تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

مجیدامجد: زمان و مکاں کی وسعتوں میں تنہا وجود — اعجاز الحق اعجاز

by ویب ڈیسک 19/03/2017
written by ویب ڈیسک 19/03/2017
213

آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ اعلیٰ ترین شاعری کی پہچان یہ ہے کہ اس کی ایک ایک سطر میں زمان و مکاں کی طنابیں کھنچ جاتی ہے۔ مجید امجد کی شاعری پر بھی آسکر وائلڈ کا یہ قول صادق آتا ہے۔ مثلاً ان کی ایک نظم ’’امروز‘‘ دیکھیے۔ یہاں زمان کے سارے ابعاد لمحہء موجود میں سمٹ آئے ہیں اور شاعر اسی لمحہء موجود کو وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیے تلے کچلے جانے کے تفکر میں مبتلا ہے۔ یہ ایک بحرانی لمحہ ہے جب بقول ولیم شیکسپئیر ہونے نہ ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہاں وجود کی معنویت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ وجود کی لامعنویت کا وہی سوال جو سارتر Being and Nothingness میں اٹھاتا ہے۔ مجید امجد اسی لمحہء موجود، اسی امروز میں اپنی وجودی معنویت، اپنے ہونے کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ زمانے کی بیکراں وسعتوں،ازل سے ابد تک کے وقت کے خزانوں میں بس یہی اس کا حصہ ہے کیوں کہ ہیراقلیطس کی طرح وہ جانتا ہے کہ وہ وقت کے دریا میں دوسرا قدم نہیں رکھ پائے گا اور وہ ابد کے سمندر میں بس ایک کنول کی طرح تیر رہا ہے۔چناں چہ وہ ننھی چڑیوں کی چہک، ہوا کے اس جھونکے کو جو اس کے دیچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا دیتی ہے اور پڑوسن کے آنگن میں پانی کے نلکے پہ چوڑیوں کی چھنک کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دیتا ہے۔ اس کا شعور مظہری ماورائیت کا حامل ہے۔ وہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحوں اور آہوں سے معمور دو چار شاموں کے ذریعے سے عالم حقیقت تک رسائی چاہتا ہے۔ اس کی شاعری گہرے محسوسات کی شاعری ہے۔ سلویا پلاتھ کی نظم The Bee Meeting کی پہلی لائن دیکھیے:

Who are these people to meet me

مغائرت اور اجنبیت کا یہی احساس مجید امجد کی اس لائن میں بھی جھلکتا ہے:

یہ انجانا شہر، پرانے لوگ، اے دل تم یہاں کہاں

مجید امجد بھی سلویا پاتھ کی طرح ہجوم سے خائف اور گریزاں تھا۔ دراصل وہ زندگی کی میکانکی جبریت Mechanistic Determinism کو شدت سے محسوس کرتا ہے اور وہ سارتر کی No Exit سی کیفیت سے بھی دوچار ہو جاتا ہے۔ اسے زندگی ایک Loop کی صورت نظر آتی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں:

رواں ہے، رواں ہے
تپاں ہے ، تپاں ہے
یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے
کنواں چل رہا ہے

یہ وہی تصور ہے جسے نطشے نے تکرار ازل کہا ہے۔ ولیم شیکسپئیر نے اپنی لازوال شاعری میں اس تصور کو یوں پیش کیا ہے:

Our dates are brief, and therefore we admire
What thou dost foist upon us that is old
And rather make them born to our desire
Than think that we before have heard that

چناں چہ مجید امجد سوچتا ہے کہ یہ کیسے رستے ہیں جن پر تکرار ازل نے وحشت کے نشاں چھوڑے ہیں۔ وجود و عدم کا کھیل اسے گہرے کرب سے بھر دیتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے:

ایک پتنگا دیپک پر جل جائے،دوسرا آئے

مجید امجد کو رہ رہ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان کا وجود ایک افتادہ وجود Fallen Being جس سے اس کی ازلی تنہائی چمٹ کر رہ گئی ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اس مخمصے سے نکلنا محال ہے کہ زندگی خواب ِ مرگ ہے یا مرگ ِ خواب؟زمان و مکاں کی بیکراں وسعتوں میں اسے اپنی مغائرت Estrangement، معدومیت اور بے نشاں ہونے کا احساس قرار نہیں لینے دیتا۔ اسے دل زار کی دھڑکنیں ٹوٹتے ہوئے تار کی صدائیں محسوس ہوتی ہیں۔ مگر مجید امجد انسان کو اس مغائرت اور نراجیت سے نکلنے کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ چناں چہ اس کے نزدیک زندگی اپنے تمام تر المیہ احوال کے باوجود بسر کرنے کے قابل ہے۔ وہ ان دکھوں کی تقلیب ماہیت کر کے رجائیت کے نئے چراغ بھی روشن کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر جو غم بکھرے پڑے ہیں انھیں اس کی حیات قوت یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے۔ زندگی بہر حال مجید امجد کے لیے ایک انمول مظہر ہے۔ شیر افضل جعفری نے مجید امجد کو ’کوی سدھارتھ‘ کہا تھا تو ٹھیک کہا تھا۔ مجید امجد بھی زندگی کے سارے الم کو محسوس کرتا ہے مگر اسے اپنے ہی تن نازک پر جھیلتا ہے مگر دوسروں کو اس سے بچاتا ہے۔ وہ دکھ کی گپھائوں میں آنند کے چراغ روشن کرتا ہے۔ اس کا تفکر اگرچہ محزوں تفکر ہے وہی محزوں تفکرجو میر اورایملی ڈکنسن کے ہاں نظر آتا ہے مگر یہ قنوطیت زدہ تفکر نہیں۔ مجید امجد کے حزن میں بھی زیست کی محبت ہے۔ اس کی شاعری رومانی افسردگی کی حامل ہے جس کی زیریں سطح پر جمالیاتی حظ پایا جاتا ہے اور اکتسابِ لذت کی آرزوبھی۔ وہ زندگی کی ازلی تاریکی سے بھی نور کشید کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور نراج میں بھی نظم تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے دکھ کو کائناتی شکل دے کر اس کا کتھارسس کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ ہمرہِ صد کارواں ہے۔ کارواں کا غم اس کا غم ہے اور اس کا غم غم ِ زمان و مکاں ہے۔

Facebook Comments Box
اردو شاعریآزاد نظمسارترمجید امجدنظم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
معیشت کے انڈیکیٹرز معیشت اور عوام کا نصیب: (3) لالہ صحرائی
next post
دبنگ فیصلہ ساز: سجاد علی شاہ ۔۔۔۔ فاروق عادل

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.