں صبح کا آغاز کرتے ہیں کہ جانے آج کا دن کیسے گزرے گا۔ وبائی بیماری کیا گل کھلائے گی۔ اور رات کو اس امید کے ساتھ سوتے ہیں کہ صبح اٹھیں گے تو دنیا سے اس وبا کا خاتمہ ہوجائے گا۔دنیا کے حقائق اور زندگی کے حوصلہ بخش معمولات سے ہم دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس صورت حال پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حالات چند ہفتوں اور مہینوں میں نہیں تبدیل ہوں گے۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما اعصابی جنگ ہے۔جسے ہر فرد کو اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے حالات میں لڑنی ہے۔اسے ختم ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور چند ماہ بھی۔ اس کے حساب کتاب میں روز وشب نہیں گھلانے ہیں۔ جینے والوں کو حوصلہ درکار ہے۔ وقت کو گزارنے کا بیتانے کا حوصلہ۔اس وقت کا کوئی مثبت استمال کریں۔سب سے زیادہ حوصلہ تو اپنے رب کی حمد ثنا اور استغفار میں ہے۔اٹھتے بیٹھتے ذکر کریں۔ شکر کریں ان نعمتوں کا جو آپ کے آس پاس ہیں۔ یہی آپ کو جینے اور اس مشکل وقت کو گزارنے کا عزم وحوصلہ دیں گے۔ prettybxbygirl69 milf nude

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وبا کے دنوں میں سرگوشیاں : دوسرا خط —– دعا عظیمی/ شہنیلہ آصف
next post
جدید سائنس کی حدیں — پروفیسر ہسٹن اسمتھ —- ترجمہ: ناصر فاروق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.